• تاریخ: 2014 جولائی 17

خدا کی عظمت وجلالت کے نمونے


           
خدا کی عظمت وجلالت کے نمونے

خدا کی عظمت وجلالت کے نمونے’’یا اباذر؛ من اجلال اللّٰہ تعالی اکرام ذی الشیبۃ المسلم و اکرام حملۃ القرآن العاملین واکرام السلطان المقسط.یا اباذر؛ لایزال العبد یزداد من اللّٰہ بعدا ما ساء خلقہ‘‘’’اے ابوذر ! خدا ئے متعال کی عظمت و جلالت، سن رسیدہ مسلمانوں ، قرآن حمل کرنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں نیز انصاف پسندعادل و حاکم کے احترام میں مضمر ہے۔ ‘‘پیغمبر خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیث کے اس حصہ میں یاددہانی فرماتے ہیں کہ خدا کے بعض بندوں کا احترام کرنا خدا کا احترام کرنے کے برابر ہے۔دانالوگ اپنی عقل کے ذوق کے مطابق کچھ مقاصد کے پیش نظربسا اوقات ایک چیزکو دوسری چیز کی منزلت پر یا ایک کام کو دوسرے کام کی منزلت پر یاکسی ایک شخص کوایک دوسرے شخص کی منزلتکے طور پر بیان کرتے ہیں چنانچہ عام گفتگو کے دوران بھی کہا جاتاہے : یہ کام اس کام کے مانند ہے یہ شخص اس شخص کے جیسا ہے۔
یہ تشبیہ اس شباہت اور مشترک صورت کی بنیاد پر ہوتی ہے جو ’’مشبہ‘‘ اور ’’مشبّہ بہ‘‘ کے درمیان پائی جاتی ہے۔اس تشبیہ کی دلیل یہ ہے کہ جو خصوصیت کسی شخص یا چیز میں پوشیدہ ہوتی ہے و ہی خصوصیت کسی دوسرے شخص یا چیز میں نمایاں ہوتی ہے، پوشیدہ خصوصیت کو آشکار کرنے اور دوسروں کی توجہ اس کی طرف مبذول کرانے کے لئے اسے کسی ایسے با فضیلت شخص یا قابل اہمیت کسی کی طرف نسبت دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں جس کی خصوصیت بلند ترینمرتبہ ککی حاملہے۔ہم معروف تشبیہات میں دیکھتے ہیں کہ ایک بہادر انسان کو شیر سے تشبیہ دی جاتی ہے جبکہ شجاعت کا جو مرتبہ شیر میں پایاجاتاہے ، وہ انسان میں نہیں ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ شیرکی نمایاں خصوصیت شجاعت ہے لہذا اس شخص کو شیر سے تشبیہ دی جاتی ہے تا کہ اس کی پوشیدہ شجاعت کو پہچنوا یاجائے اور اس کی بہادری اور شجاعت مکمل طور پر دوسروں کے لئے نمایاں ہوجائے اور نظر یں اس پر متوجہ ہو جائیں اور یہ دوسروں کی نظریں اس پر متوجہ ہونابذات خود کچھ مقاصدکی حاملہیں۔ہم قرآن مجید کی آیتوں اور روایتوں میں بہت سی ایسی تعبیر یں پاتے ہیں کہ بعض افراد کی فضیلت خدائے متعال کی منزلت کے طور پر بیان کی گئی ہے یا بعض لوگوں کے کام خدا سے انجام پانے والے کاموں کے مانند بیان ہوئے ہیں، چنانچہ حاجتمندوں کو قرض دینے سے مربوط آیتوں میں، خدا کو قرض دینے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے، منجملہ:
(من ذاالذی یقرض اللہ قرضاً حسناً فیضاعفہ لہ و لہ اجرٌ کریم )’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کو دوگناکرد ے اور اس کے لئے با عزت اجر بھی ہو‘‘یہ تشبیہ و تنزل اس حالت میں ہے کہ خدائے متعال بے نہایت حدتک تمام کمالات بلکہ بعض بزرگوں کے بقول غیر منتاہی اور بے نہایت سے بالا تر کمالات کامالک ہے۔ جو خدا کو پہچانتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ خدائے متعال غیر متناہی حد تک تصور کئے جانے والے تمام کمالات کامالک ہے۔
پیغمبر اسلام ؐاور ائمہ اطہار ؑ کی ناشناختہ عظمت و منزلت:خدائے متعال کے علاوہ مخلوقات میں بھی اگر چہ ان کے کمالات محدود ہیں ، لیکن بعض اوقات یہی کمالات اوران کی مقدار دوسروں کے لئے مجہول اور ناشناختہ ہے۔ خدا کے بزرگ ترین اور کامل ترین مخلوقات میں چہاردہ معصومین علیہم السلام کی قد رو منزلت اوران کے کمالات کی وسعت دوسروں کے لئے ناشناختہ ہے، اس لئے عام انسان انھیں دوسرے لوگوں کی حدمیں جانتے ہیں۔حتی بعض انسان جو پیغمبر ؐپر ایمان لائے تھے، خیال کرتے تھے کہ آپ ؐ دوسرے لوگوں کے مانند ایک انسان ہیں ، صرف اتنا فرق جانتے تھے کہ آپ ؐ پر وحی نازل ہوتی تھی: لیکن وہ نہیں جانتے تھے اور اس بات کو نہیں سمجھتے تھے آپؐ کامقام دوسروں کے مقام سے کس قدربلند و بر برتر ہے:بامعرفت افراد کے لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور آپ ؐ کے مقام و منزلت کی بلندی کے بارے میں کسی قسم کاشک و شبہ باقی نہیں رہا ہے کہ آپ ؐ انبیائے الہی میں برترین، بلند ترین اور کامل ترین مقام و منزلت کے مالک ہیں اور بہترین شریعت آپ ؐ کی شریعت ہے۔ خدائے متعال نے آپ کو پیغمبر ؐمبعوث فرمایا اور آپؐ پر قرآن مجید نازل کیاکہ عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ کر یں اور خدا کے حکم سے قیام کریں اور لوگوں کی صحیح راستہ کی طرف ہدایت فرمائیں۔ لوگوں کی عقل و شعور کی مطابق استدلال و برہان کے ذریعہ انھیں خدائے متعال اور دنیوی و اخروی مصلحتوں سے آگاہ کریں اور ان کے دین کو مکمل فرمائیں۔ اس سلسلہ میں پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر شخص کی عقل کے لحاظ سے اس کے لئے دلیل و برہان پیش کرتے تھے او ر ان سے بات کرتے تھے تاکہ امت حقیقت سے آگاہ ہوجائے۔آپ ؐ اپنے دعوی کے ساتھ حجت و برہان بھی پیش کرتے تھے:(لیہلک من ہلک عن بینۃ و یحیی من حیّ عن بیّنۃ ...) ’’جو ہلاک ہو وہ دلیل کے ساتھ اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل کے ساتھ...‘‘
حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں فرماتے ہیں :’’اختارہ من شجرۃ الانبیاء ومشکاۃ الضّیاء وذؤابۃ العلیاء وسرّۃ البطحاء ومصابیح الظّلمۃ و ینابیع الحکمۃ ‘‘پروردگار عالم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغمبر وں (آل ابراہیم ؑ ) کے شجرہ نسب سے ، کہ جو روشن چراغوں (کہ جن سے ہدایت ا ور کامیابی کانور چمکتاتھا )نیز مشہور اور بلند مرتبہ خاندانوں (کہ جو دوسروں سے اشرف و افضل تھے )اور سر زمین بطحاء (قابل فخر اور عظمت والی سرزمین ہے) اور، تاریکی کے چراغوں سے (آپؐ کے آباء و اجداد سرگرداں لوگوں کے لئے ہدایت و رہنمائی کے چراغ تھے) اور حکمت کے سر چشموں (کہ سب دین و شریعت والے تھے اور دوسرے ان سے علم و حکمت سیکھتے تھے) سے منتخب فرمایاہے۔ایک اور جگہ فرماتے ہیں:آپ کی قیام گاہ بہترین قیام گاہ اور آپؐ کی پرورش کی جگہ بہترین جگہ ہے۔
 کرامت و عظمت کے ٹھکانے او رسلامتی کی آرام گاہ ہیں، نیک لوگوں کے دل آپؐ کے شیدائی بن گئے اور ان کی آنکھی آپؐ کی طرف خیرہ ہو گئیں، خدا ئے متعال نے آنحضرتؐ کی برکت سے پر انے اور دیرینہ کینوں کونابود کرکے دشمنی کی آگ کوخاموش کردیا اور مومنین کے درمیان الفت و دوستی ایجاد کی اور اپنے رشتہ داروں (حمزہ اور ابو لہب کے مانند) میں دوری ڈال دی،آپؐ کے ظہور و پیدائش کی برکت سے مومنین کی ذلّت و بیچارگی عزت و سرفرازی میں اور کفار کی بزرگی بدبختی میں تبدیل ہوگئی ۔ خدا کے کلام کی بنیاد پر اور پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او رائمہ اطہار صلوات اللہ علیہم سے جوروایتیں ہم تک پہنچی ہیں، ان سے خلاصہ کے طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ چودہ مقدس نور ایسے مقامات کے مالک ہیں کہ اگر تمام انسانوں کی عقلیں جمع کی جائیں تب بھی وہ ان مقامات میں سے ایک کو بھی درک نہیں کرسکتے ، وہاں تک پہنچے کی بات ہی نہیں ! یہ معرفت وشناخت ہمیں خدائے متعال کی عنایت سے اور قرآن مجید کی آیات اور روایتوں کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے۔ اس لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلند مقام اور عالی مرتبہ کے پیش نظر آپؐ خدا کی طرف سے بہترین رہنما ہیں۔
 اور آپؐ نے اپنے بعد دوبڑی میراث، خدا کی کتاب اور اپنی عترت چھوڑ ی اور لوگوں کو تاکید کی کہ ان سے منسلک رہیں تاکہ منحرف نہ ہو جائیں ، جیسے کہ فرمایا:’’انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰہ وعترتی اہل بیتی ما ان تمسکتم بہمالن تضلّوا ابدا وانّہما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض  ‘‘’’میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتاہوں ، کتاب خدا او رمیری عترت جو میرے اہل بیت علیہم السلام ہیںیہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں۔‘‘
خدائے متعال کی اطاعت اور پیغمبرؐ و ائمہ اطہار ؑ کی اطاعت کے درمیان رابطہ:پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بلند مقام کو بیان کرنے والی آیتوں میں یہ آیہ شریفہ بھی ہے کہ خدا وند متعال نے فرمایا:(من یطع الرّسول فقد اطاع اﷲ  )’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘اس آیہ شریفہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کی وسعت کے بارے میں کوئی حدبیان نہیں ہوئی ہے، اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو بھی حکم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیں اگرانسان اس کی اطاعت کرے تواس نے خداوند متعال کی اطاعت کی ہے۔ یہ آیت پیغمبر اسلام صلی اللہ اعلیہ و آلہ وسلم کی عصمت کی ایک دلیل شمارہوتی ہے، کیونکہ یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات ہمیں پیغمبر خداؐ کی بغیر چون وچرا اطاعت کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔اس کا معنی یہ ہے کہ آپؐ خدائے متعال کے حکم کے خلاف اور اس کی مرضی کے خلاف حکم نہیں دیتے ہیں، ورنہ اگر خدائے متعال ایک طرف سے اپنی اطاعت کرنے کا حکمدیتااور دوسری طرف کسی ایسے کی اطاعت کرنے کا حکم کرتا جو خداکے حکم کے خلاف ہے، تواس میں تناقض و تضادپیش آتا۔یہی برتری اور عظمت جو پیغمبر اسلام ؐکے لئے ثابت ہے ، آپ کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام کے لئے بھی ثابت ہے اور ان کے مقام ومنزلت اور عظمت کے پیش نظر ہی خدائے متعال نے ان کے لئے ’’اولی الامر‘‘ کاعنوان اطلاق کیا ہے:(یا ایہا الّذین آمنوا اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرّسول و اولی الامر منکم...)’’ ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرواور رسول اور صاحبان امر(اوصیاء پیغمبرؐ) کی اطاعت کرو۔‘‘
جابربن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں: اس آیت کے ناز ل ہونے کے بعد میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم خدا اور اس کے پیغمبر ؐ کو پہچانتے ہیں، یہ اولی الامر کون ہیں کہ خدا ئے متعال نے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے؟پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:’’ اے جابر! وہ میرے جانشین اور میرے بعد مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔‘‘اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایک کرکے ائمہ کانام ذکر کیا، جب بارہویں امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر پہنچے تو اس کے بعد فرمایا:(ان میں سے بارہواں) وہ ہے جس کی کنیت اور نام میری کنیت اور نام پر ہے ، وہ زمین پر حجت خدا ہے، خدا کے بندوں میں باقیماندہ حجت ہے، وہ حسین (علیہ السلام) کی نسلہے۔ یہ وہی ہے جس کے ہاتھوں خداوند متعال مشرق سے مغرب تک دنیا کو فتح کرے گا  ۔
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت خدا کی اطاعت کے ہم پلہ ہونے کے سلسلہ میں ائمہ اطہار علیہم السلام میں ذات مقدس حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی شامل ہے، چونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح ہروہ کما ل جو خدا کی مخلوقات میں ممکن ہے وہ بہ تمام معنی ان سب میں موجود ہے۔ خدائے متعال کی اطاعت کو ائمہ اطہار علیہم السلام کی اطاعت سے تشبیہ ، اور یکسانیت کو بہتر انداز میں درک کرنے کے لئے مناسب ہے ہم زیارت جامعہ کبیرہ میں غور و خوض کریں تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ان کے بلند مقام ومنزلت اور ان کی محبت اور اطاعت کے ضروری ہونے کے بارے میں کیا فرمایاگیا ہے۔ ہم اسی زیارت میں پٹرھتے ہیں:’’من اطاعکم فقد اطاع اللّٰہ و من عصاکم فقد عصی اللّٰہ و من احبّکم فقداحب اللّٰہ و من ابغضکم فقد ابغض اللّٰہ ...‘‘جس نے آپ لوگوں کی اطاعت کی اس نے خداکی اطاعت کی اور جو آپ لوگوں کی نافرمانی کرے اس نے خدا کی نافرمانی کی ہے اور جو آپ لوگوں سے محبت کرے اس نے خدا سے محبت کی ہے اورجو آپ لوگوں سے دشمنی اور عداوت روار کھے اس نے خداسے دشمنی کی ہے۔یہی معنی مکمل طور پر ایام ماہ رجب کی دعامیں وارد ہوئے ہیں:’’اللّہم انّی اسألک بمعانی جمیع مایدعوک بہ ولاۃ امرک‘‘
’’خداوندا ! میں تجھ سے درخواست کرتاہوں ان تمام معانی سے جن معنی میں تیرے صاحبان امر تجھے پکارتے ہیں‘‘یہاں تک فرماتاہے:’’لا فرّق بینک و بینہم الا انّہم عبادک و خلقک‘‘’’تجھ میں اور ان (آیات) میں کوئی فرق نہیں ہے، اس کے سوا کہ وہ تیرے بندے اور مخلوق ہیں۔‘‘
ان میں کمالات الہی کے نمونے موجود ہیں، صرف فرق اس میں یہ ہے کہ ان کے تمام کمالات خدائے متعال سے ہیں اور خدائے متعال نے وہ کمالات انھیں عنایت کئے ہیں اور البتہ یہ فرق اور تفاوت بے نہایت سے بالاتر ہے، اگر چہ اہل بیت اطہار علیہم السلام تمام کمالات اور عظمتوں کے مالک ہیں ، لیکن وہ کمالات بنیادی طور پرخدا ئے متعال سے ہیں اور وہ خود کوئی چیز نہیں رکھتے ہیں۔جب ان کا خدا کی دوسری مخلوقات سے موازنہ کیا جاتاہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام مخلوقات ان کے نیازمند ہیں، نہ صرف کوئی ان کی برابری نہیں کرسکتا ہے، بلکہ ان کے اور دوسروں کے در میان بے نہایت تفاوت ہے۔
 لیکن جب ان کا خدا ئے متعال سے موازنہ کیا جاتاہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اور خدائے متعال کے درمیان کسی بھی قسم کی نسبت نہیں پائی جاتی ، کیونکہ وہ بالکل محتاج و فقیر ہیں، اور جس کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا سے ہے۔بہر صورت پیغمبر و اہل بیت علیہم السلام کامقام خداکے مقام سے تنزیل وتشبیہ مکمل طور پر بجا ہے اور ہم ان کے مقام کو درک کرنے سے عاجز ہیں اور ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور ان کی محبت خدا کی محبت ہے اور ان سے دشمنی اور نافرمانی خدا سے دشمنی اور نافرمانی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شان میں فرماتے ہیں:’’فاطمۃ بضعۃ منّی من سرّہا فقد سرّنی و من ساء ہا فقد ساء نی، فاطمۃ اعزّ الناس علی ‘‘’’فاطمہ ؑ میرے بدن کا ٹکڑا ہے، جس نے انھیں مسرور کیا اس نے مجھے مسرور کیا، جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی۔ فاطمہ ؑ لوگوں میں میرے لئے عزیزترین ہے۔‘‘کہا گیا کہ پیغمبر اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کا مقام خداکے مقام کے مانند بیان ہواہے، اسی طرح بعض افعال جو بعض لوگوں کے بارے میں انجام پاتے ہیں، دوسرے افراد کے ذریعہ انجام پانے والے افعال کے برابر بیان کئے گئے ہیں، چنانچہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کاذکر خدائے متعال کے ذکرکے عنوان سے بیان ہواہے، خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتاہے:(فاذکرونی اذکر کم )’’تم ہم کویا دکروتاکہ ہم تمھیں یاد رکھیں ‘‘بیشک خدائے متعال تمام لوگوں کی یادمیں ہے اور کسی چیزاور شخص سے غافل نہیں ہے۔ لیکن آیہ شریفہ میں یاد سے مقصود شرف بخشنا اور وہ یاد ہے جو عنایت وانعام الہی کی ساتھ ہو۔ اگر کوئی چاہے کہ خدا اس کی یاد میں ہواور اس سے اپنی نعمت کو فروگزارنہ کرے تو اسے اس کی یاد میں رہنا چاہئے۔
اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ روایت میں اہل بیت کی یاد خدا کی یاد سے تنزیلتشبیہ دی گئی ہے:امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ان ذکرنامن ذکر اللّٰہ و ذکر عدونا من ذکر الشّیطان  ‘‘’’ہماری یا دخدا کی یاد ہے اور ہمارے دشمن کی یاد شیطان کی یاد ہے‘‘اہل بیت علیہم السلام کی یا د کو خدا کی یاد سے تنزیل و تشبیہ دی گئی ہے اس جہت سے ہے کہ وہ خدا کے خلفاء ہیں او راپنے لئے دا کے علاوہ کسی شان ومنزلت کے قائل نہیں ہیں، جب ہم پیغمبرؐ اور کسی امام کانام سنتے ہیں تو کیا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہمارے ذہن میں آتی ہے کہ وہ خدا کے نمائندہ ہیں؟ اس بناپر ان کانام سننا خدا کی طرف توجہ مبذول کرنا ہے، اس لئے کہ ان کی یاد خدا کی یاد ہے۔خدائے متعال نے اپنے مقام جبروت کو تنزیل و تشبیہ اور نمایاں کرنے کے لئے،اہل بیتؑ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بلند مرتبہ پر فائز کیا لہٰذا وہ خداکے لئے مکمل نمونے ہیں او رہر لحاظ سے حق کو مکمل طور پر منعکس کرنے کے آئینہ دارہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آئینہ اپنی کسی چیز کو نہیں دکھاتا بلکہ جو چیز اس کے سامنے آتی ہے اس کی جلوہ نمائی کا ایک وسیلہ ہے اور اس تصویر کو واضح طور پر منعکس کرتاہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم او ر اہل بیت عصمت و طہارتؑ بھی اپنی طرف سے کوئی چیز نہیں رکھتے ہیں اور جو کچھ ان کی پاس ہے خدائے متعال سے ہے اور وہ خدائے متعال کو اچھی طرح سے منعکس کرتے ہیں۔اس کے پیش نظر کہ ائمہ علیہم السلام حق کومکمل طور پر نمایاں اور منعکس کرنے والے آئینہ ہیں اور تمام معنی میں ربوبیت کے جمال کا محور قرار پائے ہیں، یہاں تک اپنے وجود کے تمام رخ سے حق تعالی کے صفات کو نمایاں کررہے ہیں، امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’کلّ علم لایخرج من ہذا البیت فہو باطل و اشار الی بیتہ و قال: علیہ السلام، لبعض اصحابہ: اذا اردت العلم الصحیح فخذ عن اہل البیت فأننا رویناہ و اوتیناہ و اوتینا شرح الحکمۃ و فصل الخطاب، ان اللّٰہ اصطفانا و آتاناما لم یؤت احداً من العالمین ‘‘’’جو بھی علم اس گھر سے نشر نہیں ہوگا، وہ باطل ہے یہ فرماتے ہوئے اپنے بیت الشرف کی طرف اشارہ کیا اور مزید اپنے ایک صحابی سے فرمایا: اگر صحیح علم کی تلاش میں ہوتو اہل بیت ؑ سے حاصل کرنا۔ بیشک ہم نے اس علم کو بیان کیا ہے۔ اور (آیات الہی میں پوشیدہ ) حکمتوں کی شرح اور عدلیہ اور صحیح و عادلانہ فیصلوں کا علم ہمیں عطا کیا گیا ہے اور خدانے ہمیں منتخب کیا ہے اور جو کچھ ہمیں عطاکیا ہے کسی اور کو نہیں دیا ہے
‘‘مومنوں کی عزت واحترام کی ضرورت:معصومین کے مقام کے علاوہ جب ہم ادنی در جے کے افراد پر نظر ڈالتے ہیں ، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے جو بھی ان سے بیشتر شباہت رکھتا ہے، یعنی خدا کی بندگی میں راسخ اور پختہ تر ہے اس نے اپنے وجود سے انانیت کے جذبے کو دورکرکے خود کو خدائے متعال کی عبودیت میں محو کر دیا۔ مختصر یہ کہ جس قدر انسان اپنی خود پسندی کو چھوڑ کرخدا کا بندہ بن جائے اور جس حد تک اپنے آپ کومستقل تصور نہ کرے، وہ اسی اعتبار سے خدا کی منزلت کی لیاقت رکھتاہے، یہاں تک امام صادق علیہ السلام مومن کی زیارت کے بارے میں فرماتے ہیں:’’من زاراخاہ فی اللّٰہ. قال اللّٰہ عز وجلّ: ایای زرت و ثوابک علیّ و لست ارضی لک ثواباً دون الجنۃ ‘‘’’ جو خداکے لئے اپنے مومن بھائی کی زیارت کرے، خدا نے فرمایا ہے: تم نے میری زیارت کی ہے اور اس کی پاداش میرے ذمہ ہے اور میں تمھارے لئے بہشت سے کم تر پاداش پر راضی نہیں ہوتاہوں۔‘‘ایک روایت میں آیا ہے کہ اگر ایک مؤمن خدا کی لئے اور کسی دنیوی غرض و درخواست کے بغیر ایک مومن بھائی کے گھر جائے تو خدائے متعال ایک فرشتہ کو بھیجتا ہے تاکہ اس سے سوال کرے: تم کیوں یہاں آئے ہوا ور کیا کام ہے؟ وہ مومن جواب میں کہتا ہے: خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ اور اپنے مومن بھائی کے گھر آیا ہے تاکہ اس سے ملاقات کرے: فرشتہ پوچھتاہے: کیاتم نے اس کو کوئی کام سپرد کیا تھا اور اب اس کی ضرورت ہے؟ جواب میں کہتا ہے: نہیں۔فرشتہ پوچھتا ہے : پس اس کی ساتھ تمھارا کیاکام ہے اور کیوں یہاں آئے ہو؟ وہ مومن جواب میں کہتا ہے: میں اسے خداکے لئے دوست رکھتا ہوں، اس لئے اس کی زیارت کے لئے آیا ہوں ۔پھروہ فرشتہ خدا کی طرف سے اسے پیغام دیتا ہے کہ: اے بندہ !تم میری ملاقات کے لئے آئے ہوا اور میرے مہمان ہو اور تمھاری مہمان نوازی میرے ذمہ ہے۔
جی ہاں ، جب ایک مومن خدا کی بندگی کرنے کا فیصلہ کرتاہے، خود پسند ی اور انانیت کو چھوڑتا ہے تو وہ ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے کہ جہاں پر اس کی زیارت خدا کی زیارت شمار ہو تی ہے۔آیات و روایات پر تحقیق ا ور غور و خوض کرنے کے بعد ہمیں اس مضمون کی بہت سی آیتیں اور روایتیں ملتی ہیں کہ جن میں مومن کی زیارت اور اس کے احترام کو خدا کی زیارت اور اس کے احترام کے برابر بیان کیا گیا ہے۔من جملہ اس روایت میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب ابوذرؓ کو نصیحت کے طور پر خدا کے بندوں میں سے تین گروہ کے احترام کو خداکے احترام کے مانند بیان کرتے ہیں ۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ (نعوذ باللہ) اگر خدا ئے متعال کو دیکھتااور اس کا احترام کرتا، تو انسان کس بلند مقام پر پہنچ جاتا! البتہ ہمیں بندگی و عبادت کے مرحلہ میں خدائے متعال کو اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھناچاہئے ، تب اس کی عبادت کریں ، چنانچہ مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام نے فرمایاہے:’’لم اکن بالذی اعبد ربا لم ارہ ‘‘’’میں ایسا نہیں ہوں کہ بغیر دیکھے خدا کی عبادت کروں‘‘مخلصانہ عبادت کرنے والا انسان کبھی خد اکی عبادت و بندگی کے دوران خدا ئی عظمت کے مقام پر فائز ہوجا تاہے، خدا کے بندوں کے ان تین گروہوں کا احترام کرنے والے کو بھی خدا کے احترام کے رتبوں میں قرار دیا گیا ہے:الف :سن رسیدہ مسلمان کا احترام:پہلا گروہ: وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عمر اسلام اور اس کے بلند احکام کی پابندی میں گزاری ہو او ر ان کی داڑ ھی اسلام کی راہ میں سفید ہو چکی ہو۔ اس گروہ کا احترام اور اس کی قدر کرنا گویا خدا کا احترام ہے۔ پس ہم نے ایک سن رسیدہ مسلمان کو دیکھا او راس کے مسلمان ہونے اور ایک طولانی عمر اسلام کی راہ میں گزارنے کے ناطے اس کا احترام کیا تو ہم نے خدا کا احترام کیا ہے۔
ہمارے لئے اس امر پر غور کرنے کا مقام ہے کہ خدا کے بندوں میں اس شائستہ ا ور مومن گروہ میں کیا خصوصیت ہے کہ انہوں نے یہ عظمت پائی ہے کہ ان کا احترام کرنا خدا کے احترام کے برابر ہے۔ شاید اس بوڑھے اور ریش سفید مسلمان کے لئے یہ تنزیل و تشبیہ اور موازنہ اس لئے کہ جب انسان اسے دیکھتا ہے تو اس کے چہرہ پر ایک طولانی مدت بندگی کا مطالعہ کرتاہے۔
اس کا نوارنی قیافہ ، سفید ریش، خاص کر اگر پیشانی پر سجدہ کا نشان بھی ہو، یہ سب اس کی ایک عمر خدا کی بندگی کی حکایت کرتے ہیں:
(...سیماہم فی وجوہہم من اثر السّجود...)  ’’ان کے چہرہ پر سجدہ کے نشانات پائے جاتے ہیں...‘‘خدا کی بندگی کی ایک عمر کو دیکھنا، ایک عمر خدائی کو دیکھنے کے برابر ہے، کیونکہ بندگی کا خدائی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یعنی جب ہم ایک عابد بندے کو دیکھتے ہیں کہ اس نے ایک عمر عبادت میں گزاری ہے،توہم ایک عمر خدائی اور اس کے حکیمانہ تدبیر و رہنمائی کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں، اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ عبودیت و ربوبیت دوسرے تمام لازم و ملزومات مفاہیم کے مانند دو لازم و ملزوم مفہوم ہیں، جیسے باپ بیٹے ، جب انسان باپ کو باپ کی حیثیت سے دیکھتا ہے تو لازمی طور پر اسے بیٹے کی یادبھی آتی ہے۔ اسی طرح جب کسی کو بیٹے کے طور پر تصور میں لاتاہے تو باپ کی یاد بھی آتی ہے۔جب انسان ایک دل باختہ بندہ کی بندگی کی عمر کو دیکھتا ہے تو اسے خدائی عمر کی ایک یاد ذہن میں آتی ہے اور یہ وہی ربوبیت الہی اور عبودیت الہی کے درمیان ایک نسبت اور رابطہ ہے۔ اس لحاظ سے اس قسم کی تنزیل و تشبیہکے بارے میں بجاہے کہ کہا جائے: جب اس کا احترام کروگے تو گو یا خدا ئے متعال کا احترام کیا ہے۔ نزول اور موازنہ کا معیار دو نوں طرف وجہ مشترک کا موجود ہونا ہے، اب اس سے بہتر وجہ مشتر ک کیا ہو سکتی ہے کہ ایک دوسرے کو نمایاں کرنے والاہو، ایک تصویر کی مانند کہ جب تصویر پر نظر ڈالتے ہیں تو صاحب تصویر کی یاد آتی ہے۔ اس بوڑ ھے مسلمان نے ایک عمر عبودیت و بندگی کو اپنے قیافہ میں مجسم کیا ہے اور جب آپ اس کی بندگی کے آثار پر نظر ڈالتے ہیں تو خدا کی ربوبیت کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔
پس مذکورہ مطالب کے پیش نظر ، اسلام میں سن رسیدہ او ربوڑھے افراد کا احترام اس قسم کی عظمت رکھتا ہے۔ البتہ سن رسیدہ خواتین کا احترام بھی اس زمرے میں آتا ہے، لیکن معاشرے میں معمولاً مرد، عمر رسیدہ مردوں سے اور عوریتں بوڑھی عورتوں سے ملاقات کرتی ہیں اور ان کے در میان احترام میں کوئی فرق نہیں ہے،مجموعی طور پر سن رسیدہ مسلمان افراد کا احترام خدا کے احترام کے برابر ہے۔یہاں پر مناسب ہے کہ اس نکتہ کی طرف ایک اشارہ کریں کہ بعض قدریں ، جن کا اسلامی معاشرہ میں اعتبار ہے، غیر اسلامی معاشرے میں بھی ان کو محترم جانتے ہیں لیکن معیار مختلف ہیں۔
بزرگوں کا احترام ایک ایسی قدر ہے جو کم و بیش ہر معاشرے میں رائج ہے، لیکن جس معاشرے میں اسلامی اورالہی نظریہ نہیں ہے، وہاں پر اسی قدر آداب و رسوم کا حصہ ماناجاتاہے، وہاں پر سن رسیدہ افراد کے احترام کا کوئی ثابت او رصحیح معیار نہیں پایاجاسکتاہے۔لیکن اسلام کے قابل قدر نظام میں اس قسم کی قدریں دوسروں کے نزدیک محترم قراردی گئی ہیں، لیکن معقول معیار او رثابت و پائدار بنیاد کے ساتھ ۔تمام معاشروں میں سن رسیدہ افراد کا احترام کیا جاتاہے، اسلامی نظام میں ایک مسلمان عمر رسیدہ کا احترام خاص اہمیت رکھتا ہے اور اس کا احترام اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ ایک عمرخداکی عبودیت میں بسر کر چکا ہے، لیکن یہ خصوصیت دوسروں کے وہاں بیان نہیں ہوئی ہے۔ پس توجہ کرنی چاہئے کہ اگر آیات و روایات میں ایسے اقدارکی بات کی گئی ہو جنھیں دوسرے نظاموں میں بھی قابل احترام جانتے ہوں، تو یہ اس معنی و مفہوم میں نہیں ہے اسلام میں شناختہ شدہ قدریں و ہی ہیں جو دوسرے معاشروں میں اعتبار رکھتی ہیں ، بلکہ ممکن ہے ان قدروں کا معیار اسلام میں بہت مختلف ہو، اسلام کے نزدیک ان قدروں کا معیار بہت بلند ہے۔ مذکورہ بیان شدہ مطالب کے پیش نظر ہمیں معلوم ہواکہ سن رسیدہ لوگوں کااحترام کیا جانا چاہئے او رہر چھوٹے کو اپنے سے بڑے کااس لحاظ سے کہ وہ بندہ ہے اور اس نے ایک عمرعبادت میں گزاری ہے احترام کرناچاہئے، لیکن ایک مسلمان سن رسیدہ کا احترام خاص اہمیت رکھتاہے اور خدا کے احترام کے برابر ہے.نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مسلمان سن رسیدہ کے احترام کے اخروی نتائج او ررد عمل کے بارے میں فرماتے ہیں:’’من وقّر ذاشیبۃٍ فی الاسلام آمنہ اللّٰہ من فزعٍ یوم القیامۃ ‘‘’’جو کسی مسلمان بوڑھے کا احترام اور عزت کرے گا، خدائے متعال اسے روز قیامت کے خوف سے نجات دے گا‘‘حضرت اما م جعفر صادق علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ اس کی عمر کے مختلف مراحل میں برتاؤ کے بارے میں فرماتےہیں:’’اوصیکم ان تتخذوا صغیر المسلمین و لداً و اوسطہم اخاً و کبیرہم ۱باً۔ فارحم ولدک وصل اخاک وبرّ اباک ‘‘’’میں تجھے وصیتکرتاہوں کہ مسلمان بچوں کو اپنا فرزند ، جوانوں کو اپنا بھائی اور سن رسیدہ کو اپنا باپ قرار دو او ر(جس طرح اپنے گھر میں برتاؤکرتے ہو) مسلمانوں کے فرزند وں سے مہربانی ، دینی بھائیوں سے برادری او ربزرگوں سے نیکی سے پیش آؤ‘‘چونکہ دین اسلام ، دین موّدت او رمحبت ہے اور اسلام مہر و محبت کو ایجاد کرنے والادین ہے جو اپنے پیرؤں کو برادری و محبت کی دعوت دیتا ہے اور ان سے صمیمیت اور یکجہتی پیدا کرکے رنجش اور کینہ کو دور کرنے کا مطالبہ کرتاہے اور تقاضا کرتاہے کہ محبت آمیز باتوں سے رحمت الہی کے سایہ کو اپنے سر پر جاری رکھیں ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:’’من اکرم اخاہ المسلم بکلمۃ یلطفہ بہا و فرّج عنہ کربتہ، لم یزل فی ظل اللّٰہ الممد ود علیہ الرحمۃ ما کان فی ذلک ‘‘’’جو اپنے مسلمان بھائی کا اپنی محبت آمیز باتوں کے ذریعہ احترام کرے اور اس کے غم کو دور کرے، توجب تک یہ عادت و خصلت اس میں موجود ہے وہ ہمیشہ خداکے سایۂ رحمت میں ہوگا۔‘‘پس ہمیں ان بزرگوں کا احترام کرناچاہئے ، جنھوں نے ایک عمر اسلام میں گزاری ہے اور ان کی ڈاڑھی سفید ہوچکی ہے،حتی اگر ان کی معلومات ہماری معلومات کے برابر بھی نہ ہوں۔ کیونکہ ہم نہیں جانتے ہیں کہ ہماری عمران کی عمر کے برابر پہنچے گی یا نہیں، یا اگر ہم ان کی عمر تک پہنچے بھی معلوم نہیں اپنے دین کا تحفظ کر سکیں یا نہیں۔ کتنے ہی جوان گزرے ہیں کہ جوانی میں ہی ہدایت کی نعمت سے محروم ہوگئے اور کفر و عناد کے عالم میں اس دنیا سے گئے ہیں، اس کے مقابلہ میں یہ انسان کہ جس نے دین کی حفاظت کرتے ہوئے ایک عمر گزاری ہے اور اسلام کو اپنے وجود میں تحفظ بخشا ہے، حقیقتاً احترام کا مستحق ہے، اگر چہ وہ علمی مفاہیم کے بہت سے اصولوں سے واقف نہیں ہے اور اس کا علم ہمارے برابر نہیں ہے۔ یہ گروہ اس قدر عظمت و شرافت کا حامل ہے کہ جس نے اسلام میں ایک عمر گزاری ہے ۔
ب۔ قرآن مجید کے حاملین اور اس پر عمل کرنے والوں کا احترام :دوسرا گروہ : قرآن مجید کے حاملین او ر اس پر عمل کرنے والوں کا ہے۔ پہلے درجہ پر ان کا احترام خدائے متعال کا احترام ہے کہ جو حافظ قرآن بھی ہیں اور قرآن مجید پر عمل کرنے والے بھی ہیں اور اس گروہ کے بعد ان کا احترام بھی خدائے متعال کا احترا م ہے جو حافظِ قرآن نہیں ہیں لیکن علوم قرآن کے عالم اور اس پر عمل کرنے والے ہیں ، اسی طرح اگر قرآن مجید پر عمل کرنے والے نہیں تھے صرف قرآن مجید کے حامل تھے، پھر بھی وہ احترام کا ایک درجہ رکھتے ہیں۔
 ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایاہے:’’اشراف امتی حملۃ القرآن و اصحاب اللّیل ‘‘’’میری امت کے بزرگ وبرتر افراد قرآن مجید کے حامل(حافظ) اور شب زندہ دار ہیں‘‘اس روایت میں قرآن مجید کے حاملین کے لئے ایک خاص شرافت ثابت ہوتی ہے، لیکن ابوذر کی حدیث کے اس حصہ میں، اصل شرافت کے اثبات کے علاوہ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ان کا احترام خدا کا احترام ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ قرآن مجید پر عمل کرنے والے ہوں او ر ان کی خصوصیت یہ ہے کہ قرآن مجید کے حامل اور اس پر عمل کرنے والے ظاہر و باطن ، گفتار و کردار میں ارادہ الٰہی کا جلوہ کلام الہی کے مظہر ہیں، انہوں نے قرآن مجید کے الفاظ اور حروف کو بھی حفظ کیا ہے اور ان کے ذہنوں میں قرآن کے مفاہیم بھی محفوظ ہیں اور اصطلاح میں ان کے قوہ متخیّلہ نے الفاظ کی صورت کو درک کیا ہے، ان کے قوہ عاقلہ نے اس کے مفاہیم کو اور قوہ عاملہ نے قرآن مجید کے حقائق کو عمل کی دنیا میں جلوہ گر کیا ہے، یعنی ان کا وجود سرتا پا خدائی اور قرآنی ہوچکاہے۔جب ہم ان کے حافظہ پر نظر ڈالتے ہیں کہ وہ حافظ قرآن مجید ہیں ، جب ان کے علوم پر نظر ڈالتے میں تو دیکھتے ہیں کہ وہ علوم قرآن مجید کے حامل او راس کے مفاہیم کو حاصل کرچکے ہیں او رجب ہم ان کے عمل پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کے مطابق عمل کرتے ہیں، اس لحاظ سے ان کا وجود قرآن مجید کا آئینہ ہے، یعنی ان کا وجود کمالِ خدا کا آئینہ ہے اور خدائے متعال نے اپنے کلام سے ان کے وجود میں ظہور کیا ہے، لہذا ان کا احترام خداوند متعال کا احترام ہے۔
قرآن مجید کے بلند مقام کے بارے میں پیغمبر اسلام فرماتے ہیں:’’القرآن ہدی من الضلالۃ و تبیان من العمی و استقالۃ من العثرۃ و نور من الظلمۃ و ضیاء من الاحداث و عثمۃ من الھلکۃ و رشد من الغوایۃ وبیان من الفتن و بلاغ من الدنیا الی الآخرۃ و فیہ کمال دینکم و ما عدل احد عن القرآن الّا الی النار ‘‘’’ قرآن مجید گمراہی کے لئے ایک رہنمااور نابینا کے لئے بینائی اور نجات بخش ہے، لغزشوں کو بخشنے کا سبب او رہر تاریکی کے لئے نور اور روشنی ہے، حوادث میں نجاتدلانے والا ہے، ہر ہلاکت سے بچانے والا اور ہر گمراہی میں رہنمائی کرنے والا ہے۔ ہرفتنہ وانحراف کو بیان کرنے والا او رانسان کو دنیا سے (پستی سے سعادت) آخرت کی طرف لے جانے والاہے اور اس میں تمہارے دین کا کمال ہے اور قرآن مجید سے کوئی شخص منہ نہیں موڑتا مگر یہ کہ اس نے جہنم کی طرف رخ کیا ہے‘‘قرآن مجید پر توجہ کرنے ، اسے پہچاننے او راسے ایک سعادت او رنجات بخش کتاب کی حیثیت سے منتخب کرنے کی ضرورت کے بارے میں ایک حدیث میں آیا ہے:’’من اخذ دینہ من کتاب اللّٰہ و سنۃ نبیہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم زالت الجبال قبل ان یزول و من اخذ دینہ من افواہ الرجال ردّتہ الرّجال ‘‘’’ جو بھی اپنے دین کو خدا کی کتاب اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے حاصل کرتا ہے وہ پہاڑوں سے مستحکم تر او رجو اپنے دین کو لوگوں کی زبانوں سے حاصل کرتاہے، وہی لوگ اسے دین سے منحرف کردیں گے‘‘ایک اور جگہ پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن مجید اور اہلبیت علیہم السلام کے درمیان رابطہ کے بارے میں فرماتے ہیں:’’انا اول رافد علی العزیز الجبّار یوم القیامۃ و کتابہ و اہل بیتی، ثم امّتی ثم اسالہم ما فعلتم بکتاب اللّٰہ و اہل بیتی ‘‘
میں پہلا شخص ہوں جو قیامت کے دن خدائے جبار کے حضور قرآن مجید اور اپنے اہلبیت کے ساتھ حاضر ہوگا، اس کے بعد میری امت (حاضر ہوگی) ، اس کے بعد میں پوچھوں گا: تم لوگوں نے خدا کی کتاب او رمیرے اہل بیت ؑ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
جو کچھ بیان ہوا، وہ اس لئے تھاکہ ہم جان لیں کہ قرآن مجید ، مادی و معنوی دونوں لحاظ سے، بابرکت رکھتا ہے او رانسان جس قدراس سے زیادہ بہرہ مند ہوگا۔ قرآن مجید کی فضیلت او رعظمت اتنی ہی زیادہ ہوگی اس مضمون کی ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ ایک شخص نے معصوم سے سوال کیا: دوسرے لوگوں پر آپ کی فضیلت او ربرتری کا سبب کیاہے؟ تو معصوم نے جواب میں فرمایا: دوسروں پر ہماری فضیلت اس لئے ہے کہ قرآن مجید کا علم ہمارے پاس ہے۔پس ہمیں ہمیشہ قرآن مجید کی تکریم و تقدیس کرنی چاہئے اور قرآن مجیدکو ہرگز دوسری کتابوں کی طرح نہیں دیکھنا چاہئے اور قرآن مجید کو دوسری تمام کتابوں پر فضیلت دینا صرف قلبی اعتقاد تک محدود نہ ہو، بلکہ قرآن مجید کے بارے میں ہماری رفتا ردوسری کتابوں کے مقابلہ میں متفاوت ہونی چاہئے۔ ہمیں قرآن مجید کی نسبت قلبی احترام کے علاوہ اس کا ظاہری احترام بھی کرنا چاہئے یعنی ہماری ظاہری رفتار ، قرآن مجید کے ساتھ ہماری قلبی رفتار کا مظہر ہونا چاہئے ۔بیشک قرآن مجید کے ساتھ ہماری یہی قابل تعظیم رفتار، ہمارے ایمان میں اضافہ کا سبب بنے گی۔
بعض برزگان اس کمرے میں نہیں سوتے تھے، جس میں قرآن مجید ہوا کرتا تھا اور حتی اس کمرے میں قرآن مجید کے احترام میں پیر بھی نہیں پھیلا تے تھے۔ علامہ طباطبائی رحمۃ اللہ علیہ اور شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ نے مرحوم شیخ محمد تقی آملی سے ایک داستان نقل کی ہے کہ مرحوم آملی نے ایک رات کو قرآن محید کی تلاوت کے دوران انتہائی تھکاوٹ کی وجہ سے تکیہ سے ٹیک لگایا۔ دوسرے دن حب وہ اپنے استاد مرحوم میرزا علی آقای قاضی کہ علامہ طباطبائی اور دیگر بزرگوں کے بھی استاد تھے۔ کے پاس پہنچے تو استادنے بغیر کسی مقدمہ کے فرمایا: قرآن محید کی تلاوت کے وقت اچھا نہیں ہے کہ انسان تکیہ سے ٹیک لگائے!جی ہاں، قرآن مجید کی تعظیم کے لئے اور معاشرے میں قرآنی ثقافت کو وسعت دینے کے لئے قرآن مجید کے حاملین کا اکرام کرنا چاہئے اور اگر ہم خود قرآن محید کے حاملین میں ہوں تو دوسرے لوگ ہمارا بھی احترام کریں گے اور ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ چونکہ ہم خود قرآن مجید کے حامل ہیں، اس لئے قرآن مجید کے دوسرے حاملین کا احترام نہیں کرناچاہئے، کیونکہ ایک شخص حامل قرآن ہو اور دوسرے حاملان قرآن کا احترام کرے ، چنانچہ سادات او راولاد رسول اللہ کا احترام تما م لوگوں من جملہ سادات پر واحب ہے۔
جب انسان ایک سید کودیکھتا ہے اسے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم یاد آتے ہیں، اس لحاظ سے اس کا احترام کرنا ضروری ہے، حتی اگر خود بھی سید ہو۔
ج۔باانصاف او رعادل حاکم کا احترام :تیسرا گروہ: تیسرا گروہ جن کا احترام کرنا خدا کا احترام کرناہے، عادل او ربا انصاف حکام ہیں۔ہم عادل حاکم کا احترام ضروروی ہونے کے موضوع پر بحث کرنے سے پہلے معاشرے میں حکومت اور قانون کی ضرورت اور حاکم کے شرائط پر بحث کریں گے:معاشرے میں حکومت اور قانون کی ضرورت :مرحوم علامہ طباطبائی فرماتے ہیں:’’ملک‘‘ سلطنت کے معنی میں ضروریات بدہیہ میں سے ہے کہ انسان اس سے مستغنی نہیں ہے۔ لیکن جس چیز کی بشر کو ابتدا میں ضروروت ہے،وہ اجتماع کی تشکیل ہے۔معاشرے کے افراد کا ایک دوسرے سے ربط اور لگاؤ اس طرح سے کہ معاشرے کا ہر فرد دوسروں کے مقصد اور چاہت کے علاوہ اپنے لئے ایک مقصد اور ارادہ رکھتا ہے، نہ وہ معاشرہ جو کہ فرد فرد کے اعتبار سے ایک دوسروں سے ربط وضبط کے بغیر ہوتاہے، کیونکہ ایک ایک فرد مختلف مطالبات اور گوناگوں مقاصد رکھتے ہیں، اس لحاظ سے ان کی ایک دوسرے سے نہیں بنتی ہے، ہر فرد دوسروں کے ماحصل کو چُرا کران پر غلبہ پانا چاہتا ہے اور دوسروں کے حقوق کو پائمال کرناچاہتا ہے، جس کے نتیجہ میں معاشرے میں ناامنی پھیلتی ہے اور جس معاشرے کو زندگی کی سعادت کے تحفظ کے لئے تشکیل دیاگیا تھا اسے بدبختی و نابودی کا وسیلہ بنایاجاتاہے۔ اس مشکل کو دور کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہے کہ معاشر اپنے لئے ایک قہر و غلبہ پانے والی طاقت فراہم کرے تا کہ تمام دیگر قوا اور توانائیوں کو اپنے کنٹرول میں قرار دے۔ تمام لوگوں کو اپنے فرمان کے تحت قرار دے اور نتیجہ کے طور پر دوسروں پر ظلم والی سرکش طاقتوں کو اعتدال میں لایا جائے۔ کمزور افراد کو بھی کمزوری اور سستی کے مرحلہ سے نجات دلاکر در میانی حد تک پہنچادیں تاکہ سرانجام معاشرے کی تمام توانائیاں قوت و ضعف کے لحاظ سے برابر اور ایک دوسرے کے نزدیک ہوجائیں اور اس کے بعد ہر طاقت کو اس کی خاص جگہ پر معین کر دیا جائے ، تو اس صورت میں ہرحقدار کو اس کا حق پہنچ جائے گا ‘‘
واضح ہواکہ انسان کی زندگی ایک اجتماعی زندگی ہے۔ اب یہ کہ کیوں اس کی زندگی اجتماعی ہے، کیا اجتماعی ہونا جبراً انسان پر مسلط ہے یا انسان کی فطرت پہلے سے اجتماعی زندگی کی متقاضی ہے او رکیا کوئی عقلائی اور اختیاری عامل اجتماعی زندگی کے انتخاب میں موثر ہے یا نہیں؟ یہ وہ مباحث ہیں جن کے بارے میں فراواں بحثیں ہوئی ہیں، لیکن ہماری نظریہ ہے کہ اجتماعی زندگی کے انتخاب میں عقلائی عامل مؤثر ہے، چونکہ انسان اجتماعی زندگی میں اپنے لئے منافع دیکھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کی مادی و معنوی ضرورتیں اجتماعی زندگی کے بغیر یا اصلاً پوری نہیں ہوتی ہیں یا مطلوب صورت میں مکمل طور پر پوری نہیں ہوتی ہیں ، اس لئے وہ اجتماعی زندگی کو پسند کرتا ہے اور اس کے شرائط کو قبول کرتا ہے۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کا لازمی نتیجہ معاشرے کے مختلف افراد کے منافع کے در میان ٹکراؤکا پیدا ہونا ہے۔ یعنی جب لوگ اجتماعی زندگی چاہتے ہیں اور آپس میں ایک ساتھ زندگی کزارتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، اس باہمی تعاون کے ما حصل کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں، توان کے منافع اور خواہشات کے در میان ٹکراؤ پیدا ہوتاہے۔ بعض لوگ زیادہ سے زیادہ نفع کے در پے ہوتے ہیں اور الٰہی عطیوں اور نعمتوں سے لامحدود صورت میں فائدہ اٹھا ناچاہتے ہیں اور دوسرے انسانوں کے ساتھ برتاؤ کے طریقہ کو اپنی مرضی کے مطابق بر قرارکرنا چاہتے ہیں ا ور ان کا یہ رویہ دوسروں کو پسند نہیں ہوتا ہے۔ پس معاشرے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے، کہ اس کو روکنے کے لئے حدود او رقوانین مرتب و معین کئے جانے چاہئے یہ بھی ایک بدیہی امر ہے اور اس کا واضح ہونا یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص انسان کی خواہشات خواہ مادی یا معنوی کے بارے میں تھوڑا ساغور کرے(جو اجتماعی زندگی سے مربوط ہے) تو وہ دیکھے گاکہ تمام افراد کی لا محدود خواہشات کا پورا ہونا ممکن نہیں ہے اور اگر انسان اجتماعی طور پر زندگی گزارنا چاہے توا سے اپنی خواہشات کے لئے ایک حد معین کرنا چاہئے او رمن پسند طو رپر عمل نہ کرے۔
پس ٹکراؤ کو دور کرنے یا اسے کم کرنے کے لئے ہم حدود اور قوانین کے محتاج ہیں۔ اگرہم اجتماعی زندگی میں افراد کے استفادہ کے لئے حدود کے قائل نہ ہو جائیں یا کچھ انسان ان حدود کی رعایت نہ کریں تو اجتماعی زندگی کا مقصد کہ انسان کے معنوی ومادی تکامل و ترقی کے لئے طبیعت کی نعمتوں سے استفادہ کرناہے حاصل نہیں ہوگا۔ پس اجتماعی زندگی اس طرح نظم و ضبط کے ساتھ گزارنا چاہئے کہ معاشرے کے تمام افراد کے لئے روز افزوں ترقی اور تکامل کے مواقع فراہمہوں۔ صرف اسی صورت میں اجتماعی زندگی کا مقصد صحیح معنوی میں پورا ہوسکتا ہے۔اسلامی نظام میں، جو اسلامی اصول اور نظریات پر مبنی ہے، ضرورت ہے کہ قانون الہی ہو۔ اس امر کی دلیل وہ دعوی ہے جسے اسلام نے معاشرے کے امور کی تدبیر میں ایک ہمہ جہت مکتب کے طور پر پیش کیا ہے۔ ہم بھی اسلام کے پیرو ہیں اور اس پر عمل کرنے کو عام سعادت کی ضمانت سمجھتے ہیں ہمیں گوناگوں مذاہب و مکاتب فکر کے مختلف رجحانات جنھیں دنیا کے اکثر ممالک نے کم و بیش قبول کیا ہے کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے عقیدہ اور ارمانوں کا استدلال و تفکر کے اسلحہ سے دفاع کرناچاہئے۔
صالح او رشائستہ حاکم کے شرائط:یہاں تک معاشرے میں حکومت اور قانون کے وجود کی ضرورت بیان ہوئی، اور چونکہ حکومت کی تشکیل او رقانون کا نفاذ حاکم کے وجود کے بغیر ممکن نہیں ہے، اس لئے ہم امور حکومت کو سنبھالنے والے حاکم کے بعض شرائط کی طرف اشارہ کرتے ہیں:۱۔ شناخت قانون: جو شخص قانون کو نافذ کرناچاہتاہو، خواہ وہ قانون داخلی امن و سلامتی کے بارے میں ہو خواہ دفاع کے بارے میں یا بین الاقوامی تعلقات، یا دوسری چیزوں کے بارے میں اسے قانون اور ان اصولوں او رقدروں کے بارے میں جن پر وہ قانون استوار ہے ، کافی شناخت و معلومات ہونی چاہئے۔
۲۔ تقویٰ : تقویٰ، اسلامی ثقافت میں ایک کلی شرط ہے اور عام لغت میں اسے ’’فرضیہ شناسی‘‘ کہتے ہیں۔ جو شخص معاشرے کے امور کا حاکم بن جاتاہے اور لوگوں کی مصلحتوں کو اپنے ذمہ سنبھالتا ہے، اسے ان کی مصلحتوں کو پور اکرنے کی فکر میں ہونا چاہئے، نہ یہ کہ اقتدار پر پہنچنے کے بعد اپنے ذاتی مقاصد او ردنیوی خواہشات کو پورا کرنے کی فکر میں ہو، ایسی صورت میں اس قسم کا شخص لوگوں کے جان مال،کی حفاظت اور قانون نافذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ قانون کو اس کے بر خلاف اور اپنی خواہشات کے مطابق تفسیر و تاویل کرتاہے یا اسے نسخ کرتاہے اور بعض اوقات واضح طور پر اس کی مخالفت کرتاہے۔ پس حکومتی امور کو سنبھالنے والے کے لئے دوسری شرط اخلاقی اقدار سے برخورد ار ہونا، یا قرآن مجید او راسلامی ثقافت کی اصطلاح میں صاحب تقویٰ ہونا ہے۔
۳۔ تجربہ کاری: جو بھی کسی کام کو انجام دینے کی ذمہ داری سنبھالے اس میں اس کام کو انجام دینے کی صلاحیت ہونی اہئے،کیونکہ کسی شخص کے لئے صرف قانون کے بارے میں آگاہی رکھنا او رصاحب تقوی ہوناکام کو صحیح طور پر انجام دینے کے لئے کافی نہیں ہے ، بلکہ اس کام کے بارے میں مہارت او رتجربہ کاری کا بھی ہونا ضروری ہے تاکہ اس کی مدد سے مسؤلین (اراکین) کو پیش آنے والے چھوٹے بڑے مسائل و مشکلات کو حل کرسکے۔اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ انسانی معاشرے ٹکراؤاور کشیدگیوں کو دور کرنے شخصی اور معاشرتی منافع کے بارے میں حدود معین کرنے اور بالاخر معاشرتی زندگی میں اعتدال پیدا کرنے کے لئے قانون کے محتاج ہیں، اور اس کو صحیح طو رپر نافذ کرنے کے لئے او رباغیوں اور سرکشوں کودورکرنے کے لئے والی اور حاکم کے محتاج ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ولایت اور سرپرستی کا حق فقط خدائے متعال کو ہے اور دوسرے اس کی اجازت سے لوگوں کے والی اور سرپرست ہوتے ہیں؟ یا بعض انسان بنیادی طور پر دوسروں پر ولایت و سرپرستی کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اس کے حواب میں کہا جاسکتاہے کہ کوئی بھی انسان دوسرے افراد پر ولایت و سرپرستی کا حق نہیں رکھتاہے، کیونکہ انسان اسی کی اطاعت کرتا ہے کہ جس سے اس نے اپنے وجود جیسی نعمت کو حاصل کیا ہے، چونکہ عام لوگوں نے نہ انسان کو ھستی عطاکی ہے اور نہ اس کے بقا او ردوام میں مؤثر ہیں اس لئے کسی کاحکم دوسری کے لئے واجب الاطاعت نہیں ہے۔انسانوں کی عدم ولایت میں پہلی اصل افراد کی پیروی کی عدم ضرورت ہے۔ چونکہ انسان اپنی ھستی کی پوری حیثیت کو خدائے متعال سے حاصل کرتا ہے اس لئے اس پر واجب ہے، صرف اس کے حکم کی تعمیل کرے اور اس کے علاوہ کسی اور کے حکم کی تعمیل کرنے میں یہ شرط ہے کہ وہ دوسرا خدائے متعال کی طرف سے معین ہونا چاہئے۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر جب ہم قرآن مجید پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ خدائے متعال باطل ولایتوں کو، یعنی جن ولایتوں پر خداوند عالم نے دستخط نہیں کئے ہیں، مسترد کرتاہے:(یا ایہا الذین آمنوا لاتتخذوا الیہود والنصاری اولیاء بعضہم اولیاء بعضٍ و من یتولّہم منکم فانّہ منہم انّ اللّٰہ لا یہدی القوم الظالمین  ) ’’ ایمان والو! یہودیوں او رعیسائیوں کو (کہ اسلام کے دشمن ہیں) اپنا دوست اور سرپرست نہ بناؤ کہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جوکوئی انھیں دوست بنائے گاتو (کفر و ظلم میں) انھیں میں شمارہو گا۔ بیشک اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔ ‘‘(جملہ’’ ان اللّٰہ لایھدی القوم الظالمین‘‘ اس پر دلالت کرتاہے کہ وہ ظالم ہیں اور ظالم کبھی ہدایت سے بہرہ مندنہیں ہوتا، ہرگز مقصد تک نہیں پہنچتا بلکہ وہ متواتر راستہ میں ہی رہتا ہے۔پس اگر تم لوگ بھی ان کے ہی زمرہ میں قرار پائے تو مقصد تک نہیں پہنچ پاؤگے)پرودگار عالم ایک دوسری آیت میں حاکم بر حق کا یوں تعارف کراتاہے:(انّما ولیکم اللّٰہ و رسولہ و الذین آمنوا الذین یقیمون الصّلوۃ و یؤتون الزّکوٰۃ و ہم راکعون ) ’’ایمان والو! بس تمھارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول او روہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوۃ دیتے ہیں (تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آیہ شریفہ کے مصداق حضرت علی علیہ السلام ہیں‘‘ پس معاشرے میں حکومت کی ضرورت کے پیش نظر اسلام میں جو شاہد پیش کئے گئے ہیں ا ور حاکم بر حق کے لئے جو شرائط ذکر ہوئے ہیں، ان سے واضح ہوتاہے، کہ شخص معصوم کے حضور کی صورت میں ( جیسے وجود مقدس روسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم او رمعصوم ائمہ علیہم السلام) وہی حکومت کا والی و سرپرست ہوگا اور فطری بات ہے کہ ایسی حکومت کا فی مطلوب اور مثالی ہوگی۔لیکن یہ صورت ہمیشہ ممکن نہیں ہے، حتی امام معصوم کے حضور کے زمانے میں بھی وہ صرف جس جگہ پر تشریف رکھتے ہیں، اسی شہریاصوبے کی حکومت چلا سکتے ہیں اور دیگر تمام شہروں میں اپنے کارندے اور عامل معین کرکے امور کی نگرانی اور نظارت کریں گے۔ عصر غیبت میں امام معصوم تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے، کسی کا اس منصب پر فائز ہونا ضروری ہے تا کہ اسلامی معاشرے کو قوانین الہی او راسلام کے اصولی کی بنیاد پر قیادت و رہبری کرے، اس کے حسب ذیل شرائطہیں۔
۱۔ اسلام کے بارے میں کافی آگاہی : چونکہ رہبری اور حکومت کی مسؤلیت میں، قوانین اور اسلامی اقدار کی حفاظت مسلمانوں کے حاکم کے ذمہ ہے اور وہ دین، ناموس اور احکام خدا کا امانت دار ہوتا ہے، اس لئے ان تینوں شرائط یعنی: قانون کے بارے میں آگاہی، تقوی و اخلاقی صلاحیت اور حکومت چلانے کی اہلیت و قدرتکے سلسلہ میں دوسروں کی بہ نسبت زیادہ آگاہی اور مہارت رکھتا ہو۔ایک روایت کا مضمون یہ ہے کہ اگر ایک معاشرے میں کوئی شخص امامت و رہبری کو اپنے ذمہ لے لے، جبکہ دوسرے لوگ حتی ایک آدمی بھی اس معاشرے میں اس سے داناتر و شائستہ تر موجود ہوں تا تو وہ معاشرہ ہمیشہ روبہ زوال ہوگا:’’من امّ قوماً و فیہم من ہوا علم منہ او افقہ لم یزل امرہم الی سفالٍ الی یوم القیامۃ  ‘‘
۲۔تقوی:رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صلاحیت رہبری کی شرائط میں سے ایک شرط کہ جو اسے خداکے حرام سے بچاتی ہے تقوی و پرہیز گاری بیان فرمائی ہے: ’’ورع یحجز ہ عن معاصی اللّٰہ  ‘‘امام حسین علیہ السلام ایک روایت میں معاشرے کی رہبری کے بارے میں اہل کوفہ کو لکھتے ہیں:’’ما الامام الا الحاکم بالکتاب، القائم بالقسط، الدّائن بدین الحق
الحابس نفسہ علی ذات اللّٰہ ‘‘’’پیشوا اور امام نہیں ہے مگروہ جس کی حکومت قرآن مجید کی بنیاد پر ہو، عدل و انصاف کو قائم کرتاہو اور دینِ حق پر پابند ہواور خود کو خدا کی راہ میں وقف کرے۔‘‘
حضرت علی علیہ السلام عثمان سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں:’’فاعلم انّ افضل عباد اللّٰہ عند اللّٰہ امام عادل ہدی و ہدی فاقام سنّۃ و معلومۃ و امات بدعۃ مجہولۃ ... و انّ شرّ الناس عندا للّٰہ اما م جائرٌ ضلّ و ضلّ بہ فامات سنۃ ماخوذۃ و احیا بدعۃ متروکۃ  ‘‘’’جان لو! خداکے نزدیک بندوں میں برترین شخص عادل اور نجات یافتہ پیشوا ہے جو ہدایت یافتہ رہنما ہو اور سنت اور معروف طریقہ (پیغمبر اکرمؐسے) کو رواج دے اور باطل و غلط بدعت کونابود کرے۔ خدا کے پاس لوگوں میں سے بدترین شخص ظالم امام ہے جو خود گمراہ ہو اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا سبب بنے، قبول کی گئی سنت کو نابود کرے او رچھوڑی ہوئی بدعت کو پھرسے زندہ کرے‘‘
۳۔ تدبیر و مدیریت : تیسری شرط امور کو چلانے کی مہارت حسن تدبیر اور معاشرے کے امور کی مدیریت ہے۔ اسلامی حاکم کے لئے، رہبری کی توانائی اور معاشرے کو اسلام کے راستہ پر چلانے کی طاقت کا ہونا ضروری شرط میں شمار کیا گیا ہے اور اس خصوصیت کے لئے بہت سے مقدمات، تجربے، آگاہی اور عوامل کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص اجتماعی امور کے بارے میں سیاسی تدبیر و دیانت میں اس حد تک پہنچ جائے تو مسلمانوں کی مسؤلیت و ذمہ داری کو اسے سونپا جاسکتاہے۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:’’ایّہا الناس انّ احقّ الناس بہذا الامر اقواہم علیہ و اعلمہم بامراللہ فیہ ‘‘لوگو! خلافت کا سزاوار وہ شخص ہے جو اس کام کے لئے تواناتر او رخدا کا حکم جاننے میں داناتر ہو۔‘‘ولی فقیہ، صالح او رشائستہ ترین فرد:حاکم اسلامی کے لئے بیان کئے گئے معیار و صفات کے پیش نظرہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں شائستہ ترین فرد کی حکومت کی راہ اور مواقع فراہم ہیں، گزشتہ زمانہ میں ایسے اشخاص کے توسط سے حکومت اختیار میں لینا بہت بعید او ربعض اوقات ناممکن نظر آتاتھا، ایسی بحثیں بھی نہیں ہوتی تھیں او ر صرف ’’مرجع تقلید‘‘ کا مسئلہ پیش کیا جاتاتھا۔اس جہت سے اسلام کے ہمدرد اور مصلحت اندیش کچھ بزرگ تھے جو ’’مرجع تقلید‘‘ کے عنوان سے معاشرے کی بہترین خدمت انجام دینے والی فرد کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن آج بحمدللہ صالح افراد کے ذریعہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے اسباب وسائل فراہم ہوئے ہیں اور اس عظیم اسلامی انقلاب او رشہیدوں کے مقدس خون کی برکت سے ایسے شرائط فراہم ہوگئے کہ اس نے ہمیں اسلامی نظام میں، رہبری (ولی فقیہ) کی نعمت سے سرفراز فرماکر ہم پر احسان کیا ہے۔ اس نعمت کی شکر گزاری کو صرف ولایت فقیہ کی اطاعت سے انجام دیا جا سکتاہے کہ وہ مسلمین کی عزت و امت اسلامیہ کی وحدت و یکجہتی کا ضامن ہے۔
حضرت اما خمینی قدس اللہ نفسہ الزکیہ کی حیات میں ہم اس نعمت سے مستفید تھے او رآج بھی افسوس کہ اس عظیم نعمت سے محروم ہوئے ہیں لیکن اس کے با وجو خدائے متعال نے اپنی نعمت کو ہم پر جاری رکھتے ہوئے ولی فقیہ کے سایہ کو ہمارے سروں پر استمرار بخشاہے۔ ہم خدا کا لاکھ لاکھ شکر بجا لاتے ہیں کہ امت کے ماہر اور داناافراد (خبرگان) نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے دوستوں میں سے بہترین اورشائستہ ترین فرد یعنی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای مد ظلہ العالی کو ان کا جانشین منتخب کیا اور تمام لوگوں نے خوشی خوشی ان کی بیعت کی ہے اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے تمام ساتھیوں نے کمال ہمدلی و یکجہتی سے راہ امام کو ثبات بخشاہے اور بحمدللہ امور کو جاری رکھنے میں کسی قسم کی سستی او ر خلل کا سامنانہیں ہوا۔ ہم بارگاہ الہی میں دست بہ دعا ہیں کہ مسؤلین کا یہ اتحاد و یکجہتی قائم و دائم رہے اور روز افزوں مستحکم اور پائدار تر ہو جائے تا کہ انقلاب اسلامی کی یہ کشتی رہبر معظم کی قیادت میں امن و مقصد کے مطلوب ساحل سے ہم کنار ہوجائے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ و آلہ و سلم جناب ابوذر غفار ی کونصیحت فرماتے ہیں کہ قانون الہی کے مطابق اور عدل و انصاف کی بنیاد پر حکومت کرنے والے عادل حاکم کا احترام کرو اس لئے کہ اس کا احترام کرنا، خدا کا احترام کرناہے، خدا کی صفات میں سے ایک صفت حاکمیت ہے، کیونکہ اسمائے الہی میں سے ایک اسم حاکم ومولا ہے اور خدا کا مولا ہونا اور حکومت الہی عملا خدا کے عادلانہ احکام میں ظہور پذیر ہے کہ اس خطیراور عظیم ذمہ داری کی باگ ڈور حاکم اسلامی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
عادل مسلمان فرمانروا اور ولی امر مسلمین ، جو قانون الہی کے مطابق حکم دیتا ہے، اور اسلامی معاشرہ میں احکام الہی کونافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کے ایک مرتبہ کا حامل ہوتاہے۔ کیونکہ ولایت الہی در حقیقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او رائمہ اطہار علیہم السلام کو سپرد کی گئی ہے ۔ اور اس کا ادنی درجہ سلطان عادل اور ولی امر مسلمین کو سپرد کیا گیا ہے، اس لحاظ سے اس کا احترام خدا کا احترام ہے۔
اس بنا پر بعض لوگوں کے تصور کے خلاف کہ سوچتے ہیں اسلامی حاکم کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اگر کوئی شخص خدا کے لئے اور اسلام و اسلامی نظام حکومت کے احترام کی نیت سے رہبر معظم اور ولی امر مسلمین کا کسی ذاتی غرض کے بغیر احترام کرے ، اور اس کے احترام کی دلیل یہ ہوکہ ولی امر مسلمین اسلامی احکام کو نافذ کرتاہے اور قرآن مجید کا مروج ہے تو اس کا یہ احترام قابل اہمیت ہے۔اس مطلب کو ذکر کرنا میں اپنا فرض جانتا ہوں کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ولی امر مسلمین کے ہاتھوں جو بہترین اور شائستہ ترین سنتیں ہمارے ملک میں ایجاد ہوئیں وہ قرآن مجید کی قرائت اور حفظ کی سنّت کا احیاء اور زندہ کرنا ہے۔آپ مشاہدہ فرمارہے ہیں کہ بعض اوقات ٹیلی ویژن چھوٹے چھوٹے کمسن اور نو عمر بچوں کو دکھا تاہے کہ جو حافظ قرآن ہیں۔ ہم کبھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک چھوٹی بچی جوابھی اچھی طرح سے بات بھی نہیں کرسکتی ہے، قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ حفظ کرچکی ہے، وہ بھی عربی لہجہ میں! آپ کو یادہوگا کہ انقلاب سے پہلے ہمیں انتہائی محنت کرنا پڑتی تھی تا کہ لوگ حمد و سورہ کو صحیح پڑھ سکیں اور ’’سین و صاد‘‘ میں فرق کرسکیں، حتی پڑھے لکھے لوگوں کے لئے بھی حمد و سورہ کی تجوید سیکھنا مشکل امر تھا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں ایک ۶ یا ۷ سالہ بچی قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کو حفظ کرچکی ہے اور تجوید کے ساتھ ہم سے بہتر تلاوت کرتی ہے! کیا یہ قابل فخرو مباہات نہیں ہے؟کیا جس نے اس سنت کو زندہ کیا ہے، اس کا احترام نہیں کرنا چاہئے؟ یقیناًایسے شخص کا احترام خدا کا احترام ہے، قرآن مجید کا احترام ہے، پس ہمیں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ اگر ہم ان احتراموں کی رعایت نہ کریں تو شعائر اسلامی نابود ہوجائیں گے۔معاشرے میں دین کی بقا شعائر اسلامی کی بقا پر منحصر ہے۔ اگر یہ احترام کرنا عام ہو کر رواج نہ پائے اور لوگوں میں اس کی تشہیر نہ ہو تو آہستہ آہستہ یہ قدریں فراموش ہوجائیں گی اور یہ کفران نعمت ہوگا۔
ہم اس بڑی نعمت کو درک کرتے ہیں جسے خدائے متعال نے ہمیں عنایت کی ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اور نظام اسلام کی رہبری کا احترام کرناچاہئے۔ البتہ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ اس احترام کی قدر اس وقت ہے کہ جب طمع او رلالچ کی غرض سے نہ ہو، بلکہ فریضہ انجام دینے اور خدا کی خوشنودی کے لئے ہونا چاہئے اور اس لئے ہو کہ مسلمانوں کے قائد کا احترام ، اسلامی نظام کا احترام ہے اور اسلام کا احترام خدا کا احترام ہے۔
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved