• تاریخ: 2013 اکتوبر 24

حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل (علیہما السلام) کا پہلا حج


           

جب اسمعیل (علیہ السلام) عمر کے لحاظ سے میان سالی کے مرحلے میں پہنچے خداوند متعال نے ابراہیم(ع) کو حکم دیا کہ ایک بار پھر شام سے مکہ عزیمت کریں اور اسمعیل(ع) کی مدد سے کعبہ کی تعمیر نو کا اہتمام کریں۔
ابراہیم(ع) نے عرض کیا! کعبہ کس مکان پر بناؤں؟ فرمایا: جس مقام پر تم سے پہلے حضرت آدم نے ایک قبہ اس کے اوپر رکھا تھا۔ 
اس کے بعد جبرائیل(ع) نے بیت اللہ کا مقام ابراہیم(ع) کو دکھایا اور اس کی حدود اور رقبے کا تعین کیا اور اس کے ستونوں کو جنت سے منتقل کیا نیز ایک پتھر جو برف سے زیادہ سفید تھا جس کو خداوند متعال نے جنت سے نازل کیا لیکن جب کعبہ کی دیوار پر نصب کیا گیا تو کفار اور مشرکین کے چھونے کی وجہ سے سیاہ ہوگیا اور حجر الاسود کے نام سے مشہور ہوا۔ 
بہرحال حضرت اسمعیل(ع) کوہ ذی طوی سے پتھر لاتے تھے اور ابراہیم(ع) انہیں ایک دوسرے پر رکھتے رہے اور خانہ خدا کی دیواریں بنتی رہیں اور جب دیوار کی اونچائی 9 ذراع تک پہنچی تو انھوں نے بہشتی پتھر اس پر نصب کردیا۔ انھوں نے کعبہ کے لئے مشرق اور مغرب کی سمت دو دروازے قرار دیئے۔ 
جب ان دو بزرگواروں نے کعبہ کی تعمیر کا کام مکمل کیا تو اس کی زیارت کی۔ جبرائیل امین(ع) یوم الترویہ (اٹھ ذوالحجہ) کو نازل ہوئے اور ابراہیم(ع) سے کہا: " "يا إبراهيم قم فارتو من الماء"، لأنه لم يكن بمنى وعرفات ماء فسميت التروية لذلك؛ اے ابراہیم اٹھو اور اپنے لئے پانے فراہم کرو کیونکہ منی اور عرفات میں پانی نہیں اسی وجہ سے اٹھ ذوالحجہ کو "یو الترویہ" کا نام لیا گیا۔ 
اس کے بعد جبرائیل نے ابراہیم اور اسمعیل (علیہما السلام) کو منی اور عرفات کی طرف راہنمائی دی اور اعمال حج انہیں سکھا دیئے جس طرح کہ انھوں نے یہ اعمال قبل ازاں حضرت آدم (علیہ السلام) کو سکھائے تھے۔ (1) 
خداوند متعال نے قرآن مجید کی متعدد آیات کریمہ میں اس واقعے کو مختلف زاويوں سے بیان فرمایا ہے۔ اس سلسلے میں سورہ بقرہ کی آیت 125 تا 132 کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ان آیات میں ابراہیم(ع) اور اسمعیل(ع) کے ہاتھوں کعبہ کی تعمیر اور خداوند متعال کی بارگاہ سے ابراہیم(ع) کی التجائیں بیان فرمائی گئیں ہیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ مجمع البيان۔ فضل بن حسن طبرسي، ج 2-1، ص39؛ بحارالانوارعلامه مجلسي، ج 21، ص 99۔ 
ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی۔ 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved