• تاریخ: 2011 اگست 17

ماہ رجب کي فضيلت


           


رجب ، شعبان اور رمضان کے مہينے بہت ہي فضيلت کے حامل ہيں ان مہينوں کي فضيلت ميں بہت سي روايات وارد ہوئي ہيں ، حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : رجب کا مہينہ اللہ کا عظيم مہينہ ہے جو احترام و فضيلت اس مہينہ کو حاصل ہے وہ کسي اور مہينہ کو نہيں ہے  يہ مہينہ حرام مہينہ کہلاتا ہے،يعني اس مہينہ ميں لڑائي کرنا حرا م ہےرجب اللہ کا مہينہ ہے ، شعبان ميرا مہينہ ہے اور رمضان المبارک ميري امت کا مہينہ ہے ،جو شخص رجب کے مہينے ميںايک دن بھي روزہ رکھے گا اس کو اللہ کي عظيم خوشنودي حاصل ہوگي اوروہ اللہ کے عذاب سے نجات پائے گااورجہنم کے دروازوں ميں سے ايک دروازہ اس پر بند کرديا جاے گا
امام موسي کاظم عليہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص رجب ميں ايک دن روزہ رکھے تو وہ جہنم کي آگ سے اتنا دور ہو جائے گاکہ وہ دوري ايک سال کے راستہ کے برابر ہوگي اور جو شخص اس مہينے کے تين روزہ رکھے تو اس پر جنت واجب ہو جائے گي
آنحضرت نے فر ماياکہ جنت ميں ايک نہر ہے جس کا نام رجب ہے جو دودھ سے زيادہ سفيد اور شہد سے زيادہ شيرين ہے، جو شخص اس مہينہ ميں ايک دن روزہ رکھے تو وہ ضروراس نہر سے سيراب ہو گاامام جعفر صادق عليہ السلام سے منقول ہے کہ جناب رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا : رجب کا مہينہ ميري امت کے لئے استغفار کا مہينہ ہے پس اس مہينہ ميں گناہوں سے بخشش کے لئے بہت زيادہ معافي مانگو کيو نکہ خداوندعالم بخشنے والااور مہربان ہے  
رجب کے مہينہ کو اصب بھي کہتے ہيں اس مہينہ ميں ميري امت پر اللہ کي رحمت زيادہ نازل ہوتي ہےپس تم اس مہينہ ميں ”استغفراللّہ وَاسئلہ التوب “زيادہ پڑھا کرو
ابن بابويہ نے معتبر سند کے ساتھ سالم سے روايت کي ہے : ميں ماہ رجب کے آخر ميں امام جعفرصادق عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوا آپ کي نظر مبارک مجھ پر پڑي تو آپ نے فر مايا : کيا تم نے اس مہينہ ميں روزہ رکھا ہے؟ ميں نے کہا : نہيں بس آپ نے فرمايا : تجھ سے اتنا ثواب ضائع ہو گيا جس کے بارے ميں سوائے ذات خدا کے کسي اور کو نہيں معلوم کيونکہ يہ وہ مہينہ ہے جسے خدا نے دوسرے مہينوں پر فضيلت دي ہے اور اس کے احترام کے بارے ميں تاکيد کي ہے  اس مہينہ ميں روزہ رکھنے والے کا احترام اپنے اوپر فرض قرار ديا ہے ،ميں نے عرض کي اے فرزند رسول اگرميں باقي ماندہ دنوں ميں روزہ رکھ لوں تو ان روزہ داروں کے بعض ثواب ميں داخل ہو جائوں گا ؟ آپ نے فرمايا :کہ اے سالم جو شخص اس مہينہ کے آخر ميں کسي ايک دن بھي روزہ رکھ لے تو خداوند عالم اسے سکرات موت کي سختي اور موت کے بعد والے خوف اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے گا  جو شخص اس مہينہ کے آخرميں دو دن روزہ رکھے تو پل (صراط)سے آساني کے ساتھ گزر جائے گا اور جو شخص اس مہينہ کے آخري تين دن روزہ رکھے تو وہ قيامت کے وحشتناک خوف اور اس دن کي سختي سے محفوظ رہے گا اور اسے جہنم سے نجات حاصل ہوگي ،واضح رہے کہ رجب کے روزہ کے بہت زيادہ فضائل وارد ہوئے ہيں اور روايت ميں ہے کہ جو شخص اس ميں روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو تو وہ ہر دن سو دفعہ اس تسبيح کو پڑھے تا کہ اس کو اس دن کے روزہ کا ثواب ملے  تسبيح يہ ہے : سبحان الالہ الجليل سبحان من لا ينبغي التسبيح الا لہ سبحان الاعز الاکرم سبحان من لبس العز و ھو لہ اھل

 

 اہلبیت فاونڈیشن

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved