• تاریخ: 2012 جنوری 23

تیس صفر امام رضا علیہ السلام کی مناسبت سے


           

ابوصلت ہروی کہتے ہیں: میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ (ع) نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے ابا صلت! ہارون کی قبر پر بنے ہوئے قبے میں جاکر چار اطراف سے تھوڑی سے مٹی جمع کرکے لاؤ۔
میں گیا اور مٹی اکٹھی کرکے لایا۔
امام (ع) نے مٹی کو سونگھا اور فرمایا: یہ لوگ مجھے ہارون کے پیچھے دفن کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں ایک بہت بڑا پتھر ظاہر ہوگا اور اگر پورے خراسان کے کدال بھی لائیں تو اس کو اکھاڑ نہيں سکیں گے اور ہارون کے سر اور پاؤں کی جانب بھی پتھر ظاہر ہوگا۔
اس کے بعد آپ (ع) نے قبر ہارون کے سامنے قبلہ کی جانب کی مٹی کو سونگھا تو فرمایا یہ میری تدفین کا مقام ہے۔ 
فرمایا: اے ابا صلت! جب میری قبر تیار ہوجائے تو ایک نمی ظاہر ہوگی اور میں تمہیں ایک دعا سکھاتا ہوں وہ پڑھ لو تو قبر پانی سے بھر جائے گی۔ اس پانی میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں ظاہر ہونگی۔ میں تمہیں ایک روٹی دیتا ہوں یہ روٹی ان مچھلیوں کے لیے توڑ کر پانی میں ڈال دو تو وہ روٹی کو کھا لیں گی اور اس کے بعد ایک بڑی مچھلی ظاہر ہوگی جو ان چھوٹی مچھلیوں کو نگل لے گی اور پھر غائب ہوجائے گی۔ اس وقت تم پانی پر ہاتھ رکھو اور یہ دعا پڑھ لو جو میں تمہیں سکھاتا ہوں تو پانی غائب ہوجائے گا۔ تم یہ سارے افعال مأمون کی موجودگی میں انجام دو۔
فرمایا: اے ابا صلت! کل میں اس فاسق و فاجر شخص (مامون عباسی) کے پاس جاتا ہوں جب میں اس کے پاس سے باہر آؤں تو دیکھنا اگر میں نے اپنا سر عبا میں چھپا رکھا ہو تو مجھ سے بات نہ کرنا اور جان لو کہ اس شخص نے مجھے مسموم کردیا ہے۔

امام رضا علیہ السلام کے انگور دے کر شہید کیا گیا
اباصلت کہتے ہیں: دوسرے روز امام رضا علیہ السلام اپنی محراب میں منتظر رہے۔ تھوڑي دیر بعد مأمون نے اپنا غلام بھیجا اور امام (ع) کو بلوایا۔ امام مامون کی مجلس میں داخل ہوئے۔ میں بھی آپ (ع) کے پیچھے پیچھے تھا۔ مامون کے سامنے کھجوروں اور دوسرے پھلوں کا ایک طبق رکھا ہوا تھا۔ مامون کے اپنے ہاتھ میں انگور کا ایک خوشہ تھا جس میں سے اس نے زیادہ تر انگور کھا لئے تھے اور کچھ دانے باقی تھے۔ 
مامون نے امام (ع) کو آتے دیکھا تو اٹھا اور امام سے گلے ملا اور آپ (ع) کے ماتھے کو بوسہ دیا اور اپنے پہلو میں بٹھا دیا اور اس کے بعد انگور کا خوشہ آپ (ع) کو پیش کرتے ہوئے کہا: میں نے اس سے بہتر انگور نہیں دیکھا۔ 
امام (ع) نے فرمایا: شاید کہ جنت کا انگور بہتر ہو!
مامون نے کہا: یہ انگور تناول فرمائیں۔
امام (ع) نے فرمایا: مجھے انگور کھانے سے معذور رکھ لو۔
مامون نے کہا: آپ کے پاس یہ انگور کھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، کیا آپ ہم پر الزام لگانا چاہتے ہیں، اس کے بعد انگور کا خوشہ اٹھایا اور اس میں سے کچھ دانے کھا لئے اور خوشہ امام (ع) کو پیش کیا۔ 
امام علیہ السلام نے انگور کے تین دانے کھا لئے اور خوشہ طبق میں رکھ کر قورا اٹھے۔
مامون نے کہا: کہاں جارہے ہیں؟
امام نے فرمایا: وہیں جارہا ہوں جہاں تم نے مجھے روانہ کیا۔
اس کے بعد امام نے عبا اپنے سر پر ڈال دی اور گھر تشریف لے آئے اور مجھے حکم دیا کہ دروازہ بند کردوں۔ اور اس کے بعد بستر پر پڑ گئے۔

ابنا 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved