• تاریخ: 2011 اگست 16

اٹھائيس صفر المظفر اسلام کے درخشاں ترين آفتاب.....


           

تاريخ کے اوراق پر ايک نظر


اٹھائيس صفر المظفر اسلام کے درخشاں ترين آفتاب ، خدا وند عظيم کے عظيم ترين پيغامبر ، آخري سفيروحي و رسالت رحمت للعالمين ، صاحب " لولاک لما خلقت الافلاک " ، مرسل اعظم نبي مکرم حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي جانگداز رحلت اور آپ کے بڑے نواسے ، علي و فاطمہ کے لخت جگر سبط اکبر حضرت امام حسن عليہ السلام کي شہادت کا دن ہے آج پورا عالم اسلام بلکہ دنيائے بشريت بلکہ پوري کائنات ، آسمانوں اور زمين کے درميان تمام مخلوقات غم و اندوہ کے سياہ لباس ميں غمگين و سوگوار ہے 
تسليت و تعزيت کے ساتھ ہم ان دونوں مناسبتوں کے تحت غم نامہ ؤ درد نامہ لے کر حاضر ہيںرسول اعظم کے سوگوارو! عبداللہ کے دريتيم کو دنيا سے رخصت ہوئے صديوں کا فاصلہ گزرچکا ہے مگر آج بھي ان کا وجود سرچشمہ فيوض و برکات ہے اور محسوس ہوتا ہے وہ ہمارے درميان اب بھي موجود ہيں آمنہ کا لال آج بھي اربوں انسانوں کے دلوں کي دھڑکن بنا ہوا ہے اور بعثت کے ابتدائي ايام کي مانند آج بھي امين و صادق محمد قرشي کا نام سن کر قلوب وجد ميں آجاتے ہيں آنکھوں ميں اشک حسرت و عقيدت اور لبوں پر اظہار عشق و ارادت کے ساتھ درود و صلوات کے نعرے فضاؤں ميں گونجنے لگتے ہيں _______ اگرچہ وقفے وقفے سے آج بھي کچھ ابوجہل و ابوسفيان بڑے شيطانوں کي تحريک پر اس عظيم ہستي کي ياد اور نام کو اپنے ناپاک عزائم کي راہ ميں رکاوٹ کے سبب بشريت کے دلوں اور دماغوں سے نکال دينے يا کم از کم گرادينے يا داغدار بنادينے کي کوششيں کيا کرتے ہيں کہ آپ کے حيات آفريں نقوش محو کرديں مگر وہ نہيں جانتے،

حضور اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي ذات تاريخ کا کوئي ديومالائي افسانوي کردار ، کسي مصور کے قلم و فکر کي تراشي ہوئي خيالي تصوير يا کسي شاعر کي ڈھالي تخيلاتي غزل نہيں ہے کہ جس کي مقبوليت ، محبوبيت اور مرغوبيت کا رنگ وقت کے ساتھ بدنما ، بھدا اور پھيکا پڑجاتا ہے کيونکہ مرسل اعظم احسن الخالقين کي خلقت کے سب سے پہلے حرف اور سب سے اعلي نقش کي حيثيت سے وہ قرآني کردار ، خلق الہي کي تصوير اور عشق رباني کي غزل ہيں جس کو اول و آخر خدائے سبحان نے اپنا ابدي اور جاوداں شاہکار قرار ديا اور ہر عہد اور زمانے کے لئے اسوہ ؤ نمونہ بنايا ہےنور اول کے نصف دوم اميرالمومنين حضرت علي ابن ابي طالب فرمايا کرتے تھے؛

"
حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم خدا کے بندہ اور اس کے رسول ہي ، خدا وند عالم نے محمد عربي کو شجر انبياء اور سرچشمہ نور و حکمت سے خلق کيا اور سب سے بلند و بالا مقام و مرتبے پر فائز و منتخب قرار ديا ہےنيکوکاروں کے قلوب ان کے شيدا اور نگاہيں ان پر خيرہ ہوجاتي ہيںخدا وند عالم نے ان کے وجود کي برکت سے ديرينہ دشمنوں ( اوس و خزرج) کے کينے مٹادئے اور دشمني کي آگ ٹھنڈي کردي اور آپ کے ذريعے دو بھائيوں ( مہاجرين و انصار) کے درميان محبت و الفت قائم کردي" چنانچہ آج جبکہ پورے عالم اسلام ميں ہر طرف رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي ياد ميں صف عزا بچھي ہوئي ہےآپ کا دين دين اسلام آپ کي کتاب قرآن مجيد ، آپ کي عترت ائم اہلبيت عليہم السلام ہر مسلم و مومن کے لئے حيات اور عزت و سرفرازي کا وسيلہ ہيںعصر حاضر ميں انسانوں کے سامنے علم و تحقيق کے دروازے کھل جانے کے باعث دين اسلام کي عظمت و جلالت اور زيادہ واضح و آشکار ہوگئي ہےاسلام و قرآن اور مکتب اہلبيت عليہم السلام کي قوي و مستحکم عقلي و منطقي راہ و روش نے خصوصا اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد حقيقي دين محمدي کے بہت سے پوشيدہ حقائق عملي طورپر بر ملا ہوجانے کے بعد، ايک دنيا کے دلوں کو اپني طرف جذب کرليا ہے جس کے حيات آفريں آثار دنيا کے مختلف ملکوں ميں روز بروز ظاہر و باہر ہوتے جارہے ہيں اور اس ميں کوئي شک باقي نہيں رہ گيا ہے کہ جيسے جيسے انسانوں کے سامنے علم و معرفت کے بند دروازے کھلتے جائيں گے اسلام و قرآن اور مکتب اہلبيت کي حقانيت اور زيادہ روشن و آشکار ہوتي چلي جائے گي

عصر حاضر کے ايک مشہور عالم عيسائي دانشور ميخائل ہارٹ نے اپني تحقيقي کتاب " ہنڈريڈ " ميں تاريخ بشريت کي سو ممتاز ترين و مؤثر ترين شخصيتوں کي زندگي اور کارنامے قلمبند کئے ہيں اور ان سب ميں سر فہرست رسول اسلام حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا نام قرارديا ہےاگرچہ نبي اکرم کي شخصيت کا دنيا کي دوسري شخصيات کے ساتھ کوئي قياس نہيں ہے پھر بھي ان کي تحرير اس لحاظ سے قابل توجہ ہے کہ سلمان رشدي جيسے مرتد کو جنم دينے والي سامراجي سرزمين ميں پيدائش اور پرورش پانے والے ايک عيسائي دانشور نے اپنے اس انتخاب کي وجہ بيان کرتے ہوئے لکھا ہے: " دنيا کو دوسروں کي نسبت زيادہ متاثر کرنے والے افراد کي فہرست ميں سر فہرست قرار دينے کے لئے ميں نے جو حضرت محمد کا نام منتخب کيا ہے ممکن ہے کسي فرد يا گروہ کے لئے باعث تعجب ہو اور سوال انگيز ہو ليکن ميں سمجھتا ہوں تاريخ ميں آپ وہ شخص ہيں جو کاميابيوں کي انتہا پر ہہنچے ہوئے ہيں ، پورے احترام کے ساتھ ميں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد دنيا کا ايک سب سے بڑا دين لے کر آئے اور لوگوں کے سامنے پيش کيا اور نہايت ہي مؤثر اور سب سے بڑے سياسي رہنما بن گئےآج جبکہ ان کي رحلت کو چودہ سو سال گزر چکے ہيں ان کے گہرے اثرات ايک قوي و مؤثر ہستي کے طورپر اب بھي باقي ہيں"

بہر صورت ، خدا وند متعال نے " اليوم اکملت لکم دينکم " کے ذريعے مرسل اعظم کي نبوت و رسالت پر جس دن اتمام و اکمال کي مہر ثبت کي ہے ، نبي اکرم قرآن کريم کے روشن و تابناک الہي منصوبوں کے مطابق انساني ترقي و نجات کي تمام تعليمات سے عالم بشريت کو سرفراز کرچکے تھے اور ان کے دين سے راضي اور کفر و شرک کے بت اپني طاغوتي مہم ميں ناکام و مايوس ہوچکے تھے چنانچہ کچھ ہي عرصے بعد فرشتہ وحي جبرئيل امين نے خدا کي جانب سے آپ کو لقائے حق کي خبر سنائي اور رحمت للعالمين نے امت کو وصيت کي:

"
اے ميرے دوستو اور ساتھيو! ميرے بعد نماز ميں ہرگز کوتاہي نہ کرنا ، ماتحتوں کے ساتھ نيکي سے کام لينا جوبھي ميرا دين قبول کرے اس کا احترام کرنا اور ميرا سلام اس تک پہنچا دينا ، تقوائے الہي کے سائے ميں خلق خدا سے نيکي اور مہرباني سے پيش آنا ميں تم سب کو خدا کے حوالے کرتا ہوں " اس وقت ، جيسا کہ حضرت علي نے نہج البلاغہ ميں فرمايا ہے

رسول اکرم کا سر مبارک حضرت علي کي آغوش ميں تھا ، امير المومنين کہا کرتے تھے: ميرے ہاتھوں پر آپ کي جان نکلي ہے  ميں نے آپ کے غسل کا اہتمام کيا فرشتوں نے اس کام ميں ميري مدد کي ، آپ کے غم ميں پورا گھر اور در و ديوار گريہ کناں تھے اور فرياد کررہے تھے ، ہرطرف آہ بکا کي آواز بلند تھي کچھ فرشتے آسمان سے اتر رہے تھے تو کچھ آسمان کي طرف واپس جا رہے تھے اور آپ پر پڑھي جانے والي نماز کي تکبيريں ايک لمحے کے لئے قطع نہيں ہورہي تھيں يہاں تک کہ ميں نے آپ کو سپرد لحد کرديا

روايت کے مطابق: تدفين کے وقت حضرت علي کي آنکھوں سے سيل اشک جاري تھے اور آپ کے ہونٹوں پر يہ کلمات تھے: آہ صبر و تحمل اچھي چيز ہے مگر آپ کے سلسلے ميں نہيں ، بے تابي و اضطراب نا پسند ہے مگر آپ کي جدائي ميں نہيں ، غم و اندوہ کا وہ داغ جو آپ کے فراق نے دل پر ديا ہے بہت ہي عظيم ہے

المرسله : الطمش رضوی لشکری پوری کلکته

اہلبیت فاونڈیشن 

 
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved