• تاریخ: 2011 اگست 15

واقعہ کربلا کی سیاسی تفسیر


           

 


ممکن ہے ہمارے اس مقالے کے ایک عام قاری کے ذہن میں یہ تصوّر پایا جاتا ہو کہ کربلا کا واقعہ، ایک خالص دینی فرض کی تکمیل تھا۔ بنابرایں، اس مقالے کا عنوان، ایک ایسے قاری کیلئے۰۰۰۰


دَورِ حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد                         ہے ابتدأ ہماری تیری انتہأ کے بعد 
قتلِ حسین اصل میں مرگ یزید ہے                       اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

(مولانا محمد علی جوہر)

ممکن ہے ہمارے اس مقالے کے ایک عام قاری کے ذہن میں یہ تصوّر پایا جاتا ہو کہ کربلا کا واقعہ، ایک خالص دینی فرض کی تکمیل تھا۔ بنابرایں، اس مقالے کا عنوان، ایک ایسے قاری کیلئے یہ سوال پیدا کر سکتا ہے کہ: "جب کربلا کا واقعہ ہے ہی ایک خالص دینی فرض کی تکمیل کا نام، تو آیا اس واقعے کی کوئی سیاسی تفسیر بھی ہو سکتی ہے؟"۔ اور اگر ہم اُس علمی اور فکری فضا کو سامنے رکھ لیں جسکی ہم پیدوار ہیں، تو اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر بھی اس عنوان سے یہ تأثر قائم کرنے کی کوشش کرے کہ ہم نے ایک مقدس دینی روئیداد کو سیاسی رنگ دے دیا ہے۔ لہٰذا اس تناظر میں ہم اس مقالے کی ابتدأ ہی میں اسکے عنوان کی وضاحت کر دینا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ نہ کوئی سوال باقی رہے اور نہ ہی کسی شخص کو کوئی غلط تأثر قائم کرنے کا موقعہ ملے۔ اس عنوان کی وضاحت میں جو بات بنیادی طور پر قابل ذکر ہے، وہ یہ ہے کہ دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور جس قدر اس دین نے انسان کی انفرادی زندگی کے پہلو کو مدّنظر رکھا ہے، اگر زیادہ نہیں تو کم از کم اتنا ہی اُسکی اجتماعی زندگی کے پہلو کا بھی خیال رکھا ہے۔ اگر اسلام نے انسان کیلئے اس کی ولادت سے بھی پہلے، اس کی زندگی کی ضروریات کا بندوبست کر دیا ہے اور اسکے ماں باپ کیلئے ضروری احکام اور ہدایات جاری کر دی ہیں، تو یقینا اُس نے انسان کی اجتماعی زندگی کی ضروریات کیلئے بھی احکام بیان فرمائے ہیں۔ بنابرایں، اسلام میں سیاست کا پہلو بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا عبادت کا پہلو۔ کیونکہ سیاست کا تعلق انسان کی اجتماعی زندگی کے نطم و نسق سے ہے اور انسان کیلئے کوئی بھی ضابطہ حیات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس میں انسان کی فردی زندگی کے ساتھ ساتھ، اجتماعی زندگی کے تمامتر احکام اور ہدایات بھی بیان نہ کر دیئے گئے ہوں۔ اب اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تو یا تواس شخص کی اسلامی تعلیمات سے آشنائی بہت کم ہے، یا پھر وہ خدا کے مقدّس دین، اسلام ” دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور جس قدر اس دین نے انسان کی انفرادی زندگی کے پہلو کو مدّنظر رکھا ہے، اگر زیادہ نہیں تو کم از کم اتنا ہی اُسکی اجتماعی زندگی کے پہلو کا بھی خیال رکھا ہے۔ “ کی انفرادی تعلیمات کو تو مانتا ہے لیکن اسکی اجتماعی تعلیمات کو نہیں مانتا اور ایسے شخص کے بارے میں تو یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ وہ آدھا دیندار ہے۔ لیکن بد قسمتی سے آدھے دیندار سے وہی آدھا دین بھی قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کریم آدھے دینداروں کی ان الفاظ میں توبیخ کرتا ہے: ''أفتؤمنون ببعض الکتٰب و تکفرون ببعض فما جزاء من یفعل ذلک منکم الّا خزیٌ فی الحیٰوۃ الدنیا و یوم القیٰمۃ یردّون الیٰۤ اشدّ العذاب و ما اللّہ بغافل عمّا تعملون''۔ (بقرہ:٨٥) 
"کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان رکھتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کر دیتے ہو؟ ایسا کرنے والوں کی کیا سزا ہے۔ سوائے اسکے کہ دنیا کی زندگی میں انہیں ذلت و خواری کا سامنا کرنا پڑے گا اور قیامت کے دن بھی سخت ترین عذاب کی طرف پلٹا دیے جائیں گے۔ اور اللہ تو تمہارے کرتوتوں سے غافل نہیں ہے"۔ 
اسی طرح ایک اور آیہ شریفہ میں ارشاد وہوتا ہے: " ...یقولون نؤمن ببعض و نکفر ببعض ...اؤلٰئک ہم الکٰفرون حقّا و أعتدنا للکٰفرین عذابا مّہینا"۔ (نسأ: ١٥٠) 
"کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائیں گے اور بعض کا انکار کریں گے... تو در حقیقت، یہی لوگ کافر ہیں اور ہم نے کافروں کیلئے بڑا دردناک عذاب مہیّا کر رکھا ہے"۔ 
پس اگر ایک شخص اسلام کو ایک مکمل دین سمجھتا ہے تو اس کیلئے اسلام کی اجتماعی اور سیاسی تعلیمات کا انکار کرنے اور دین کو سیاست سے جدا قرار دینے کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی انفرادی زندگی میں تو خدا کے دیئے ہوئے دین کو مانتا ہو لیکن اجتماعی اور سیاسی زندگی میں انسانوں کے دیئے ہوئے دستور اور آئین کا پابند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سچا مسلمان، سیاست کو دیانت اور دینداری سے جدا نہیں سمجھتا۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ اگر دین سیاست سے جدا نہیں ہے تو پھر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انسانی معاشرے پر حکمرانی کون اور کن اصولوں کے تحت کرے؟ کس شخص کو حکمرانی کا حق حاصل ہے اور کب تک؟۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام کی رو سے بنیادی طور پر تو حکمرانی خداوند تعالی کا حق ہے، اور یہی توحید کا تقاضا بھی ہے، لیکن چونکہ انسان زمین پر خدائے تبارک و تعالی کا خلیفہ ہے، لہٰذا خداوند متعال نے اسے یہ حق دیا ہے کہ وہ اسکے بیان کردہ احکام اور حدود کی روشنی میں انسانی معاشرے کا نظم و نسق سنبھالے اور اس فریضے کو سیاسی سرگرمیوں کے روپ میں انجام دے۔ ہاں! خداوند تبارک و تعالی کے بندوں پر خدا کا خلیفہ فقط ایک ایسا ہی انسان ہو سکتا ہے جس میں خدائی صفات پائی جاتی ہوں۔ یعنی وہ ایک اعلیٰ درجے کا پارسا اور متقی انسان ہو۔ وہ خدا کے دین اور اسکے احکام کی تمامتر جزئیات اور تفصیلات سے نہ فقط مکمل طور پر آگاہ اور آشنا ہو، بلکہ معاشرے میں ان قوانین کو نافذ کرنے کی ہمت اور حوصلہ بھی رکھتا ہو۔ اس میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہو کہ وہ خدا کے بندوں کیلئے الہی قوانین ” اگر ایک شخص اسلام کو ایک مکمل دین سمجھتا ہے تو اس کیلئے اسلام کی اجتماعی اور سیاسی تعلیمات کا انکار کرنے اور دین کو سیاست سے جدا قرار دینے کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ “ کی روشنی میں ایک خوشحال زندگی کے وسائل فراہم کر سکے۔ ایک ایسے ہی انسان کے اسلامی معاشرے پر حکمرانی کے حق کا تذکرہ خداوند تبارک و تعالی نے اپنی حاکمیّت اور اپنے نبی کے حقِ حکمرانی کے تذکرے کے ہمراہ، ان الفاظ میں فرمایا ہے: 
''انّما ولیّکم اللّہ و رسولہ و الّذین أمنوا الّذین یقیمون الصلٰوۃ و یؤتون الزّکٰوۃ و ہم راکعونں ...یٰایّھا الّذین أمنوا لا تتّخذوا الّذین اتّخذوا دینکم ہزوا وّ لعبا مّن الّذین اوتوا الکتٰب من قبلکم و الکفّار اولیآء واتّقوا اللّہ ان کنتم مؤمنین (المائدہ: ٥٥ و ٥٦) 
"اے ایمان والو! تمہارا ولی اور حاکم تو بس اللہ ہے، اور اسکا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکاۃ دیتے ہیں... (اور ہاں) اے ایمان والو، خبردار! اُن اہل کتاب کو اپنا ولی (اور حاکم) نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کا مذاق اور تماشا بنایا ہے اور دیگر کفار کو بھی اپنا ولی اور سرپرست نہ بناؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اگر تم سچے صاحب ایمان ہو"۔ 
یہ آیات مبارکہ بڑے واشگاف الفاظ میں بتا رہی ہیں کہ خدا کے بندوں کا حاکم مطلق خدا ہے اور خدا کے خلیفہ کے طور پر وہ معصوم انسان خدا کے بندوں پر حکمرانی کا حق رکھتے ہیں جو نماز قائم کرتے ہوں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہوں۔ اور جو کوئی خدا کے ان پاکباز بندوں کو چھوڑ کر کسی ایسے شخص کو اپنا حاکم اور سرپرست بنالے جو دین کے احکام کا مذاق اڑاتا ہو اور خدا کے دین کا منکر ہو تو وہ حقیقی طور پر صاحب ایمان ہی نہیں ہے۔ پس حقیقی مؤمن اور صاحب ایمان وہی ہے جو نہ فقط انفرادی زندگی میں خدا کے قانون اور شریعت کا پابند ہو، بلکہ اپنی اجتماعی اور سیاسی زندگی کا راہبر و راہنما بھی خدا کے بندوں کو قرار دیتا ہو۔ خدا کے وہ بندے جو نماز قائم کرتے ہوں، وہ نماز جو کہ خدائے وحدہ لاشریک کی توحید اور بندگی کی علامت ہے۔ یعنی وہ توحید پرست ہوں اور اللہ کے بندوں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلاتے ہوں، نہ اپنی اطاعت اور غلامی کی طرف۔ وہ خدا کی سرزمین پر خدا کا قانون لاگو کرنا چاہتے ہوں، نہ اپنی مرضی کا قانون۔ وہ زکات دیتے ہوں، یعنی ان کیلئے فقط ذاتی مفادات اور اپنی پیٹ پوجا اور زراندوزی اہمیت نہ رکھتی ہو، اور نہ ہی وہ بیت المال کو اپنا ذاتی خزانہ قرار دیتے ہوں، بلکہ وہ ایسے لوگ ہوں جو اپنا ذاتی مال بھی خدا کی رضا کیلئے (زکات اور صدقے کے طور پر) خدا کے بندوں کی خوشحالی پر خرچ کرتے ہوں۔ فقط ایسے ہی لوگ، خداوند تعالی کی نیابت میں خدا کے بندوں پر حکمرانی کا حق رکھتے ہیں۔ اب اگر ہم اس حقیقت کو مدّنظر رکھتے ہوئے واقعہ کربلا کی تفسیر و تشریح پیش کرنا چاہیں تو یہ واقعہ، ایک خالص دینی سیاست کا بہترین نمونہ نظر آتا ہے۔ اور بالکل کسی ایسے سوال اور شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی کہ آیا واقعہ کربلا کی کوئی سیاسی تفسیر بھی ہو سکتی ” حقیقی مؤمن اور صاحب ایمان وہی ہے جو نہ فقط انفرادی زندگی میں خدا کے قانون اور شریعت کا پابند ہو، بلکہ اپنی اجتماعی اور سیاسی زندگی کا راہبر و راہنما بھی خدا کے بندوں کو قرار دیتا ہو۔ “ ہے یا نہیں؟ کیونکہ اب تک واضح ہو چکا ہے کہ دین، کسی طور پر بھی سیاست سے جدا نہیں ہے اور کربلا کی داستان، ایک دینی فرض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی معرکہ بھی ہے۔ ہاں! الہی نظریہ سیاست اور شیطانی نظریہ سیاست کے درمیان معرکہ، وہ معرکہ جس میں ایک فریق کا مؤقف یہ تھا کہ خدا کے بندوں کا حاکم مطلق خدا ہے اور خدا کے خلیفہ کے طور پر وہی انسان خدا کے بندوں پر حکمرانی کا حق رکھتے ہیں جو نماز قائم کرتے ہوں، توحید پرست ہوں اور اللہ کے بندوں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلاتے ہوں، نہ کہ اپنی اطاعت اور غلامی کی طرف۔ وہ زکات دیتے ہوں، یعنی ان کیلئے فقط ذاتی مفادات اہمیت نہ رکھتے ہوں، اور نہ ہی وہ بیت المال کو اپنا ذاتی خزانہ قرار دیتے ہوں، بلکہ وہ تو اپنا ذاتی مال بھی خدا کی رضا کیلئے، خدا کے بندوں کی خوشحالی پر خرچ کرتے ہوں۔ اس معرکے میں دوسرے فریق کا مؤقف یہ تھا کہ انسانی معاشرے پر حکمرانی ایک وراثتی حق ہے اور اس لحاظ سے خدا کی خلافت، قابلِ قبول نہیں بلکہ یہاں تو ملوکیّت اور بادشاہی چلتی ہے۔ ایک فریق یہ کہتا تھا کہ خدا کے دین کی روشنی میں وقت کے حاکم کو حکمرانی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، جبکہ دوسرا یہ دعوی رکھتا تھا کہ انسانوں پر بادشاہی، اس کے بابا کی میراث ہے جو اسے ورثہ میں ملی ہے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ معرکہ پیش ہی اسی لیے آیا کہ بدقسمتی سے صدرِ اسلام کے مسلمان عوام کی ایک بہت بڑی اکثریّت دین اورسیاست کو ایک دوسرے سے جدا سمجھ بیٹھی تھی۔ اور حضرت امام حسین ع اپنے پاک نانا کی امّت کو دین کا یہی بھولا ہوا درس یاد دلانا چاہتے تھے کہ ایک اسلامی انسانی معاشرہ پر حکمرانی کا حق فقط ان لوگوں کو حاصل ہے جو اللہ کی سرزمین پر توحیدی نظام لاگو کرنے کی اہلیّت اور صلاحیّت بھی رکھتے ہوں اور اس نظام کو لاگو کرنے کے درپے بھی ہوں۔ اور یزید جیسے بے دین اور توحید سے دور، دین کا مذاق اڑانے والے شخص کیلئے قطعا ایک اسلامی معاشرہ پر حکمرانی کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی ایک سچا مسلمان یزید جیسے فاسق انسان کی بیعت کر سکتا ہے اور نہ اس کی حکمرانی کو قبول کر سکتا ہے۔ بنابرایں، یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ کربلا کی ابتدأ ہی بیعت کے انکار سے ہوتی ہے۔ اور بیعت ایک خالصتا سیاسی مسئلہ ہے۔ بیعت کا تصور ہی حکمرانی، حاکم اور محکوم کے تصورات سے جڑا ہوا ہے۔ بیعت کی تعریف ہی یہی بنتی ہے کہ کسی کو اپنا حاکم قبول کرنا اور اسکی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کرنا۔ ہاں! یہ عہد باندھنے کی ظاہری صورت کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ سابقہ زمانوں میں یہ عہدِ اطاعت، بیعت کے نام پر، حاکم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تحقق پاتا تھا اور آج کے دور میں یہ کام حاکم کو ووٹ ڈال کر انجام پاتا ہے۔ بہرحال یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ امام حسین ع نے سن 61 ہجری میں یزید کے ہاتھ پر بیعت سے انکار کے ذریعے ہمیشہ کیلئے یہ سوال آنے والی مسلمان نسلوں کیلئے ” کربلا حسینیوں کو انکے سیاسی سفر کی جہت دکھاتی ہے اور کربلا نہ فقط سن 61 ہجری میں وقت کے یزید اور یزیدی سیاست سے ٹکرائی تھی بلکہ کربلا آج بھی اور کل بھی وقت کے یزید اور اسکے دیئے گئے ہر یزیدی سیاسی نظام اور نظریے سے ٹکرائے گی۔ “ باقی چھوڑ دیا کہ آیا حاکمیّت اور حکمرانی کے ہر دعویدار کے ہاتھ پر بیعت کی جا سکتی ہے یا نہیں؟، اور آیا کرسی اقتدار کے حصول کے ہر Candidate کو ووٹ ڈالا جا سکتا ہے یا نہیں؟۔ اس سوال کے جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک حاکم کے ساتھ عہدِ اطاعت باندھنے کی کچھ خاص شرائط ہیں۔ اور جب ایک شخص یہ دعوی رکھتا ہو کہ وہ مسلمانوں پر خدا کا خلیفہ اور امیر ہے تو اسکے ہاتھ پر بیعت فقط اس وقت کی جا سکتی ہے جب وہ الہی قانون و حدود کو جانتا ہو، ان سے تجاوز نہ کرتا ہو اور انہیں معاشرے میں نافذ کرنے کی صلاحیت اور تڑپ رکھتا ہو۔ لیکن اگر کوئی ایسا شخص اسلامی معاشرے کا حاکم بن بیٹھے جو بندروں کے ساتھ کھیلتا ہو، محارم کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا ہو، کھلے عام شراب پینے کا مرتکب ہو اور دین مبین کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے درپے ہو تو ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت تو کجا، اسکے ساتھ ٹکرانا اور اسے ایوان اقتدارسے نکال باہر کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنا ہر مسلمان مرد و عورت کا دینی فریضہ ہے۔ اب اس تحلیل و تجزیہ کی روشنی میں کربلا کے واقعہ کی سیاسی تفسیر بڑی آسانی سے سمجھ آ سکتی ہے۔ یزید اپنے آپ کو خلیفۃ المسلمین قرار دیتا تھا اور اس نے اُس مسند پر بیٹھنے کی جرأت کی تھی جسے وہ خلیفہ رسول کی مسند بھی سمجھتا تھا۔ اس نے امام حسین ع سے اپنی بیعت اور فرمانبرداری کے عہد کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن امام حسین ع فرزندِ رسول تھے اور ان میں وہ تمام صفات پائی جاتی تھیں جو رسول اکرم ص کے ایک حقیقی جانشین میں پائی جانی چاہئیں۔ وہ امام برحق تھے جن کی امامت پر مہرِ تصدیق پیغمبر اکرم ص کی یہ حدیث شریف تھی کہ: 
"ابنای ہذان امامان قاما أو قعدا" (الارشاد، شیخ مفید، جلد٢ ص ٣٠) یعنی "میرے یہ دونوں بیٹے (امام حسن اور امام حسین علیہما السلام) امام ہیں، خواہ بیٹھ جائیں، خواہ اٹھ کھڑے ہوں"۔ 
حضرت امام حسین ع نے مدینہ کے والی ولید بن عتبہ کی طرف سے یزید کیلئے بیعت کے مطالبہ پر اسی لئے تو فرمایا تھا: "اے امیر! ہم اہل بیت نبوّت ہیں، رسالت کے خزانے ہیں، ملائکہ کے طواف کا مقام ہیں، اور رحمت کے ٹھکانے ہیں۔ خداوند عالم نے کائنات کا آغاز ہم سے کیا ہے اور اختتام بھی ہم پر ہی ہو گا... یزید ایک فاسق، شرابی، نفسِ محرمہ کا قاتل اور اعلانیہ طور پر گناہ کرنے والا شخص ہے اور مجھ جیسا اُس (یزید) جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا"۔ 
پس یہاں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت امام حسین ع اور یزید کے درمیان جنگ، دو شہزادوں کی جنگ تھی (نعوذ باللہ)، بلکہ یہ کہنا پڑے گا کہ یہ جنگ دراصل، دو نظریوں کی جنگ تھی اور یہ جنگ دو کرداروں کی جنگ تھی۔ ایک طرف سیاست کا الہی نظریہ تھا اور دوسری طرف سیاست کا شیطانی نظریہ۔ ایک طرف ملائکہ کی منزلگاہ میں تربیّت پانے والا، وحی الہی کو سمجھنے والا اور اسے انسانی معاشرہ پر نافذ کرنے کا خواہشمند کردار تھا اور دوسری طرف اس وحی کا مذاق اڑانے والا حاکمِ وقت تھا اور یوں یہ جنگ بجا طور پر ” آج وقت کا سب سے بڑا یزید امریکا اور اسرائیل ہے اور دنیا ئے اسلام پر حاکم وہ حکمران اس یزیدِ وقت کے وہ ولید بن عتبہ صفت والی ہیں جو مسلمان ممالک میں امریکہ اور برطانیہ کا دیا ہوا ایجنڈا اور سیاسی نظام چلا رہے ہیں۔ “ حق و باطل کی جنگ تھی۔ اور اس جنگ میں اگرچہ ظاہری فتح کا سہرا یزید کے سر رہا لیکن نظریاتی فتح حضرت امام حسین ع کو ہوئی۔ کیونکہ یزید اسلامی نظریہ حیات کو نہ مٹا سکا اور حضرت امام حسین ع نے اس نظریہ حیات کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ و جاوید کر دیا۔


قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے       اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد


خلاصہ یہ کہ کربلا کا واقعہ اسلامی سیاست کے خدّوخال کی نقشہ نگاری کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ایک سچے مسلمان کیلئے میدانِ سیاست میں نشانِ عمل ہے۔ کربلا حسینیوں کو انکے سیاسی سفر کی جہت دکھاتی ہے اور کربلا نہ فقط سن 61 ہجری میں وقت کے یزید اور یزیدی سیاست سے ٹکرائی تھی بلکہ کربلا آج بھی اور کل بھی وقت کے یزید اور اسکے دیئے گئے ہر یزیدی سیاسی نظام اور نظریے سے ٹکرائے گی۔ کیوں؟ اس لئے کہ کربلا کی تہ میں خدائے لم یزل و لایزال کے لازوال قانونِ شریعت کے بانی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دیا ہوا وہ سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے جسکا اعلان حضرت امام حسین ع نے بیضہ کے مقام پر حر کے لشکر کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ان الفاظ میں فرمایا تھا: 
"اے لوگو! رسول خدا ص نے فرمایا: جس نے بھی کسی ستمگر، خداوند تعالی کی حرام قرار دی گئی چیزوں کو حلال قرار دینے والے، عہد الہی کو توڑنے والے، رسول اللّہ ص کی سنّت کے مخالف اور اللّہ کے بندوں کے ساتھ گناہ اور ظلم کا سلوک روا رکھنے والے حاکم کو پایا اور اسے ہٹانے کی کوشش نہ کی اور اپنے قول یا فعل کے ذریعے سے اسکی مخالفت نہ کی تو خداوند عالم یقینا اسے بھی وہی ٹھکانہ دے گا جس میں ایسے حاکم کو ٹھہرایا جائے گا"۔ 
بنابرایں، کربلا آج بھی سجی ہوئی ہے اور کربلا کے شہیدوں کے قافلے میں شریک ہونے کا موقع آج بھی میّسر ہے، کیونکہ آج بھی وہ حکمران موجود ہیں جو خدا کے حلال کو حرام قرار دینے کے درپے ہیں۔ پس کربلا کا مشن اور ایجنڈا آج بھی جاری ہے۔ اور یہ افسوس کھانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے کہ "اے کاش! ہم کربلا کے میدان میں ہوتے تو ہم بھی عظیم کامیابی سے ہمکنار ہو جاتے"۔ نہیں نہیں، کربلا آج بھی سجی ہوئی ہے اور آج بھی حضر ت امام حسین ع کی یہ صدائے استغاثہ سنائی دے رہی ہے کہ: "ہے کوئی ہماری مدد اور نصرت کرنے والا؟"۔ آج وقت کا سب سے بڑا یزید امریکا اور اسرائیل ہے اور دنیا ئے اسلام پر حاکم وہ حکمران اس یزیدِ وقت کے وہ ولید بن عتبہ صفت والی ہیں جو مسلمان ممالک میں امریکہ اور برطانیہ کا دیا ہوا ایجنڈا اور سیاسی نظام چلا رہے ہیں اور انکا اپنے ممالک کے مسلمان عوام سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ وقت کے یزید کی حکمرانی اور اُسکے یزیدی نظام کو قبول کرلیں۔ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں اور عالم اسلام کے خلاف "دہشت گردی" کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں امریکا اور برطانیہ کا ساتھ دیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون بیعت کر لیتا ہے اور کون کربلا کی راہ لیتا ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ حسنین نادر....المرسله:الطمش رضوي لشکري پوري کلکته

اہلبیت فاونڈیشن 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved