• تاریخ: 2012 مارچ 11

عید الفطر، ایک نومسلم کی نظر میں


           

جیسے جیسے رمضان کا مہینہ اپنے اختتام کی طرف بڑھتا ہے ساری دنیا کے مسلمان عید الفطر کی خوشیاں منانے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تہوار روزوں کا مہینہ ختم ہونے پر منایا جاتا ہے۔ مسلمان ہر سال دو اہم موقعوں پر تعطیلات مناتے ہیں۔ پہلی عید الفطر کی، جو رمضان کے بعد آتی ہیں اور دوسری عیدالاضحٰی کی جو حج کے بعد منائی جاتی ہے اور اس دن کی یاد دلاتی ہے جب اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایمان کی آزمائش کی اور بعد ازاں انہیں اپنے بیٹے کی قربانی کرنے سے بچا لیا۔

رمضان المبارک عاجزی کی مشق کرنے کا مہینہ ہے جو مسلمانوں کو بھوک پیاس کی اس تکلیف سے روشناس کراتا ہے جو معاشرے کے کم خوش قسمت لوگ اپنی روز مرّہ زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔ عید کی چھٹیوں میں بھی بہت سے مسلمانوں کے ذہن میں یہی سوچ ہوتی ہے کہ اپنی ذات پر کم خرچ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ خیرات کی جائے۔

عید الفطر کا دن مسلمانوں کا ایک ایسا تہوار ہے جو روزے رکھنے کا مہینہ مکمل ہونے پر خوشی کے اظہار اور خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔

اس دن مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سُنّت پر عمل کرتے ہیں جو انہوں نے صدیوں پہلے قائم کی تھی۔ مسلمان اس تہوار پر اکثر اپنے اور اپنے بچّوں کے لئے نئے کپڑے خریدتے ہیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سُنّت پر عمل کرتے ہوئے عید کی نماز بہترین کپڑوں میں ادا کریں۔

کویت ہو یا کیلی فورنیا، بہت سے مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سُنّت پر عمل کرتے ہوئے عید کے پہلے روز صبح اٹھتے ہی نماز پڑھنے کے لئے مسجد کا رُخ کرتے ہیں جہاں امام صاحب مختصر سا خطبہ دیتے ہیں جس میں عموماً عید کے دن کی اہمیت اور فضیلیت پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اس کے بعد سارا دن بالعموم کھانے پینے کی اشیا سے لطف اندوز ہوتے اور گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے گزرتا ہے۔

عید کے دنوں میں سب سے زیادہ مزے بچوّں کے ہوتے ہیں جن پر والدین، دادا دادی اور نانا نانی کی طرف سے خوب نوازشات ہوتی ہیں، عیدی ملتی ہے اور مٹھائیاں اور تحفے لے کر دیئے جاتے ہیں۔ بچوں کو تفریح کے لئے پارک میں یا چڑیا گھر و غیرہ بھی لے جایا جاتا ہے۔

 

 تاہم بچّوں پر خرچ کرنے میں بھی اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بچّے کو ایک یا دو تحفے لے دینا تو ٹھیک ہے لیکن عید کا مطلب فضول خرچی نہیں ہے۔

عید پر خاندانی تعلقات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں روزے رکھنے اور عید کی مبارکباد دینے کے لئے رشتہ داروں بالخصوص بڑوں کی طرف ضرور چکر لگایا جاتا ہے۔ مقامی بیکری کا چکّر لگانا تو عید پر لازمی ہو جاتا ہے کیونکہ اس دن مہمانوں کی آمد ورفت مسلسل رہتی ہے جن کی تواضع کے لئے کیک، مٹھائی اور چائے کافی وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

عید کی خوشیوں میں غیر مسلموں کا بھی شریک ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ اکثر مسلمان، خاص طور پر مشرقِ وسطٰی میں رہنے والے لوگ عید کی خوشیوں میں اپنے غیر مسلم دوستوں اور رفقائے کار کو بھی کھلے دل سے شریک کرتے ہیں۔

 

 بعض غیر مسلم تو کبھی کبھی اپنے مسلمان دوستوں کے ساتھ رمضان کے مہینے میں روزہ بھی رکھ لیتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ روزہ رکھ کر کیسا لگتا ہے۔ افطاری میں شریک ہونے کی دعوت تو غیر مسلموں کو اکثر دی جاتی ہے۔

کویت میں رمضان اور عید کے دنوں میں بہت سے مسلم ادارے غیر مسلموں کو اس مہینے اور تہوار کے بارے میں آگہی دینے کے لئے مقامی اخبارات میں اشتہاری مہم چلاتے ہیں۔ عید کے دن تو پورے ملک میں ہر طرف گہما گہمی ہوتی ہے۔ وہاں یہ بڑی عام سی بات ہے کہ جب مسجدوں میں عید کی نماز شروع ہوتی ہے تو غیر مسلم باہر کھڑے ہوکر انہیں دیکھتے ہیں۔

تقریباً سبھی مساجد اپنی پوری گنجائش کی حد تک بھری ہوتی ہیں اور لوگوں کو جماعت کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے کے لئے باہر گلی یا سڑک پر بھی صفیں باندھنی پڑھتی ہیں۔

عید کا تہوار جہاں مسلمانوں کے دل میں خوشیاں بھر دیتا ہے وہاں بہت سے مسلمانوں کو تھوڑا سا افسوس بھی ہوتا ہے کہ نیک اعمال اور نماز روزے کے ذریعے خدا کا روحانی قرب حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے والا ماہِ رمضان اب اختتام پذیر ہوگیا ہے۔

تبیان 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved