• تاریخ: 2011 اگست 21

عید فطر قرآن کریم کے آئینہ میں


           


حسینی علایی

عید کیا ہے؟

عید لغت  میں مادہ "عود" سے ہے جس کے معنی ہیں پلٹنا۔ لہذا ان دنوں کو جن میں کسی قوم سے مشکلات دور ہوتی ہیں اور کامیابیاں ان کی طرف پلٹتی ہیں عید کہا جاتا ہے اسلامی عیدوں میں اس مناسبت سے کہ ایک مہینہ اللہ کی اطاعت کے سائے میں رہ کر، یا فریضہ حج انجام دے کر روح انسانی کی پاکیزگی واپس پلٹتی ہے عید کہا جاتا ہے۔

[۱]

قرآن کریم کی بہت ساری آیات اسلامی احکام کے اجتماعی اور سماجی ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور اجتماعی ہونے کی صفت تمام اسلامی احکام میں حاکم اور آشکار ہے۔ اسلام نے مسئلہ جہاد کو ایک سماجی مسئلہ ہونے کے عنوان سے تشریع کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ جہاد اور دفاع کے میدان میں حاضر ہونا اس مقدار میں کہ دشمن کا خطرہ دور ہو جائے واجب ہے۔ روزہ اور حج اس شخص پر جو مستطیع اور قادر ہے اور کوئی عذر نہیں رکھتا واجب  ہے ان دو اقسام میں اجتماعی ہونا مستقیم طور پر نہیں  پایا جاتا ہے بلکہ اجتماعی ہونا ان کا لازمہ ہے اس لیے کہ جب روزہ رکھنے والا روزہ رکھے گا تو طبعا ماہ رمضان میں مساجد میں بھی رفت و آمد رکھے گا اور آخر میں عید فطر کے دن یہ سماجیت اور اجتماعیت اپنے کمال کو پہنچ جائے گی ۔ اور نیز جب انسان اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے جائے گا تو یقینا باقی مسلمانوں کے ساتھ ایک اجتماعی شکل میں شریک ہو جائے گا۔ عید قربان اس اجتماعی شکل و صورت کا ایک کامل نمونہ ہے۔ اسی طرح روزانہ کی پنچگانہ نمازیں اگر جماعت کی شکل و صورت میں انجام دی جائیں یا نماز جمعہ، یہ تمام اجتماعی پروگرام ہیں جن کی طرف اسلام کی خاص توجہ ہے۔

عید فطر قرآن میں

قرآن کریم کی طرف رجوع کرنے کی صورت میں کچھ آیات ایسی نظر آتی ہیں جو  مستقیم یا غیر مستقیم طریقے سے عید فطر اور اس کے آداب کی طرف اشارہ کرتی ہیں وہ آیتیں یہ ہیں:

۱: سورہ مبارکہ بقرہ کی ۱۸۵ ویں آیت:

اس آیت میں خدا وند عالم نے ماہ مبارک رمضان اور نزول قرآن کے بارے میں گفتگو کرنے کے ضمن میں فرمایا ہے : تم میں سے جو شخص اس مہینے میں حاضر رہے اس کا فرض ہے کہ روزہ رکھے اور جو مریض اور مسافر ہو وہ اتنے ہی دن دوسرے زمانہ میں رکھے خدا تمہارے بارے میں آسانی چاہتا ہے زحمت نہیں چاہتا اور اتنے ہی دن کا حکم اس لیے ہے کہ تم عدد پورے کر دو اور اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کا اقرار کرو۔ اور شاید تم اس طرح اس کے شکرگزار بندے بن جاو۔

" یرید اللہ بکم الیسر و لایرید بکم العسر و لتکملوا العدۃ  و لتکبروا اللہ علی ماھداکم و لعلکم تشکرون۔

و لتکملوا۔۔۔ عطف ہے یرید پر اور علت غائی ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا وند عالم نے احکام کو مقرر کرنے میں اپنے بندوں کی آسانی کو ملحوظ نظر رکھا کہ ان پر کسی قسم کی سختی نہ ہو لہذا ماہ رمضان کے علاوہ دوسرے ایام میں جب ممکن ہو تو باقی ماندہ روزوں کی تعداد پوری کر دی جائے۔ اور ممکن ہے کہ " ولتکملوا" کو فعل مقدر " فلیصمہ " پر عطف کیا جائے اس لیے کہ پہلے روزہ کا حکم ہے اور مسافر اور مریض کے چھوٹے ہوئے روزوں کو پورا کرنے کا حکم ہے۔ اور روزں کا ظاہری کمال ان کی تعداد کو پورا کرنا ہے اور معنوی کمال ان کے آداب و شرائط کی رعایت کرنا ہے۔ تاکہ ایام کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ارادہ اور ایمان اس کی شہوات پر حاکم ہو جائے۔ اور انسان کو با عظمت بنا دے۔  انسان ہمیشہ خدا کی یاد میں مصروف رہے ایسی یاد جو اسے ہدایت کے راستے پر ثابت قدم رکھے۔ " ولتکبروا اللہ علی ما ھداک" اور اس کی نعمتوں کے سائے میں اس کا شکر گزار بندہ بن جائے۔

روایات میں اس آیت  " ولتکبروا اللہ علی ما ھداک " کے اندر تکبیر سے مراد تعظیم اور ہدایت سے مراد ولایت ہے۔

پس اس آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ " تاکہ تم خدا کو بزرگ اور با عظمت جانو چونکہ  تمہاری ہدایت اور راہنمائی کی گئی ہے کہ تم ماہ مبارک میں روزہ رکھنے کی توفیق حاصل کرو یہ مہینہ تم مسلمانوں سے مخصوص ہے دوسری امتیں اس کی برکتوں سے محروم رہیں ہیں۔ اکثر علماء نے کہا ہے کہ اس آیت " ولتکبروا اللہ " میں تکبیر سے مراد وہ تکبیریں ہیں جو عید فطر کی رات کہی جاتی ہیں یہ تکبیریں نماز مغرب و عشاء کے بعد اور عید فطر کی صبح اور نماز عید فطر سے پہلے کہیں جاتی ہیں یہ تکبر اس طرح کہی جاتی ہے: «الله اكبر الله اكبر لااله الاالله و الله اكبر الله اكبر ولله الحمد الحمد علي ماهدانا وله الشكر علي مااولانا»(2)
بعض نے ذکر کیا ہے کہ عید فطر کے دن نماز ظہر و عصر کے بعد بھی ان تکبیروں کو کہا جاتا ہے۔ امام خمینی [رہ] اور آیت اللہ اراکی [رہ]  اس قول کے ماننے والے ہیں۔ ان کی دلیل وہ روایت ہے جو امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: کیا عید فطر کے دن بھی تکبیر ہے اور یہ تکبیر عید قربان کے علاوہ ہے؟ فرمایا: عید فطر میں بھی تکبیر ہے لیکن مستحب ہے کہ شب عید نماز مغرب اور عشاء، پھر نماز صبح، اور ظہر و عصر اور نمازعید کے دوران کہی جائے۔[۳]

اسی طرح سعید نقاش نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ فرمایا: عید فطر کی رات تکبیر ہے لیکن یہ تکبیر واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے ۔ سعید کا کہنا ہے کہ میں ے پوچھا: یہ تکبیر کس وقت مستحب ہے؟ فرمایا: شب عید نماز مغرب و عشاء کے بعد، صبح کی نماز میں اور نماز عید میں۔ میں نے کہا: اس تکبیر کو ہم کیسے کہیں گے؟ فرمایا: الله اكبر، الله اكبر، لااله الاالله، و الله اكبر، الله اكبر و لله الحمد، الله اكبر علي ماهدانا اور اللہ کے کلام سے مراد جو کہا ہے لتکملوا العدۃ یہی ہے کہ نماز کامل کرو اور خدا کی تکبیر کہو اسے بزرگ جانو اس ہدایت کے مقابلہ میں جو اس نے تمہاری ہدایت کی ہے۔ [۴] تکبیر یہی ہے کہ کہو: اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر۔ و للہ الحمد راوی کا کہنا ہے کہ دوسری روایت میں آیا ہے کہ آخری تکبیر کو چار بار کہنا مستحب ہے۔

علامہ طباطبائی مذکورہ دو روایتوں کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ ان دو روایتوں کا اختلاف کہ ایک روایت تکبیر کو ظہر و عصر کی نماز میں بھی مستحب قرار دیتی ہے اور دوسری یہاں مستحب نہیں سمجھتی، کو ممکن ہے استحباب کے مراتب پر حمل کیا جائے یعنی دوسری مستحب ہو اور پہلی مستحب تر۔ اور یہ جو فرمایا: و لتکملوا العدۃ اس سے مراد نماز کا اکمال ہے یعنی نماز عید پڑھ کے روزہ کی تعداد کو کامل کرو اور تکبیر کہو کہ خدا نے تمہاری ہدایت کی ہے اور اس معنی کو ہم نے اس جملہ " و لتکبروا اللہ علی ما ھداکم ۔۔" کے ظاہر سے سمجھا ہے اور یہ آیت روایت امام کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتی۔ اس لیے کہ امام کے کلام سے استحباب کا استفادہ کیا ہے۔ [۵]

شافعی کا کہنا ہے کہ اللہ اکبر کو تین بار کہنا چاہیے اس وقت سے جب شوال کا چاند نظر آئے لے کر اس وقت تک جب تک امام نماز عید کے لیے کھڑا ہو یہ تکبیر تکرار ہو گی۔ [۶]

 

۲:سورہ مبارکہ اعلی کی ۱۴ ویں اور ۱۵ ویں آیات

ان آیات کے اندر صاحبان ایمان کی نجات اور نجات کے عوامل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: بے شک کامیاب ہے وہ شخص جو اپنا تزکیہ کرے۔ اور اپنے رب کے نام کو یاد کرے اور نماز ادا کرے۔

اس ترتیب کے ساتھ کامیابی، فلاح  اور نجات کے تین عوامل ہیں:

تزکیہ، اللہ کے نام کو یاد کرنا اور نماز ادا کرنا۔

یہ کہ تزکیہ سے مراد کیا ہے مختلف تفسیریں ہوئی ہیں: پہلی تفسیر یہ کہ مراد روح کی شرک کی آلودگی سے پاکیزگی ہے۔ گزشتہ آیات کے قرینہ سے اور اس بات کے قرینہ سے کہ سب سے اہم پاکیزگی روحی پاکیزگی ہی ہے یہ تفسیر کی جا سکتی ہے۔

دوسری یہ کہ پاکیزگی سے مراد دل کا اخلاقی رزائل سے پاکیزہ اور تزکیہ ہونا ہے اور اعمال صالح انجام دینا ہے۔ قرآن مجید میں فلاح سے متعلق جملہ آیات خصوصا سورہ مومنون کی ابتدائی آیات کے قرینہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلاح سے مراد اعمال صالح ہیں۔

تیسری یہ کہ زکات سے مراد عید فطر کے دن کی زکات فطرہ ہو۔ کہ پہلے زکات ادا کرو پھر فورا نماز ادا کرو۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ مذکورہ آیات میں پہلے تزکیہ کی بات ہے پھر ذکر خدا کی اور پھر نماز کی۔

بعض مفسرین کے کہنے کے مطابق مکلف کے عملی مراحل بھی تین ہیں: پہلا فاسد عقائد کو دل سے نکالنا پھر اللہ اور اسکے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرنا اس کے بعد اعمال صالح انجام دینا۔ مذکورہ آیات مختصرطور پر ان تینوں مراحل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ نماز کو اللہ کے ذکر کی فرع شمار کیا گیا ہے یہ اس وجہ سے ہےکہ جب تک اس کو یاد نہیں کرو گے اور نور ایمان کی روشنی دل میں نہیں ہو گی تو نماز کے  لیے کھڑا نہیں ہو سکتے۔ وہ نماز قابل قبول اور با ارزش ہے جو اللہ کے ذکر اور اس کی یاد کے ساتھ ہو اور یہ جو بعض نے ذکر کو صرف اللہ اکبر یا بسم اللہ سے تفسیر کیا ہے جو نماز کے شروع میں کہی جاتی ہے در حقیقت انہوں نے ذکر کے مصداق کو بیان کیا ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پیغمبر کی اصلی ذمہ داری تزکیہ ہے لہذا جن لوگوں نے اپنا تزکیہ کیا ہوتا ہے وہ جب اللہ کی آیات کو سنتے ہیں تو حقیقت میں ان سے متاثر ہوتے ہیں انہیں اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں چونکہ ان کے دل ہر طرح کے شرک کی آلودگیوں سے پاکیزہ ہوتے ہیں۔

ذکر اسم ربہ فصلی۔ اللہ کے اسماء اس کی تمام صفات ہیں ۔

ذکر ممکن ہے زبان سے ہو جیسے رحمن، رحیم، غفور اور کریم کو زبان سے ادا کرنا۔ ممکن ہے دل سے ہو یعنی ان صفات کے آثار کو اپنے وجود اور اس کائنات کے اندر محسوس کرنا۔ یعنی اس کی رحمت کے آثار اس دنیا میں دیکھے۔ اور اس کی رحمت اور عظمت کا ادراک کرے اور اس کے آگے خصوع و خشوع کرے۔ اس خصوع و خشوع کا واضح ترین مصداق نماز ہے۔  پس ملاحظہ کیا کہ  کس طرح ان تین کلمات کے اندر تمام مراحل کو جمع کر دیا ہے۔

۱: شرک اور رزیلہ اخلاق سے پاک ہونا اور خدا کی توحید اور اس کی صفات پر ایمان لانا۔ [تزکی]

۲: خدا کی قدرت اور حکمت کے آثار اور اس کی بے شمار مادی اور معنوی نعمات کے بارے میں تفکر کرنا جو اس کے اسماء و صفات کی صورت میں کائنات کے اندر بکھرے ہوئے ہیں ایک گھنٹہ ایسا تفکر ستر سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ اور ذکر قلبی کے علاوہ زبان سے بھی اس کی وحدانیت کی شہادت دینا۔ [و ذکر اسم ربہ ]

۳: بارگاہ رب العزت میں تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا اور نماز ادا کرنا [فصلی]

پس جو شخص ان تین مراحل کو طے کرے گا وہ کامیابی اور رستگاری کی منزل ہر فائز ہو جائے گا۔ [قد افلح من تزکی]

ایک گروہ کچھ روایات کی بنا پر معتقد ہے کہ "تزکی" سے مراد زکات فطرہ دینا اور نماز عید بجا لانا ہے۔ [۷]

بعض نے تزکیہ کو یہاں صدقہ دینے کے معنی میں لیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تزکیہ کے بہت وسیع معنی ہیں جو ان تمام مفاہیم کو شامل ہو جاتے ہیں یعنی شرک کی آلودگی سے پاکیزگی، برے اخلاق سے پاکیزگی، محرمات سے اعمال کی پاکیزگی، ہر طرح کی ریا اور دکھاوے سے دوری، راہ خدا میں زکات دینے سے جان و مال کی پاکیزگی، لہذا ان تمام معانی اور مفاہیم کو شامل ہے۔

عید فطر روایات کی  روشنی میں

عبد اللہ بن مسعود کا کہنا  ہے کہ آیت " ذکر اسم ربہ فصلی" سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے مال کی پہلے زکات دے پھر نماز ادا کرے۔ اسی وجہ سے ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ :«رحم الله امرءا تصدق ثم صلي'' خدا رحم کرے اس شخص پر جو صدقہ دے پھر نماز ادا کرے۔ اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرتے تھے۔

ایک گروہ نے کہا ہے کہ یہاں صدقہ سے مراد زکات فطرہ ہے جو شوال کی پہلی تاریخ کو دی جاتی ہے اور ذکر سے مراد تکبیرات ہیں جو روز عید نماز سے پہلے کہیں جاتی ہیں اور " فصلی " سے مراد نماز عید ہے

ابو خالد کا کہنا ہے: ابو العالیہ کے پاس گیا اس نے کہا عید کے دن اس سے پہلے کہ نماز کے لیے جاو میرے پاس آو گے؟ میں نے کہا آوں گا۔ عید کے دن نماز سے پہلے ان کے پاس گیا انہوں نے مجھ سے پوچھا افطار کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، پوچھا غسل کیا ہے؟ کہا: ہاں کہا صدقہ دیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ کہنے لگے میں نے اس لیے تمہیں یہاں بلایاہے کہ پہلے تم ان اعمال کو انجام دو اور اس کے بعد مصلی کی طرف نماز کے لیے جاو اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کی اور کہا مدینہ کے لوگ اس سے زیادہ بافضیلت کسی اور صدقہ کو نہیں جانتے۔ [۸]

ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا اس آیت" قد افلح من تزکی" کے کیا معنی ہیں؟ فرمایا: اس کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص زکات فطرہ دے گا کامیاب ہو گا پوچھا آیت " ذکر اسم ربہ فصلی" کے کیا معنی ہیں؟ فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ صحراء کی طرف جائے اور نماز عید ادا  کرے۔ [۹]

رسول خدا [ص] ہمیشہ عید فطر کے دن نماز کے لیے نکلنے سے پہلے زکات فطرہ ادا کرتے تھے اور اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرتے تھے۔: «قد افلح من تزكي و ذكر اسم به فصلي» (10)

 

نماز عید کے آداب

خدا وند عالم سورہ اعراف کی ۳۱ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے: «خذوا زينتكم عند كل مسجد...» یعنی مسجد جاتے وقت اپنے آپ کو زینت دو۔ یہ خطاب تمام انسانوں کو ایک کلی قانون کے عنوان سے ہوا ہے کہ جب بھی اللہ کی عبادت کے لیے اس کی بارگاہ کا رخ کرو تو جس حالت میں ہو اسی حالت میں اٹھ کر نہ آ جاو۔ بلکہ آپنے آپ کو مزین کرو اس کے بعد خدا کی بارگاہ میں قدم رکھو۔

یہ جملہ ظاہری اور جسمانی زینت کی طرف اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسان پاک و پاکیزہ اور مرتب لباس زیب تن کرے عطر اور خوشبو لگائے اور باطنی زینت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ انسان اخلاقی کمالات اور اچھی صفات سے اپنے آپ کو مزین کرے نیت کو خالص کرے ریا اور دکھاوے کو ختم کرے اور خالصتا لوجہ اللہ اس کی عبادت کے لیے جائے۔ خاص کر کے نماز عید کے لیے جو مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماعی تہوار ہے انسان کو چاہیے کہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی زینتوں سے اپنے آپ کو مزین کرے۔ جیسا کہ نماز عید اور نماز جمعہ کے لیے خصوصی طور پر روایات میں نقل ہوا ہے کہ انسان پاکیزہ لباس پہنے بالوں کو کنگی کرے خشبو لگائے وغیرہ۔ رسول خدا [ص] نہ صرف خود بلکہ اپنے اہل و عیال کا بھی اس حوالے سے اتنا خیال رکھتے تھے روایت میں آیا ہے امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے : اگر عید فطر کے دن رسول خدا [ص] کے لیے عطر لایا جاتا تھا تو وہ پہلے اپنی عورتوں کو دیتے تھے۔[۱۱]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات

۱:تفسير نمونه، ج5، ص.131
۲: تفسير ابوالفتوح رازي ج2ص.18
۳:مستدرك الوسائل جلد6 صفحه 137 .6639
۴:وسايل الشيعه ج7ص 455، الكافي، كليني ج4 ص166
۵:الميزان، علامه طباطبايي ج2 ص.28
۶: تفسير ابوالفتوح رازي ج2ص.68
۷:بحارالانوار ، علامه مجلسي ج93، ص104 ح3
۸:تفسير ابوالفتوح رازي ج12 ص.62
۹:من لايحضره الفقيه، شيخ صدوق، ج1، ص501 ح .1474
۱۰:تفسير الميزان، ج20ص271

11:
من لايحضره الفقيه ج2ص174 ح.2055

منبع: روزنامه – کیهان

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved