• تاریخ: 2011 جولائی 25

تمام مسلمان ایک امت ہیں، ان کا چاند بھی ایک اور عید بھی ایک


           


          ہر سال خاص طور پر رمضان کی آمد کے ساتھ چاند کے اپنے ملک یا اپنے شہر میں دکھنے یا نا دکھنے پر امت کا وہ حصہ جو ہندوستان میں رہتا ہے ایک کشمکش اور الجھن کا شکار ہو جاتا ہے کہ جب امت ایک ہے، اُس کے مسائل قریب قریب سارے عالم میں ایک ہیں، امت کا ہر حصہ دوسرے سے ایک گہرے جذباتی رشتہ سے جڑا ہوا ہے تو پھر کیا سبب ہے کہ جب بات رمضان یا عید کے چاند دیکھنے کی ہو تو امت کا یہ حصہ تقریباً ساری دنیا کے مسلمانوں سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ایک عام مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ علماءجب ایک ایسے مسئلے میں اتفاق رائے کرنے سے عاجز ہیں، تو پھر امت میں اتفاق اور اتحاد کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟ بعض اوقات مسلمانوں کے ممالک میں خاص کر ہندوستان سے دو دن پہلے ہی رمضان شروع ہو جاتے ہیں اور عید بھی دو دن پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ بلکہ ایک ہی ملک کے الگ الگ صوبوں میں علیحدہ عیدیں منانا آج عام بات ہو گئی ہے۔ ان سطور کے ذریعے اس کے فقہی اور اس سے وابستہ شرعی مسائل پر غور کیا گیا ہے، جو امت کے باشعور لوگ، خاص کر ہر وہ شخص جو امت کا درد رکھتا ہے، اور امت کو ایک متحدد امت کی شکل میں دیکھنے کی تمنا رکھتا ہے، اس کے جذبات کی ترجمانی ہو سکے۔

          بحیثیت مسلمان ہونے کے، ہمارے سامنے پیش آنے والی صورت حال کا حل ہمیں اللہ تعالیٰ کے کلام، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی سنت اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اجماع سے بالترتیب حاصل کرنا چاہئے۔ چنانچہ اب ہم اِن تینوں چیزوں میں اس مسئلے کے بارے میں موجود ہدایات پر نظر ڈالیں۔

          سب سے پہلے قرآن حکیم کو دیکھیں تو اُس میں اس بابت صرف ایک آیت ملتی ہے، جو ہمیں یہ بتاتی ہے مہینوں کا تعین چاند سے ہوتا ہے۔ سورئہ نساء کی آیت ۳۰۱ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (بے شک نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے۔) (ترجمہ معانی قرآن)؛ جبکہ سورئہ بقر کی ۹۸۱ آیت میں چاند کو مہینوں کے تعین کا آلہ شناخت بتایا ہے۔ نمازں کے وقت کا تعین سورج سے ہوتا ہے اور مہینوں کا تعن چاند سے۔ پھر کچھ لوگ یہ بحث رکھتے ہیں کہ مثلاً سعودی عرب اور ہندوستان میں ڈھائی گھنٹے کا فرق ہے تو پھر یہاں عید ایک یا دو دن بعد ہونا فطری بات ہے۔ اگر یہ منطق مان بھی لی جائے تو اس کی رو سے سعودی عرب اور انڈونیشیا میں پانچ گھنٹے کا فرق ہے چنانچہ انڈونیشیا میں عید سعودی عرب کے دو یا چار دن بعد ہونا چاہئے اور امریکہ کیونکہ سعودی عرب سے دس گھنٹے پیچھے ہے اس لئے وہاں عید چار سے آٹھ دن پہلے ہی ہو جانا چاہئے! ایسی دلیل در حقیقت کوئی دلیل نہیں بلکہ بے علمی پر مبنی ہے، اور کسی بھی سنجید شخص کی توجہ کے قابل نہیں۔

          آئیے ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے عمل پر نظر ڈالیں۔ بخاری اور مسلم شریف کی حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر روزے کھولو، اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دنوں کی گنتی پوری کرو۔ (صحیح بخاری: کتاب الصوم؛ جلد اول؛ حدیث رقم ۲۸۷۱) ابو داود کی روایت کے مطابق ایک اعرابی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پاس آیا اور بتایا کہ اُس نے رمضان کا چاند دیکھ لیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اعرابی سے پوچھا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کی شہادت دیتا ہے، اعرابی نے اقرار کیا کہ ہاں وہ یہ شہادت دیتا ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے سوال کیا کہ کیا وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کا اللہ کے رسول ہونے کا اقرار کرتا ہے، اس پر اعرابی نے ہاں کہا اور گواہی دی کہ اُس نے چاند دیکھا ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کردیں کہ کل سے روزوں کا حکم ہے۔ (راوی حضرت عبداللہ ابن عباس ؛ سنن ابو داود: رقم حدیث (۳۳۳۲) اسی طرح ابو داود کی اور روایات جسے حدیث رقم ۴۳۳۲ اور۵۳۳۲ میں بھی یہی بات دوسرے راویوں کے حوالہ سے نقل کی گئی ہے۔

          اسی طرح عید کے چاند کے وقت بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے لوگوں کی شہادت قبول فرمائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چاند کی شہادت قبول کئے جانے والی تقریباً ہر حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے گواہی دینے والے سے اسکے اسلام قبول کرنے کی بات کو پوچھ پوچھ کر یقینی بنایا کہ وہ مسلم ہی ہے لیکن اِن میں سے کسی بھی حدیث میں اُس گواہ سے اسکے نام، یا شہر یا اُس کے شہر کا مدینہ منورہ سے فاصلے کے بابت پوچھا جانا روایت نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ چاند کی اطلاع کو تو بہر حال سارے مسلمانوں پر، خواہ وہ کسی بھی خطہ میں مقیم ہوں اور اُن کا شہر مدینہ منورہ سے کتنے ہی فاصلے پر ہو، منطبق ہونا ہی ہے، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم خود ایسے گواہ سے فاصلے کی بابت سوال پوچھ کر اُسکی شہادت کو رد فرما دیتے اور امت کو یہ سبق دے جاتے کہ اِتنے فاصلے کے بعد چاند کی شہادت قبول نہ کرتے ہوئے اپنے ہی محلے، گلی، شہر یا ملک میں چاند کے دِکھ جانے کا انتظار کرو۔ مثال کے طور پر ابو داود ہی میں حدیث رقم ۳۵۱۱ ملاخطہ فرمائیے، حضرت ابو عمیر ابن انس اپنے چچا کی سند پر روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ اونٹوں پر سوار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پاس تشریف لائے اور بیان کیا کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے لوگوں کو روزہ کھولنے کا اور اگلے دن (عید کی) نماز کیلئے عید گاہ پہنچنے کا حکم دیا۔ حالانکہ اُس وقت عصر کا وقت ہو چکا تھا اور روزہ مکمل ہوا ہی چاہتا تھا، لیکن کہیں اور چاند کے دکھ جانے سے مدینہ منورہ میں بھی اب چونکہ عید ہونا تھی لہٰذا روزہ حرام ہو جاتا چنانچہ اُسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے افطار کا حکم دیا۔ آج اُسی مدینے میں چاند ہو جانے اور عید ہو جانے کے باوجود ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں تیسواں یا کبھی انتیسواں روزہ رکھنا عام بات ہو گئی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اب کونسا شرعی حکم بدل گیا ہے؟

          لیکن اس کے دوسری طرف ایک اور روایت سامنے آتی ہے جس سے بظاہر ایسا تصور ابھرتا ہے کہ دو مقامات پر دو الگ الگ دن چاند ہونے کا امکان ہے۔ س روایت کے مطابق ایک شخص ملک شام سے لوٹے تو حضرت عبداللہ ابن عباس نے اُن سے چاند کے بارے میں دریافت کیا کہ شام میں چاند کب ہوا، جواب ملا کہ وہاں چاند جمعہ کی شب کو ہوا، جبکہ مدینہ منورہ میں چاند سنیچر کو ہوا، اور جب پوچھا گیا کہ کیا آپ معاویہ کے چاند دیکھنے کو دلیل نہیں مانتے، تو حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔ اب اس روایت کی بنیاد پر ہر علاقے میں الگ چاند ہونے کے امکان کو قبول کیا جا رہا ہے اور موجودہ طرز عمل کا جواز پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اس میں دو قباحتیں ہیں۔ اوّل تو یہ کہ حضرت عبداللہ ابن عباس کا یہ محض ذاتی اجتہاد ہو سکتا ہے، اس بات کو علماء کی اکثریت نے تسلیم کیا ہے کہ فی الحقیقت یہ حضرت عبداللہ ابن عباس کا انفرادی عمل تھا، اور دوسرے یہ معاویہ کہ بہرحال خلیفہ ہونے کے سبب یہ ناممکن تھا کہ خلیفہ کے حکم کے بعد اہلِ مدینہ نے اس حکم کے خلاف کسی اور دن سے رمضان شروع کیا ہو۔ اس موضوع پر "تحفتہ القدیر" میں جو کہ فقہہ حنفیہ کی معتبر کتاب ہے لکھا ہے کہ اس روایت میں حضرت عبداللہ ابن عباس کے ملکِ شام کے چاند کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ دراصل اُس خبر کا صرف ایک گواہ ہونا ہے۔ (تحفتہ القدیر:2.314)۔ اسی رائے کی تائید ایک اور معتبر کتاب المغنی میں ہے کہ اس روایت میں دوسری جگہ کے چاند کو مسترد کرنے کی بات نہیں کی گئی ہے کہ ہر جگہ کے چاند کو مسترد کرو اور اپنے مقام پر ہی چاند کے دکھنے کا انتظار کرو (المغنی:3.5)۔ امام النووی رحمتہ اللہ علیہ مسلم شریف کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اگر چاند کا دکھنا ایک مقام پر ثابت ہو جائے، تو دوسری جگہ کے لوگوں پر اس کا ماننا ضروری ہو جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے ایک شخص کی گواہی پر چاند قبول نہیں کیا تھا کیونکہ رمضان کے چاند کیلئے دو اشخاص کی گواہی کو معتبر مانتے تھے۔ صاحب نیل و طلاعلامہ شو کانی رحمتہ اللہ علیہ نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔

          ایک دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہر جگہ مطلع الگ ہوتا ہے اور اس "اختلاف المطالع" کی بنیاد پر ہر جگہ الگ الگ عید ہونے کو صحیح قرار دیا جاتا ہے۔ آئیے یہ دیکھیں کہ اس اختلاف المطالع کی شری حقیقت کیا ہے۔ فقہہ حنفیہ کے فتاویٰ کا معتبر ترین ذخیرہ فتاویٰ عالمگیری مانا جاتا ہے، جلد اول صفحہ 198 ملاخطہ فرمائیے، لکھا ہے کہ مطالع کے اختلاف کی کوئی اہمیت حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ سے منقول نہیں ہے! ایک اور کتاب "مذاہب اربعہ" کی جلد اول صفحہ 550 پر اس موضوع پر چاروں مسلکوں کی رائے کا حوالہ دیتے ہوے لکھا ہے کہ جب چاند کہیں ثابت ہو جائے تو روزے رکھنا سب پر فرض ہو جاتا ہے، مطالع کے اختلاف کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اسی طرح شیخ الاسلام امام ابن ِتیمیہ رحمتہ اللہ علیہ "فتادی" میں لکھتے ہیں" ایک شخص جس کو کہیں چاند کے دکھنے کا علم بر وقت ہو جائے تو وہ روزہ رکھے، اور ضرور رکھے، اسلام کی نص اور سلف صالحین کا عمل اسی پر ہے، اس طرح چاند کی شہادت کو کسی خاص فاصلے میں یا کسی مخصوص ملک میں محدود کر دینا عقل کے بھی خلاف ہے اور اسلامی شریعت کے بھی۔ "(فتاویٰ؛ جلد پنجم: صفحہ: III )۔

          پھر اگر بحث کی خاطر یہ مان بھی لیا جائے کہ علوم نجومیات (Astronomy) کے تمام مسلمہ اصولوں کے خلاف مطلع کے اختلاف کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے مشرق، مغرب، شمال، جنوب کے تمام ممالک میں ایک دن اور صرف اِن دو ممالک میں ایک یا دو دن بعد چاند دکھے اور ہر سال ایسا ہی ہو، اور یہ آفت قریب قریب اُس وقت سے شروع ہوئی جب خلافت عثمانیہ کو ختم کیا گیا، کیونکہ مغربی ملک اور یہودی دراصل مسلمانوں کے اتحاد سے ڈرتے تھے اور خلافت مسلمانوں کے اتحاد کا اعلیٰ ترین اور عملی مظہر تھی جو ہمیشہ دشمنوں کو کھٹکتی تھی، پھر اس کے بعد دنیا بھر میں پھیلی ہوئی امت ایک دن عید منائے، یہ کیسے دشمن گوارہ کرتا، چنانچہ اختلاف ِمطالع کے ناقابل فہم تصور میں الجھا دیا گیا، جیسے ہمارے کبارِ علماء نے کبھی تسلیم نہ کیا تھا۔ پھر اس کی رو سے ایسا ہی کیوں ہوتا ہے کہ ہندوستان میں یہ مسئلہ اب پیدا ہونے لگا ہے، جبکہ پرانے وقتوں میں یہاں تک کہ پہلی عالمی جنگ تک یہ بات نہیں تھی۔ مثلاً اُس سے پہلے کے حج کے سفر ناموں کے مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عرب اور ہندوستان میں چاند کی ایک ہی تاریخ چلتی تھی، شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی رحمہم اللہ کے سفر نامہ حجاز سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ دونوں جگہ ایک ہی تاریخ چلتی تھی۔ مثال کے طور پر "اسیران مالٹا" ملا خطہ فرمائیے جس میں ان اکابر علماء کے سفر نامے کو حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ترتیب دیا، اور کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند نے شائع کیا ہے۔

          قدرتی طور پر ایک عام آدمی یا پڑھا لکھا اور سائنسی علوم سے واقف شخص یہ سوچ کر حیران ہوتا ہے کہ جب چاند کسی بھی علاقے میں دو دن پہلے دکھ گیا، یعنی نیا چاند ہو گیا جس کی ایک خاص شکل ہوتی ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہی چاند دو دن یا ایک دن بعد، جب کہ وہ کچھ بڑا ہو جاتا ہے، کسی اور جگہ اپنی پہلے دن کی شکل میں نظر آئے، جب کہ ایسا کرنے کے لئے چاند کو پھر باریک ہونا پڑیگا، جو کہ ناممکن ہے جب تک کہ وہ دوبارہ ایک ماہ پورا نہ کرلے؟ یہ ایک اتنی عام فہم حقیقت ہے کہ سائنس پڑھنے والا کوئی مڈل سکول کا بچہ ہو، یا کسی یونیورسٹی کے شعبہ ایسٹرونامی کا پروفیسر، وہ اس سے لازماّ اتفاق ہی کریگا، کیونکہ یہی اصل واقعہ ہے جس سے انکارممکن نہیں۔

          ایک اور حقیقت ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں ملحوظ رکھنا چاہئے کہ قرآن اور حدیث کا ہر حکم ہر مسلمان کیلئے بحیثیت ایک مسلم ہونے کے عائد ہوتا ہے، البتہ بعض احکامات مَردوں کیلئے خاص ہیں نا کہ عورتوں کیلئے، جب کہ دیگر احکامات عورتوں کیلئے مخصوص ہیں نا کہ مردوں کیلئے، لیکن بہرحال کوئی بھی حکم کسی علاقہ َخاص میں رہنے والوں کو خاص طور سے نہیں دیا گیا، کہ فلاں حکم صرف یوروپ کے گوروں کیلئے ہے اور افریقہ کے سیاہ فام اس سے مستثنی ہیں، پھر چاند کے ساتھ ایسا کس شرعی دلیل سے کیا جائے؟ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا فعل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے مدینے سے باہر کی گواہی پر یہ پوچھے بغیر کہ شہادت دینے والا کس گاوں یا کتنے فاصلے سے آیا ہے، چاند کے ہونے کو تسلیم فرمایا اور روزہ رکھنے اور توڑنے کا حکم دیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم صاحب وحی تھے اور بہت ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے آپ کو یہ علم بھی ہو گا لیکن اس واقعے سے مسلمانوں کو یہ تعلیم دینا مقصود تھی کہ اگر ہمارے علاقہ میں کسی وجہ سے چاند نہیں نظر آئے تو دو مسلمانوں کی شہادت قبول کر لیں۔ پھر آج شہادت تسلیم بھی کی جاتی ہے تو صرف ایک ملکِ خاص کے شہروں سے دوسرے ملک کے شہروں سے نہیں، جب کہ اسلام میں ایسا کرنے کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے اور یہ بات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اُس فرمان کے براہ ِ راست ٹکراتی ہے کہ مسلمان ایک اُمت ہیں، اُن کا شہر (یا ملک) ایک ہے اور اُن کی جنگ ایک (المُسلینَ امَّةً واحِدَة، بلَادُھُم واحِدَة وَحَربُھُم واحِدَة)۔ مثلاً 1971ء تک مشرقی پاکستان کے ڈھاکہ شہر میں مغربی پاکستان کے پشاور یا کراچی سے چاند کی شہادت قابل اعتبار تھی، لیکن تقسیم پاکستان کے بعد اب بنگلہ دیش کیوں اُن مقامات سے شہادت نہ لے؟ ملک کی اِس تقسیم کے باعث کونسا شرعی حُکم بدلا ہے کہ اب یہ شہادت قبول نہ کی جائے۔

          یہ بھی تسلیم شُدہ حقیقت ہے کہ چاند کی پوری گولائی 14 تاریخ کو ہی ہوتی ہے جبکہ اِس سال ہندوستان میں وہاں کے بارھویں روزے کی شام کو ہی چودہویں کا چاند اس بات کا کھلا ہوا ثبوت بن کر چمک رہا تھا کہ رمضان حقیقت دو دن پہلے شروع ہو چُکے تھے، لیکن مندرجہ بالا تمام حقائق اور دلائل کو طاق پر رکھ کر اسلامی دُنیا سے چاند کی گواہی قبول نہیں کی گئی، نتیجتاً شروع کے دو روزے ضائع ہو گئے۔ آخر اس کا ذمہ دار کون؟ اور کیا عمر بھر قضاء روزے رکھ کر بھی وہ ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے؟ دوسرے یہ کہ یہ قطعی اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ چاند ایک ہی وقت میں "پیدا "ہوتا ہے اور پھر جہاں مطلع صاف ہو وہاں نظر آجاتا ہے، سائنسی معلومات کے حوالے چاند ہر 29 دن 21گھنٹے 44 منٹ اور 28 سیکنڈ میں پیداہوتا ہے۔ اب اس کے فوراً بعد جہاں سورج غروب ہوگا اور مطلع صاف ہوگا تو چاند نظر آجائے گا لیکن بہرحال نیا چاند تو ایک بار ہو چکا، اب یہ کہیں اور دوسرے یا تیسرے دن نیا چاند نہیں ہو سکتا۔ شریعت ِاسلامی میں ایک چیز حکم ہوتی ہے اور دوسری منات الحکم، اسکے اعتبار سے مثلاً نماز کا معاملہ لیجئے تو ہم نماز کیلئے چونکہ قبلہ رُخ ہو کر پڑھنا شرط ہے، چنانچہ کمپاس کی مدد سے ہر مسجد بناتے وقت اس جگہ کا قبلہ طے کرتے ہیں اور گھڑی سے وہ وقت طے کرتے ہیں جو نماز سے پڑھنے کیلئے ائمہ نے قرآن و حدیث سے طے کیا ہے۔ یہ دونوں کام سائنسی نوعیت کے ہیں۔ اسی طرح آج سائنس ہی کی ایجادات ٹیلیفون کے ذریعے نکاح ہو رہا ہے اور اب تو ای میل اور ایس۔ایم۔ایس کے توسط سے طلاق بھی صحیح قرار دی جا رہی ہے، پھر چاند کے معاملے میں ہم اُسی ٹیلیفون کی اطلاع کو قبول نہ کرنے کی کیا دلیل پیش کر سکتے ہیں؟

          اس حقیقت سے انکار تو ممکن نہیں البتہ عملاً بعض لوگ ایسا کرنے کی جسارت نہیں کر پاتے، یا تو اکثریت کے دباو سے، یا خاندان بھر میں اکیلے پڑنے کے خوف سے، مذاق اُڑائے جانے کے ڈر سے یا عادت کے خلاف نہ جا پانے کی فطری کمزوری کے سبب ،یا پھر محض پرانی روایت سے چمٹے رہنے کے باعث، مگر کیا ہمیں ایسے اہم مسئلہ میں جس پر اُمت کا اتحاد موقوف ہو اور رمضان کے روزوں کے معاملہ میں تو عید کے دن، جب کہ روزہ رکھنا حرام ہے، پھر بھی روزہ رکھنا پڑ جاتا ہو، ایسی غیر اہم چیزوں کو خاطر میں لانا چاہیے یا مسئلہ کی اہمیت کے پیش ِنظر ان تکلفات کو جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، اکھاڑ پھینکنا چاہئے۔

          اگر آج امت ِ مسلمہ ایک خلیفہ کے ذیر سایہ ہوتی، جو اسلام کے احکامات کو نافذ کر رہا ہوتا، تو کیا اس مسئلہ میں یا اس جیسے دیگر معاملات میں، امت علاقوں کی بنیاد پر اس طرح بانٹنا ممکن ہوتا؟ ہمارے پچھلی صدی کے تمام اکابر علماء کا یہ متفقہ فیصلہ رہا تھا، کہ شریعت کے ہر معاملہ میں خلیفہ وقت کا موقف واجب الاطلاعت ہے، بلکہ پہلی عالمی جنگ کے دوران جب جمعیتہ العلماء کا قیام عمل میں آرہا تھا تو اس کے بانیوں نے یعنی شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن صاحب، شیخ الاسلام حضرت مولونا حسین احمد صاحب مدنی، مولانا محمد علی جوہر اور حضرت مولانا ابوالکلام آزاد نے اِس جمعیتہ کی تاسیس کی ضرورت کو یہ کہ کر ضروری قرار دیا کہ اب خلافت کے خاتمے کے بعد مسلمانانِ ہند کے شرعی اعمال کی نگہداشت کو یقینی اور شرعاً صحیح رکھنے کیلئے ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک ایسی شرعی شکل ہونا چاہیے جو ان شرعی ضروریات جیسے نمازِ جمعہ کا قیام، روئیت ہلال وغیرہ کو صحیح نہج پر چلا سکے۔ اور واقعتا ہوا بھی یہی، اگر آج خلافت قائم ہوتی، اور وہی علمائے حق ہمارے درمیان موجود ہوتے، تو کیا خلیفہ کے چاند دکھنے کے اعلان کو مسترد کرنا ہمارے لئے ممکن ہوتا؟

منبع:  ایچ ٹی میڈیا پاک


Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved