• تاریخ: 2013 اگست 10

انیس رمضان / اللہ کے گھر میں پہلی دہشت گردی


           

اللہ کے گھر میں پہلی دہشت گردی

انیس رمضان نماز فجر کے وقت خوارج و بنی امیہ کی زہر میں ڈوبی تلوار کے زخم کے بعد مسجد کوفہ میں امیر المومنین (ع) نے یہ جملہ ادا کیا۔ فزت و رب الکعبہ (رب کعبہ کی قسم علی (ع) کامیاب ہو گیا)، اور اسکے دو دن بعد اکیس رمضان المبارک کو امیر المومنین (ع) حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام شہید ہو گئے اور یوں علی (ع) کا ظاہری سفر خانہ کعبہ میں ولادت سے شروع ہو کر مسجد کوفہ میں شہادت تک ہر لمحہ اللہ تعالٰی کی خوشنودی و رضا کی خاطر بسر ہو کر رہتی دنیا تک مینارہ نور بن گیا۔

تحریر:ساجد حسین
خلیفۂ رسول (ص)، امیرالمومنین امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام کی مبارک زندگی اور سیرت ولادت سے لے کر شہادت تک خوشنودی خدا اور رضائے الہی کے لئے بسر ہوئی۔ تمام اصحاب رسول (ص) کے درمیان صرف آپ (ع) کو کرم اللہ وجہہ کہا جاتا ہے، یعنی امیرالمومنین حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام کی پیشانی ایک دن تو کیا ایک آن کے لئے بھی غیر خدا کے سامنے نہیں جھکی۔ امیرالمومنین حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام ان پانچ ہستیوں میں سے ایک ہیں کہ جن کی طہارت و پاکیزگی کی گواہی کے لئے قرآن مجید میں آیۂ تطہیر نازل ہوئی ہے۔ نیز قرآن مجید میں اسکے علاوہ بھی متعدد آیات مولا کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ جن میں سے آیہ تبلیغ، آیہ اکمال دین، آیہ ولایت، آیہ اولی الامر اور آیہ مباہلہ قابل ذکر ہیں۔

رسول اللہ (ص) کے چچا زاد بھائی اور داماد ہونے کے علاوہ آپ (ص) نے دنیا و آخرت میں امیرالمومنین حضرت علی (ع) کو اپنا بھائی و جانیشن قرار دیا۔ رسول اللہ (ص) کا فرمان ہے کہ اے علی (ع) آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون (ع) کو حضرت موسی (ع) سے تھی، لیکن یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

امیر المومنین (ع) حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ آپ (ع) کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی۔ اور ولادت کے بعد آپ نے اپنی پہلی نگاہ جمال رسالت (ص) پر ڈالی۔ چونکہ اس زمانے میں کفار مکہ و مشرکین حضرت محمد ( ص) کو اذیتییں اور تکالیف دیتے تھے چنانچہ اللہ تعالی نے حضرت محمد (ص) کی حفاظت کے لئے امیر المومنین امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے والدین حضرت ابو طالب (ع) اور حضرت فاطمہ بنت اسد (ع) کی صورت میں آپ (ص) کی پرورش اور تربیت کا بندوبست کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیغ دین کے ابتدائی مشکل حالات و مصائب میں اسلام کی بقا کے لئے اگر ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی دولت کام آئی تو کفار و مشرکین کے مقابلے میں رسول اللہ (ص) اور اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری حضرت ابو طالب (ع) کے کندھوں پر تھی۔ رسول اللہ (ص) اور حضرت بی بی خدیجہ (س) کا نکاح بھی حضرت ابو طالب نے پڑھایا۔ ابتدائی دور کے ان محسنان اسلام ام المومنین حضرت خدیجہ (س) اور امیر المومنین (ع) حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام کے والدین حضرت ابوطالب (ع) اور فاطمہ بنت اسد (س) سے رسول اللہ (ص) کو اتنی عقیدت تھی کہ حضرت ابوطالب (ع) اور حضرت خدیجہ کے سال وصال کو رسول اللہ (ص) نے عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا، جبکہ فاطمہ بنت اسد (س) مادر امام علی (ع) کی وصال کے موقع پر رسول اللہ (ص) نے اپنا کرتہ کفن کے طور پر عنایت کرکے قبر میں تجہیز و تکفین کے فرائض اپنے مبارک ہاتھوں سے سر انجام دئیے۔

امیر المومنین (ع) حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام کو رسول اللہ (ص) سے اتنی عقیدت تھی کہ جس طرح امیر المومنیں (ع) کی دنیا میں ظاہری آمد سے پہلے آپ کے والدین نے ہر لمحہ رسول اللہ (ص) کا ساتھ دے کر نصرت و حفاظت کا فریضہ سر انجام دیا اسی طرح امیر المومنین علیہ السلام نے بھی ہر لمحہ اور ہر وقت دشمنان خدا و دشمنان رسول (ص) کے مقابلے میں رسول اللہ (ص) کی حمایت اور حفاظت و دفاع کا فریضہ انجام دیا۔

خود کو رسول اللہ (ص) کا غلام کہہ کر مولائے متقیان امیر المومنین (ع) فخر کیا کرتے تھے جبکہ خود رسول (ص) نے آپ (ع) کو دین و دنیا میں اپنا بھائی قرار دیا تھا۔ آپ (ع) فرماتے تھے کہ رسول اللہ (ص) نے مجھ (علی) کو علم کے ہزار باب تعلیم فرمائے اور میں (علی) نے ہر باب سے ہزاز ہزار باب مزید سیکھ لئے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (ص) نے خود کو علم و حکمت کا شہر اور امیر المومنین (ع) کو اس شہر علم کا دروازہ قرار دیا۔ اور پھر کہا کہ جو شخص علم و حکمت حاصل کرنا چاہے اسے دروازے سے آنا پڑے گا۔

رسول اللہ (ص) نے اپنے دل کی ٹھنڈک اور اکلوتی دختر خاتون جنت سیدہ النساء العالمین حضرت فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا کا نکاح فرمان خداوندی سے حضرت علی (ع) سے کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر علی (ع) نہ ہوتے تو کائنات میں خاتون جنت فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا کا ہمسر، کفو اور برابر کوئی موجود نہ تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت علی (ع) و حضرت فاطمتہ الزھرا (س) کو ایک دوسرے کے لئے خلق فرمایا۔ اور پھر دین مبین اسلام کی خدمت و بقا کی خاطر اللہ تعالی نے حضرت علی (ع) اور حضرت زھراء (ع) کو امام حسن (ع) و امام حسین (ع) اور جناب زینب اور بی بی ام کلثوم (سلام اللہ علیہما) کی صورت میں اولاد عطا کی۔ رسول اللہ (ص) اکثر فرمایا کرتے تھے یہ میرے دونوں بیٹے حسن (ع) و حسین (ع) امام ہیں، چاہے صلح کر لیں یا قیام (جنگ) کریں جبکہ انکے والد امیر المومنیں (ع) ان دونون سے افضل ہیں۔ اس حدیث میں اگر ایک طرف رسول اللہ (ص) نے امیر المومنیں حضرت امام علی (ع) اور حسنین (ع) کی عظمت بیان کی تو دوسری طرف آپ (ص) نے دشمنان علی (ع) و دشمنان اہلبیت (ع) کی بھی وضاحت کر دی، یعنی کہ جو بھی علی (ع) و حسینن (ع) کے ساتھ ہو وہ حق پر جبکہ جو بھی مقابلے پر آیا وہ باطل کی راہ میں ہلاک و برباد ہوا۔

قرآن و سیرت اور احادیث رسول (ص) میں امیر المومنین حضرت علی (ع) اور اہلبیت (ع) کی شان و عظمت کی وضاحت کے باوجود پتہ نہیں کیوں رسول اللہ (ص) کے وصال کے فوراً بعد دشمنان خدا نے اہلبیت رسول (ص) بالخصوص حضرت بی بی فاطمۃ الزھرا (س) اور امیرالمومنیں (ع) پر ظلم و جبر کے پہاڑ ڈھائے حتٰی کہ خاتون جنت دختر رسول (ص) زوجہ امیرالمومنین (ع) جناب فاطمہ بتول سلام اللہ علیہ کو یہاں تک فریاد کرنا پڑی۔ کہ اے میرے بابا (ص) آپکے جانے کے بعد مجھ پر ایسی مصیبتیں پڑی کہ اگر وہ روشن دنوں پر پڑتیں تو وہ بھی تاریک راتوں میں تبدیل ہو جاتیں۔ اور پھر اسکے بعد بھی اہلبیت اطہار (ع) و آل رسول (ص) پر اسلام کے لبادے میں موجود دشمنان اسلام خوارج، بنی امیہ اور بنی عباس کے مظالم کا سلسلہ جاری رہا۔ کسی شاعر نے ان مظالم کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے۔

اک علی (ع) کی دشمنی کیا کیا ستم ڈھا گئی

بدر کی دشمنی چلتے چلتے کربلا تک آگئی

جب میدان کربلا میں سید الشھدا حضرت امام حسین (ع) نے افواج یزید لعین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نواسۂ رسول (ص) ہوں اسکے باوجود تم لوگ میرے قتل کے پیاسے کیوں ہو۔ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ دراصل ہم اپنے ان آباء و اجداد کا بدلہ لینے آئے ہیں جن کو تمہارے بابا علی (ع) نے جنگ بدر و احد میں مار ڈالا تھا۔ یعنی نعوذ باللہ رسول اللہ (ص) اور اسلام کی حمایت و دفاع کرکے دراصل امیر المومنیں (ع) نے جرم کیا تھا جس کا بدلہ یہ ہے۔

کیا بدبختی کی انتہا ہے کہ رسول اللہ (ص) کی اس واضح حدیث، کہ علی (ع) حق کے ساتھ ہے اور حق علی (ع) کے ساتھ، خدایا حق کا رخ ادھر موڑ دے جس طرف علی (ع) جائے، کے باوجود بھی دشمنان دین اسلام نے امیرالمومنیں (ع) کو اتنی اذیتیں دے کر مظالم کا نشانہ بنایا کہ جس کی نظیر ملنا شاید مشکل ہو۔ رسول اللہ (ص) کے وصال کے بعد ایک دفعہ حضرت بی بی فاطمہ الزھرا س نے حضرت علی (ع) سے پوچھا کہ اے ابو الحسن (ع) سنا ہے، کوئی آپ کو سلام نہیں کرتا۔ تو مولائے متقیان (ع) نے مظلومیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا آپ نے غلط سنا ہے، بات اس سے آگے نکل چکی ہے، اب حالت یہ ہے کہ سلام تو دور کی بات، جب میں سلام کرتا ہوں تو کوئی جواب تک نہیں دیتا۔

دنیا کے بعض حصوں خصوصاً مملکت خداداد پاکستان میں اسلام کے نام اور لبادے میں خوارج نما دہشت گرد القاعدہ و طالبان کے نام پر مساجد و پبلک مقامات میں خودکش حملے اور دہشت گردی کرکے جس ظلم و جبر کے مرتکب ہو رہے ہیں، جس کو عالم اسلام کے معروف سکالرز و علمائے کرام بشمول ڈاکٹر طاہر القادری نے دور حاضر کا فتنئہ خوارج قرار دیا ہے۔

خوارج کے فتنے نے امیر المومنیں حضرت علی (ع) کے مقابلے میں سر اٹھایا اور یہاں تک کہ اس فتنے نے خلیفہ رسول (ص) امیر المومنین (ع) کو مسجد و محراب میں دوران عبادت شہید کر دیا۔ نماز، روزہ اور دوسری تمام عبادات کی ادائیگی کے علاوہ خوارج میں سے ایک بڑی تعداد حافظان قرآن کی تھی، مگر حال یہ تھا کہ وہ اپنے علاوہ باقی تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے کر اسلام کے لبادے میں ظلم و جبر اور عوام الناس پر دہشت گردی کا بازار گرم کرکے یہ شعار اور نعرہ بلند کرتے تھے کہ لا حکم الا للہ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حکومت صرف اللہ کے لئے ثابت ہے۔

امیرالمومنین امام علی (ع) خوارج کے اس نعرے کے بارے میں فرماتے تھے کہ یہ نعرہ اور شعار تو برحق ہے لیکن اس کے پیچھے خوارج کے مقاصد باطل اور فساد پر مبنی ہیں۔ انہی خوارج کی طرح ہم اگر آج بھی اپنے ارد گرد پوری دنیا بالخصوص مملکت خداداد پاکستان میں اسلام کے نام اور لبادے میں خوارج نما القاعدہ و طالبان کے غیر انسانی و غیر اسلامی افعال و کردار اور دہشت گردی پر نظر دوڑائیں تو فتنئہ خوارج کا عکس اپنا نطارہ پیش کرتا ہوا نطر آئے گا۔

امیر المومنین (ع) پر اسلام کے لبادے میں خوارج اور بنی امیہ کے ظالم و جابر ملوکیتی حکمرانوں کے مسلط مظالم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام اور اولاد رسول (ص) اہلبیت اطہار (ع) پر لعن طعن کے لئے کئی ہزار مساجد کے منبر و محراب درہم و دینار سے خریدے گئے تھے۔ جہاں سے باقاعدہ جمعہ کے خطبات اور دیگر مواقع پر امیر المومنین علیہ السلام اور اولاد رسول (ص) پر لعن طعن کی جاتی تھی۔ ظلم کی انتہا دیکھئے کہ جب انیس رمضان کی صبح مسجد کوفہ میں نماز فجر کے لئے آنے والے امیر المومنین حضرت امام علی (ع) پر اس وقت کے شقی ترین انسان ابن ملجم لعین نے سجدے میں وار کرکے مسجد کوفہ کے محراب کو خون میں تر کر دیا۔ اور جب یہ خبر کوفہ سے باہر دیگر علاقوں بالخصوص ملوکیت اور بنی امیہ کے پایہ تخت شام تک پہنچی کہ امیر المومنین (ع) مسجد کوفہ میں شہید ہو گئے، تو لوگ ایک دوسرے سے تعجب سے پوچھنے لگے کہ علی مسجد میں کیا کر رہے تھے۔ ۔ ؟؟ جب بتایا گیا کہ نماز فجر پڑھنے گئے تھے تو لوگ اور زیادہ تعجب سے پوچھنے لگیں کہ کیا علی (ع) نماز پڑھتے تھے۔ ۔ ؟؟ یہ تھا اسلام کے لبادے میں مسلط خوارج و بنی امیہ کے پروپیگنڈے اور اس زمانے کی باطل میڈیا کا کردار کہ اپنے ناجائز مفادات اور اقتدار کے حصول کے لئے خلیفہ وقت امیر المومنین (ع) علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے حوالے سے اتنا غلیظ اور گمراہ کن منفی پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ زمانے کی متقی ترین ہستی (ع) کو نعوذ باللہ بے نمازی اور لا دین قرار دے کر عوام میں مشہور کر دیا گیا تھا۔ اس سے خوارج اور بنی امیہ کی اسلام دشمنی اور بغض و عداوت امیر علیہ السلام اور اہلبیت اطہار رسول (ص) کا پتہ چلتا ہے۔

انیس رمضان نماز فجر کے وقت خوارج و بنی امیہ کی زہر میں ڈوبی تلوار کے زخم کے بعد مسجد کوفہ میں امیر المومنین (ع) نے یہ جملہ ادا کیا۔ فزت و رب الکعبہ (رب کعبہ کی قسم علی (ع) کامیاب ہو گیا)، اور اسکے دو دن بعد اکیس رمضان المبارک کو امیر المومنین (ع) حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ سلام شہید ہو گئے اور یوں علی (ع) کا ظاہری سفر خانہ کعبہ میں ولادت سے شروع ہو کر مسجد کوفہ میں شہادت تک ہر لمحہ اللہ تعالٰی کی خوشنودی و رضا کی خاطر بسر ہو کر رہتی دنیا تک مینارہ نور بن گیا۔

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved