• تاریخ: 2013 اگست 10

علی(ع) مجسم حق


           

علی سر تا پا حق تھے۔ جب ہم ان کے فکر و شعور' احساسات' اخلاق' سیرت اور عبادت کا بغور مطالعہ کرتے ہیں 'تو انہیں خداوند عالم کا شیفتہ اور عاشقِ الٰہی پاتے ہیں۔ ایسا عشق جس کی کوئی حد اور سرحد نہیں۔
علی اپنی مناجات میں یوں گویا ہوتے ہیں: وھبنی یا الھی و سیدی و مولای وربی' صبرت علی عذابک 'فکیف اصبر علی فراقک؟ (بارِالٰہا 'میرے آقا ' میرے مولا' میرے پروردگار! مانا کہ میں تیرے عذاب پر صبر کر سکتا ہوں لیکن بھلاکس طرح تیری دوری' تیرے فراق کو برداشت کروں گا؟)

عاشق اپنے معشوق کے فراق' اُس سے دوری اور اُس سے فاصلے کی تاب نہیں رکھتا۔

وھبنی یا الھی صبرت علی حرنارک 'فکیف اصبر عن النظرالی کرامتک (بارِالٰہا! مانا کہ میرے تیرے جہنم کی تپش کو برداشت کر لوں گا'لیکن بھلاکس طرح برداشت کروں گا کہ تو مجھ سے اپنی نگاہِ لطف و کرم کو پھیر لے؟)
جب ہم حضرت علی کے بارے میں غور و فکر کریں اور انہیں کون برتر ہے کی بے معنی اور فضول بحثوں سے باہر نکال لیں' تو اس جانب متوجہ ہوتے ہیں کہ پیغمبر (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم) کے بعدکوئی اُن سے موازنے کے قابل ہی نہیں اور فضائل میں کوئی ان کی نظیر ہے ہی نہیں۔

ہم یہ باتیں اِن کی محبت' اِن کے عشق یا اِن کے بارے میں تعصب سے مغلوب ہوکر نہیں کر رہے۔ بلکہ اِن باتوں پر ایک حقیقت کے طور پر ایمان رکھتے ہیں ۔کیونکہ مسلمانوں کے درمیان علی کے سوا کوئی ایسا شخص تلاش نہیں کیا جا سکتا جس کے دل اور روح میں اسلام نے اس طرح نفوذ کیا ہو اور عمل میں جہاد' معنویت 'تواضع اور جو کچھ اسلام سے تعلق رکھتا ہے تمام معنی میں وہ اسکا آئینہ دار ہو۔ کیونکہ وہ تمام خوبیوں کے حامل ہیں اور اس امر میں کوئی ان کے مرتبے کو نہیں پہنچا۔

اس سے پہلے اپنی گفتگو میں ہم نے اس امر کا تذکرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ کیوں صرف علی یہ لیاقت رکھتے ہیں کوئی اور اِس اہلیت کا حامل نہیں؟۔ اب یہاں ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اپنی رسالت کے ابلاغ کے بعد اپنے تمام منصوبوں کو 'جن میں لوگوں کو توحید کی دعوت 'اسلام کا فروغ اور لوگوںکے اندر ایمان کو رسوخ دینا شامل تھا 'پور ی طرح جامۂ عمل نہیں پہنا سکے تھے ۔کیونکہ بکثرت جنگوں نے آپ کو یہ منصوبے پایۂ تکمیل تک نہ پہنچانے دیئے تھے۔ نیز خود مدینہ میں منافقین اور یہودیوں کی طرف سے پیدا کردہ داخلی مشکلات اور اسی طرح مکہ کی طاقت فرسا مصیبتیں پیغمبرکے بہت سے منصوبوں کے جامۂ عمل پہننے میں رکاوٹ بنیں۔لہٰذالازم تھا کہ پیغمبرکے بعد علی جیسی کوئی شخصیت ان کے ادھورے منصوبوں کو آگے بڑھائے۔
پیغمبر کے بعد علی کو در پیش مشکلات

پیغمبر کے بعد حضرت علی کو سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔آپ اپنے آپ کو تن تنہا محسوس کرتے تھے۔ تنہا سوچتے' تنہا تکالیف جھیلتے اور تنہا ہی خطرات کا سامنا کرتے۔ آپ جانتے تھے کہ آپ کا مقام اس میخ کا سا ہے جس کے گرد چکی گھومتی ہے اور یہ سب ہی جانتے ہیں کہ چکی کی یہ میخ یا کلِّی ایک ہی ہوتی ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ علم و معرفت کا پاک و پاکیزہ چشمہ آپ ہی کے وجود سے جاری ہوتا ہے اور آسمانِ علم و دانش کے کسی پرندے میں مجال نہیں کہ وہ اُن کے علم و دانش کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکے۔ علی اپنے بھرپور علم و دانش سے خوب آگاہ تھے۔ لیکن انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملتا تھا جو اس چھلکتے ہوئے دریائے علم سے فیض اٹھا سکے۔ اوریہ بات آپ کو مسلسل کرب اور غم واندوہ میں مبتلا رکھتی تھی۔ آپ خود فرماتے ہی:ان ھاھنا لعلما جمالو وجدت لہ حملة (دیکھو یہاں (حضرت نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا) علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔کاش! اس کو لینے والے مجھے مل جائیں۔ 
(نہج البلاغہ ۔ کلمات قصار ١٤٧)

اپنے علم کا بوجھ اٹھانے کے لئے آپ کا ایسے افراد کو طلب کرنا' انہیں تلاش کرنا اسلئے نہ تھا کہ آپ اپنے علم کو اپنی برتری اور اقتدار کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے۔ بلکہ آپ طالب ِ علموں کے متلاشی اسلئے تھے تاکہ اُن کے ذریعے اپنے علم و دانش کوآئندہ نسلوںتک منتقل کر سکیں۔ اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ علی اپنی قوم اور اپنے زمانے میں تن تنہا رہے۔ اور آپ کی ایک سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ آپ ایسے معاشرے میں زندگی بسر کر رہے تھے جسے آپ کے مقام و منزلت کا ادراک ہی نہ تھا۔ اور اس بات کی گواہ آپ کی وہ گفتگو ہے جو آپ نے (خلیفۂ ثانی کی جانب سے قائم کردہ) شوریٰ اور اس سے متعلق مسائل پر فرمائی : فیا ﷲ وللشوریٰ' متی اعترض الریب فیَّ مع الاوّل منھم حتیٰ صرت اقران الی ھذہ النظائر' لکننی اسففت اذا سفّواوطرتُ اذاطاروا(اے اﷲ! مجھے اِس شوریٰ سے کیا سروکار! اِن میں سب سے پہلے کے مقابلے ہی میں میرے استحقاق اور فضیلت میں کیا شک تھا 'جو اب ان لوگوں میں بھی شامل کر لیا گیا ہوں۔ مگر میں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب و ہ زمین کے نزدیک ہو کر پرواز کرنے لگیں 'تو میں بھی ایسا ہی کرنے لگوں اور جب وہ اونچے ہو کر اڑنے لگیں' تو میں بھی اسی طرح پرواز کروں۔ (نہج البلاغہ ۔ خطبہ ٣) ۔یعنی جہاں تک ہو سکے کسی نہ کسی صورت اِن سے نباہ کرتا رہوں۔

حضرت علی نے اسلام کے تحفظ اور اسکی بقا و سلامتی کے لئے بدترین حالات کا سامنا کیا اور اپنے انفرادی اور ذاتی مسائل سے درگزر فرمایا۔ اگر آپ خلافت کے طلبگار تھے' تو یہ اپنے کسی شخصی اور ذاتی مفاد کے لئے نہ تھا۔ بلکہ صرف اور صرف اسلام کی بہتری مقصود تھی۔

اِن حساس حالات میں 'حضرت علی کو جس مشکل کا سامنا تھا' وہ اسلام کو انحراف کی طرف لے جانے کی مشکل تھی۔ آپ ہر چند ظاہری طور پر اسلام کو دنیا میں فروغ پاتا دیکھ رہے تھے' اسے مضبوط ہوتا دیکھ رہے تھے لیکن آپ کی خواہش تھی کہ اسلام انسانوں کے شعور میںبس جائے' اُن کی فکر اور سوچ میں جگہ بنائے 'اُن کی روح میں اتر جائے۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں قدرتی طور پر اسلام پھیلا۔ پیغمبر اسلام ایمان کے بارے میں فرماتے تھے کہ : من قال لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ حقن بھا مالہ و دمہ و عرضہ (جو کوئی یہ کہہ دے کہ کوئی معبود نہیں سوائے اﷲ کے' اور محمد اﷲ کے رسول ہیں 'اس نے اپنے مال و جان اور عزت و آبرو کو امان میں کر لیا (لیکن وہ حقیقتاً ایمان نہیں لایا ہے)۔ اسی طرح اِس بارے میں قرآنِ کریم میں اشارہ کیا گیا ہے کہ: قَالَتِ الْاَعْرَابُ ٰامَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَٰلکِنْ قُوْلُوْآ اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ (یہ دیہاتی عرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں' تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو اسلام لے آئے ہیں' کہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ 
(سورہ حجرات ٤٩۔ آیت ١٤)

بہر حال ' اپنے زمانے میں رسولِ مقبول کالائحۂ عمل یہ تھا کہ لوگ شرک سے نکل کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں اور اس طرح رفتہ رفتہ ان میں اسلام کی قبولیت کا میدان ہموار ہو۔
غصب ِ خلافت کے بعد حضرت علی کا ردِ عمل

اسی لئے ولایت (اور مسلمانوں کی حاکمیت) کے لئے حضرت علی کا انتخاب کیا گیا تھا' کیونکہ وہی اس منصب کے اہل واحد ہستی تھے۔ وہی تھے جو فکری' معنوی' شرعی اور عملی پہلوئوں میں حقیقی اسلام سے لوگوں کو روشناس کرا سکتے تھے اور اسکی بنیاد پر لوگوں کے امور کا انتظام و انصرام کر سکتے تھے۔

لیکن اس دور کے اسلامی معاشرے کے پیچیدہ حالات نے علی کو ان کے مقام سے محروم کر کے ایک اور شخص کو اس منصب پر بٹھا دیا۔
اس حساس اور پیچیدہ صورتحال میں حضرت علی نے کس ردِ عمل کا مظاہرہ کیا؟
کیا انہوں نے اپنے حق کی بازیابی کے لئے مشکلات پیدا کرنی شروع کر دیں؟ 
یا آپ نے اسلام کی مصلحت اور اسکے مفاد کو ہر چیز پر مقدم قرار دیا؟
اچھا ہو گا اگر ہم اِن حالات میں حضرت علی کے موقف اور ردِ عمل کو خود ان کے کلام میں تلاش کریں۔ اس بارے میںآپ نے فرمایا: حتی اذارایت راجعة الناس قدرجعت عن الاسلام یریدون محق دین محمد (ص) فخشیت ان لم انصرالاسلام واھلہ واشارک القوم فی امورھم واجھھم وانصحھم ان اری فیہ ثلماا و ھدما' تکون المصیبة بہ علیَّ اعظم من فوت ولا یتکم ھذہ' التی انما ھی متاع ایام قلائل' یزول منھا مازال کما یزول السراب اوکما ینقشع السحاب' فنھضت حتیٰ زال الباطل و زھق 'واطمان الدین و تنھنہ (یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک گروہ اسلام سے منھ موڑ کر دین محمد کو مٹا دینے پر تل گیاہے۔ مجھے اس بات کا خو ف ہوا کہ کوئی رخنہ یا خرابی دیکھنے کے باوجود اگرمیں اسلام اور اہلِ اسلام کی مدد نہ کروں' تو یہ میرے لئے اس سے بڑھ کر مصیبت ہو گی جتنی تمہاری حکومت میرے ہاتھ سے چلی جانے کی مصیبت 'جو تھوڑے دنوں کا اثاثہ ہے' اِس میں کی ہر چیز سراب اور ان بدلیوں کی مانند جو ابھی جمع نہ ہوئی ہو ں زائل ہو جانے والی ہے۔ چنانچہ اِن حالات میں' میں اٹھ کھڑا ہوا۔ تاکہ باطل نیست و نابود ہو جائے اور دین محفوظ ہو کر تباہی سے بچ جائے۔
(نہج البلاغہ ۔ مکتوب ٦٢)

اسی طرح آپ کے کلام میں یہ بھی ملتا ہے کہ : لولا حضور الحاضرو قیام الحجة بوجود الناصر' ومااخذ اﷲ علی العلماء ان لا یُقارواعلی کظة ظالم و سغب مظلوم لا لقیت حبلھا علی غاربھا 'ولسقیت آخرھا بکاس اوّلھا ' ولا لفیتم دنیا کم ھذہ اھون عندی من عفظة عنز (اگر بیعت کرنے والوں کی کثرت اور مدد کرنے والوں کی موجودگی سے مجھ پر حجت تمام نہ ہو گئی ہوتی' اور وہ عہد نہ ہوتا جو اﷲ نے علما سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم سیری اور مظلوم کی بھوک دیکھ کر سکون و اطمینان سے نہ بیٹھے رہیں 'تو میں خلافت کی باگ اسی کے کاندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اسکے اوّل کو سیراب کیا تھا اور تم دیکھتے کہ دنیا میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ بے قیمت ہے۔ 
(نہج البلاغہ ۔ خطبہ ٣)

علی علیہ السلام اپنی ذاتی خواہشات کی تسکین کے لئے حکومت نہیں چاہتے تھے 'بلکہ آپ احکامِ الٰہی کے اجرا اور نفاذ کے لئے حکومت کے طلبگار تھے۔ اِس بارے میں آپ یوں فرماتے ہیں کہ: الھی انک تعلم انہ لم یکن الذی کان منا منافسہ فی سلطان ' ولا التماس شی من فضول الحطام ' ولکن لنردّ المعالم من دینک 'ونظھر الاصلاح فی بلادک ' وتُقام المعطلة من حدودک'ویامن المظلومون من عبادک (بارِالٰہا! یہ جو کچھ ہم سے( جنگ و پیکار کی صورت میں) ظاہر ہوا ہے' اسلئے نہ تھا کہ ہمیں تسلط و اقتدار کی خواہش تھی' یا ہم مالِ دنیا کے طالب تھے ۔بلکہ یہ اسلئے تھا کہ ہم دین کے نشانات کو (پھر ان کی جگہ پر) واپس لے کر آئیں اور تیرے وہ احکام (پھر سے) جاری ہو جائیں جنہیں بے کار بنا دیا گیا ہے اور تیرے شہروں میں امن و بہبود کی صورت پیدا کریں۔تاکہ تیرے ستم رسیدہ بندوں کو کوئی کھٹکا نہ رہے۔ 
)نہج البلاغہ ۔ خطبہ ١٢٩)

روزِ غدیر 'وہ دن ہے جس دن خداوند عالم نے اپنے دین کو کامل کیا' اپنی نعمتوں کو وافر انداز میں عطا کیا۔ آج کے دن ہر مومن کے لئے مستحب ہے کہ وہ اپنے دینی بھائی سے ملاقات کرتے ہوئے کہے کہ : الحمد ﷲ الذی جعلنا من المتمسکین بولایة علی والا ئمة من اھل البیت 'الحمد ﷲ علی اکمال الدین و اتمام النعمة (اس خدا کا شکر جس نے ہمیں علی اور اُن کے اہل بیت کی ولایت سے وابستہ کیا' شکر اس خدا کا جس نے دین کو کامل کیا' اور نعمتوں کو اپنی انتہا پر پہنچایا)

واقعۂ غدیر سے یہ سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ حضرت علی کی راہ اور اُن کی فکر کی پیروی کرنی چاہئے 'اُن کی محبت کو اپنے دل میں پروان چڑھانا چاہئے' ایک لمحے کے لئے بھی اُن سے جدا نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ ولایت کی پیروی اسلام اور قرآن کی پیروی ہے۔ اسی کے ذریعے ہماری فکری اور معنوی سطح میں بلندی آئے گی اور ہم اپنے دشمنوں کے مقابل کھڑے ہو سکیں گے۔اسکے برعکس علی سے جدائی' اور علی سے دوری 'اسلام قرآن اور تمام خوبیوں سے دوری کے مترادف ہے ۔

اس نکتے کی جانب حضرت علی نے اپنے ایک خطاب میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:انکم ستدعون الی سبّی والبرائة منی' امالسبّ فسبّونی فانّہ لی زکاة ولکم نجاة 'واماالبراء ة فانی ولدت علی الفطرة وسبقت الی الایمان والھجرة(جان لو کہ عنقریب تمہیں مجھ سے بیزاری اور مجھے برا بھلا کہنے پر اکسایا جائے گا۔ جہاں تک مجھے برا بھلا کہنے کی بات ہے (دشمن کے ظلم و زیادتی سے امان کے لئے) مجھے برا بھلا کہہ دینا۔ اسلئے کہ یہ میرے لئے درجات کی بلندی کا سبب اور تمہارے لئے (دشمنوں سے) نجات کا باعث ہوگا۔ لیکن (دل سے) ہر گز مجھ سے بیزاری کا اظہار نہ کرنا۔ اسلئے کہ میں (دین) فطرت پر پیدا ہوا ہوں' اور سب سے پہلے ایمان لانے اور ہجرت کرنے والا ہوں۔ 
(نہج البلاغہ ۔خطبہ ٥٧)
لہٰذاجو کوئی علی سے اظہار ِبیزاری کرے' گویا اُس نے ایمان اور اسلام سے بیزاری و برائت کا اظہار کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ سے بیزاری ظاہر نہیں کی جا سکتی ۔یہ علی کی پیروی کرنے اور ان کی راہ پر چلنے والے ہر شخص کی راہ ِعمل ہونی چاہئے۔ تاکہ اس طرح فکری' معنوی اور جہادی لحاظ سے امت قوت حاصل کرے۔ کیونکہ بزرگ اور معاشرے کی اصلاح کے لئے کوشاں شخصیات کے لئے اہم بات یہ نہیں ہوتی کہ لوگ اُن کے بارے میں کن جذبات کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اُن کے لئے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ لوگ راہ ِراست سے منحرف نہ ہوں۔ اور یہ واقعۂ غدیر میں مد ِ نظر اسباق میں سے ایک سبق ہے۔

علی اسلامی اتحاد کے علمبردار

علی علیہ السلام نے ٢٥ برس تک اُن لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کی جنہوں نے آپ کو آپ کے حق سے محروم رکھا۔آپ نے اپنی نصیحتوں اور مشوروں کے ذریعے اُن حضرات کی مدد کی۔ اسی طرح اِن اہم اور حساس حالات میںہر ممکن طریقے سے عملی کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ حضرت عمر کو کہنا پڑا کہ : لو لا علی لھلک عمر (اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا ) ۔نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ: لا کنت لمعضلة لیس لھا ابوالحسن (مجھے کوئی ایسی مشکل پیش نہ آئی جسے ابوالحسن (علی) نے حل نہ کیا ہو)

لہٰذا علی وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی کوشش کی ۔ اس وحدت کے معنی یہ نہ تھے کہ انہوں نے اپنے حق سے چشم پوشی کی۔ بلکہ اپنے اس طرزِ عمل سے آپ نے مسلمانوں کو اس عظیم خطرے کے تدارک کی دعوت دی' جو مستقبل میں اسلام کو جڑ سے ختم کر دینے کا باعث بن سکتا تھا ۔

اس بنیاد پر جو شخص بھی عقل 'دین اور ایمان کے لحاظ سے اپنے آپ کو اہل بیت کی پیروی کا پابند سمجھتا ہے'وہ اسلام و مسلمین کی مصلحت و مفاد کی خاطر تمام مسلمانوں کے لئے اپنے بازو کھلے رکھتا ہے 'انہیں گلے لگاتا ہے اور انہیں پیغام دیتا ہے کہ: تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَةٍ سَوَآءٍ آؤ ایک منصفانہ کلمے پراتفاق کرلیں۔ 
(سورۂ آلِ عمران٣۔آیت٦٤) ۔ 
یعنی قرآن و سنت کے مرکز پر جمع ہونے کے لئے قدم اٹھائیں۔ اور اگر امامت و خلافت اور کسی بھی دوسری چیز کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف سر ابھارے 'تو اسکے سلسلے میں خدااور اسکے رسول سے رجوع کریں۔ اور باہمی بغض و عداوت اور دشمنی وکینے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ اسلام کو ہماری اجتماعی کوششوں 'مہارتوں اور فعالیت کی ضرورت ہے۔

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved