• تاریخ: 2013 اگست 10

امیر المؤمنین علیه السلام کی چالیس حدیثیں


           

 

قالَ الاْ مامُ علىّ بن أ بى طالِب ، أميرُ الْمُؤْمِنينَ صَلَواتُ اللّهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِ:

كُنْ فِى الْفِتْنَةِ كَابْنِ اللَّبُونِ لَا ظَهْرٌ فَيُرْكَبَ وَ لَا ضَرْعٌ فَيُحْلَبَ.[1]

فتنوں میں دوسالہ اونٹ کی مانند رہو جس کے پاس نہ تو سواری کے لئے پیٹھ ہے اور نہ دودھ دینے کے لئے پستان۔

إغْتَنِمُوا الدُّعاءَ عِنْدَ خَمْسَةِ مَواطِنَ: عِنْدَ قِرائَةِ الْقُرْآنِ، وَ عِنْدَ الاْذانِ وَ عِنْدَ نُزُولِ الْغَيْثِ وَ عِنْدَ الْتِقاءِ الصَفَّيْنِ لِلشَّهادَةِ وَ عِنْدَ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، فَاِنَّهُ لَيْسَ لَها حِجابٌ دوُنَ الْعَرْشِ.[2]

پانچ مواقع کو دعا اور حاجت مانگنے کے لئے غنمیت سمجھو:

تلاوت قرآن کے وقت

اذان کے وقت

بارش کے وقت

جہاد فى سبيل اللّہ کے دوران

مظلوم کی پریشان حالی اور دعا کے دوران

ان اوقات میں دعا کے سامنے کوئی رکاوت نہیں ہوتی

أَلْعِلْمُ وِراثَةٌ كَريمَةٌ، وَ الاْدَبُ حُلَلٌ حِسانٌ وَ الْفِكْرَةُ مِرآةٌ صافِيَةٌ وَ الاْعْتِذارُ مُنْذِرٌ ناصِحٌ وَ كَفى بِكَ اَدَباً تَرْكُكَ ما كَرِهْتَهُ مِنْ غَيْرِكَ.[3] 

علم قیمتی میراث ہے اور ادب؛ خوبصورت زیور ہے

تفکر صاف و شفاف آئینہ اور

معذرتخواہی متنبہ کردینے والی خیرخواہ ناصح ہے اور

تمہارے با ادب ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ جو کچھ اپنے لئے ناپسند کرتے ہو دوسروں کے بارے میں بھی روا نہ رکھو۔

اَلْحَقُّ جَديدٌ وَ إنْ طالَتِ الاْيّامُ، وَ الْباطِلُ مَخْذُولٌ وَ إنْ نَصَرَهُ اقْوامٌ.[4]

حق اور حقیقت تمام حالات میں جدید اور تازہ ہے خواہ اس پر مدتیں ہی کیوں نہ گذری ہوں اور

باطل ہمیشہ پست اور بے بنیاد ہے خواہ کثیر لوگ اس کی حمایت ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔

اَلدُّنْيا تُطْلَبُ لِثَلاثَةِ اءشْياء: اَلْغِنى وَ الْعِزِّ وَالرّاحَةِ فَمَنْ زَهِدَ فيها عَزَّ وَ مَنْ قَنَعَ إسْتَغْنى وَ مَنْ قَلَّ سَعْيُهُ إسْتَراحَ.[5]

دنیا اور اس کے اموال تین اہداف کے لئے طلب کئے جاتے ہیں:

بے نیازی اور عدم احتیاج کے لئے

عزت و شوکت کے لئے

راحت و آسائش کے لئے

جو زاہد ہے وہ محترم اور معزز ہے

جو قناعت پیشہ ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا

جو شخص اپنے آپ کو مشقت اور تکلف میں نہ ڈالے وہ ہمیشہ راحت و آسائش میں ہے۔

لَوْلاَ الدّينُ وَ التُّقى ، لَكُنْتُ اَدْهَى الْعَرَبِ.[6]

اگر دینداری اور تقوائز الہی کا لحاظ رکھنا واجب نہ ہوتا عرب کے درمیان سب سے زیادہ ہوشیار شخص میں ہوتا (مگر دین اور تقوائے الہی سیاست بازی کی راہ میں رکاوٹ ہے)۔

اَلْمُلُوكُ حُكّامٌ عَلَى النّاسِ وَ الْعِلْمُ حاكِمٌ عَلَيْهِمْ وَ حَسْبُكَ مِنَ الْعِلْمِ انْ تَخْشَى اللّهَ وَ حَسْبُكَ مِنَ الْجَهْلِ انْ تَعْجِبَ بِعِلْمِكَ.[7]

بادشاہ عوام پر حکومت کرتے ہیں اور علم بادشاہوں پر حکمرانی کرتا ہے۔ علم میں تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ تم خدا کا خوف کرو؛ اور تمہارے جہل کے اثبات کے لئے یہی کافی ہے کہ تم اپنی دانش اور اپنے علم پر فخر کرو۔ (خوف خدا علم کی دلیل اور علم و دانش پر فخر و غرور، جہل کی دلیل ہے)۔

... وَ الشَّكُّ عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ عَلَى التَّمَارِى وَ الْهَوْلِ وَ التَّرَدُّدِ وَ الِاسْتِسْلَامِ فَمَنْ جَعَلَ الْمِرَاءَ دَيْدَناً لَمْ يُصْبِحْ لَيْلُهُ وَ مَنْ هَالَهُ مَا بَيْنَ يَدَيْهِ نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَ مَنْ تَرَدَّدَ فِى الرَّيْبِ وَطِئَتْهُ سَنَابِكُ الشَّيَاطِينِ وَ مَنِ اسْتَسْلَمَ لِهَلَكَةِ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ هَلَكَ فِيهِمَا...[8]

۔۔۔ اور شک کی چار شعبے ہیں: کلام میں جدل - خوف و ہراس – دو دل اور متردد ہونا – اور زمانے کے حوادث کے سامنے سرتسلیم خم کرنا؛ پس جو شخص اپنی زندگی میں جدل اور نزاع کو اپنی عادت بنائے گا کبھی بھی شبہات کی ظلمتوں سے خارج نہ ہوگا؛ اور جو شخص کسی چیز سے خائف ہوجائے مسلسل پسپائی کی حالت میں رہے گا؛ اور جو شخص تردد اور دودلی کا شکار ہوگا شیطان کے پیروں تلے روندا جائے گا؛ اور جو شخص حوادث زمانہ کے مقابل سرتسلیم خم کرے گا اور دنیا اور آخرت کی تباہی کو اپنا مقدر سمجھے گا دونوں جہان اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔

فِى الْمَرَضِ يُصيبُ الصَبيَّ، كَفّارَةٌ لِوالِدَيْهِ.[9] 

بچے کی بیماری والدین کے گناہون کا کفارہ ہے۔

الزَّبيبُ يَشُدُّ الْقَلْبِ، وَ يُذْهِبُ بِالْمَرَضِ، وَ يُطْفِى ءُ الْحَرارَةَ، وَ يُطيِّبُ النَّفْسَ.[10]

سیاہ كشمش قلب کو تقویت پھنچاتا ہے بیماریوں کو برطرف کرتا ہے، بدن کی حرارت کو ختم کردیتا ہے اور روح و نفس کو پاک و طیب بنادیتا ہے۔

أطْعِمُوا صِبْيانَكُمُ الرُّمانَ، فَإنّهُ اَسْرَعُ لاِلْسِنَتِهِمْ.[11]

اپنے بچوں کو انار کھلاؤ تا کہ ان زبان جلدی کھلے (اور جلدی بولنا شروع کرے)۔

اطْرِقُوا اهاليكُمْ فى كُلِّ لَيْلَةِ جُمْعَةٍ بِشَئٍْ مِنَ الْفاكِهَةِ كَيْ يَفْرَحُوا بِالْجُمْعَةِ.[12] 

ہر شب جمعہ پھل (یامٹھائی وغیرہ) لے کر اپنے اہل و عیال پر وارد ہوجاؤ تا کہ یہ امر جمعے کے روز ان کی شادمانی کا باعث ہو۔

... لَا قُرْبَةَ بِالنَّوَافِلِ إِذَا أَضَرَّتْ بِالْفَرَائِضِ.[13]

مستحب عمل – اگر واجبات کو نقصان پھنچائے – انسان کو خدا کی قربت عطا نہیں کرتا۔

لاينبغى للعبد ان يثق بخصلتين: العافية و الغنى بَيْنا تَراهُ مُعافاً اِذْ سَقُمَ وَ بَيْنا تَراهُ غنيّاً إذِ افْتَقَرَ.[14]

مناسب نہیں ہے کہ انسان زندگی میں دو خصوصیات کا بھروسہ کرے: عافیت اور تندرستی کا اور دولتمندی اور تونگری کا۔

کیونکہ تم تندرستی کی عالم میں اچانک بیماریوں سے دوچار ہوسکتا ہے اور تونگری کی حالت میں غربت و ناداری کا شکار ہوسکتا ہے۔ (یعنی تندرستی اور دنیا کی دولت وفادار نہیں ہیں)۔

لِلْمُرائى ثَلاثُ عَلاماتٍ: يَكْسِلُ إذا كانَ وَحْدَهُ، وَ يَنْشطُ إذا كانَ فِى النّاسِ وَ يَزيدُ فِى الْعَمَلِ إذا اُثْنِىَ عَلَيْهِ، وَ يَنْقُصُ إذا ذُمَّ.[15] 

ریاکار شخص کی تین نشانیاں ہیں: تنہائی میں سست و کاہل ہوتا ہے اور لوگوں کے بیچ چست وچالاک ہوتا ہے۔ جب لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں اچھی طرح کام کرتا ہے اور اگر تنقید کا سامنا کرے تو کام چور ہوجاتا ہے۔

اَوْحَى اللّهُ تَبارَكَ وَ تَعالى إلى نَبيٍّ مِنَ الاْنْبياءِ: قُلْ لِقَوْمِكَ لايَلْبِسُوا لِباسَ أعْدائى ، وَ لا يَطْعَمُوا مَطاعِمَ أ عْدائى ، وَ لايَتَشَكَّلُوا بِمَش اكِلِ اءعْدائى ، فَيَكُونُوا أ عْدائى.[16] 

خداوند تبارك و تعالى نے اپنے انبیاء میں سے ایک نبی پر وحی نازل فرمائی کہ: اپنی امت سے کہدو میرے دشمنوں کا لباس نہ پہنیں اور میرے دشمنوں کا کھانا نہ کھائیں اور میرے دشمنوں کے ہم شکل ہونے سے پرہیز کریں ورنہ وہ بھی میرے دشمن شمار ہونگے۔

اَلْعُقُولُ أئِمَّةُ الافْكارِ وَ الاْفْكارُ أئِمَّةُ الْقُلُوبِ وَ الْقُلُوبُ أئِمَّةُ الْحَواسِّ وَ الْحَواسُّ أئِمَّةُ الاْعْضاءِ.[17]

ہر انسان کی عقل اس کی فکر و سوچ کی راہبر ہے اور فکر قلب اور باطن کی قیادت کرتی ہے اور قلب حواس کے امامت کرتا ہے اور حواس اعضاء جسمانی کی راہبری کے عہدے دار ہیں۔

تَفَضَّلْ عَلى مَنْ شِئْتَ فَأنْتَ اميرُهُ، وَ اسْتَغِْنِ عَمَّنْ شِئْتَ فَانْتَ نَظيرُهُ وَ افْتَقِرْ إلى مَنْ شِئْتَ فَأنْتَ أسيرُهُ.[18]

جس کے ساتھ چاہو نیکی کرو؛ تم اس کے امیر ہونگے، اور جس سے چاہو بے نیاز ہوجاؤ؛ تم بھی اسی کی مانند ہونگے اور جس سے چاہو مدد مانگو؛ تم اس کے اسیر ہونگے۔

أعَزُّ الْعِزِّ الْعِلْمُ لإنّ بِهِ مَعْرِفَةُ الْمَعادِ وَ الْمَعاشِ وَ أذَلُّ الذُّلِّ الْجَهْلُ لإنّ صاحِبَهُ أصَمُّ، أبْكَمٌ، أعْمى، حَيْرانٌ.[19]

سب سے بڑی عزت عمل اور کمال ہے کیونکہ علم کے ذریعے معاد اور معاش کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور سب سے بڑی ذلت جہل اور نادانی ہے کیونکہ جاہل اور نادان شخص ہمیشہ بہرے پن، گونگے پن اور اندھے پن سے دوچار رہتا ہے۔

جُلُوسُ ساعَةٍ عِنْدَ الْعُلَماءِ أحَبُّ إلَى اللّهِ مِنْ عِبادَةِ ألْفِ سَنَةٍ وَالنَّظَرُ إلَى الْعالِمِ أحَبُّ إلَى اللّهِ مِنْ إعْتِكافِ سَنَةٍ فى بَيْتِ اللّهِ وَ زيارَةُ الْعُلَماءِ أحَبُّ إلَى اللّهِ تَعالى مِنْ سَبْعينَ طَوافاً حَوْلَ الْبَيْتِ وَ أفْضَلُ مِنْ سَبْعينَ حَجَّةٍ وَ عُمْرَةٍ مَبْرُورَةٍ مَقْبُولَةٍ وَ رَفَعَ اللّهُ تَعالى لَهُ سَبْعينَ دَرَجَةً وَ أ نْزَلَ اللّهُ عَلَيْهِ الرَّحْمَةَ وَ شَهِدَتْ لَهُ الْمَلائِكَةُ: إنَّ الْجَنَّةَ وَ جَبَتْ لَهُ.[20]

ساعت بھر علماء کی مصاحبت – جو انسان کو مبدأ و معاد سے روشناس کرے - خدا کے نزدیک ایك ہزار سال کی عبادت سے محبوب تر ہے۔

عالم کی طرف توجہ اور نگاہ ایک سال کی عبادت مستحب اور بیت اللہ میں ایک سال کے اعتکاف سے بہتر ہے۔

علماء کی زیارت اور ان کا دیدار خدا کی بارگاہ میں 70 طوافوں سے بہتر ہے اور ستر مرتبہ حج اور عمرہ مقبولہ سے بہتر ہے؛ اور خداوند متعال علماء کی زیارت کرنے والے شخص کے درجے کو ستر گنا رفعت عطا کرتا ہے اور اس پر اپنی رحمت اور برکت نازل فرماتا ہے اور ملائکہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اہل بہشت ہے۔

يَابْنَ آدَم ، لاتَحْمِلْ هَمَّ يَوْمِكَ الَّذى لَمْ يَأتِكَ عَلى يَوْمِكَ الَّذى أنْتَ فيهِ فَإنْ يَكُنْ بَقِيَ مِنْ أجَلِكَ فَإنّ اللّهَ فيهِ يَرْزُقُكَ.[21]

اے فرزند آدم! بعد میں آنے والے دن کا غم کا اپنے آج کے دن کے غموں میں اضافہ مت کرو؛ کیونکہ اگر تمہاری عمر اس دنیا میں باقی ہو خداوند متعال تمہیں رزق دیتا رہے گا۔

قَدْرُ الرَّجُلِ عَلى قَدْرِ هِمَّتِهِ وَ شُجاعَتُهُ عَلى قَدْرِ نَفَقَتِهِ وَ صِداقَتُهُ عَلى قَدْرِ مُرُوَّتِهِ وَ عِفَّتُهُ عَلى قَدْرِ غِيْرَتِهِ.[22]

ہر شخص کی قدر و قیمت اس کی ہمت کے برابر ہے اور

ہر شخص کی شجاعت اور قدرت اس کے احسان کے برابر ہے اور

ہر شخص کی صداقت اور درستکاری اس کی جوانمردی اور مروت کی برابر ہے اور

ہر شخص کی پاکدامنی اور عفت اس کی غیرت کی برابر ہے۔

مَنْ شَرِبَ مِنْ سُؤْرِ أَخيهِ تَبَرُّكاً بِهِ خَلَقَ اللّهُ بَيْنَهُما مَلِكاً يَسْتَغْفِرُ لَهُما حَتّى تَقُومَ السّاعَةُ.[23]

جو کوئی اپنے مؤمن بھائی کا جوٹا تبرّک کے عنوان سے کھا یا پی لے گا خداوند متعال ایک فرشتہ مامور فرمائے گا تا کہ وہ قیامت تک ان دونوں کے لئے قیامت کے روز تک طلب مغفرت کرتا رہے۔

لاخَيْرَ فِى الدُّنْيا إلاّ لِرَجُلَيْنِ: رَجَلٌ يَزْدادُ فى كُلِّ يَوْمٍ إحْسانا وَ رَجُلٌ يَتَدارَكُ ذَنْبَهُ بِالتَّوْبَةِ وَ إِنّى لَهُ بِالتَّوْبَةِ وَ اللّه لَوْ سَجَدَ حَتّى يَنْقَطِعَ عُنُقُهُ ما قَبِلَ اللّهُ مِنْهُ إلاّ بِوِلايَتِنا أهْلِ الْبَيْتِ.[24] 

خیر اور نیکی دنیا  میں صرف دو انسانوں کے لئے ہے:

پہلا وہ ہے جو ہر روز اسی کوشش میں رہتا ہے کہ ماضی سے کوئی بہتر عمل انجام دے۔

دوسرا انسان وہ جو ماضی کی خطاؤں اور گناہوں سے نادم اور شرمندہ ہو اور توبہ کرے اور کسی شخص کی توبہ قابل قبول نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی توبہ ہم اہل بیت عصمت و طہارت کی ولایت پر پورے اعتقاد کے ہمراہ ہو۔

عَجِبْتُ لِاِبْنِ آدَمَ، أوَّلُهُ نُطْفَةٌ وَ آخِرُهُ جيفَةٌ وَ هُوَ قائِمٌ بَيْنَهُما وِعاءٌ لِلْغائِطِ ثُمَّ يَتَكَبَّرُ.[25] 

حیرت ہے مجھے اس شخص سے جس کا آغاز ایک کا آغاز نطفہ تھا اور اس کی انتہا لاش ہے اور وہ ان دو (نطفے اور لاش) کے درمیان کھڑا ہے اور جس نے اپنے آپ کو گندگی کا برتن بنا رکھا ہے مگر اس کے باوجود تکبر اور بڑے پن کا اظہار بھی کرتا ہے۔

إيّاكُمْ وَ الدَّيْن فَإنّهُ هَمُّ بِاللَّيْلِ وَ ذُلُّ بِالنَّهارِ.[26]

ادهار سے بچ کے رہو کیونکہ یہ راتوں کو غم و اندوہ اور دن کے وقت ذلت اور خواری کا باعث بنتا ہے۔

إنّ الْعالِمَ الْكاتِمَ عِلْمَهُ يُبْعَثُ أَنْتَنَ أهْلِ الْقِيامَةِ تَلْعَنُهُ كُلُّ دابَّةٍ مِنْ دَوابِّ الاْرْضِ الصِّغارِ.[27] 

وه عالم اور دانشور جو – حقائق بیان کرنے کے حوالے سے – اپنا علم دوسروں سے چهپا کر رکهے قیامت کے دن بدترین بدبو کے ساتھ محشور ہوگا اور زمین کے تمام چهوٹے موجودات کی نفرت و لعنت کا نشانہ بنے گا۔

يا كُمَيْلُ قُلِ الْحَقَّ عَلى كُلِّ حالٍ وَ وادِدِ الْمُتَّقينَ وَ اهْجُرِ الفاسِقينَ وَ جانِبِ المُنافِقينَ وَ لاتُصاحِبِ الخائِنينَ.[28]

اے کمیل! هر حالت میں حق کی بات کرو اور حق کا دفاع کرو، پرهیزگاروں کے ساتھ مصاحبت و ہم نشینی جاری رکھو اور فاسقین اور گناہگاروں سے دوری اختیار کرو اور منافقین سے کناره کشی اختیار کرو اور خائنین کے ساتھ مصاحبت سے اجتناب کرو۔

فى وَصيَّتِهِ لِلْحَسَنِ عليه السلام : سَلْ عَنِ الرَّفي قِ قَبْلَ الطَّري قِ وَ عَنِ الْجارِ قَبْلَ الدّارِ.[29]

امام حسن علیہ السلام کو وصیت کرتےہوئے فرماتے ہیں:

سفر پر جانے قبل راستے کے لئے مناسب رفیق تلاش کرو؛ گھر لینے سے قبل پڑوسیوں کا حال پوچھو  کہ وہ کیسے لوگ ہیں۔

اِعْجابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ دَليلٌ عَلى ضَعْفِ عَقْلِهِ.[30]

اپنے اوپر فخر انسان کی کم عقلی کی دلیل ہے۔

أَيُّهَا النّاسُ إِيّاكُمْ وُ حُبَّ الدُّنْيا فَإِنَّها رَأْسُ كُلِّ خَطيئَةٍ وَ بابُ كُلِّ بَليَّةٍ وَ داعى كُلِّ رَزِيَّةٍ.[31]

لوگو! دنیا کی محبت سے  بچ کے رہو کیونکہ یہ ہر خطا اور انحراف کی جڑ ہے اور ہر بلا اور آزمائش کا دروازہ ہے اور ہر فتنہ اور آشوب کو نزدیک کرتی ہے اور ہر مصیبت اور مشکل کو ساتھ لاتی ہے۔

السُّكْرُ أَرْبَعُ السُّكْراتِ: سُكْرُ الشَّرابِ وَ سُكْرُ الْمالِ وَ سُكْرُ النَّوْمِ وَ سُكْرُ الْمُلْكِ.[32]

مستى اور نشے کی چارقسمیں ہیں: شراب کی مستی – مال و دولت کی مستی – نیند کی مستی اور حکمرانی کی مستی۔

أَللِّسانُ سَبُعٌ إِنْ خُلِّيَ عَنْهُ عَقَرَ.[33]

زبان ، درندے کی مانند ہے جو اگر آزاد ہو جسم و ایمان پر شدیدترین گھاؤ لگادیتی ہے۔

يَوْمُ الْمَظْلُومِ عَلَى الظّالِمِ أَشَدُّ مِنْ يَوْمِ الظّالِمِ عَلَى الْمَظْلُومِ.[34]

ظالم کے خلاف مظلوم  کو انصاف ملنے کا دن اس دن سے کہیں شدید اور سخت ہے جب ظالم نے مظلوم پر ستم روا رکھا تھا۔

فِى الْقُرْآنِ نَبَأُُ ما قَبْلَكُمْ وَ خَبَرُ ما بَعْدَكُمْ وَحُكْمُ ما بَيْنِكُمْ.[35]

قرآن نے گذرنے والوں کے احوال اور مستقبل میں آنے والوں کے حالات بیان کئے ہیں اور تماارے لئز فرائض و احکام بیان کئے ہیں۔

نَزَلَ الْقُرْآنُ أَثْلاثا، ثُلْثٌ فينا وَ فى عَدُوِّنا وَ ثُلْثٌ سُنَنٌ وَ أمْثالٌ وَ ثُلْثٌ فَرائِض وَ أَحْكامٌ.[36]

قرآن تین حصوں میں نازل ہوا ہے:

ایک تہائی حصہ ہم اہل بیت عصمت وطہارت اور ہمارے دشمنوں کے بارے میں اور

ایک تہائی اخلاقیات اور امثال و حِکَم کے بارے میں اور

ایک تہائی واجبات اور احکام الہی کے بارے میں

إِذَا قَدَرْتَ عَلَى عَدُوِّكَ فَاجْعَلِ الْعَفْوَ عَنْهُ شُكْراً لِلْقُدْرَةِ عَلَيْهِ.[37]

جب اپنے دشمن پر قابو پاؤ اسے طاقت اور غلبے کے شکرانے کے طور پر معاف کردو۔

كَتَبَ اللّهُ الْجِهادَ عَلَى الرِّجالِ وَالنِّساءِ فَجِهادُ الرَّجُلِ بَذْلُ مالِهِ وَ نَفْسِهِ حَتّى يُقْتَلَ فى سَبيلِ اللّه وَ جِهادُ الْمَرْئَةِ أنْ تَصْبِرَ عَلى ماتَرى مِنْ أذى زَوْجِها وَ غِيْرَتِهِ.[38]

خداوند متعال نے جہاد مردوں اور عورتوں پر واجب کیا ہے:

پس مرد کا جہاد مرد، یہ ہے کہ وہ اپنے مال اور جان سے گذرجائے یہاں تک کہ خدا کی راہ میں ماراجائے اور

عورت کا جہاد یہ ہے کہ وہ مرد پر وارد ہونے والی تمام سختیوں اور صدموں اور اس کی غیرت پر صبر کرے۔

فى تَقَلُّبِ الأْحْوالِ عُلِمَ جَواهِرُ الرِّجالِ.[39]

حالات و حوادث کی تبدیلیوں اور تغیّرات کے دوران افراد کی فطرت اور حقیقت پہچانی جاتی ہے۔

إتَّقُوا مَعَاصِيَ اللّهِ فِى الْخَلَواتِ فَإنّ الشّاهِدَ هُوَ الْحاكِم.[40]

خلوت اور تنہائی میں بھی خدا کی معصیتوں اور نافرمانیوں سے پرہیز کرو کیونکہ خدا جو تمہارے اعمال و کردار کا شاہد و گواہ ہے؛ وہی حاکم اور قاضی بھی ہے۔(جس کے لئے دیگر گواہوں کی ضرورت نہیں اور وہاں دنیاوی عدالتوں کی طرح کسی کو شک کا فائدہ دے کر بری نہیں کیا جاتا)۔

 



حواله جات:

[1] - کلمات قصار نهج البلاغه - حكمت 1.

[2] - أمالى صدوق : ص 97، بحارالا نوار: ج 90، ص 343، ح 1.

[3] - أمالى طوسى : ج 1، ص 114 ح 29، بحارالا نوار: ج 1، ص 169، ح 20.

[4] - وسائل الشّيعة : ج 25، ص 434، ح 32292.

[5] - وافى : ج 4، ص 402، س 3.

[6] - أعيان الشّيعة : ج 1، ص 350، بحارالا نوار: ج 41، ص 150، ضمن ح 40.

[7] - أمالى طوسى : ج 1، ص 55، بحارالا نوار: ج 2، ص 48، ح 7.

[8] - کلمات قصار نهج البلاغه - حكمت 31

[9] - بحار الا نوار: ج 5، ص 317، ح 16، به نقل از ثواب الا عمال.

[10] - أمالى طوسى : ج 1، ص 372، بحارالا نوار: ج 63، ص 152، ح 5.

[11] - أمالى طوسى : ج 1، ص 372، بحارالا نوار: ج 63، ص 155، ح 5.

[12] - عدّة الدّاعى : ص 85، ص 1، بحارالا نوار: ج 101، ص 73، ح 24.

[13] - کلمات قصار نهج البلاغه - حكمت 39.

[14] - بحارالا نوار: ج 69، ص 68، س 2، ضمن ح 28.

[15] - محجّة البيضاء: ج 5، ص 144، تنبيه الخواطر: ص 195، س 16.

[16] - مستدرك الوسائل : ج 3، ص 210، ح 3386.

[17] - بحارالا نوار: ج 1، ص 96، ح 40.

[18] - بحارالا نوار: ج 70، ص 13.

[19] - نزهة الناظر و تنبيه الخاطر حلوانى : ص 70، ح 65.

[20] - عدّة الدّاعى : ص 75، س 8، بحارالا نوار: ج 1، ص 205، ح 33.

[21] - نزهة الناظر و تنبيه الخاطر حلوانى : ص 52، ح 26. کلمات قصار نهج البلاغه - حكمت 267.نہج البلاغہ میں « فَإنْ يَكُنْ بَقِيَ مِنْ أجَلِكَ فَإنّ اللّهَ فيهِ يَرْزُقُكَ» کی بجائے « فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ مِنْ عُمُرِكَ يَأْتِ اللَّهُ فِيهِ بِرِزْقِكَ».مذکور ہے.

[22] - نزهة الناظر و تنبيه الخاطر حلوانى : ص 46، ح 12.

[23] - اختصاص شيخ مفيد: ص 189، س 5.

[24] - وسائل الشيعة : ج 16 ص 76 ح 5.

[25] - وسائل الشّيعة : ج 1، ص 334، ح 880.

[26] - وسائل الشّيعة : ج 18، ص 316، ح 23750.

[27] - وسائل الشّيعة : ج 16، ص 270، ح 21539.

[28] - تحف العقول : ص 120، بحارالا نوار: ج 77، ص 271، ح 1.

[29] - بحارالا نوار: ج 76، ص 155، ح 36، و ص 229، ح 10.

[30] - اصول كافى : ج 1، ص 27، بحارالا نوار: ج 1، ص 161، ح 15.

[31] - تحف العقول : ص 152، بحارالا نوار: ج 78، ص 54، ح 97.

[32] - خصال : ج 2، ص 170، بحارالا نوار: ج 73، ص 142، ح 18.

[33] - شرح نهج البلاغه ابن عبده : ج 3، ص 165.

[34] - شرح نهج البلاغه فيض الاسلام : ص 1193.

[35] - شرح نهج البلاغه فيض الاسلام : ص 1235.

[36] - اصول كافى ، ج 2، ص 627، ح 2.

[37] - کلمات قصار نهج البلاغه - حكمت 11.

[38] - وسائل الشّيعة : ج 15، ص 23، ح 19934.

[39] - کلمات قصار نهج البلاغه - حكمت 217.

[40] - شرح نهج البلاغه ابن عبده : ج 3، ص 324.

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved