• تاریخ: 2011 اگست 07

امریکہ میں ماہ مبارک رمضان


           


ریاست ہائے متحدہ امریکہ [USA] شمالی امریکہ میں واقع ہیں جن کی راجدھانی واشنگٹن ہے۔ امریکہ آبادی کے لحاظ سے تیسرا ملک اور وسعت زمینی کے اعتبار سے دنیا کا چوتھا ملک ہے۔

امریکہ میں تقریبا ۳ میلین مسلمان زندگی گزار رہے ہیں البتہ کچھ غیر رسمی ذرایع ابلاغ کے مطابق ۷ میلین کی تعداد بھی بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے ۹۰۰ ہزار شیعہ ہیں ۔

ماہ رمضان میں امریکہ کے لوگوں کا طرز عمل

ماہ مبارک کا استقبال

ماہ مبارک امریکہ میں بھی ایک خاص رنگ و روپ اختیار کرتا  ہے۔ اس ملک کے مسلمان اس مہینہ میں جشن مناتے ہیں اور اس کو قابل احترام سمجھتے ہیں۔

مختلف افق

امریکہ میں زمینی وسعت کی وجہ سے مختلف شہروں میں مختلف افق پائے جاتے ہیں۔ لہذا افطار اور سحر کے وقت کی تشخیص ایک معضل ہے۔ کچھ سال پہلے ایک ایرانی عالم دین نے امریکہ میں ایک ٹی وی چینل قائم کیا جو صرف ہر شہر کے شرعی اوقات بیان کرتا تھا اس نے کافی تعداد میں ناظرین کو اپنی طرف جذب کیا۔ لیکن اب مختلف طرح کی ویب سائٹیں ، مساجد اور دینی مراکز کے قیام سے یہ مشکل کافی حد تک آسان ہو چکی ہے۔

غذائیت

امریکہ کے متدین مسلمانوں کی سب سے بڑی مشکل حلال گوشت کی عدم دستیابی ہے۔ لہذا وہ لوگ حلال گوشت حاصل کرنے کے لیے مجبور ہیں کافی طولانی سفر کریں۔ اور زحمت اٹھائیں اگر چہ مسلمانوں کی تعداد میں کثرت سے اضافہ ہونے کی وجہ سے اسلامی ریسٹورینٹ کی تعداد میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن ابھی بھی شرعی قوانین کے پابند مسلمانوں کی مشکلات فراواں ہیں۔

نیویارک کا اسلامی مرکز

یہ مرکز جملہ اسلامی مراکز میں سے ایک ہے جو نیویارک کے مسلمانوں کے لیے افطاری کا انتظام کرتا ہے حال حاضر میں ہر رات دو ہزار سے زیادہ روزہ دار نماز جماعت ادا کرنے کے بعد افطاری کے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔

امریکہ کی زندگی

دنیا کے دیگر مسلمان چاہے وہ کسی بھی خطہ ارض میں زندگی بسر کر رہے ہوں اپنے رسم و رسومات کو پورا کرنے اور مذہبی مراسم کو انجام دینے میں آزاد ہیں۔ در حالانکہ امریکہ کے لوگ امریکی طرز و طور سے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

مساجد میں اطعام

وہ لوگ جو مجبور ہیں غروب کے وقت اپنی ڈیوٹیوں پر رہیں ان کے لیے مساجد میں افطار ایک بڑی نعمت ہے۔ وہ لوگ افطار کے وقت فورا اپنے آپ کو اپنے کام سے نزدیک مسجد میں پہنچاتے ہیں اور افطار کر کے اپنے کاموں پر واپس لوٹ جاتے ہیں۔

رمضان کی امریکہ پر تاثیر، مسلمانوں کا احترام

اس مہیںہ سے امریکہ والوں پر یہ اثر پڑتا ہے وہ مسلمانوں کے ذریعے اسلام سے زیادہ آشنا ہوتے ہیں یعنی امریکہ میں مسلمانوں کو بے شمار مشکلات لاحق ہونے کے باجود وہ اس مہینہ میں امریکائیوں پر اپنا گہرا اثر ڈالتے ہیں جس کی بنا پر وہ مسلمانوں سے اپنے روابط برقرار کرتے ہیں۔ اور اسلام سے آشنا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان مسلمانوں کو دیکھ کر جو اپنے خدا کی خاطر ایک پورا مہیںہ اپنے نفس کے ساتھ معرکہ آرائی کرتے ہیں اور اسے تمام خواہشات سے دور رکھتے ہیں امریکہ والے اسلام سے کافی متاثر ہوتے ہیں۔اور مسلمانوں کا احترام کرتے ہیں۔

۱۱ ستمبر کےبعد

۱۱ ستمبر کے تعجب خیز حادثہ کے بعد اسلام کی نسبت جستجو امریکہ میں کافی حد تک زیادہ ہو گئی۔ بہت سارے امریکہ کے مسلمان ماہ رمضان کو اسلام شناسی کا بہترین موقع سمجھتے ہیں۔ بعض مسلمان اپنے پڑوسیوں کو افطار پر دعوت کرتے ہیں افطار، افکار کو رد وبدل کرنے کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ " اسلام اور امریکہ روابطی کمیٹی " اپنی سالانہ کارکردگی میں ایک اہم کار نامہ جو انجام دیتی ہے وہ یہی ہے کہ ماہ رمضان میں مسلمانوں کی افطاری کے پروگراموں میں غیر مسلمانوں کو بھی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا یہ عمل اسلام کا مسیحیت کے درمیان تعارف کروانے میں نہایت درجہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ فرانسسکو کے مسلمان بھی چھ سال سے شہر کے مرکزی علاقوں میں افطاری کے پروگرام رکھتے ہیں اور مسلمانوں، یہودیوں ، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ان پروگراموں میں دعوت دیتے ہیں۔

پولیس کے اقدامات

نیویارک کے پولیس افسر بھی ماہ مبارک کا احترام برقرار رکھنے کی خاطر ہر سال ماہ رمضان کے آستانہ میں اسلامی انجمنوں کےسربراہان سے ملاقات کر کے ماہ مبارک کی فضا کو پر امن بنانے کے لیے لازم اقدامات کرنے کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہیں۔

مسلمان افسروں کے اسلام سے آشنائی کے ذارایع، اسلامی پروگراموں میں شرکت اور اسلامی ویڈیو کیسٹس اور سی ڈیز ہیں۔

الیکٹرانک آلات

ریاست ہائے متحدہ کے مسلمان ماہ رمضان میں الیکٹرانک آلات اور ذرایع سے استفادہ کرتے ہیں۔ سائٹیں اور ویب لاگز اسلامی مطالب کو منتقل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ سائٹیں اور ویب لاگز ہیں جو ماہ رمضان سے متعلق دعاوں، مقالات، سحر و افطار کے اوقات سے امریکہ کے مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہیں۔

ماہ رمضان منشیات کو ترک کرنے کی بہترین فرصت

امریکہ کے اسلامی ادارے جوانوں کو تنباکو نوشی اور دیگر منشیات اور مست کنندہ مواد سے نجات دلانے کے لیے ماہ رمضان کو بہترین فرصت سمجھتے ہیں اور اس مہینہ میں اس بری عادت کو ترک کرنے میں جوانوں کی مدد کرتے ہیں۔ ان اداروں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ منشیات کے عادی جوان ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کی وجہ سے اس عادت کو ترک کر دیں۔ ماہ رمضان کم سے کم بری عادات کو ترک کرنے میں آدھا راستہ طے کرنے کا کام کرتا ہے۔ اور باقی آدھا راستہ خود جوان کے عزم راسخ سے طے کیا جا سکتا ہے دین ناپسندیدہ عادات کو چھوڑانے میں واقعا ایک معجزہ ہے"۔

منبع: ابنا ڈاٹ آئی آر

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved