• تاریخ: 2011 جولائی 29

روزہ داروں کے لیے خوراکی تجویزات


           


اگر چہ روزہ دار کے لیے روزہ کے ظاہری فوائد اور جسم پر اثر انداز ہونے والے روزہ کے ظاہری آثار اس کا اصلی مقصد نہیں ہوتے، لیکن چوں کہ روزہ اسی بدن کے ذریعے ہی رکھا جاتا ہے لامحالہ اس پر روزہ رکھنے سے کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور روایات کے اندر بھی اس نکتہ پر تاکید کی گئی ہے کہ روزہ کے معنوی آثار کے علاوہ کچھ مادی آثار بھی پائے جاتے ہیں جو انسان کے جسم کی سلامتی پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ روزہ دار اسی صورت میں جسمی اور روحی سلامتی کو حاصل کر پائے گا جب اس کے اصول کی رعایت کرےگا۔ مثال کے طور پر روزہ جسم کے وزن کو کم کرنے، بلڈ پریشر کے لو ہونے اور بدن میں سستی اور کمزوری کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برخلاف بعض لوگوں میں وزن کے اضافہ ہونے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ لیکن اگر افطاری اور سحری میں غذا اور خوراک کے نظام میں اعتدال سے کام لیا جائے تو جسم کو حد اعتدال میں منٹین رکھا جا سکتا ہے۔ درج ذیل تجویزات اس سلسلے میں موثر ثابت ہو سکتی ہیں:

افطار کے لیے تجویزات

۱: بدن کی زیادہ انرجی سحری کھانے سے پورا ہونا چاہیے لہذا افطار میں ہلکا پھلکا استعمال کیا جائے تاکہ معدہ بھاری نہ ہو۔

۲: افطار میں کھانا ہلکا پھلکا اور مقوی ہونا چاہیے جو جلدی قابل ہضم ہو۔ جیسے خرما، کھجور، دودھ، چائے، وغیرہ۔

۳: بہتر ہے کہ چائے اور خرما سے افطار کیا جائے اور حتی المقدور افطار میں پانی پینے سے پرہیز کیا جائے۔ اس لیے کہ افطار میں پانی پینا بے حالی، کمزوری اور معدہ میں درد کا باعث بنتا ہے۔

۴: افطار کے وقت مایعات زیادہ استعمال نہ کئے جائیں۔ اس لیے کہ مایعات اس وقت بد ہضمی کا سبب بن سکتے ہیں۔

۵: سحری اور افطار میں پرچرب غذائیں کھانے سے پرہیز کیا جائے۔

 

سحری کے لیے تجویزات

۱: اس بات کو نہ بھولیے کہ سحری میں پرخوری نہ صرف آدھے دن کے بعد بھوک کے احساس کو کم نہیں کرتی بلکہ دن کے آغاز میں ہی معدہ پر شدید بوجھ ڈالتی ہے اور نظام ہاضمہ کو مختل کرتی ہے جس کے نتیجہ میں بد ہضمی، معدہ کا درد اور گیس کی بیماری ظاہر ہوتی ہے۔

۲: ماہ رمضان میں کوشش کریں رات کو جلدی سو جائے تاکہ آذان صبح سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اٹھیں تاکہ بدن کا نظام ہاضمہ صحیح کام کرے نیند کی وجہ سے اس میں خلل پیدا نہ ہو اور آرام و سکون کے ساتھ مناسب مقدار میں سحری کھا سکیں تاکہ ہضم کرنے میں آسانی ہو۔

۳: سحری کے لیے نہ اٹھنا بہت بڑی غلطی ہے معدہ کو حد سے زیادہ خالی رکھنا اس میں درد کا سبب بنتا ہے بدن سے پروٹین جل جاتے ہیں اور بدن میں کمزوری اور سستی چھا جاتی ہے۔

۴: سحر میں پروٹین والی غذاوں کو استعمال کریں جیسے انڈا، اناج، دودھ سے بنی چیزیں اور گوشت، اور پانی پینے کی جگہ میوں کے رس استعمال کئے جائیں۔

۵: سحری میں مایعات میں سے اگر ایک گلاس جیوس اور ایک گلاس شہد کا شربت پی لیا جائے تو نہایت مفید ثابت ہو گا۔

۶: سحری میں ضروری ہے کہ متنوع غذائیں استعمال کی جائیں۔ یہ چیز نوجوانوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک طرح کی غذا کا استعمال نوجوانوں کو سحری کھانے سے متنفر کرتا ہے۔

۷: زیادہ نمک کھانے سے پرہیز کریں  اس لیے کہ زیادہ نمک مایعات کو بدن سے دور کرتاہے اور دن میں پیاس لگنے کا سبب بنتا ہے۔ ایک معمولی کھانا کھانے سے کافی حد تک نمک آپ کے بدن میں پہنچ جاتا ہے اس زیادہ نمک استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

روزہ داروں کے لیے کچھ دیگر تجویزات

۱: سحری اور افطار کے بعد کے اوقات طالب علموں کے مطالعہ کے لیے مناسب وقت ہے۔

۲: ورزش کاروں کو ماہ رمضان میں عام لوگوں کی نسبت زیادہ پروٹین اور شوگر کی ضرورت ہے۔ لہذا افطار کے تین گھنٹے بعد ورزش کو شروع کیا جائے تاکہ استعمال کی گئی خوراک ٹھیک طریقے سے ہضم ہو چکی ہو۔ کھانا کھانے اور ورزش کرنے کے درمیان فاصلہ ہونا چاہیے تاکہ خون کا جریان مکمل طریقے سے بدن کی تمام رگوں میں ہو سکے۔

۳: ماہ رمضان میں ورزش ہلکی پھلکی ہونا چاہیے اس لیے کہ ورزش کے دوران بدن کافی مقدار میں نمک اور پانی کو خارج کر دیتا ہے جس کی وجہ سے بدن میں شدید کمزوری کا احساس ہو سکتا ہے۔ ورزش کاروں کو چاہیے کہ سحر تک کافی مقدار میں مایعات استعمال کریں تاکہ ان کے بدن میں پانی کی ضرورت پورا ہو سکے۔

۴: خرما، سوپ، سبزیجات، اور دودھ افطار میں ورزشکاروں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔

۵: اگر ورزش کار افطار کے بعد سخت ورزش یا مسابقہ وغیرہ کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے افطار میں گوشت، انڈے کی زردی اور مچھلی کا استعمال کرنا چاہیے زیادہ مایعات کا استعمال بھی ورزش سے پہلے مناسب نہیں ہے۔

۶: ورزش کاروں میں پروٹین سے حاصل شدہ انرجی ۱۵ سے ۲۰ در صد ہونا چاہیے اس سے زیادہ پروٹین مناسب نہیں ہیں اس لیے کہ خون میں زائد مواد کے پیدا ہونے اور ورزش کے دوران تھکاوٹ کے احساس کا سبب بنتا ہے۔

 منبع: اسمبلی کی فارسی سائٹ

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved