• تاریخ: 2011 اگست 26

قرآن کریم کی تلاوت کے آداب


           


سب سے زیادہ پاکیزہ کتاب قرآن کریم، ایک پاکیزہ ترین ذات کی طرف سے، پاکیزہ ترین قلب پر نازل ہوئی۔ اسی وجہ سے صرف وہ لوگ قرآن کریم کے قریب جا سکتے ہیں جو ظاہری اور باطنی اعتبار سے پاک و پاکیزہ ہوں۔ " انہ لقرآن کریم، فی کتاب مکنون، لایمسہ الا المطھرون" [۱]

موضوع کی ظرافت کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے بہتر ہے کہ ابتدا میں طہارت کے مصادیق کو گنوایا جائے اور اس کے بارے میں تھوڑی بہت فکر کی جائے:

جسم کی طہارت

قرآن کریم کو مس کرنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ جسم پاک ہو امام خمینی [رہ] کے فتوی کے مطابق " قرآن کریم کے خط کو مس کرنا یعنی بدن کے کسی حصے کو قرآن کے الفاظ تک پہنچانا بغیر وضو کے حرام ہے"۔[۲]

وضو ایسی چیز ہے جس کو انجام دینے سے ہمارا ذہن تمام خیالات سے خالی ہو جاتا ہے اور صرف معنوی افکار ہمارے ذہن میں حاوی ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے وضو کی معنوی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

جب وضو کرنے کا ارادہ کرو اور پانی کے نزدیک جاو تو اس شخص کی طرح ہو جاو جو پرور دگار عالم کی رحمت کے قریب ہونا چاہتا ہے اس لیے کہ خدا نے پانی کو اپنے قریب کرنے اور مناجات کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ [۳]

زبان اور منہ کی طہارت

زبان کی پاکیزگی اور طہارت کے بارے میں آئمہ معصومین علیہم السلام سے چند حدیثیں نقل ہوئی ہیں :

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا؛ پیغمبر اسلام [ص] نے فرمایا:

قرآن کے راستے کو پاکیزہ رکھیں۔

پوچھا: اے رسول خدا قرآن کا راستہ کون سا ہے؟

فرمایا: آپ کے منہ۔

پوچھا: کیسے پاکیزہ رکھیں٫

فرمایا: مسواک کے ذریعے۔ [۴]

امام رضا علیہ السلام نے اپنے اباء و اجداد کے ذریعہ رسول خدا سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا: آپ کی زبانیں کلام الہی کا راستہ ہیں انہیں پاکیزہ رکھیں۔ [۵]

وہ زبان جو غیبت، تہمت، جھوٹ جیسے گناہان کبیرہ سے آلودہ ہو ۔

وہ زبان جو حرام کھانوں کا مزہ لیتی رہی ہو۔

وہ زبان جو دوسروں کی دل شکنی کا سبب بنی ہو۔

وہ زبان جس کے شر سے دوسرے مسلمان ہمیشہ اذیت میں ہوں۔

کیسے کلام الہی اس پر جاری ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، اس پاکیزہ کلام کی تلاوت کے لیے زبان کی پاکیزگی ضروری ہے ورنہ صاف پانی بھی ایک گندی نالی میں گندہ ہو جاتا ہے اور استعمال کے قابل نہیں رہتا۔ اور اگر قرآن کریم ناپاک زبان پر جاری ہو گا تو " رب تال القرآن و القرآن یلعنہ" [کتنے ایسے قرآن کی تلاوت کرنے والے ہیں جن پر قرآن لعنت کرتا ہے ][۶]کا مصداق بن جائے گا۔

آنکھ کی طہارت

رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: اعط العین حقھا۔ آنکھ کا حق ادا کرو۔

عرض کیا یا رسول اللہ آنکھ کا حق کیا ہے؟

فرمایا: النظر الی المصحف؛ قرآن پر نگاہ کرنا۔

اس لیے کہ قرآن کریم کی دیکھ کر تلاوت کرنا ثواب رکھتا ہے اور اگر آنکھ آلودہ ہو ناپاک ہو تو قرآن پر نگاہ کرنے کی توفیق حاصل نہیں کرے گی [۷]

روح کی طہارت

وہ ناپاک روح جو شیطانی وسوسوں میں اسیر ہو جو اپنی طہارت اور پاکیزگی کو کھو چکی ہو جو مادیات کے ساتھ اس قدر وابستہ ہو کہ اس سے منہ پھیرنا محال ہو چکا ہو، جو گناہوں کی آلودگی سے کثیف ہو چکی ہو وہ قرآن پاک کی معنویت اور اس کے نورانی پیغام کو کیسے ادراک کر سکتی ہے؟  

لیکن پاکیزہ روح جس کا مادیات کے ساتھ کوئی سرو کار نہ ہو جس نے خود سازی کے ذریعے اپنی پاکیزگی کو محفوظ رکھا ہو۔

جس نے آثار کبرائی میں تفکر و تدبر کے ذریعے شیطانی وسواس اور شرک آلود افکار سے کنارہ کشی اختیار کی ہو۔

ایسی پاک و پاکیزہ روح تلاوت قرآن کے دوران قرآن کی معنویت اور نورانیت سے لطف اندوز ہوتی ہے اور اس سے معنوی غذا حاصل کرتی ہے۔

باقی اعضائے بدن کی طہارت

آیت اللہ جوادی آملی کے بقول: کان، آنکھ ہاتھ اور دیگر اعضا بھی قرآن کریم کے ادراک کے راستے ہیں [۸]

وہ کان جو قرآن کی دلربا آواز کو سنتا ہے اور اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا وہ کان جو قرآن کا مخاطب واقع ہوتا ہے لیکن ایک کان سے سن کر دوسرے سے باہر نکال دیتا ہے وہ کان جو غیبت، تہمت وغیرہ سن کر لذت کا احساس کرتا ہے ایسا کان پاکیزہ نہیں ہے۔ قرآن کی تلاوت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

وہ ہاتھ جو دوسروں کا مال لوٹ گھسوٹ کرنے کا عادی رہا ہے وہ ہاتھ جس سے دوسروں پر ظلم ہوتا رہا ہے وہ قرآن کریم کو کیسے مس کر سکتا ہے لا یمسہ الا المطہرون[۹]

لہذا ضروری ہے کہ قرآن کریم کی حقیقت اور اس کے ظاہر اورباطن کو ادراک کرنے کے لیے بدن کے تمام اعضاء پاکیزہ ہوں۔تاکہ قرآن کی نورانیت اس پر اثر کرے۔

جسم کی ظاہری طہارت تو بہت آسان ہے ایک نیت اور چند چلو پانی سے بدن کو ظاہری طورپر پاک کیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد ظاہر قرآن کو لمس کیا جا سکتا ہے لیکن باطن قرآن کو سمجھنے کے لیے بدن کی باطنی طہارت شرط ہے اور باطنی طہارت اور پاکیزگی کا حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔

تلاوت قرآن کو سننے کے آداب

سزاوار ہے کہ قرآن کریم کی جب تلاوت ہو رہی ہو تو انسان سکوت اور خاموشی اختیار کرے اور توجہ کے ساتھ اسے سنے۔

اپنےدل سے کلام الہی کا احترام کرے۔

اللہ کے کلام کو سننے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کرے۔

آیات قرآن پر تدبر اور تفکر کرے۔

آیات قرآن کے معانی کو اپنے وجود کے اندر محسوس کرے

اور روح کو اس نورانی کلام سے جلا بخشے۔[۱۰]

قاریان قرآن امام صادق علیہ السلام کی نظر میں

امام صادق علیہ السلام نے قاریان قرآن کو تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے:

۱: ایک گروہ وہ ہے جو سلاطین اور بادشاہوں کے قریب ہونے اور لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کرنے کی غرض سے تلاوت قرآن کرتاہے یہ گروہ اہل جہنم ہے۔

۲: ایک گروہ ایسا ہے جس نے قرآن کے الفاظ کو ازبر کر رکھا ہے لیکن اس کے معنی سے اسے کوئی مطلب نہیں ہے یہ گروہ بھی اہل جہنم میں سے ہے۔

۳: ایک گروہ وہ ہے جو قرآن کی تلاوت کرتاہے اس کے معنی اور مفہوم کا ادراک کرتا ہے اس کے محکم اور متشابہ پر ایمان رکھتا ہے اس کے حلال و حرام کو سمجھتا اور ان پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ یہ گروہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نجات عطا کرتا ہے اور انہیں بہشت کی نعمتوں سے نوازتا ہے اور وہ جس کے بارے میں بھی چاہیں حق شفاعت رکھتے ہیں۔ [۱۱]

حفظ قرآن کے آداب

۱: بچوں کو بچپنے سے حفظ قرآن کی عادت ڈالنا چاہیے۔

۲: حفظ کرنے سے پہلے قرآن ٹھیک سے پڑھنا آنا چاہیے۔

۳: آیات کو عربی لب ولہجہ میں تلاوت کیا جائے اور حفظ کے ساتھ ساتھ اس مفہوم سے اشنائی بھی حاصل کی جائے۔

۴:ترتیل کو سیکھا جائے اور ترتیل کے طریقہ سے قرآن کو حفظ کیا جائے۔

۵:حفظ کے دوران ایک جلد اور ایک معین خط سے قرآن یاد کیا جائے۔

۶:روزانہ آدھا گھنٹہ مشق کی  جائے دھیرے دھیرے اس میں اضافہ کیا جائے۔

۷: ایک معین وقت میں مثال کے طور پر ہر روز صبح سات بجے حفظ کیا جائے۔

۸:حفظ چھوٹے سوروں سے آغاذ کیا جانا چاہیے۔

۹: غصہ، بھوک و پیاس کی حالت میں قرآن کو حفظ نہیں کیا جائے۔

۱۰:آیات کو حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ آیات کے نمبر اور صفحات بھی ذہن میں رکھے جائیں۔

۱۱: حفظ قرآن روزانہ تکرار کا محتاج ہے۔

۱۲: سفر میں زیادہ تکرار کیا جا سکتا ہے۔

۱۳: حفظ کے لیے ترجمہ شدہ قرآن سے استفادہ نہ کریں۔

۱۴:لمبے سوروں کو تھوڑا تھوڑا کر کے حفظ کیا جائے۔

۱۵: دو آدمی مل کر مباحثہ کی صورت میں جلدی اور آسانی سے حفظ کر سکتے ہیں۔

 

قرآن کریم کی تلاوت کے آثار

۱: دلی نورانیت

عن رسول اللہ [ص] : ان ھذہ القلوب تصدا کالحدید۔ قیل: یا رسول اللہ فما جلاء ھا؟

قال: تلاوۃ القرآن۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ان دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے جیسے لوہے کو زنگ لگتا ہے۔ کہا گیا : یا رسول اللہ ان کو کیسے جِلا دیں؟ فرمایا: تلاوت قرآن سے۔

عن امیر المومنین: ان اللہ سبحانہ لم یعظ احدا بمثل ھذا القرآن ، فانہ حبل اللہ المتین و سببہ الامین و فیہ ربیع القلب و ینابیع العلم و ما للقلب جلاء غیرہ

خدا وند متعال نے قرآن کریم کی حد تک کسی چیز کو بھی نصیحت کے ذریعہ نہیں دیا۔ اس لیے کہ قرآن اللہ کی مضبوط رسی اور اطمینان بخش دستاویز ہے اس میں دلوں کی بہار ہے اور علم کے چشمے ہیں لہذا قرآن کے علاوہ دلوں کو جِلا دینے والی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔

۲: حافظہ کا قوی ہونا

۳: اہل خانہ کے درمیان معنویت کا پیدا ہونا

عن رسول اللہ [ص]: ما اجتمع قوم فی بیت من بیوت اللہ یتلون کتاب اللہ و یتدارسونہ بینھم الا نزلت علیھم السکینۃ و غشیتھم الرحمہ و حفتھم الملائکۃ ۔۔

کوئی گروہ کسی گھر میں تلاوت قرآن کرنے اور ایک دوسرے کو درس قرآن دینےکے لیے جمع نہیں ہو گا مگر خدا وند عالم انہیں اطمینان اور سکون عطا کرے گا اور ان پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔

۴: سعہ صدر اور وسعت رزق

قال النبی [ص] : نوروا بیوتکم بتلاوۃ القرآن  فان لبیت اذا کثر فیہ تلاوۃ القرآن کثر خیرہ و امتع اہلہ۔

اپنے گھروں کو تلاوت قرآن سے منور کرو اس لیے کہ وہ گھر جن میں تلاوت قرآن کثرت سے ہوتی ہے خدا وند عالم اس گھر پر اپنی نعمتوں اور برکتوں کی فراوانی کر دیتا ہے

عن علی [ع] افضل الذکر القرآن بہ تشرح الصدور و تستنیر السرائر

بہترین ذکر قران ہے قرآن کے ذریعے اپنے سینوں میں فراخ دلی پیدا کرو اور اپنے باطن کو نورانی کرو۔

۵: مشکلات کا مقابلہ کرنے پر قدرت اور اللہ پر بھروسہ [۱۴]

حوالہ جات

۱ـ دیوان اقبال.

۲ـ واقعه, ۷۹ ـ ۷۷.

۳ـ توضیح المسائل ـ مسئله ۳۱۷.

۴ـ مصباح الشریعه, باب دهم.

۵ـ الحیات, ج ۲, ص ۱۶۱ ـ ۱۶۲.

۶ـ وہی حوالہ.

۷ـ مستدرک ج ۱ ص ۲۹۱..

۸ـ آداب قرآن, مهدى مشایخى, ص ۱۰۴.

۹ـ وہی حوالہ, ص ۱۰۵.

۱۰ـ واقعه, ۷۹.

۱۱ـ آداب قرآن, مهدى مشایخى, ص ۱۶۶.

۱۲ـ امالى صدوق, ص ۱۷۹ والحیات ج ۲, ص ۱۷۱.

۱۳ـ الحیاه, ج ۲, ص ۱۷۲.

۱۴ـ با استفاده از آموزش قرآن, عبدالرحیم موگهى.

 

 

 منبع:sibtayn.com

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved