• تاریخ: 2011 جولائی 29

خطبہ شعبانیہ کا ایک فراز


           

" اے لوگو! اللہ کا مہینہ اپنی برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں کو لے کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔ یہ مہینہ اللہ کے نزدیک تمام مہینوں سے برتر ہے۔ اس کے ایام دوسرے ایام سے برتر، اس کی راتیں دوسری راتوں سے برتر، اس کے لمحات دوسرے لمحات سے برتر ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں آپ لوگوں کو اللہ کے ہاں دعوت دی گئی ہے۔ اور آپ لوگ ان میں سے قرار پائے ہیں جو بارگاہ رب العزت میں مشمول اکرام واقع ہوتے ہیں۔اس مہینہ میں آپ کی سانسیں اللہ کی تسبیح، آپ کی نیند عبادت ، اعمال قبول اور دعائیں مستجاب ہیں۔ بنا بر ایں خالص نیتوں اور پاک دلوں سے اللہ سے چاہو کہ آپ کو روزہ رکھنے اور اس مہینہ میں قرآن کی تلاوت کرنے کی توفیق عنایت کرے۔ اس لیے کہ بدبخت وہ شخص ہے جو اس مہینہ میں اللہ کی مغفرت سے محروم  رہ جائے۔ اور اس مہینہ کی بھوک اور پیاس سے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔ فقیروں اور بے سہارا لوگوں پر بخشش کرو، بوڑھوں کا اکرام کرو۔ چھوٹوں پر رحم کرو۔ اور صلہ رحم کو مضبوط کرو۔

اپنی زبانوں کو گناہ سے محفوظ رکھو، اپنی آنکھوں کو حرام دیکھنے سے بچائے رکھو، اور اپنے کانوں کو حرام سننے سے محفوظ رکھو۔ یتیموں کے ساتھ شفقت اور مہربانی سے کام لو تاکہ آپ کے یتیموں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جائے۔۔۔۔ اپنے گناہوں سے بارگاہ خداوندی میں توبہ کرو، نماز کے وقت اپنے ہاتھوں کو دعا کے لیے خدا کی طرف بلند کرو یقینا نماز کا وقت بہترین وقت ہے جس میں خدا اپنے بندوں کی طرف رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جب اس کو پکارتے ہیں وہ اجابت کرتا ہے ۔۔۔ اے لوگو ! تمہاری جانیں تمہارے اعمال کے گروی ہیں استغفار کر کے انہیں آزاد کرواو اور تمہاری گردنیں گناہوں کے بوجھ سے لدھی ہوئی ہیں پس طولانی سجدے کر کے انہیں ہلکا کرو۔

جان لو کہ خدا وند عالم نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ نماز پڑھنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کو عذاب نہیں کرے گا۔ روز قیامت جب لوگ پروردگار عالم کی بارگاہ میں قیام کریں گے ہر گز انہیں جہنم کی آگ نہیں دکھلائے گا۔ ۔۔۔

جو شخص برائی سے اپنے آپ کو بچائے گا قیامت کے دن عذاب الہی سے محفوظ رہے گا۔ خدا وند عالم قیامت کے دن ے۲تچے۱۲ے اس کا احترام کرے گا۔ اور جو شخص دوسروں پر رحم کرے گا خدا وند قیامت کے دن اس پر اپنی رحمت نازل کرے گا۔ اور جو شخص اس مہینہ میں کسی پر رحم نہیں کھائے گا خدا قیامت کے دن اس پر رحم نہیں کھائے گا۔ ۔۔۔ اور جو شخص ایک آیت قرآن کی تلاوت کرے گا اس شخص کی طرح ہے جس نے رمضان کے علاوہ پورا قرآن ختم کیا ہو۔ ۔۔۔

اے لوگو! اس مہینہ میں بہشت کے دروازے کھلے ہیں پس اپنے پروردگار سے چاہو کہ انہیں تمہارے اوپر بند نہ کرے اور اس مہینہ  میں دوزخ کے دروازے  بند ہیں خدا سے کہو کہ انہیں تمہارے اوپر نہ کھولے۔ شیاطین اس مہینہ میں زنجیروں میں بند ہیں اپنے پروردگار سے چاہو کہ انہیں تمہارے اوپر مسلط نہ کرے۔ علی علیہ السلام نے فرمایا: میں کھڑا ہوا اور عرض کیا : اے رسول اللہ اس مہینہ میں بہترین اعمال کون سے ہیں؟ فرمایا: اے ابو الحسن ! اس مہیںہ میں بہترین اعمال محرمات سے پرہیز ہے۔" [۱]۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ۔ وسائل الشیعه ، ج 7 صص228 226 . حدیث 20

منبع: اسمبلی کی فارسی سائٹ 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved