• تاریخ: 2011 جولائی 13

رمضان کی تیئسویں شب کی دعا


           


یَا رَبَّ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَجاعِلَہا خَیْراً مِنْ ٲَ لْفِ شَھْرٍ
اے شب قدر کے پروردگار اور اس کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دینے والے اے رات اور
وَرَبَّ اللَّیْلِ وَالنَّہارِ وَالْجِبالِ وَالْبِحارِ وَالظُّلَمِ وَالْاَ نْوارِ وَالْاَرْضِ وَالسَّمائِ
دن کے رب اے پہاڑوں اور دریائوں، تاریکیوں اور روشنیوں و زمین اور آسمان کے رب اے
یَا بارِیُٔ یَا مُصَوِّرُ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا اﷲُ یَا رَحْمٰنُ یَا اﷲُ یَا قَیُّومُ یَا اﷲُ
پیدا کرنے والے ،اے صورتگر، اے محبت والے، اے احسان والے، اے اﷲ، اے رحمن ،اے اﷲ، اے نگہبان ،اے اﷲ
یَا بَدِیعُ، یَا اﷲُ یَا اﷲُ یَا اللّہُ، لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنیٰ، وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیائُ
اے پیدا کرنے والے، اے اﷲ، اے اﷲ، اے اﷲ، تیرے ہی لیے ہیں اچھے اچھے نام، بلندترین نمونے،اور بڑائیاں اور مہربانیاں
وَالاْلائُ، ٲَسْٲَ لُکَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی ہذِھِ
تیرے لیے ہیں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ آج کی رات میں میرا نام
اللَّیْلَۃِ فِی السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّھَدائِ، وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسائَتِی
نیکوکاروں میں قرار دے، میری روح کو شہیدوں کیساتھ قرار دے، میری اطاعت کو مقام علیین میں پہنچا اور میری برائی
مَغْفُورَۃً وَٲَنْ تَھَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِہِ قَلْبِی وَ إیماناً یُذْھِبُ الشَّکَّ عَنِّی وَتُرْضِیَنِی
کو معاف شدہ قرار دے اور یہ کہ مجھے وہ یقین دے جو میرے دل میں بسا رہے اور وہ ایمان دے جو شک کو مجھ سے دور کردے اور مجھے
بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَۃً، وَفِی الاْخِرَۃِ حَسَنَۃً، وَقِنا عَذابَ
راضی بنا اس پر جو حصہ تو نے مجھے دیا اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے، آخرت میں خوش ترین اجر عطا کر اور ہمیں جلانے والی
النَّارِ الْحَرِیقِ، وَارْزُقْنِی فِیہا ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ وَالرَّغْبَۃَ إلَیْکَ وَالْاِنابَۃَ وَالتَّوْبَۃَ
آگ کے عذاب سے بچا اور اس ماہ میں مجھے ہمت دے کہ تجھے یادکروں، تیرا شکر بجا لائوں، تیری طرف توجہ رکھوں، تیری طرف
وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَہُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمُ اَلسَّلاَمُ ۔
پلٹوں اور توبہ کروں اور مجھے اس عمل کی توفیق دے جس کی توفیق تو نے محمد(ص) وآل محمد(ص) کو دی کہ ان سب پر سلام ہو۔
محمد بن عیسٰی نے اپنی سند کے ساتھ صالحین سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
تئیسویں رمضان کی رات اس دعا کو قیام و قعود اور رکوع وسجود میں نیز ہر حال میں بار بارپڑھے اور پھر اپنی زندگی میں جب بھی یہ دعا یادآئے تو پڑھتا رہے پس حق تعالیٰ کی بزرگی بیان کرنے اور حضرت نبی اکرم پردرود وسلام بھیجنے کے بعد کہے:
اَلَّلھُمَّ کُنْ لِّوَلِیِّکَ فلان بن فلان اورفلان بن فلان کی بجائے کہے: الْحُجَّۃِ بنِ الْحَسَنِ
اے معبود ! محافظ بن جا اپنے ولی حجت القائم (ع) بن حسن(ع) کا
صَلَواتُکَ عَلَیْہِ وَعَلَی آبائِہِ فِی ہذِھِ السَّاعَۃِ وَفی کُلِّ ساعَۃٍ وَلِیّاً وَحافِظاً وَقائِداً
تیری رحمت نازل ہو ان پر اور ان کے آباؤ اجداد پر اس لمحہ میںاور ہر آنے والے لمحہ میں، ان کا مددگاربن جا نگہبان پیشوا،
وَناصِراً وَدَلِیلاً وَعَیْناً حَتَّی تُسْکِنَہُ ٲَرْضَکَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَہُ فِیھا طَوِیلاً

 پھر یہ کہے :
حامی، راہنما اور نگہدار بن جا یہاں تک کہ تو لوگوں کی چاہت سے انہیں زمین کی حکومت دے اور مدتوں اس پر برقرار رکھے
یَا مُدَبِّرَ الاَمُورِ، یَا باعِثَ مَنْ فِی القُبُورِ، یَا مُجْرِیَ البُحُورِ، یَا مُلَیِّنَ الحَدِیدِ
اے کاموں کو منظم کرنے والے، اے قبروں سے اٹھا کھڑا کرنے والے، اے دریائوں کو رواں کرنے والے، اے دائود (ع)کے لیے
لِداوُدَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلَ مُحَمَّدٍ وَافْعَلَ بِی کَذا وَکَذا ان الفاظ کی بجائے اپنی حاجتیں
لوہے کو موم بنانے والے، محمد(ص) وآل محمد(ص) پررحمت نازل فرما اور کر دے میرے لیے یہ اور یہ میرے لیے ایسے ایسے کر دے
طلب کرے:

اَللَّیْلَۃُ اَللَّیْلَۃُ اپنے ہاتھ بلند کرے اور کہے: یَا مُدَبِّرَ الاَُمُورِ
اسی رات اسی رات اے کاموں کو منظم کرنے والے ۔
اس دعا کو حالت رکوع سجود، قیام اور قعود میں بار بار پڑھے علاوہ از ایںاس دعا کو ماہ رمضان کی آخری رات میں بھی پڑھے:

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved