• تاریخ: 2011 جولائی 13

اکیسویں رات کے باقی اعمال


           



 کفعمی نے سید (رح)سے نقل کیا ہے کہ رمضان کی اکیسویں رات یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّد وَاقْسِمْ لِی حِلْماً یَسُدُّ عَنِّی بابَ الْجَھْلِ وَھُدیً
اے معبود! محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت فرما اور مجھے وہ نرم خوئی عطا فرما جو جہالت کا دروازہ مجھ پر بند کرے اور ہدایت نصیب کر جس
تَمُنُّ بِہِ عَلَیَّ مِنْ کُلِّ ضَلالَۃٍ، وَغِنیً تَسُدُّ بِہِ عَنِّی بابَ کُلِّ فَقْرٍ، وَقُوَّۃً
کے ذریعے تو مجھ پر ہر گمراہی سے بچانے کا احسان کرے اور تونگری دے جس کے ذریعے تو مجھ پر ہر محتاجی کا دروازہ بندہ کرے اور
تَرُدُّ بِہا عَنِّی کُلَّ ضَعْفٍ، وَعِزّاً تُکْرِمُنِی بِہِ عَنْ کُلِّ ذُلٍّ، وَرِفْعَۃً
قوت عطا کر جس کے ذریعے تو مجھ سے کمزوریاں دور کرے اور وہ عزت دے جس سے تو ہر ذلت کو مجھ سے دور کرے اور وہ بلندی
تَرْفَعُنِی بِہا عَنْ کُلِّ ضَعَۃٍ، وَٲَمْناً تَرُدُّ بِہِ عَنِّی کُلَّ خَوْفٍ، وَعافِیَۃً
دے کہ جس کے ذریعے تو مجھے ہر پستی سے بلند کر دے اور ایسا امن عطا کر کہ جس کے ذریعے تومجھے ہر خوف سے بچائے اور وہ پناہ
تَسْتُرُنِی بِہا عَنْ کُلِّ بَلائٍ، وَعِلْماً تَفْتَحُ لِی بِہِ کُلَّ یَقِینٍ،
دے کہ جسکے ذریعے تو مجھے ہر مصیبت سے محفوظ رکھے او ر وہ علم دے جس کے ذریعے تومیرے لیے ہر یقین کا دروازہ کھول دے
وَیَقِیناً تُذْھِبُ بِہِ عَنِّی کُلَّ شَکٍّ، وَدُعائً تَبْسُطُ لِی بِہِ الاِِجابَۃَ فِی ہذِھِ اللَیْلَۃِ
اور وہ یقین عطا کرکہ جس کے ذریعے ہر شک کو مجھ سے دور کر دے اورایسی دعا نصیب فرما کہ جسے تو قبول فرمائے اسی رات میں اور
وَفِی ہذِھِ السَّاعَۃِ، السَّاعَۃَ السَّاعّۃَ السَّاعَۃَ یَا کَرِیمُ، وَخَوْفاً تَنْشُرُ لِی بِہِ کُلَّ
اسی گھڑی میں، اسی گھڑی میں ،اسی گھڑی میں، اسی گھڑی میں ابھی، اے کرم کرنے والے، اور وہ خوف دے جس سے تو مجھ پر
رَحْمَۃٍ، وَعِصْمَۃً تَحُولُ بِہا بَیْنِی وَبیْنَ الذُّنُوبِ حَتَّی ٲُفْلِحَ بِہا عِنْدَ الْمَعْصومِینَ
رحمتیں برسائے اور وہ تحفظ دے کہ میرے اور گناہوں کے درمیان آڑ بن جائے یہاں تک کہ اس کے ذریعے تیرے معصومین(ع) کی
عِنْدَکَ بِرَحْمَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔
خدمت میں پہنچ پائوں تیری رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم والے۔
ایک اور روایت ہے کہ حماد بن عثمان اکیسویں رات امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (ع)نے پوچھا : آیا تم نے غسل کیا ہے؟ اس نے عرض کی جی ہاں! آپ پر قربان ہوجائوں ۔ حضرت نے مصلیٰ طلب فرمایا۔ حماد کو اپنے قریب بلایا اور نماز میں مشغول ہو گئے حماد بھی حضرت(ع) کے ساتھ ساتھ نماز پڑھتے رہے ۔ یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے تب حضرت نے دعا مانگی اور حماد آمین کہتے رہے ۔ اس اثنائ میں صبح صادق کا وقت ہوگیا ۔ پس حضرت(ع) نے اذان واقامت کہی پھر اپنے غلاموں کو بلایا اور نماز صبح باجماعت ادا کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ قدر اوردوسری رکعت میں حمد کے بعد سورئہ توحید پڑھی نماز کے بعد تسبیح وتقدیس ، حمدوثنائ الہی اور حضرت رسول (ص) پر درودوسلام بھیجا اور مومنین ومومنات اورمسلمین ومسلمات، سبھی کے لیے دعا فرمائی ۔ پھر آپ نے سرسجدہ میں رکھا اور بڑی دیر تک اسی حالت میں رہے جب کہ آپ کے سانس کے سوا کوئی آواز نہ آتی تھی ، اس کے بعد یہ دعا تاآخر پڑھی کہ جو سید بن طائوس کی کتاب اقبال میں مذکور ہے اور وہ اس جملے سے شروع ہوتی ہے :
لَااِلَہَ اِلَّااَنْتَ مُقَلِّبُ الْقُلُوْبِ وَالْاَبْصَارِ
نہیں کوئی معبود مگر تو کہ جو دلوں اورآنکھوں کو زیروزبر کرنیوالا ہے
شیخ کلینی(رح) نے روایت کی ہے کہ امام محمدباقر -رمضان کی اکیسویں اور تئیسویں راتوں میں نصف شب تک دعا پڑھتے اور پھر نمازیں شروع کر دیتے تھے ۔ واضح رہے کہ رمضان کی آخری راتوں میں ہر رات غسل کرنا مستحب ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت رسول ان دس راتوں میں ہر رات غسل فرماتے تھے۔ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھنا مستحب ہے بلکہ اس کی بڑی فضیلت ہے اور یہی اعتکاف کا افضل وقت ہے۔ ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ ان ایام میں اعتکاف بیٹھنے پر دوحج اور دوعمرے کا ثواب ملتا ہے۔ حضرت رسول رمضان کے ان آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف بیٹھتے تھے، تب مسجد میں آپ کے لیے چھولداری لگا دی جاتی آپ اپنا بستر لپیٹ دیتے اور شب وروز عبادت الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔
یاد رہے کہ ۰۴ھ میںرمضان کی اسی اکیسویں رات میں امیرالمومنین -کی شہادت ہوئی تھی۔ لہذا اس رات آل (ع) محمد(ص) اور ان کے پیروکاروں کا رنج وغم تازہ ہوجاتا ہے۔
روایت ہے کہ یہ شب بھی امام حسین -کی شبِ شہادت کے مانند ہے کہ جو پتھر بھی اٹھایا جاتا اسکے نیچے سے تازہ خون ابل پڑتا تھا۔ شیخ مفید (رح) فرماتے ہیں کہ اس رات بکثرت درود شریف پڑھے آل محمد (ص) پر ظلم کرنے والوں پر نفرین کرے اور امیرالمومنین -کے قاتل پر لعنت بھیجے۔

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved