• تاریخ: 2013 اگست 10

رمضان کی تئیسویں کی شب کے اعمال


           


جو کچھ تئیسویں کی شب کے لئے مخصوص ہے: 
الف۔ برید بن معاویہ کی روایت میں غسل پر تاکید: 
"میں نے دیکھا کہ امام صادق علیہ السلام نے رمضان المبارک کی تئیسویں کی شب غسل کیا، ایک بار رات کے ابتدائی حصے میں اور ایک بار رات کے آخری حصے میں"۔ 

ب۔ شب زندہ داری پر تاکید 
1۔ امام علی علیہ السلام: 
"رسول اللہ (ص) ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اپنا بستر لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیتے تھے اور کمر کو باندھ لیتے تھے اور تئیسویں کی رات اپنے اہل خانہ کو جگا دیتے تھے اور اس رات سوئے ہوئے افراد کے چہرے پر پانی چھڑکتے تھے"۔ 
2۔ دعائم الإسلام کی روایت: 
سیدہ فاطمہ (س) اہل خانہ میں سے کسی کو بھی اس رات (تئیسویں کی رات) سونے نہیں دیتے تھے اور ان کی نیند کا علاج کم خوری سے فرماتی تھیں اور بائیس کے دن سے ہی اس رات کے لئے تیار ہوجایا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں: "محروم وہ ہے جو اس کی خیر سے محروم رہے"۔ 
3۔ اقبال الاعمال بحوالۂ جمیل و ہشام اور حفص:۔ 
"امام صادق (ع) سخت بیمار ہوئے اور جب تئیسویں کی رات ہوئی تو آپ (ع) نے غلاموں کے حکم دیا کہ آپ (ع) کو مسجد لے جائیں اور اس رات صبح تک مسجد میں رہے"۔ 

ج۔ سو رکعت نماز 
1۔ امام باقر عليہ السلام: "جو شخص تئیس رمضان کی شب کو زندہ رکھے (اور اس رات جاگ کر عبادت کرے) اور اس رات 100 رکعت نماز پڑھے خداوند اس کی زندگی میں فراخی دیتا ہے اور اس کے دشمنوں کا کام اپنے ذمے لے لیتا ہے اور اس کو پانی ڈوبنے، ملبے کے نیچے دبنے، اس کا مال چوری ہونے اور دنیا کے شر کا نشانہ بننے سے بچار کر رکھتا ہے اور نکیر و منکر کا خوف اس سے اٹھا دیتا ہے؛ اور اپنی قبر سے ایسے حال میں اٹھے گا کہ اس کا نور اہل محشر پر چمکے گا اور اس کا نامۂ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کے لئے آگ سے نجات، صراط سے عبور اور عذاب سے امان، لکھی جائے گی اور وہ حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوگا اور جنت میں انبیاء (ع) اور صدیقین و شہداء اور صالحین کے ہم نشینوں میں سے ہوگا اور کتنے اچھے ہم نشین ہيں وہ!" 

2۔ امام صادق علیہ السلام: "مستحب ہے کہ اس رات 100 رکعت بجا لائی جائے ہر رکعت میں ایک بار حمد اور دس مرتبہ "قل هو اللّه أحد"۔ 

د۔ زیارت امام حسین (ع) پر تاکید 
1۔ امام رضا (علیہ السلام): 
جو ماہ رمضان میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے اس کو خیال رہنا چاہئے کہ "شبِ جُہَنی" کو امام حسین (ع) کی قبر شریف کے ساتھ گذارنے کا موقع ضائع نہ ہونے پائے اور وہ شب تئیسویں کی شب ہے؛ وہی رات جو امید ہے کہ شب قدر ہی ہو۔ 

2۔ امام جواد علیہ السلام: "جو بھی رمضان کی تئیسویں شب کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے ـ وہی شب جو امید ہے کہ شب قدر ہو اور اس رات ہر حکمت آمیز امر کا فیصلہ ہوتا ہے ـ چوبیس ہزار فرشتوں اور انبیاء کی ارواح اس کے ساتھ مصافحہ کرتی ہیں جو خدا سے اذن لے کر اس رات امام حسین (ع) کی زیارت کے لئے آتی ہیں"۔  

ه۔ غنکبوت، روم اور دخان کی تلاوت 
امام صادق علیہ السلام ابوبصیر سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں:
"جو بھی ماہ مبارک رمضان میں اور تئیسویں کی رات کو سورہ عنکبوت اور روم کی تلاوت کرے، خدا کی قسم اے ابا محمد! وہ اہل جنت میں سے ہے اور میں اس بات میں کسی کو بھی مستثنی نہیں کرنا چاہتا اور میں خوفزدہ نہيں ہوں کہ خداوند اس قسم میں میرے لئے کوئی گناہ ثبت فرمائے گا"۔ 
"خدا کے نزدیک ان دو سورتوں کی عظمت بہت زيادہ ہے"۔
الاقبال: اور تئیسویں کے مزید اعمال میں ایک سورہ دخان ہے جس کی تلاوت اس رات اور ہر رات، پڑھنا مستحب ہے۔ 

و۔ ایک ہزار بار سورہ قدر کی تلاوت 
سيّد ابن طاؤس ـ اقبال الاعمال میں روایت کرتے ہیں: اس شب قرائت قرآن میں ایک ہزار بار سورہ قدر کی تلاوت بھی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رمضان کی ہر شب 1000 بار سورہ قدر کی تلاوت کی جائے اور ایک روایت میں ایک ہزار بار سورہ قدر کی تلاوت تئیسویں کی شب کے لئے مخصوص کی گئی ہے یہ روایت کئی اسناد سے امام صادق (ع) سے منقول ہے؛ امام صادق (ع) نے فرمایا: اگر کوئی تئیسویں کی شب ایک ہزار بار سورہ قدر کی تلاوت کرے، صبح کرے گا جب کہ اس کا یقین و ایمان ان امور پر اعتراف کے ذریعے استوار ہوگا جو خداوند متعال نے ہمارے لئے مختص کئے ہیں اور یہ نہیں ہے مگر اس چیز کے بموجب جو وہ خواب میں دیکھتا ہے"۔ 

ز۔ امام زمانہ (عج) کے لئے دعا 
مصباح المتہجّد میں محمد بن عیسی سے مروی ہے کہ به نقل از محمّد بن عيسى تئیسویں رمضان کی شب اس دعا کو ـ حالت سجود، حالت قیام، بیٹھ کر اور ہر حال میں ہر ماہ اور ہر روز ـ کہ ممکن ہو ـ پڑھا جاتا ہے؛ اللہ تعالی کی حمد و ثناء اور رسول اللہ (ص) پر درود و سلام کے بعد کہا جائے: 
"اَللّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلى ابآئِهِ، فى هذِهِ السَّاعَةِ، وَفى كُلِّ ساعَةٍ، وَلِيّاً وَحافِظاً، وَقآئِداً وَناصِراً، وَدَليلاً  وَعَيْناً، حَتّى تُسْكِنَهُ اَرْضَكَ طَوْعاً، وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلاً"۔
"بار خدایا! اس وقت اور ہر وقت اپنے ولی حجت بن الحسن العسکری ـ کہ تیرا درود ہے ان پر اور ان کے آباء طاہرین پر ـ کے لئے مددگار و نگہبان اور راہبرو ناصر و یاور اور راہنما و حامی رہ؛ تا کہ ان کو لوگوں کی رغبت کی رو سے زمین میں بسا دے اور اس کو بہرہ مند کردے طویل عرصے تک"۔ 


روز قدر کے فضائل و آداب  

الإقبال میں ہشام بن حَکَم کے حوالے سے امام صادق (ع) سے مروی ہے "شب قدر کا دن بھی شب قدر کی طرح ہے"۔ 
امام صادق (ع) نے فرمایا: "شب قدر ہر سال ہے اور شب قدر کا دن شب قدر کی طرح ہے"۔ 
امام صادق (ع) نے فرمایا: "شب کے قدر کے دن کی صبح بھی شب قدر کی طرح ہے پس عمل کرو اور کوشش کرو"۔ 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved