• تاریخ: 2012 ستمبر 03

روزہ غیر مخل


           

 

حائضہ عورت کی نماز اور اس کے روزہ کے اس تفرقہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اس پر نماز کی قضا واجب نہیں ہے لیکن روزہ کی قضا واجب ہے اسلامی روایات نے اس نکتہ کی وجاھت کی ہے کہ نماز زندگی کے دوسرے افعال پر اثرانداز ہوتی ہے اور نمازی حالت نماز میں ہنسنے اور رونے سے بھی مجبور ہے دوسرے اعمال و افعال کا کیا ذکر ہے۔ لیکن روزہ کا یہ حال نہیں ہے بلکہ وہ زندگی کے تمام ضروریات کو اپنے دامن مین سیمٹے ہوئے ہے روزہ دار فطری تقاجون کی بنیاد پر ہنس بھی سکتا ہے اور رو بھی سکتا ہے۔ بات کرنا چاہے تو بھی کر سکتا ہے۔ داہنے بائیں دیکھنا چاہے تو اس پر پابندی نہیں ہے۔اس کے علاوہ تمام امور زندگی ملازمت ، تجارت، زراعت، صنعت، اجتماعیات، اقتصادیات، سیاسیات جملہ امور انجام دے سکتا ہے۔ روزہ کسی اعتبار سے مانع نہیں ہے۔ روزہ اگر کھانے پینے یا مجامعت کرنے سے روک دیتا ہے تو یہ بھی تہذیب نفس کے علاوہ وقت کی آزادی ہے کہ انسان اس وقت کو دوسرے اہم کاموں میں صرف کر سکتا ہے ورنہ روزہ کی حالت میں کھانا پکانے پر کوئی پابندی نہیں۔ جو روزہ کی وسعت دامانی کی بہترین علامت ہے اور جس سے اس کی اہمیت کا بھی بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ماخوذ از کتاب اصول و فروع علامہ جوادی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved