• تاریخ: 2012 ستمبر 03

روزہ علامت ترحم


           

اسلامی شریعت نے ماہ رمضان کے روزہ کو اس قدر اہم قرار دینے کے بعد کہ ایک روزہ ٹورنے میں میں ساٹھ روزے کا کفارہ واجب ہو جاتا ہے پھر یہقانون پیش کیا کہ بوڑھے مرد بوڑھی عورت، حامل عورت، دودھ پلانے والی عورت، پیاس کے مریض افراد کے لیے اگر روزہ تکیلف دہ ہے تو انہیں روزہ نہیں رکھنا ہو گا اور بعض افراد کو ۳ پاو غلہ بطور فدیہ دینا ہو گا اور بعد میں قضا کرنا ہو گی اور بعض افراد کے لیے فدیہ یا قضا بھی نہیں ہے جو اس بات کیعلامت ہے روزہ انسانی حالات پر ترحم کی نشانی ہے۔ اور روزہ کے احکام انسان کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ تمہارے پروردگار تمہارے حال پر کس قدر مہربان ہے کہ تمہاری کمزوری پر رحم کھا کر اپنے قانون کو پیچھے ہٹا لیا ہے اور یہ گوارا نہیں کیا ہے کہ صرف اپنی حاکمیت کے اظہار کے لیے تمہیں مصیبت میں مبتلا کر دے۔ اسے تمہارے روزہ سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ جو کچھ فائدہ ہے وہ تمہارے ہی لیے ہے کسی اور کے لئے نہیں ہے۔

ماخوذ از کتاب اصول و فروع علامہ جوادی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved