• تاریخ: 2012 ستمبر 02

روزہ وسیلہ اطعام


           

 

فقہ اسلامی میں بعض جرائم کے سلسلے میں جن کفارات کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سے بعض کفارات تخییری ہیں جہاں انسان کو اختیار ہے کہ مختلف کفارات میں سے جسے چاہے اختیار کر لے جیسے ماہ رمضان کا روزہ توڑنے میں انسان کو اختیار ہے کہ چاہے ایک غلام آزاد کرے یا ساٹھ روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔

لیکن بعض کفارات تربیتی ہیں جیسے کفارہ ظہار کہ اگر کسی شخص نے زمانہ جاہلیت کے انداز سے زوجہ سے جان چھڑانے کے لیے اسے اپنی ماں کی پشت جیسا قرار دے دیا تو اس کا فرض ہے کہ پہلے ایک غلام آزاد کرے اور یہ ممکن نہ ہو تو ساٹھ روزے رکھے اوریہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے کہ یہاں اطعام کا مرتبہ صیام کے بعد ہے اور گویا کہ صیام کا بدل ہے۔

اور یہ علامت ہے کہ اسلام میں روزہ کا کوئی بدل ہے تو وہ اطعام ہے اور اس طرح روزہ کا غیر ممکن ہو جانا فقیروں کے اطعام کا سہارا بن جاتا ہے اور خود روزہ کی حالت میں اسلام نے افطار صٓئم پر اسی قدر زور دیا ہے کہ گویا اس عمل میں بھی ایک روزہ کا ثواب ہے اور اس طرح چاہا ہے کہ روزہ قربت الہی کے علاوہ اطعام مساکین و مومنین کا سبب بھی بن جائے۔

ماخوذ از کتاب اصول و فروع علامہ جوادی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved