• تاریخ: 2012 ستمبر 02

روزہ دعوت توبہ و استغفار


           

 

روزہ اپنے احکام و قوانین کے اعتبار سے ایک طرف تطہیر جذبات اور تزکیہ نفس کی دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف ماضی کی غلطیوں کے سلسلہ میں احساس کو شدید تر بنا دیتا ہے۔ اور انسان باربار یہ خیال کرتا ہے کہ اگر ماضی کی خطاوں کا ازالہ نہ ہوا اور ان غلطیوں کی بخشش اور معافی کا بندوبست نہ کیا گیا تو صرف مستقبل کا پاکیزہ کردار کیا کر سکتا ہے اور اس طرح نفس کے اندر خود بخود توبہ و استغفار کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ اور انسان جس طرح تعمیل احکام سے مستقبل کا انتظام کرتا ہے اسی طرح توبہ و استغفار سے ماضی کا بھی علاج کر لیتا ہے۔

توبہ و استغفار انسانی زندگی کی وہ عظیم ترین دولت ہے جس کے آثار دنیا میں بھی نظر آتے ہیں اور آخرت میں بھی۔ جناب نوح (ع) نے اپنی قوم سے صرف استغفار پر تمام نعمات دنیا کا وعدہ کر لیا تھا کہ استغفار سے بارش بھی ہو سکتی ہے۔ سبزہ بھی لہلہا سکتا ہے۔ اولاد بھی ہو سکتی ہے مال بھی فراہم ہو سکتا ہے اور آخرت میں خطائیں بھی معاف ہو سکتی ہیں۔

استغفار مالک کے مقابلہ میں اپنی کمتری کا احساس ہے اوریہ انسانی زندگی کی بہت بڑی دولت ہے جو متکبرین اور مستکبرین کو حاصل نہیں ہوتی ہے اور اس سے تمام نا اہل، غافل اور بے معرفت افراد محروم رہتے ہیں۔ استغفار کی لذت سے وہی افراد آشنا ہوتے ہیں جن کی نگاہ میں اپنی نیستی اور مالک کی ہستی ہوتی ہے۔ جنہیں یہ احساس رہتا ہے کہ ہم کچھ نہیں ہیں اور اگر کچھ ہیں تو وہ صرف مالک کے کرم کا نتیجہ ہے اور اس طرح ان کے استغفار میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ان کا استغفار گناہوں کا انتظار نہیں کرتا ہے۔ گناہوں کے بعد استغفار کا پہلا محرک گناہوں کا خیال ہوتا ہے اس کے بعد مالک کا خیال پیدا ہوتا ہے۔ لیکن گناہوں کے بغیر استغفار صرف مالک کی عظمت و بزرگی کے احساس کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس سے بلند تر کوئی انسان نہیں ہے جس کے ذہن میں گناہ کے بجائے مالک کی عظمت کا احساس رہے اور وہ اسی احساس کی بنیاد پر توبہ و استغفار کرتا رہے اور پھر مالک اسی استغفار کی برکت سے دنیا کو فیوض و برکات سے بھی نوازدے اور اسے حق شفاعت بھی دیدے کہ اگر وہ خود گنہگار نہیں ہے تو گنہگاروں کو بخشنے کی سفارش کر سکتا ہے اور اس کی سفارش قابل سماعت ہو گی کہ اس نے گناہ کے بغیر توبہ و استغفار کا سلسلہ قائم رکھا ہے اور مسلسل اپنے مالک کی عظمت و جلالت کی نگاہ میں رکھا ہے۔

ماخوذ از کتاب اصول و فروع علامہ جوادی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved