• تاریخ: 2012 ستمبر 02

روزہ دعوت تلاوت قرآن


           

 

پروردگار نے روزہ کو اس مہینہ میں واجب قرار دیا ہے جس مہینہ میں اپنا مقدس کلام نازل کیا ہے اور اس طرح ایک روزہ دار کو یہ احساس دلایا ہے کہ یہ زمانہ اگر صیام کا ہے تو نزول قرآن کا بھی ہ ے تو کیا وجہ ہے کہ اس کی ایک مناسبت کا یاد رکھا جائے اور دوسری مناسبت کو نظر انداز کیا جائے۔ لہذا روزہ دار کا اخلاقی فرض ہے کہ ماہ رمضان میں نازل ہونے والے قرآن کے حق کا بھی احترام کرے اور تمام سال سے زیادہ اس مہینہ میں تلاوت قرآن کرے کہ یہ نزول کا زمانہ ہے اور اسی مہینہ کی ایک رات میں یہ قرآن نازل ہوا ہے۔

قرآن حکیم کی تلاوت جہاں انسان کے اجر و ثواب میں اضافہ کرے گی وہاں اس کے کردار کو بھی طیب و طاہر اور پاک و پاکیزہ بنائے گی کہ قرآن عالم ایمان کے لیے شفا و رحمت بن کر نازل ہوا ہے۔ اس کا کام سیدھے راستہ کی ہدایت کرنا ہے وہ انسان کے نفس کو پاکیزہ بناتا ہے اور اس کے کردار کو عظیم ترین بلندیوں تک پہنچادیتا ہے وہ اسی طرح متقین کے لیے ہدایت ہے جس طرح روزہ متقی بنانے کا وسیلہ ہے اور اس طرح جب دونوں اسباب جمع ہو جائیں گے تو انسان منزل تقویٰ سے قریب تر ہو جائے گا اور تقویٰ کے تمام فیوض و برکات کا استحقاق پیدا کر لے گا جن میں سے دنیا میں مصیبتوں سے باہر نکل آنے کا راستہ ، رزق بیحساب اور آخرت میں جنت الفردوس کی عظیم ترین منزل بھی ہے۔

ماخوز از کتاب اصول و فروع علامہ جوادی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved