• تاریخ: 2012 ستمبر 02

روزہ وسیلہ طہارت


           

 انسان کی زندگی میں بعض اوقات ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جسے عرف عام میں نجاست تو نہیں کہا جا سکتا لیکن وہ عام حالات سے مختلف قسم کی ایک کیفیت ہوتی ہے جسے اسلامی اصطلاح میں حدث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

یہ کیفیت کبھی پیشاب،پاخانہ، ریاح اور نیند وغیرہ سے پیدا ہوتی ہے تو اسے حدث اصغر کہا جاتا ہے جس کا ازالہ وضو کے ذریعے ہوتا ہے اور کبھی یہ کیفیت جنابت، حیض ، نفاس اور استحاضہ وغیرہ سے پیدا ہوتی ہے جسے حدث اکبر سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اس کے ازالہ کے لیے وضو کافی نہیں ہے بلکہ غسل کی ضرورت ہوتی ہے۔

روزہ انسانی زندگی میں حدث اصغر کو تو برداشت کر سکتا ہے کہ یہ زندگی کا خفیف ترین معاملہ اور مسلسل روزانہ کا مسئلہ ہے۔ لیکن حدث اکبر کو برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے اسباب میں جنابت تقریبا اختیاری مسئلہ ہے اور حیض و نفاس روزانہکے مسائل نہیں ہیں اور ان سے پیدا ہونے والی کیفیت بھی قدرے شدید ترین ہوتی ہے جس کا نفسیاتی فرق ہر وہ انسان محسوس کر سکتا ہے جو نیند اور نیند کی حالت میں ہونے والے احتلام کے فرق کو پہچانتا ہے اور دونوں کی کیفیات سے آشنا ہے۔

اسلام نے روزہ کے آغاز میں یہ قانون بنادیا کہ انسان جنابت اور حیض و نفاس کی باقیماندہ کیفیت کے ساتھ روزہ کا آغاز نہیں کر سکتا ہے بلکہ اسے فجر سے پہلے غسل کرنا ہو گا اور اس کے روزہ کا آغاز ہو گا۔

غسل کے بغیر روزہ جائز نہیں ہے جو اس امر کی علامت ہے روزہ انسانی زندگی میں تطہیر کا عمل بھی انجام دیتا ہے اور وہ انسان کو طیب و طاہر اور پاک و پاکیزہ بھی دیکھنا چاہتا ہے۔

ماخوذ از کتاب اصول و فروع علامہ جوادی
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved