• تاریخ: 2012 ستمبر 02

روزہ ترک ضروریات


           

 

انسانی زندگی میں لذتوں کی بڑی اہمیت ہے لیکن ظاہر ہے کہ لذت کا مرتبہ حیاتیات کا نہیں ہے اور بعض ایسے مسائل ہیں جن کا تعلق زندگی کے ضروریات سے ہے جن کے بغیر زندگی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔

مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر ذہنی گھٹن کا احساس رو کر سکتی ہے لیکن اس گھٹن سے اس کی موت نہیں واقع ہو سکتی ہے۔ کھانے پینے کی حیثیت اس سے مختلف ہے یہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کا احساس اس دو روز کے بچے کے اندر بھی پایا جاتا ہے جو جنس اور لذت کے تصور سے بھی نا آشنا ہے۔ بچہ کا رونا اور رو کر ماں سے دودھ طلب کرنا اس امر کی علامت ہے کہ یہ انسان کا حیاتی مسئلہ ہے۔ لیکن روزہ نے انسان کو اس قدر مضبوط اور مستحکم بنادیا ہے کہ وہ اس مطلب کے سامنے بھی کھڑا ہو سکتا ہے اور سارے دن اس مطالبہ کا مقابلہ کر سکتا ہے صرف اس لیے کہ اس کے پروردگار نے روک دیا ہے اور وہ پروردگار کے حکم سے سرتابی نہیں کرنا چاہتا ہے۔

روزہ انسان کے جملہ جذبات و خواہشات کی تطہیر کا ذریعہ ہے اور روزہ دار سے زیادہ باہمت ، پرہیز گار اور قوی الارادہ کوئی شخص نہیں ہو سکتا ہے۔

ماخوذ از کتاب اصول و فروع علامہ جوادی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved