• تاریخ: 2012 ستمبر 02

روزہ تقویت قوت ارادی


           

 

علم النفس کا مسلمہ بھی ہے اور روزانہ کا تجربہ بھی۔ کہ دنیا کا کوئی بڑا کام قوت ارادی کے بغیر انجام نہیں پا سکتا۔ میدان جنگ میں اسلحہ سے زیادہ اہمیت قوت ارادی کی ہے۔ فوج کے حوصلہ بلند ہیں اور اس کی قوت ارادی مضبوط ہے تو اسلحہ کے بغیر بھی ثابت قدم رہ سکتی ہے اور اگر ارادہ کی قوت کمزور ہو گئی ہے تو اسلحہ بھی اس کے قدموں کو ثبات نہیں دے سکتا۔

روزہ کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو قوت ارادی کو مضبوط اور مستحکم بناتا ہے نماز کا کام بھی یہی ہے وہ بھی انسان کو خواہشات کے مقابلہ میں کھڑے ہونے کی ارادی قوت بخشتی ہے اور وہ کھانے پینے کے علاوہ ہنسنے اور رونے پر بھی کنٹرول کر لیتا ہے۔ لیکن یہ کام چند لمحات کا ہوتا ہے جب کہ روزہ میں یہ کام ۱۲، ۱۴، ۱۶، ۱۸ گھنٹے تک کا جاری رہتا ہے۔ اور انسان صرف حکم خدا کی خاطر تمام ضروریات اور لذات کو نظر انداز کر دیتا ہے اور اس طرح اپنی ارادہ کی طاقت کو اس قدر مضبوط بنا لیتا ہے کہ اگر یہ استحکام باقی رہ جائے و اس سے بڑا متقی اور پرہیزگار کوئی نہ ہو گا۔ لیکن انسان کی دوسری کمزوری یہ ہے کہ اس کے اکثر کمالات وقتی ہوتے ہیں اور وقت کے گزر جانے کے ساتھ کمالات کی مدت حیات بھی ختم ہو جاتی ہے اور اس طرح انسان واقعی صاحب کمال نہیں بن پاتا ہے ورنہ شریعت کی مشقیں اس کی زندگی پر واقعا اثر اندار ہو جائیں تو اس کے با کمال ہونے میں کوئی کسر نہیں رہ جاتی ہے۔

ماخوذ از کتاب اصول و فروع علامہ جوادی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved