لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 نومبر 10

زیارت کے آداب


           
زیارت کے آداب :۔

دوسری طرف سے دیکھیے تو جو آداب ان مزارات کی زیارت کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں وہ ان تعلیمات اور اشارات کو واضح کرتے ہیں جو دین کے ایسے اعلیٰ معانی اور مطالب حاصل کرنے پر زور دیتے ہیں جیسے مسلمانوں کا روحانی درجہ بلند کرنا، ان میں کمزور پر مہربانی کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ، سماجی زندگی سے تعلق اور چلن میں حسن معاشرت اور رعایت اخلاق پر انہیں آمادہ کرنا اس وجہ سے ان میں سے کچھ زیارت کے بیچ میں اور کچھ زیارت کے بعد پورے کرنا چائیں۔ 
ہم اس جگہ ان میں سے کچھ آداب بیان کرتے ہیں تاکہ ان زیارتوں کے مقاصد واضح ہوجائیں۔ 
۱۔ آداب زیارت میں سے ایک یہ ہے کہ زائر زیارت شروع کرنے سے پہلے نہائے اور اپنے آپ کو پاک صاف کرے اس کام کا فائدہ جو ہم سمجھتے ہیں بہت واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ غسل انسان کے جسم کو غلاظتو اور گندگیوں سے پاک کرتا ہے ، بدن کو بہت سی بیماریوں سے اور دوسرے آدمیوں کو اس کے بدن کی بدبو سے پریشان ہونے سے بچاتا ہے (نوٹ، امیرالمومنین امام علیؑ فرماتے ہیں، اپنے بدن کو پانی کے وسیلے سے بدبو سے بچاؤ اور ہمیشہ یہ کام کرتے رہو، خدا ایسے لوگوں کو دشمن رکھتا ہے جن کے بدن کی بدبو سے دوسرے پریشان ہوتے ہیں۔ (تحف العقول صفحہ ۲۴) 
اسی طرح غسل روح اور باطن کی گندگی سے بھی طہارت کا سبب ہوتا ، (ثبوت یہ ہے کہ ) روایت کے مطابق اور ائمہ اطہار ؑکے دستور کے مطابق زائر عمل سے پہلے یہ دعا پڑھے تاکہ زیارت کے بلند مقاصد سے آگاہ ہوجائے۔ 
اَللَّھُمَّ اجعَل لِّی نَوراً وَحَرِّزاً کَافِیاًمِّن کُلِّ دَآعٍ وَّسُقمٍ وَمِن کُلِّ آفَۃٍ وَعَاھَۃٍ وَطَھِّر بِہِ قَلبِی وَجَوَارِ حِی وَعِظَامِی وَلَحمِی وَدَمِی وَشَعرِی وَبَشَرِی وَمُخِّی وَعَظمِی وَمَآ اَقَلتُ الاَرضَ مِنِّی وَاجعَل لِی شَاھِداً یَومَ حَاجَتِی وَفَقرِی وَفَاقَتِی :۔ اے خدا ! اس غسل کو میرے لیے روشنی اور طہارت کا سبب اور ہر دکھ، درد اور ہر مصیب اور دشواری کی روک کے لیے ایک مناسب ڈھال بنا دے اور میرے دل ، اعضاء ہڈیوں ، گوشت ، خون، بال ، کھال ، گودے اور نسوں کو (اس غسل کی بدولت) پاک کر اور اسے اس دن (یعنی قیامت کے دن) جو میری حاجت ، تہی دستی اور بیچارگی کا دن ہوگا میرا گواہ بنادے۔ 
۲۔ زیارت کے دیگر آداب میں سے ایک یہ ہے کہ زائر اپنا سب سے اچھا اور سب سے پاکیزہ لباس پہنے، عام مجمعوں میں صاف ہے اور اچھے کپڑے پہننا لوگوں میں محبت اور دوستی کا سبب ہوتا ہے اور انہیں ایک دوسرے سے قریب کردیتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کام عزت نفس میں بھی اضافہ کرتا ہے اور ان رسوم کی جن میں شرکت کرتے ہیں اہمیت معلوم ہونے کا بھی ذریعہ ہوتا ہے۔ 
یہ دھیان رہے کہ اس اصول کا یہ مقصد نہیں ہے کہ زائر سب لوگوں سے اچھا لباس پہنے بلکہ مقصد یہ ہے کہ زائر کے پاس جو کپڑے ہیں ان میں سے اچھے کپڑے پہنے کیونکہ ہر شخص بہترین لباس مہیا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس میں مفلسوں کو سخت مجبوری آپڑے گی اور یہ بات مہربانی اور شفقت کے خلاف ہے اسی وجہ سے جسموں کی زیب اور زینت کرتے وقت فقریروں اور محتاجوں کو نظر میں رکھنا چاہیے۔ 
۳۔ ایک ادب یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے زائر اپنے کپڑوں میں خوشبو لگائے اور اس کا فائدہ اور اثر بھی اچھا لباس پہننے کے فائدے اور اثر کی طرح ہے جیسا کہ بیان کیا گیا۔ 
۴۔ جتنا ہوسکے فقیروں اور مفلسوں کی مدد کرے، ان مراسم میں محتاجوں پر صدقے اور خیرات کا اثر ظاہر ہے کیونکہ اس کام سے بھی بے آسرا اور مجبور لوگوں کی مدد کرکے زائر میں امداد اور غریب نوازی کا جذبہ پرورش پاتا ہے۔ 
۵۔ زیارت کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ زیارت گاہ کی طرف نہایت وقار اور آہستہ روی سے جائے اور اس طرح جائے کہ غیر شرعی مناظر کے دیکھنے سے آنکھیں بند کرلے ۔ ظاہر ہے کہ اس قاعدے پر عمل حرم، زیارت اور زیارت کرنے والے کی عزت اور تعظیم اور خدا کی طرف خالص توجہ کا سبب ہوتا ہے اس کے علاوہ آنے جانے والوں کے لیے رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی اور دوسروں کی بے ادبی بھی نہیں ہوتی۔ 
۶۔ زیارت کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ زیارت کے وقت جہاں تک ہوسکے اللہ اکبر کا جملہ دہراتا رہے۔ بعض زیارتوں میں سو بار دہرانے کو کہا گیا ہے اس دستور کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی روح خدا کی بڑائی کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی چیز اس سے بڑی نہیں ہے زیارت خدا کی عبادت، احترام اور تسبیح و تقدیس کے علاوہ کچھ نہیں اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ خدا کہ نشانیوں اور شعائر کو زندہ کرکے اس کے قانون کی پیروی کی جائے۔ 
۷۔ زیارت کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ پیغمبرخد ﷺ یا امام ؑ کے مزار کے زیارت کرنے کے بعد زائر کم از کم دو رکعت نماز پڑھے اور اس طرح خدا کی عبادت اور شکر ادا کرے کہ اس نے زیارت کی توفیق دی اور اس نماز کا ثواب جس مزار کی زیارت کی ہے اس کے مالک کی روح کو ہدیہ کیاجاتا ہے۔ 
اس کے ساتھ زائر جو دعا اس نماز کے بعد پڑھتا ہے وہ اسے دھیان دلاتی ہے کہ اس کی یہ نماز اور یہ عمل صرف ایک خدا کے لیے ہے وہ غیر خدا کی عبادت نہیں کرتا ہے اور یہ زیارت صرف خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ اور وہ اس دعا میں پڑھتا ہے: 
اَللّٰھُمَّ لَکَ صَلَّیتُ وَلَکَ رَکَعتُ وَلَکَ سَجَدتُّ وَحدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لاِنَّہُ لاَ تَکُونُ الصَّلوٰۃُ وَالرُّکُوعُ وَالسُّجُوڈُ اِلاَّ لَکَ لِاَنَّکَ اَنتَ اللہُ لآ اِلٰہَ اِلاَّ اَنتَ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّل مِنِّی زِیَارَتِی وَاَعطِنِی سُؤلِی بِمُحَمَّدٍ وَّاِلِہِ الطّاھِرِینَ ۔ اے خدا ! میں نے صرف تیرے لیے نماز پڑھی ہے اور رکوع اور سجدہ کیا ہے ۔ تو ایک ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے اس لیے نماز، رکوع اور سجدہ تیرے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے کیونکہ تو ہی خدا ہے، تیرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ 
اے خدا ! محمد ﷺ اور آل محمد ؑ پر درود بھیج، میری زیارت قبول کر اور میری حاجت محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ کے صدقے میں پوری کر جو پاک اور طاہر ہیں۔ 
یہ قاعدہ مزارات کی زیارت سے ائمہ اطہار ؑ اور ان کے شیعوں کے مقصد کو ظاہر کرتا ہے اور ان لوگوں کے لیے منہ توڑ جواب ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ قبروں کی زیارت شیعوں کے نزدیک قبروں کی پرستش ، قبروں کی نزدیکی اور خدا کے ساتھ شرک ہے۔ 
غالباً ایسے خیال پرستوں کا اعتراض اس لیے کہ (ان دم بازیوں سے) لوگوں کو شیعوں کے ان مفید او۴ر شاندار اجتماعات سے الگ رکھیں، کیونکہ دراصل یہ اجتماعات اہل بیت ؑ کے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں ورنہ میں نہیں سمجھتا کہ انہیں زیارت کے اس دستور سے اہل ؑ کے اعلیٰ مقاصد کا پتا نہیں لگا ہوگا۔ 
یہ بزرگ انسان جو نہایت خلوص سے خدا کی عبادت کرتے تھے اور دین کی خاطر اپنی جانیں تک فدا کر دیتے تھے کیا وہ لوگوں کو خدا کی عبادت میں شرک کی دعوت دیتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ 
۸۔ زیارت کا ایک اور ادب یہ ہے کہ زائر اپنے پاس بیٹھنے والوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کا مظاہرہ کرے ، بات کم کرے اور جو بات کرے وہ مفید ہو، نیز بیشتر خدا کی یاد میں مشغول رہے۔ 
(نوٹ، خدا کو یاد کرنے سے یہ مراد نہیں کہ کثرت سے سبحان اللہ لا الہ الا اللہ اللہ اکبر کہا جائے بلکہ مقصد وہ ہے جیسا کہ امام جعفر صادق ؑ نے بعض احادیث کے مطابق بہت زیادہ خدا کی یاد میں رہنے کی تفسیر میں فرمایا اور یہ وضاحت کی : مقصد سبحان اللہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنا نہیں ہے اگرچہ یہ بھی خدا کی یاد کی مثالیں ہیں بلکہ ذکر خدا کا مطلب یہ ہے کہ انسان اچھائی کی طرف راغب ہو اور برائی سے بچے ۔ (محمد بن قولویہ : کامل الزیارات) اس میں عاجزی ہو، بہت سی نمازیں پڑھے اور محمد ﷺ اور آل محمد ؑ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجے، آنکھوں سے اشارے نہ کرے، غریب بھائیوں اور دوستو کی مدد کرے اور خود ان سے درگزر کرے۔ جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے اور دشمنی کرنے سے دور رہے 
اور بہت زیادہ قسم کھانے اور ایسے لڑائی جھگڑے سے جس میں قسم کھانا پڑتی ہو پرہیز کرے۔ 
دوسری بات یہ ہے کہ زیارت کی حقیقت کا مطلب پیغمبر خدا ﷺ یا امام ؑ پر اس سلام بھیجنا ہے جیسے وہ لوگ زندہ ہیں اور خدا کے یہاں سے رزق پاتے ہیں، (سورہ آل عمران ۔ آیت ۱۶۹) 
فرشہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا 
تیرے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے 
(اقبال) 
وہ زائرو کی باتیں سنتے ہی اور ان کا جواب دیتے ہیں یہی کافی ہے کہ زائر پیغمبر خدا ﷺ کی زیارت میں کہے : 
اَلسَّلامُ عَلَیکَ یَارَسُول اللہِ 
اے خدا کے پیغمبر ﷺ ! آپ پر سلام ہو۔ 
البتہ بہتر یہ ہے کہ اہل بیت ؑ کی طرف سے اس ضمن میں جو زیارتیں تعلیم کی گئی ہیں وہ بلند مقاصد کی طرف دھیا دینے کے لیے، دینی فائدوں اور ان تاثیروں کے لیے جو وہ رکھتی ہیں اور جن کا پہلے ذکر کیا جاچکا ہے، ان کی سلیس عبارتوں، فصاحت اور بلاغتز پر غور کرنے کے لیے اور ان کے ایسی دعاوں پر مشتمل ہونے کے باعث جو بہت بلند ہیں، غور و فکر اور اہمیت کے لائق ہیں اور انسان کو ایک بے مثل خدا کی طرف متوجہ کرتی ہی ، پڑھی جائیں

 نام کتاب:         مکتب تشیع

مصنف:           محمد رضا مظفر
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0