• تاریخ: 2015 اپریل 06

سوره حمد کی تفسیر


           

سوره حمد کی تفسیر


محسن علی نجفی


بسم الله الرحمن الرحیم

سُورَةُ الْفَاتِحَة
یہ سورہ قرآن کریم کا افتتاحیہ اور دیباچہ ھے۔ اہل تحقیق کے نزدیک قرآنی سورتوں کے نام توقیفی ھیں یعنی خود رسول کریم (ص) نے بحکم خدا ان کے نام متعین فرمائے ھیں ۔اس سے یہ بات واضح ھوتی ھے کہ قرآن عہد رسالت مآب (ص) میںھی کتابی شکل میں مدون ھو چکا تھا، جس کا افتتاحیہ سوره فاتحہ تھا۔ چنانچہ حدیث کے مطابق اس سورے کو فَاتِحَةُ الْکِتَابِ ” کتاب کا افتتاحیہ “ کھا جاتا ھے۔

مقام نزول
سوره حجرمیں ارشاد ھوتا ھے :
وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ․․۔ 1

اور بتحقیق ہم نے آپ کو (بار بار) دھرائی جانے والی سات (آیات) اور عظیم قرآن عطا کیا ھے۔

سبع مثانی سے مراد بالاتفاق سوره حمد ھے اور اس بات پر بھی تمام مفسرین متفق ھیں کہ سوره حجر مکی ھے۔ بنابریں سورہٴ حمد بھی مکی ھے۔ البتہ بعض کے نزدیک یہ سورہ مدینہ میں نازل ھوا۔

تعداد آیات
تقریبا تمام مفسرین کا اتفا ق ھے کہ سوره حمد سات آیات پر مشتمل ھے لیکن اس بات میں اختلا ف ھے کہ سو رہ حمد کا جزوھے یا نھیں؟بسم اللّٰہکو سورے کاجزو سمجھنے والوںکے نزدیک صراط الذینسے آخر تک ایک آیت شمار ھوتی ھے اورجو لوگ اسے جزونھیں سمجھتے وہ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ کو ایک الگ آیت قراردیتے ھیں۔

مکتب اہل بیت علیہم السلام میں بسم الله الرحمن الرحيم سوره توبہ کے علاوہ تمام سورتوں کا جزو ھے۔

فضیلت
سورہٴ فاتحہ کی فضیلت کے لیے یھی بات کافی ھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پورے قرآن کا ہم پلہ قرار دیا ھے۔

مروی ھے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے آباء طاھرین کے ذریعے سے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ھے کہ آپ (ع)نے فرمایا:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ فاتحة الکتاب کی آیات میں شامل ھے اور یہ سورہ سات آیات پر مشتمل ھے جو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے مکمل ھوتا ھے۔ میں نے رسول خدا (ص) کو یہ فرماتے سنا ھے:
اِنَّ اللّٰہَ عز و جل قَالَ لِیْ: یَا مُحَمد! ” وَ لَقَد آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی وَ الْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ“ فَاٴفْرَدَ الْاِمْتِنَانَ عَلَیَّ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَ جَعَلَھَا بِاِزَاءِ الْقُرْآنِ الْعَظِیْمِ وَ إنَّ فَاتِحَةَ الْکِتَابِ اَشْرَفُ مَا فِیْ کُنُوْزِ الْعَرْشِ 2

اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد(ص) ! بتحقیق ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا کیا ھے۔ پس اللہ نے مجھے فاتحة الکتاب عنایت کرنے کے احسان کا علیحدہ ذکر فرمایا اور اسے قرآن کا ہم پلہ قرار دیا۔ بے شک فاتحة الکتاب عرش کے خزانوں کی سب سے انمول چیزھے۔

آیت
آیت سے مراد ” نشانی“ ھے۔ قرآن مجید کی ھر آیت مضمون اور اسلوب کے لحاظ سے اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ھے۔ اسی لیے اسے آیت کھا گیا ھے ۔

آیات کی حد بندی توقیفی ھے،یعنی رسول خدا (ص) کے فرمان سے ہمیں معلوم ھوتا ھے کہ ایک مکمل آیت کتنے الفاظ اورکن عبارا ت پرمشتمل ھے۔ چنانچہ حروف مقطعات مثلاً کھیعصایک آیت ھے، جب کہ اس کے برابر حروف پر مشتمل حمعسق دو آیتیں شمار ھوتی ھیں۔

قرآن مجید کی کل آیات چھ ہزار چھ سو (۶۶۰۰) ھیں 3 قرآن مجید کے کل حروف تین لاکھ تئیس ہزار چھ سو اکہتر( ۳۲۳۶۷۱) ھیں،جب کہ طبرانی کی روایت کے مطابق حضرت عمر سے مروی ھے : القرآن الف الف حرف یعنی قرآن دس لاکھ (۱۰۰۰۰۰۰) حروف پر مشتمل ھے۔4 بنا بریںموجودہ قرآن سے چھ لاکھ چھہتر ہزار تین سو انتیس (۶۷۶۳۲۹) حروف غائب ھیں۔

حق تو یہ تھا کہ اس روایت کو خلاف قرآن قرار دے کر رد کر دیا جاتا، مگر علامہ سیوطی فرماتے ھیں:
وَ قَدْ حُمِلَ ذَلِکَ عَلَی مَا نُسِخَ رَسْمُہ مِنَ الْقُرْآنِ ایضاً اِذ الْمُْوجُوْدُ اَلْآنَ لاَ یَبْلُغُ ھَذَا الْعَدَدَ ۔ 5

روایت کو اس بات پر محمول کیا گیا ھے کہ یہ حصہ قرآن سے منسوخ الرسم ھوگیا ھے کیونکہ موجودہ قرآن میں اس مقدار کے حروف موجود نھیں ھیں ۔

کتناغیرمعقول موٴقف ھے کہ قرآن کا دو تھائی منسوخ الرسم ھو جائے اور صرف ایک تھائی باقی رہ جائے؟!

سورہ
قرآن جس طرح اپنے اسلوب بیان میں منفرد ھے، اسی طرح اپنی اصطلاحات میں بھی منفرد ھے۔ قرآن جس ماحول میں نازل ھو اتھا،اس میں دیوان، قصیدہ، بیت اور قافیے جیسی اصطلاحات عام تھیں، لیکن قرآن ایک ہمہ گیر انقلابی دستور ھونے کے ناطے اپنی خصوصی اصطلاحات کاحامل ھے۔قرآنی ابواب کو ”سورہ“ کا نام دیا گیا، جس کا معنی ھے” بلند منزلت “ ،کیونکہ ھر قرآنی باب نھایت بلند پایہ مضامین پر مشتمل ھے۔

سورہ کا ایک اور معنی فصیل شھر ھے۔ گویا قرآنی مضامین، ھر قسم کے تحریفی خطرات سے محفوظ ایک شھر پناہ کے احاطے میں ھیں۔

۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ بنام خدائے رحمن و رحیم

تاریخی حیثیت
ایسا معلوم ھوتاھے کہ اللہ کے مبارک نام سے ھرکام کا آغاز و افتتاح الٰھی سنت اور آداب خداوندی میں شامل رھا ھے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو سب سے