• تاریخ: 2015 فروری 13

قرآن و اھل بیت علیھم السلام


           

قرآن و اھل بیت علیھم السلام

خلاصہ :
  
قرآن اور اہل بیت سرکار دو عالم نے ہدایت امت کے لیے دو گرانقدر چیزیں چھوڑی ہیں، "قرآن اور اہل بیت" اور ان دونوں کا کمال اتحاد یہ ہے کہ اہل بیت کی پوری زندگی میں قرآن مجید کے تعلیمات کی تجسیم ہے اور قرآن کی جملہ آیات میں اہل بیت کی زندگی کی تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ کہیں ان کے کردار کی توقیر ہے تو کہیں ان کے دشمنوں کی تحقیر۔ کہیں ان کے مستقبل کی تمہید ہے تو کہیں ان کے ماضی کی تمجید۔ لیکن اس کے باوجود اقوال مفسرین و محدثین کی روشنی میں تقریباً ۳۰۰ آیات صرف انھیں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ اور ذیل میں اردو داں حضرات کے لیے اس ذخیرہ کو یکجا پیش کرنے کے لیے مذکورہ آیات کا ایک خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔

متن:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفصیلات کے لیے مجلدات کی ضرورت ہے۔ وما توفیقی الا باللہ جوادی آیات بینات اسلامی روایات کی بنا پر قرآن مجید کی بے شمار آیات ہیں جو اہل بیت اطہار کے فضائل و مناقب کے گررد گھوم رہی ہیں اور انہیں حضرات معصمومین کے کردار کے مختلف پہلووٴں کی طرف اشارہ کر رہی ہیں بلکہ بعض روایات کی بنا پر تو کل قرآن کا تعلق ان کے مناقب، ان کے مخالفین کے نقائص ومثالب، ان کے اعمال و کردار اور ان کی سیرت و حیات کے آئین و دستور سے ہے لیکن ذیل میں صرف ان آیات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے جن کی شان نزول کے بارے میں عام مسلمان مفسرین بھی اقرار کیا ہے کہ ان کا نزول اہل بیت اطہار کے مناقب ای ان کے مخالفین کے نقائص کے سلسلہ میں ہوا ہے۔ علماء حق نے اس سلسلہ میں پوری پوری کتابیں تالیف کی ہیں اور مکمل تفصیل کے ساتھ آیات اور ان کی تفسیر کا تذکرہ کیا ہے لیکن اس مام پر صرف ایک اقتباس درج کیا جا رہا ہے تاکہ اردو داں طبقہ کے ذہن میں بھی یہ آیات اور ان کے حوالے رہیں اور زیر نظر کتاب کی عظمت و برکت میں اضافہ ہو جائے۔
۱۔ "اہدنا الصراط المستقیم" (خدایا ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت فرما)۔ یہ محمد و آل محمد کا راستہ ہے۔ (شواہد التنزیل ج/۱ ص/۵۱)
۲۔ " ہدیً للمتقین الذین یومنون بالغیب" (قرآن ان متقین کے لیے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں) (بقرہ/۲۔۳) یہ ان مومنین کا ذکر ہے جو محبت قائم آل محمد پر قائم رہیں۔ رسول اکرم (ینابیع المودّة ص/۴۴۳)
۳۔ "وبشر الذین آمنو و عملوا الصالحات ان لہم جنّات تجری من تحتہا الانہار"۔ (بقرہ۔۲۵) پیغمبر آپ صاحبان ایمان و عمل کو بشارت دے دیں کہ ان کہ لیے وہ جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوگی۔ (شواہد التنزیل)
۴۔ "فتلقیٰ ادم من ربّہ کلمات فتاب علیہ"۔ (بقرہ۔۳۷) آدم نے پروردگار سے کلمات حاصل کرکے ان کے ذریعہ توبہ کی۔ (غایة المرام ص/۳۹۳)
۵۔ "واذ قلنا ادخلوا ہٰذہ القریة فکلو منہا حیث شئتم رغداً و ادخلوا الباب سجّداً و قولوا حطة نغفر لکم خطٰیا کم"۔(بقرہ۔ ۵۸) اہلبیت کی مثال سفینہٴ نوح اورباب حطّہ کی ہے۔پیغمبراکرم۔ (درمنثور،ج۱)
۶۔ "واذ استسقیٰ موسیٰ لقومہ فقلنا اضرب بعصاک الحجر فانفجرت منہ اثنتا عشرة عیناً" (بقرہ۔۶۰) میرے بعد آئمہ کی تعداد یہی بارہ ہوگی جو قوم کا سرچشمہ ہوگی۔پیغمبر اکرم۔ (غایة المرام ص/۲۴۴)
۷۔ "واذا بتلیٰ ابرہیم ربہ بکلماتٍ فاتمہن" (بقرہ۔۱۲۴) یہ آئمہ اثنا عشر کا اقرار ہے۔ امام جعفر صادق (ینابیع المودة ص/۲۵) ۔ "وما انزل الیٰ ابراہیم و اسماعیل واسحٰق و یعقوب والاسباط" (بقرہ۔ ۱۳۶) حسین اس مت کے اسباط میں ہیں۔ رسول اکرم۔ (اسد الغابہ ج/۲،ص/۱۴۳)
۹۔ "کذٰلک جعلناکم امة وسطا لتکونوا شہداء علی الناس" (بقرہ۔۲۰۸) امت وسط ہم اہل بیت ہیں۔ امیر المومنین۔ (شواہد التنزیل ج/۱،ص/۹۲)
۱۰۔ "فاستبقوا الخیرات این ما تکونوا یات بکم اللہ جمیعاً۔" (بقرہ۔۱۴۸) یہ امام مہدی کے ۳۱۳ اصحاب کی طرف اشارہ ہے۔ امام جعفر صادق۔ (ینابیع المودّة، ص/۵۰۵)
۱۱۔"یا ایہا الذین ادخلوا فی السلم کافة۔" (بقرہ۔۲۰۸) یہ ہم اہل بیت کی ولایت ہے۔ حضرت علی۔ (غایة المرام،ص/۴۳۸)
۱۲۔ "فمن یکفر بالطاغوت و یومن باللہ فقد استمسک بالعروة الوثقیٰ۔" (بقرہ ۲۵۶) عروة الوثقی اور انکی اولاد ہے۔ رسول اکرم۔ (غایة المرام، ص/۲۴۴)
۱۳۔"یوٴتی الحکمة من یشاء و من یوٴت الحکمة فقد اوتی خیراً کثیراً۔" (بقرہ۔ ۲۶۹) پروردگار نے حکمت ہم اہل بیت کے اندر قرار دی ہے۔ رسول اکرم۔ (ینابیع المودة،ص/۴۵)
۱۴۔"وما یعلم تاویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم۔" (آل عمران۔۷) راسخون فی العلم ہم اہل بیت ہیں۔ امام جعفر صادق۔ (ینابیع المودة، ص/۱۳۹)
۱۵۔ "ان اللہ اصطفی آدم و نوحاً و آل ابراہیم و آل عمران علی العالمین۔" (آل عمران۔۳۳) مصحف عبد اللہ میں اس کی تفسیر آل محمد سے کی گئی تھی۔ ابو وائل۔ (غایة المرام، ص/۳۱۸)
۱۶۔ "فمن حاجک فیہ من بعد مان جاء ک من العلم فقل تعالوا ندع ابنائنا و ابنائکم۔" (آل عمران ۶۱) یہ آیت مباہلہ کے موقع پر اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی۔ (تفسیر جلالین، صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة، غایة المرام، ص۳۰۰ وغیرہ)
۱۷۔ "ولہ اسلم من فی السموات وا لارض طوعاً و کرہاً۔" (آل عمران۔۸۳) یہ قیام مہدی کی طرف اشارہ ہے۔ امام جعفر صادق۔ (ینابیع المودة م،ص/۳۲۱)
۱۸۔ "و من یعتصم باللہ فقد ہدی الی صراط مستقیم۔" (آل عمران۔۱۰۱) علی، ان کی زوجہ اور ان کی اولاد حجت خدا ہے۔ ان سے ہدایت حاصل کرنے والا صراط مستقیم کی طرف ہدایت پانے والا ہے۔ رسول اکرم۔ (شواہد التنزیل،۱،ص/۵۸)
۱۹۔ "واعتصموا بحبل اللہ ولا تفرقوا۔" (آل عمران ۔۱۰۳) ح