روزانہ کی حدیث
« اِنَّ قَلِیلَ العَمَلِ مَعَ العِلمِ کَثِیرٌ وَ کَثِیرَ العَمَلِ مَعَ الجَهلِ قَلِیلٌ »
نهج الفصاحه ، حدیث 873
کار اندک که با بصیرت و دانش انجام گیرد بسیار است و کار بسیار که با نادانی صورت پذیرد اندک است .
  • تاریخ: 2015 مئی 17

بعثت نبوی اوراس کے لئے ماحول سازی


           
بعثت نبوی اوراس کے لئے ماحول سازی

قرآنی نصوص ایسی قدیم تاریخی نصوص ہیں جو نہایت صحیح اور دقیق ہیں نیز عہد رسالت کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں اور علمی طریقۂ کار کی رو سے ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم عصر نبی کے واقعات کے بارے میں صرف قرآنی آیات و نصوص پر ہی بھروسہ کریں اور ان سے آگے نہ بڑھیں کیونکہ آنحضرتؐ کی بعثت کے ساتھ ہی نزول آیات کا سلسلہ شروع ہوا اور آپ کی وفات تک جاری رہا۔
جب ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ جو تاریخی روایتیں حدیث و سیرت کی کتابوں میں درج ہیں ان کی تدوین حوادث کے عہدِ وقوع کے بعد ہو ئی ہے اور ان میں جھوٹ اورآمیزش کا امکان ہے تو یہ بات منطقی اور فطری ہے کہ ہم ان روایتوں کو قرآن و سنت اور عقل کے میزان پر پرکھیں پھر جو روایتیں ان کے موافق ہوں انہیں قبول کر لیں اور جوان کے مخالف ہوں ان کو رد کر دیں۔
واضح رہے کہ نبوت خدائی نمائندگی اور الٰہی منصب ہے یہ عہدہ اسی کی طرف سے ملتا ہے تاکہ نبی ضروری ہدایت کے ذریعہ بشریت کی مدد کرے۔ اس منصب کے لئے خدا اپنے بندوں میں سے اسی کو منتخب کرتا ہے جو مثالی خصوصیتوں سے سرشار ہوتا ہے ۔ یہی خصوصیتیں آپؐ کو ان مہموں کو سر کرنے پر قادر بنا دیتی ہیں جو آپؐ سے مطلوب تھیں۔
نبی کا خدا کی طرف سے منتخب ہونا ضروری ہے تاکہ وہ رسالت اور اس کے مقاصد کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اس کو صحیح انداز میں سمجھا سکے اور تبلیغ و بیان ، دفاع و تحفظ کے میدان میں ناتواں ثابت نہ ہو جو امور اس کے ذمہ ہوتے ہیں، ان کی انجام دہی کے لئے علم و بصیرت ، نفس کا صحیح سالم ہونا، ضمیر کا درست ہونا، صبر و پائیداری ، شجاعت و حلم، انابت، بندگئ خدا ، خوفِ خدا، اخلاص عمل، گناہوں اور خطا و لغزش سے محفوظ رہنا، صراط مستقیم پر تائید الٰہی سے ثابت رہنا درکار ہے ، پھر خاتم النبیین کوئی انوکھے اور کم پایہ کے رسول نہیں تھے بلکہ وہ تمام انبیاء سے زیادہ عظیم اور کامل تھے، آپؐ کے اندر گذشتہ انبیاء کے سارے صفاتِ کمال موجود تھے اور خدا بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے۔
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے اور طبیعتوں کا اقتضا بھی یہی ہے کہ خدائی ذمہ داری کے حامل کے اندر اسے قبول کر نے اور اسے نافذ کرنے کی صلاحیت و استعداد ہونا چاہے ۔ اس صورت میں خاتم النبیین کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے اندر ہر وہ صلاحیت ہونا چاہئے جس کے ذریعہ اس خدائی ذمہ داری کو پورا کیا جا سکے اور اس خدائی مہم کو سر کرنے کے لئے ان خصوصیتوں کو بعثت سے پہلے ہی فراہم ہونا چاہئے، قرآن مجید بھی اسی کی تائید کرتا ہے ارشاد ہے :
۱۔ (کذالک یوحی الیک والیٰ الذین من قبلک، اللّٰہ العزیزالحکیم) (۱)
عزت و حکمت والا خدا اسی طرح آپؐ کی طرف وحی کرتا ہے جیسے آپ سے پہلے والوں پر وحی بھیجتا تھا۔
۲۔( وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم من اھل القری)ٰ (۲)
ہم نے آپؐ سے پہلے انہیں مردوں کو رسولؐ مقرر کیا جو آباد ی میں رہتے تھے اور