• تاریخ: 2012 دسمبر 12

کیا امام خمینی کے عقیدہ کے مطابق، ولایت فقیہ ایک تعبدی امر ہے؟


           

اس سوال کے جواب میں، پہلے اس نکتہ پر توجہ کرنا ضروری ہے کہ علم فقہ میں لفظ " تعبد" کن موضوعات میں استعمال ھوا ہے؟

خداوند متعال کے بارے میں ہر قسم کے اظہار بندگی اور اس کے اوامر کے مقابلے میں اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے چون و چرا کے بغیر پابند تسلیم ھو جانا " بندگی " ہے، خواہ انجام دینے والے کام کی دلیل اس کے لئے مشخص ہو یا اس کی حکمت معلوم نہ ھو اور صرف دینی پیشواوں کی پیروی میں اس کا اقدام کیا ھو- ہر مومن شخص کے تقرب کا عروج یہ ہے کہ اس کی مادی و معنوی زندگی ایک ایسے طریقہ پر منظم ھو کہ کردار میں اس کا تعبد و بندگی مشہود ھو – یہ تعریف، " تعبد" کے معنی پر ایک نا محدود نظر ہے-

لیکن اس سے محدود تر تعبیر میں ، شرعی احکام کا تعبدی ھونا، ایک دوسرے موضوع میں بھی استعمال ھوا ہے:

۱- اگر ہم، کسی حکم شرعی کو واضح صورت میں نہ جانتے ھوں اور صرف اس حکم کے خداکی طرف سے اس کے انبیاء کے ذریعہ ابلاغ ھونے پر مطمئن ھوں اور اس قسم کے کام کی پیروی کرنا اپنا فرض جانتے ھوئے ، اس پر عمل کرتے رہیں، تو اسے اصطلاح میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے اس حکم کو تعبد کے عنوان سے قبول کیا ہے- بعض روایتوں میں سفارش کی گئی ہے کہ مومنین اسی قسم کےتعبد کے مالک ھونے چاہئیں-[1]

البتہ اس قسم کے تعبد کا موضوع ، احکام فرعی دینی ہے، اور اصول دین کے اثبات کے بعد اس قسم کے احکام کے بارے میں ، ان کا فلسفہ جاننا ضروری نہیں ہے، اگر چہ ان کا جاننا بھی مضر نہیں ہے-

۲- حال ہی میں دینی علماء کے درمیان" واجب توصلی" کے مقابلے میں " واجب تعبدی" کی ایک اصطلاح رائج ھوئی ہے، یہ اصطلاحیں اسلام کے ابتدائی منابع میں موجود نہیں تھیں بلکہ یہ علماء کے توسط سے مختلف واجبات کی جمع آواری کا نتیجہ ہے-

اس نظریہ کے مطابق واجب " تعبدی" ، وہ واجب ہے جس کو تقرب الہی کی نیت کے بغیر انجام دینا ممکن نہیں ہے- مثال کے طور پر اگر ایک شخص طلوع فجر سے غروب تک فاقہ کشی کرے، اور اس کا مقصد خدا کی رضامندی حاصل کرنا نہ ھو تو اس کی اس فاقہ کشی کو " روزہ" نہیں کہا جاسکتا ہے بلکہ یہ فاقہ کشی ایک بار پھر معین شدہ قصد و نیت سے دہرائی جانی چاہئے، کیونکہ روزہ ایک واجب تعبدی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ، ایک ڈوبتے شخص کو بچانا بھی واجب ہے، اسے قصد و نیت کے بغیرانجام دیا جاسکتا ہے اور اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے- اگر چہ یہ کام بھی قصد و نیت قربت الہی سے ھو تو اس کا بیشتر ثواب ھوگا-

اس مقدمہ کے بعد ہم آپ کے سوال کی طرف پلٹتے ہیں:

اگر کوئی شخص عقلی درایت اور نقل شدہ روایات سے استفادہ کرکے اس تشخیص پر پہنچے کہ " ولایت فقیہ" ایک ایسا امر ہے جو خداوند متعال کی طرف سے پسندیدہ ہے، تو بندگی اور خدا کی رضامندی کے عنوان سے اس موضوع کے بارے میں " تعبد" رکھ سکتا ہے- یہ وہی تعبد ہے جو اپنے لا محدود معنی میں بیان ھوا ہے- مختلف مواقع پر امام خمینی{رح} کے بیانات کے پیش نظر معلوم ھوتا ہے کہ وہ بھی ولایت فقیہ کے بارے میں اسی قسم کے تعبد کے قائل تھے- مثال کے طور پر  انھوں نے فر مایا ہے:" یہ نہ کہئیے کہ ہم ولایت فقیہ کو قبول کرتے ہیں، لیکن ولایت فقیہ سے اسلام تباہ ھو جاتا ہے : اس کے معنی ائمہ اطہار {ع} کو جھٹلانا ہے،اسلام کو جھٹلانا ہے-"[2] یا یوں فرماتے ہیں :" ملت" ولایت فقیہ  کو چاہتی ہے، کیونکہ اسے خدا نے فرمایا ہے، اور آپ کہتے ہیں کہ نہیں، اس کی ضرورت نہیں ہے-[3] اور یا یوں فرماتے ہیں کہ:" مجلس خبرگان ولایت فقیہ کا اثبات کرنا چاہتی ہے- مجلس خبر گان وہ چیز پاس کرنا چاہتی ہے کہ جسے خداوند متعال نے فرمایا ہے- - -ولایت فقیہ ایک ایسی چیز نہیں ہے جسے مجلس خبرگان نے ایجاد کیا ہے، بلکہ ولایت فقیہ ایک ایسی چیز ہے کہ جسے خداوند متعال نے بنایا ہے-"[4]

البتہ ولایت فقیہ کے تعبدی ھونے کے سلسلہ میں ، اس کے بارے میں محدود تعبیر کے پیش نظر کہنا ہے کہ:

۱- تعبد کی پہلی محدود تعبیر کے دائرہ میں ولایت فقیہ نہیں آسکتی ہے، کیونکہ اس قسم کی ولایت کی دلیل مشخص ہے اور وہ ماہر کی طرف رجوع کرنا ہے کہ اس سلسلہ میں یہ کسی روایت کے نہ ھونے کے باوجود، عقل اور عرف انسانی پر بھروسا کر کے بھی قابل اثبات ہے اور بہت سے فقہا نے ان کی دلیلوں کو اپنے مباحث میں بیان کیا ہے-

۲- تعبدی کی دوسری محدود تعبیر کے بارے میں بھی قابل ذکر ہے کہ: چونکہ ولایت فقیہ کے اصول کو قبول کرنا، ایک اعتقادی امر ہے، واجب تعبدی بامقصد نہ ھونے کی صورت میں جسے دہرانا ضروری ہے، اس میں ولایت فقیہ شامل نہیں ھوسکتی ہے، لیکن ولایت فقیہ کے دستوروں کو نافذ کرنے میں، لگتا ہے کہ اس نظریہ کے مطا بق ان ولایی احکام کو واجب توصلی سمجھا جاسکتا ہے کہ اس دستور پر عمل کو قصد تقرب کے بغیر انجام دینے کے بعد دہرانا ضروری نہیں ھوگا-

 


[1] به عنوان نمونه، ر.ك: حر عاملی، محمد بن الحسن، وسائل الشیعة، ج 27، ص 45، ح 33171، مؤسسة آل البیت، قم، 1409 هـ -

[2] صحیفه امام، ج 10، ص 59، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، تهران، 1386 هـ ش، طبع چهارم.

[3] ایضا ،ص 223.

[4] ایضا ،ص 223.

اسلام کوئیسٹ 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved