روزانہ کی حدیث
« اِنَّ قَلِیلَ العَمَلِ مَعَ العِلمِ کَثِیرٌ وَ کَثِیرَ العَمَلِ مَعَ الجَهلِ قَلِیلٌ »
نهج الفصاحه ، حدیث 873
کار اندک که با بصیرت و دانش انجام گیرد بسیار است و کار بسیار که با نادانی صورت پذیرد اندک است .
  • تاریخ: 2012 مئی 24

کھانا کھانے کے آداب


           

نقل ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تواضع اور انکساری کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھتے تھے، اور اپنا وزن اپنے بائیں پہلو پر ڈالتے تھے۔ اور کھانا کھاتے وقت کسی چیز سے ٹیک نہیں لگاتے تھے۔ اللہ کے نام سے شروع کرتے اور لقموں کے درمیان بھی اللہ کو یاد کرتے اور اس کا شکریہ ادا کرتے تھے۔ یہ چیز اس بات کی حکایت کرتی ہے کہ انسان کو ہمیشہ نعمتیں عطا کرنے والے کی یاد میں رہنا چاہیے۔ آپ کھانا کھانے میں زیادہ روی نہیں کرتے تھے۔ جب کسی کھانے کو ہاتھ لگاتے تھے تو فرماتے تھے: "بسم اللہ، پروردگارا ! اس میں برکت عطا کر"۔ آپ کسی بھی کھانے کو برا نہیں کہتے تھے اگر دل چاہتا تھا تو کھاتے تھے ورنہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے۔ آپ کبھی بھی اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے دوست رکھتے تھے کہ دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔ دسترخوان پر آپ سب سے پہلے شروع کرتے تھےاور سب سے آخر میں ہاتھ کھیچتے تھے تاکہ دوسروں کو کھانا کھانے سے شرم محسوس نہ ہو۔ اور بھوکے دسترخوان سے نہ اٹھ جائیں۔ آپ اپنے سامنے سے کھاتے تھے اور گرم کھانا نہیں کھاتے تھے آپ کا کھانا نہایت سادہ ہوتا تھا جیسے جو کی روٹی اور نمک۔ آپ نے کبھی بھی گندم کی روٹی نہیں کھائی۔ آپ کھانے میں خرما زیادہ پسند کیا کرتے تھے۔[1]



[1] بحار الانوار، ج۱۶، ص۲۳۶ سے ۲۴۶ تک۔

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved