• تاریخ: 2012 جنوری 01

زيارت عاشورا ميں يزيد کے بيٹے پر بهى لعنت کى گئى ہے، جبکہ وہ ايک اچها انسان تها! اس صورت ميں زيارت عاشورا کا متن کيسے قابل اعتبار ہوسکتا ہے؟


           
زيارت عاشورا ميں يزيد کے بيٹے پر بهى لعنت کى گئى ہے، جبکہ وہ ايک اچها انسان تها! اس صورت ميں زيارت عاشورا کا متن کيسے قابل اعتبار ہوسکتا ہے؟
اجمالی جواب : 

زيارت عاشورا ميں تمام بنى اميہ، من جملہ يزيد کے بيٹے پر بهى لعنت کى گئى ہے- اس سلسلہ ميں بعض مورخين نے يزيد کےبيٹے اور بنى اميہ سے متعلق چند افراد کو، ان کى بعض خدمات کے پيش نظر، اچهے انسانوں کى حيثيت سے پيش کيا ہے اور يہ مسئلہ ان پر لعنت کرنے سے تضاد رکهتا ہے- يہ ثابت کرنے کے لئے کہ ان دو چيزوں ميں کوئى تضاد نہيں ہے، کہنا چاہئے کہ : بنى اميہ سے مراد وہ لوگ ہيں جو فکرى اور عملى لحاظ سے بنى اميہ سے ہم آہنگ تهے، يعنى وہى لوگ، جو ائمہ اطہار (ع) کى امامت کو غصب کرنے، انهيں اور ان کے شيعوں کو شہيد کرنے کے سلسلہ ميں تماشائى، اور راضى وغيرہ تهے- زيارت عاشورا ميں موجود اس عبارت کے پہلے اور بعد والے جملات پر غور کرنے سے يہ نکتہ بخوبى ظاہر ہوتا ہے، کيونکہ زيارت عاشورا ميں مقصد ان افراد پر لعنت و نفرين کرنا ہے جنهوں نے غصب کرکے خلافت پر قبضہ کيا ہے اور نور الہى کو بجهانے کى کوشش کى ہے اور اہلبيت (ع) سے دشمنى کے لئے ہر وسيلہ سے استفادہ کيا ہے اور اس کے علاوہ اس سے وہ افراد مراد ہيں، جنهوں نے ان غاصبوں اور ظالموں کى حمايت کى ہے اور ان کے کاموں کے بارے ميں راضى تهے – اس بنا پر، اصول کى اصطلاح کے مطابق بنى اميہ کے صالح افراد کا ان سے جدا ہونا ايک خصوصى امر ہوگا يعنى ابتداء سے ہى ايسے افراد اس عبارت کے زمرے ميں نہيں آتے ہيں نہ يہ کہ بعد ميں کسى خاص عبارت کے ذريعہ ان کو اس زمرے سے خارج کيا جائے-

تفصیلی جواب :

مذکورہ سوال کے دوپہلو ہيں: اول: يزيد کےبيٹے کےبارے ميں اعتقاد، عمل اور دوسرے امور کےلحاظ سے تحقيق کرنا اور دوم : زيارت عاشورا ميں تمام بنى اميہ پر لعنت کرنے کا مفہوم-

يزيد کے بيٹے کے بارے ميں کہنا چاہئے کہ: بيشک معاويہ بن يزيد کے خلافت سے کنارہ کشى کا اقدام ايک شائستہ کام تها اور اسے صحيح معنوں ميں معلوم ہوچکا تها کہ يہ غصب  شدہ حق ہے، ليکن اس کا يہ اقدام اس امر کى دليل نہيں بن سکتا ہے کہ ہم اطمينان حاصل کريں کہ معاويہ بن يزيد نے توبہ کے تمام شرائط کى رعايت کى ہوگى (من جملہ انجام شدہ مظالم کى تلافى) اور رحمت الہى کا مستحق بن کر لعنت کے دائرہ سے خارج ہوچکا ہوگا- خلافت کو غصب کرنا، اگر چہ ايک مختصر مدت کے لئے بهى ہو- گناہ کبيرہ ہے- کہ بيشک اس گناہ کى بخشش کے لئے کچه شرائط ہيں، چنانچہ عمر بن عبدالعزيز کےبارے ميں بهى امام سجاد (ع) کى ايک روايت ہےکہ حضرت (ع) نے عبداللہ بن عطا سے فرمايا : "وہ (عمر بن عبدالعزيز ) اس حالت ميں مرجائے گا جب اہل زمين اس پر گريہ کررہے ہوں گے اور اہل آسمان اس پر لعنت بهيج رہے ہوں گے - [1]" کيونکہ وہ ايک ايسے عہدے پر قابض تها، جس کا اسے کوئى حق نہيں تها، اگرچہ اس نے دوسرے خلفاء کى بہ نسبت بہت سے نيک کام انجام دئے ہيں، البتہ ہم قطعى طور پر يہ دعوى نہيں کرتے ہيں کہ معاويہ  بن يزيد اور عمر بن عبدالمالک پر خداوند متعال کى رحمت شامل نہ ہوئى ہو- [2] بہر صورت، صرف خداوند متعال ہى ان کے انجام سے آگاہ ہے، ليکن يہ بات قابل انکار نہيں ہے کہ بنى اميہ ميں سے کچه محدود افراد ہى سہى، مخلص شيعہ تهے، جيسے خالد بن سعيدبن عاصى، ابوالعاص بن ربيع، سعدالخير اور چند دوسرے افراد، اس بنا پر، اس کو قبول کرتے ہوئے کہ بنى اميہ ميں کچه ايسے افراد بهى ہيں جو خدا کى لعنت کے مستحق نہيں ہيں، ہميں سوال کے دوسرے پہلو، يعنى زيارت عاشورا ميں بنى اميہ کے مفہوم پر بحث کرنى چاہئے-

تمام بنى اميہ پر لعنت کے معنى:

سب سے پہلے اس نکتہ کا تذکر ضرورى لگتا ہے کہ قرآن مجيد کا مستحکم اصول يہ ہے کہ کوئى شخص کسى دوسرے کے گناہوں کى وجہ سے ملامت يا دنيوى و اخروى عذاب سے دوچار نہيں ہوگا- [3] مگر يہ کہ کسى نہ کسى صورت ميں گناہ انجام پانے ميں موثر ہو يا اس پر راضى ہو يا اس کى ممانعت نہ کى ہو کہ ان تمام امور ميں، سزا اور عذاب انہى گناہوں کى وجہ سے ہے، نہ دوسرے گناہوں کى وجہ سے- حضرت صالح (ع) کى اونٹنى کى قوم ثمود ميں سے صرف ايک شخص نے کونچيں کاٹ ڈالى تهيں- [4] ليکن قرآن مجيد نے اس گناہ کو پورى قوم ثمود سے نسبت دى ہے [5] اور ان سب کو جرم کا مرتکب اور سزا کا مستحق قرار ديا ہے، [6] کيونکہ وہ سب اس گناہ پر راضى تهے اور حضرت على (ع) کى تبعير ميں کہ قوم ثمود کے غم اور خوشى ميں مشترک ہونے کى وجہ سے وہ اس برے انجام سے دوچار ہوئے- [7]

بہ الفاظ ديگر، قرآن مجيد اور روايات کے مطابق کسى گروہ يا قبيلہ ميں ملحق ہونا، اس گروہ با قبيلہ کےساته فرکرى اور عملى ہم آہنگى ہے، چنانچہ خداوند متعال حضرت نوح (ع) کے بيٹے کو ان ميں سے شمار نہيں کرتا ہے اور اس کى دليل کو ان کے بيٹے کى حضرت نوح (ع) کے ساته عدم ہم آہنگى بيان کرتا ہے- [8] يہ اس حالت ميں ہے جبکہ رسول خدا (ص) سلمان فارسى کو اپنے اہل بيت (ع) ميں سے جانتے ہيں- [9]

لہذا، ائمہ اطہار (ع) بنى اميہ کے نيک اور صالح افراد کو بنى اميہ ميں شمار نہيں کرتے ہيں، مثال کے طور پر سعدالخير کے بارے ميں جو اشارہ کيا گيا، عورتوں کے مانند گريہ و زارى کى حالت ميں امام باقر (ع) کى خدمت ميں حاضر ہوا، امام (ع) نے فرمايا: تمهيں کس چيز نے گريہ و زارى کرنے پر مجبور کيا ہے؟ سعد نے جواب ميں کہا: ميں کيوں گريہ و زارى نہ کروں جبکہ ميں قرآن مجيد ميں بيان کئے گئے اس درخت ملعون ميں سے ہوں!؟ امام باقر (ع) نے فرمايا: " لست منہم انت اموى منا اہل البيت" تم ان ميں سے نہيں ہو، تم اموى ہو اور ہم اہل بيت ميں سے ہو، کيا تم نے خداوند متعال کا يہ فرمان نہيں سنا ہے کہ : "پس جو شخص ميرى اطاعت کرے گا وہ مجه سے ہو گا- [10]" نتيجہ کے طور پر کہنا چاہئے کہ: بنى اميہ سے مراد وہ لوگ ہيں جو فکرى اور عملى لحاظ سے بنى اميہ سے ہم آہنگ تهے، يعنى وہى لوگ، جو ائمہ اطہار (ع) کى امامت کو غصب کرنے، انهيں اور ان کے شيعوں کو شہيد کرنے کے سلسلہ ميں تماشائى، اور راضى وغيرہ تهے- زيارت عاشورا ميں موجود اس عبارت کے پہلے اور بعد والے جملات پر غور کرنے سے يہ نکتہ بخوبى ظاہر ہوتا ہے، کيونکہ زيارت عاشورا ميں مقصد ان افراد پر لعنت و نفرين کرنا ہے جنهوں نے غصب کرکے خلافت پر قبضہ کيا اور نور الہى کو بجهانے کى کوشش کى ہے اور اہلبيت (ع) سے دشمنى کے لئے ہر وسيلہ سے استفادہ کيا ہے اور اس کے علاوہ اس سے وہ افراد مراد ہيں، جنهوں نے ان غاصبوں اور ظالموں کى حمايت کى ہے اور ان کے کاموں کے بارے ميں راضى تهے – اس بنا پر، اصول کى اصطلاح کے مطابق بنى اميہ کے صالح افراد کا ان سے جدا ہونا ايک خصوصى امر ہوگا يعنى ابتداء سے ہى ايسے افراد اس عبارت کے زمرے ميں نہيں آتے ہيں نہ يہ کہ بعد ميں کسى خاص عبارت کے ذريعہ ان کو اس زمرے سے خارج کيا جائے-

زيارت عاشورا کى تشريح ميں مرحوم ميرزا ابوالفضل تہرانى اس مطلب کى تايئد کے ضمن ميں دو نکات کا ذکر کر تے ہيں:

بنى اميہ اضافہ ہوا ہے اور اضافہ حقيقت عہدى ہوتا ہے، يعنى بنى اميہ سے مراد اميہ کى نسل کے وہ افراد ہيں، جو اہل بيت (ع) سے دشمنى اور نفرت رکهتے تهے-

ايک روايت ميں امام معصوم لفظ " بنى اميہ" کو استعمال کرتے ہيں، اور اس کے ضمن ميں ابوسفيان، معاويہ اور آل مروان کو تطبيق ديتے ہيں [11]

نتيجہ کے طور پر، فرضا اگر معاويہ بن يزيد اس لعنت الہى ميں شامل نہ ہو، تو کہنا چاہئے کہ قرينہ مقاميہ کے مطابق، بنى اميہ سے مراد ان ميں سے وہ خاص افراد ہيں جن ميں معاويہ بن يزيد جيسا فرد شامل نہيں ہے- [12]

اس سلسلہ ميں مزيد آگاہى کے لئے ملاحظہ ہو: سوال نمبر 854 (سائٹ: 928) و سوال نمبر 10031 (سائٹ: 10000)



[1]  صفار، محمد بن حسن، بصائرالدرجات، ص 170، کتابخانہ آيت اللہ مرعشى نجفى، قم، طبع دوم، 1404ہجرى۔

[2]  اس لحاظ سے بعض بزرگوں، مانند ميرزا عبداللہ افندى نے "رياض العلماء"ميں کہا ہے کہ معلوم نہيں ہے کہ عمر بن عبد لعزيز پر لعنت کرنا جائز ہو يا سيد رضى نے اپنى ديوان ميں عمر بن عبدالعزيز کى مرثيہ ميں ايک قطعہ لکها ہے، جس ميں اس کى تکريم و تعظيم کى گئى ہے-

[3]  نجم، 38-41، جملہ: "لا تزد وازرۃ وزد اخرى" در آيات 164، انعام؛15، اسراء 18، فاطر:7 کے علاوہ رمز ميں بهى آيا ہے۔

[4]  قم، 29، حضرت على (ع) نے بهى فرمايا ہے، بيشک قوم ثمود کى اونٹنى کو صرف ايک مرد نے عقر کيا تها-

[5]  اعراف، 77؛ ہود، 65، شعراء 157؛شمس، 14

[6]  تو ان لوگوں (قوم ثمود) نے اس کى تکذيب کى اور اس کى کونچيں کاٹ ڈاليں تو خدا نے ان کے گناہوں کے سبب ان پر عذاب نازل کر ديا اور انهيں بالکل برابر کرديا- شمس 14

[7]  اے لوگو، صرف خوشى اور غم ہے کہ انسان کو اپنے اثر ميں قرار دياتا ہے،قوم ثمود کى اونٹنى کى کونچيں صرف ايک مرد نے کاٹ ڈالى تهيں ليکن خدا نے ان سب پر عذاب نازل کيا – کيونکہ عام لوگ اس کےکام سے راضى تهے نہج البلاغہ، خطبہ 210، ص 319۔

[8]  " قال يا نوح انہ ليس من اہلک انہ عمل غير صالح فلا تسئلن ما ليس لک بہ علم انى اعظک ان تکون من الجاہلين"، ہود 46۔

[9]  "سلمان منا اہل البيت"، مجلسى، محمد باقر، بحارالانوار، ج 65، ص 55، موسسہ الوفا، بيروت، 1404 ہجرى

[10]  بحارالانوار، ج 46، ص 337، شيخ مفيد، الاحتصاص، ص 85، کنگرہ جہانى ہزارہ شيخ مفيد، قم، طبع اول 1413ہجرى

[11]  تہرانى، ميرزا ابوالفضل، شفاء الصدور فى شرح زيارت العاشور، ج 1 ص 255-263 انتشارات مرتضوى طبع اول 1376ہ ش

[12]  مذيد آگاہي کے لئے ملاحظہ ہو: ترخان، قاسم، نگرشى عرفانى، فلسفى و کلامى بہ، شخصيت و قيام امام حسين (ع)، ص 279-۲۹۱

اسلام کوئسٹ ڈاٹ نٹ 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved