• تاریخ: 2012 جنوری 01

حدیث : "المھدی طاووس الجنة" کو اس حدیث کے ساتھـ کیسے جمع کیا جاسکتا ہے، جو طاووس (مور) کی مذمت ميں بیان کی گئی ہے؟ 18


           
کیا پیغمبر اسلام (ص) کی یہ حدیث کہ فرماہا ہے : " المھدی طاووس الجنة" اس حدیث کے ساتھـ قابل جمع ہے، جس میں طاووس (مور) کی مذمت کی گئی ہے؟
اجمالی جواب : 

حضرت مھدی (عج) کے فضائل بیان کرنے کے سلسلہ میں پیغمبر اسلام (ص) سے بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں- من جملہ یہ حدیث بھی نقل کی گئی ہے کہ : "المھدی طاووس الجنة"  یہ حدیث شیعوں اور اہل سنت کی قابل اعتبار کتابوں میں نقل کی گئی ہے اور محتوی و مفہوم کے لحاظ سے بھی اس میں کوئی مشکل نہیں ہے، کیونکہ ہماری دینی تعلیمات میں طاووس (مور) خوبصورتی اور عجیب الخلقت ہونے کے لحاظ سے مشہور ہے، اور حضرت علی (ع) نے اپنے ایک انتہائی زیبا خطبہ میں اس پرندہ کی تعجب آور خوبصورتی کو بیان فرمایا ہے – اس حدیث میں بھی بہشتیوں میں حضرت مھدی (عج) کی خوبصورتی کو پرندوں میں طاووس کی خوبصورتی سے تشبیہ دی گئی ہے اس لئے اس حدیث کی بنا پر حضرت مھدی (عج) اہل بہشت کے خوبصورت ترین فرد ہیں، جس طرح طاووس پرندوں میں خوبصورت ترین پرندہ شمار ہوتا ہے – طاووس کی مذمت میں اگر کوئی روایت ہو بھی، تو ضعیف ہونے کے علاوہ اس روایت سے منافات نہیں رکھتى ہے –

تفصیلی جواب :

حضرت مھدی (عج) کے فضائل بیان کرنے کے سلسلہ میں پیغمبر اسلام (ص) سے بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں- من جملہ یہ حدیث بھی نقل کی گئی ہے کہ : "المھدی طاووس الجنة"  یعنی " حضرت مھدی (عج) اہل بہشت کے طاووس ہیں"[1]

قابل ذکر بات ہے کہ ہر تشبیہ میں چار بنیادی ارکان ہوتے ہیں، جیسے : مشبہ، ممشبہ بہ، وجہ شبہ اور حرف تشبیہ، اور ہر تشبیہ میں وحہ شبہ مخاطب کے لئے مشہور و معروف ہونا چاہئے- " علی مانند شیر" کی مثال میں، علی مشبہ، شیر مشبہ بہ، اور حرف تشبیہ شیر کی شجاعت وجہ شبہ ہے- اور چونکہ ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ شیر، شجاعت میں (وجہ شبہ) حیوانوں میں مشہور و مثالى ہے، اس لئے سمجھتے ہیں کہ علی (ع)، شجاعت میں شیر کے مانند ہیں، نہ کہ دوسری چیزوں میں، اس بنا پر پم اس تشبیہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ علی (ع) ایک شجاع اور بہادر انسان ہیں-[2]

مذکورہ مطالب کے پیش نظر ہم عرض کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی روایت میں بھی ان شبہات کو مدنظر رکھا گیا ہے، یعنی جس طرح لوگوں میں مشہور ہے کہ طاووس (مور) پرندوں میں ایک خوبصورت ترین پرندہ ہے، حضرت مھدی (عج) بھی اہل بہشت میں خوبصورت ترین فرد ہیں- نتیجہ کے طور پر نبی اکرم (ص) کے اس کلام میں طاووس وجہ شبہ کے عنوان سے مدنظر ہے، پس طاووس کی مذمت میں جو روایت ہے، یہ اس کے منافی نہیں ہے-

اس کے علاوہ ہماری دینی تعلیمات میں طاووس کو ایک خوبصورت اور عجیب الخلقت پرندہ کے عنوان سے کثرت سے یاد کیا گیا ہے اور ممکن ہے اس پرندہ کے بارے میں کم تر مذمت کی گئی ہو- مثال کے طور پر حضرت علی (ع) نے نہج البلاغہ میں اس پرندے کی خوبصورتی اور تعجب آور خلقت کے بارے میں ایک خطبہ میں فرمایا ہے : " خلقت کے تعجب آور ترین پرندوں میں سے طاووس ہے، کہ اسے موزون ترین شکل میں پیدا کیا ہے، اس کے پر و بال کو بہترین صورت میں زیبائی بخشی ہے یا اس کے خوبصورت پر ایک دوسرے پر اس طرح قرار پائے ہیں، گویا طاووس کے پر چاندی کے بنے ہیں، اور ان پر سورج کے مانند خوبصورت دائرے ہیں، جیسے کہ خالص سونے اور زبر جد کے ہیں- اگر طاووس کے پروں کے رنگوں کو زمین سے اگنے والے رنگوں سے تشبیہ دی جائے تو کہنا چاہئے کہ یہ ایک گل دستہ ہے، جو موسم بہار کے مختلف رنگا رنگ بھولوں سے بنا ہے، اور اگر اسے پہننے والے لباس سے تشبیہ دی جائے تو وہ ایک ایسے یمنی پارچہ کے مانند ہے جو مختلف اور خوشنما رنگوں سے مزین ہے اور اگر اس کا زیورات سے موازنہ کریں تو رنگا رنگ نگینوں کے مانند ہے جو چاندی کی مالاوں میں جواہرات سے مزین کئے گئے ہیں-

طاووس کی گردن پر پروں کے بجائے، ایک سبز رنگ کا کاکل ہے جس پر نقش نگاری کی گئى  ہے اور اس کی گردن ایک صراحی کے مانند خوبصورت ہے- اس کی گردن کے اردگرد، گویا ایک سیاہ چادر لپیٹی گئی ہے جس کا رنگ کافی شاداب ہے، آپ تصور کریں گے کہ ایک گہرے نیلے رنگ سے آمیختہ ہے جو اس کے کان کے سوراخوں کے پاس ایک خاص جلوہ نمائی کر رہی ہے-

آپ بہت کم ایسے رنگ پائیں گے جو طاووس کے بدن میں موجود نہ ہوں یا شفافیت اور صیقل سے اسے زرق و برق نہ بنا یا ہو- طاووس بکھرے ہوئے ان شگوفوں کے مانند ہے، کہ بہار کی بارش اور آفتاب کی گرمی نے ان کی پرورش میں کوئی رول ادا نہیں کیا ہے"-[3]

حضرت علی (ع) کے مذکورہ ارشاد کے پیش نظر، ہمیں طاووس کى خوبصورتی اور عجیب الخلقت ہونے کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ طاووس پرندوں میں خدا کی ایک خوبصورت ترین مخلوق ہے- اس بنا پر، ظاہر ہے کہ حضرت مھدی (عج) کو اہل بہشت  کے طاووس سے مشابہت دینے والی نبی اکرم (ص) کی روابت سے طاووس کی خوبصورتی مراد ہے، نتیجہ کے طور پر اگر طاووس کی مذمت میں کوئی روایت موجود بھی ہو، تو اس کے ضعیف ہونے کے علاوہ اس روایت سے منافات نہیں رکھتی ہے اور قابل جمع ہے-



[1]  فیروزی، سید مرتضی، فضائل الخمسة من الصحاح الستة، ج3، ص343، اسلامیه،1410ھ؛

بحارالانوار، ج51، ص 105،باب اول،حدیث 41 ، مؤسسه الوفا،لبنان، 1404ھ؛ شیخ یوسف، بن یحیی، بن علی، مقدسی، شافعی، عقد الدرر، فی اخبار المهدی المنتظر، ج1، ص 34.

[2]  دهنوی، حسین، ادبیات فارسی، ص291، ظفر، طبع دوم، قم، 1378ھ ش.

[3]  سید رضی، نهج البلاغه، ترجمه محمد دشتی، ص313و315، مؤسسه الهادی، طبع نوزدهم 1381ھ ش..

اسلام کوئسٹ ڈاٹ نٹ 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved