• تاریخ: 2012 جنوری 01

اس حدیث کے معنی کیا ہیں کہ : "اگر غیبت کرنے والا توبہ کرے تو بہشت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوگا اور اگر توبہ نہ کرےتو جہنم میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہوگا"


           
ایک حدیث میں آیا ہے کہ " اگر غیبت کرنے والا اپنےگناہوں کےبارے میں توبہ کرے تو بہشت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوگا اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو جہنم میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہوگا"- کیا کوئی ایسی حدیث ہے کہ مثلا اس میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ فلاں خصلت اور خصوصیت والے افراد بہشت میں داخل ہونے والے پہلے افراد ہوں گے، اور اگر ایسی کوئی حدیث ہے تو جو شخص غیبت کا مرتکب بھی ہوا ہو اور مثال کے طور پر اس نے فلاں کام بھی انجام دیا ہو جس کو انجام دینے والا فرد سب سے پہلے بہشت میں داخل ہوگا یا یہ شخص ان ان خصوصیات کا مالک ہو جن کی وجہ سے سب سے پہلے بہشت میں داخل ہو گا، تو ایسے شخص کا کیا ہوگا اور خدا وند متعال اس کے ساتھـ کیسا برتاو کرے گا ؟
اجمالی جواب :  

جس طرح قدرو منزلت اور ثواب کے لحاظ سے انسان کے نیک وصالح اعمال کے مختلف درجے ہوتے ہیں اسی طرح انسان کے گناہ بھی برائی اور سزا کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوتے ہیں- یہ حدیث غیبت کے گناہ کے کبیرہ ہونے اور اس کی برائی کی شدت بیان کرتی ہے، کیونکہ غیبت انسان کے سب سے بڑے سرمایہ، یعنی اس کی آبرو سے متعلق ہوتی ہے – اس لحاظ سے اسلام نے اس عمل کو قابل مذمت جانا ہے اور انتہائی شدید الفاظ میں اس کا ذکر کیا ہے تاکہ عوام الناس کو اس کے نقصانات اور برے اثرات کے بارے میں متوجہ کرکے اس قسم کے گناہ کے مرتکب ہونے سے روک لے-

اس روایت سے مراد یہ ہے کہ، توبہ کے نتیجہ میں گناہ بخشے جاتے ہیں، لیکن غیبت کا گناہ اس قدر برا اور ناپسند ہے کہ حتی توبہ سے بھی اس کے اثرات قابل تلافی نہیں ہوتے ہیں اور اگر غیبت کا مرتکب ہونے والے شخص کے نیک اور شائستہ اعمال بھی ہوں، جن کی وجہ سے وہ بہشتی ہوتا- لیکن غیبت کے گناہ کی وجہ سے حقیقی توبہ کرنے کے بعد بھی بہشت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوتا ہے-

روایتوں میں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص فلاں کام انجام دے تو اس کی پاداش بہشت ہے یا وہ بہشت میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہوگا، لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ یہ شخص کسی دوسرے گناہ کا مرتکب نہ ہوا ہو، کیونکہ انسان کے نیک اور برے اعمال مختلف طریقوں سے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جو کچھـ ان روایتوں میں آیا ہے، وہ انسان کے برے اعمال کے نیک اعمال پر اثر انداز ہونے کے علاوہ ہے-

تفصیلی جواب :

جس طرح انسان کے نیک و صالح اعمال کے مختلف درجات ہوتے ہیں، اسی طرح انسان کے گناہ بھی ایک ہی درجہ اور سطح کے نہیں ہوتے ہیں- بعض گناہ عوام کی نظروں میں بالکل بے اہمیت ہوتے ہیں اور آسانی کے ساتھـ ان کا ارتکاب کیا جاتا ہے جبکہ خداوند متعال کی نظر میں وہ اعمال کافی ناپسند اور ناقابل برداشت ہوتے ہیں، ایسے گناہوں میں سے ایک مومنین کی غیبت ہے- پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے صحابیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: کیا آپ جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ انھوں نے عرض کی: خدا اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آنحضرت (ص) نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ اپنے بھائی کے بارے میں ایک ایسی چیز کہوگے جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے " [1]

اسلام میں یہ عمل (دوسروں کے ہیچھے باتیں کرنا) کافی ناپسند شمار کیا گیا ہے اور اس کی کافی مذمت کی گئی ہے- قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے: "ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے، یقینا تم اسے برا سمجھو گے-"[2]

پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں: "جو شخص ایک ایسے راستہ پر قدم رکھتا ہے جہاں پر اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کرے یا اس کے عیوب اور اسرار کو فاش کرے، تو اس کا پہلا قدم جہنم میں ہوگا اور خداوند متعال اس کے عیوب و اسرار کو لوگوں میں فاش کرے گا –"[3]

امام صادق (ع) نے فرمایا ہے : "خداوند متعال نے حضرت موسی (ع) پر وحی نازل کی کہ: غیبت کرنے والا اگر توبہ کرنے کے بعد مرجائے گا وہ بہشت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوگا اور اگر توبہ کئے بغیر مرجائے تو، جہنم میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہوگا"-[4]

اس روایت کے معنی کے بارے میں کہنا چاہئے کہ روایت سے مراد یہ ہے کہ حتی توبہ کی وجہ سے گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے اور ان کے اثرات ختم ہوتے ہیں لیکن غیبت کا گناہ اس قدر برا اور ناپسند ہے کہ حتی توبہ سے بھی آسانی کے ساتھـ اس کے اثرات قابل تلافی نہیں ہوتے ہیں اور اگر غیبت کا مرتکب ہونے والے شخص کے نیک اور شائستہ اعمال بھی ہوں، جن کی وجہ سے وہ بھشتی ہوتا، لیکن غیبت کے گناہ کی وجہ سے حقیقی توبہ کرنے کے بعد بھی بہشت میں داخل ہونے کی راہ میں ایسی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں کہ وہ بہشت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوتا ہے- اور اگر وہ توبہ نہ کرے گا تو اس کے نیک اعمال میں سے کوئی ایک اسے عذاب سے نجات نہیں دلا سکتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہوگا-

لیکن قابل غور بات ہے کہ اگر چہ توبہ خداوند متعال کی وسیع رحمت اور مہر بانیوں کی علامت ہے اور قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ: " یہ تحقیق خدا توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے- "[5] لیکن توبہ کے قبول ہونے کے لئے متعدد شرائط ہیں، من جملہ یہ کہ اس گناہ کے آثار کی تلافی کی جانی چاہئے اور لوگوں کے حقوق سے متعلق غیبت جیسے گناہوں کی تلافی اور حق تلفی کئے گئے افراد کی رضامندی حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے- حد اکثر چیز جو توبہ کے نتیجہ میں حاصل ہوسکتی ہے وہ عذاب اور سزا سے دوچار نہ ہونا ہے نہ یہ کہ اس قسم کی توبہ کرنے ولے کے بہشت میں داخل ہونے کا سبب بنے، کیونکہ جو کچھـ قرآن مجید میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ خداوند متعال اپنے حق سے چشم پوشی کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو حسنات میں تبدیل کرتا ہے-[6] اور توبہ کرنے والے کو بہشت میں داخل کرتا ہے البتہ یہ ان گناہوں سے متعلق ہے کہ صرف حق اللہ کے بارے میں ہوں- لیکن لوگوں کے حقوق کے بارے میں اس طرح نہیں ہے اور اگر غیبت کرنے ولا توبہ بھی کرے اور اپنے گناہوں کے برے اثرات کی تلافی بھی کرے اس کے بڑے گناہ بخشے جائیں گے- لیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے اس کے پاس خیرات و حسنات اور نیک اعمال ہونے چاہئے-

اس بناپر اگر غیبت کرنے والا شخص خداوند متعال سے بخشش کی درخواست کرے اور جس کی اس نے غیبت کی ہو اس کو راضی کرے اور اس گناہ کے بارے میں حقیقی توبہ کرے، اس کا یہ گناہ کافی بڑا ہونے کے باوجود بخش دیا جائے گا اور اس گناہ کی وجہ سے عذاب الہی سے دوچار ہونے سے نجات پائے گا- اسی طرح ایسی متعدد روایتیں پائی جاتی ہیں کہ اگر کوئی شخص فلاں کام انجام دے گا تو اس کی پاداش بہشت ہے یا وہ بہشت میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہو گا، لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ اس شخص کا کوئی اور گناہ نہ ہو، کیونکہ قرآن مجید کا ارشاد ہے " ..... حسنات (نیک کام اور ثواب) سیات (گناہوں اور ان کے آثار) کو نابود کرتے ہیں"- [7] یعنی انسان کے حسنات اور نیک اعمال پہلے مرتبہ میں دوسرے گناہوں خاص کر لوگوں کے حقوق کی تلافی کرتے ہیں اور اس کے بعد انسان کی ترقی اور کمال کا سبب بنتے ہیں- دوسری جانب سے قرآن مجید کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض گناہ انسان کے نیک اعمال کو نابود کرنے کا سبب بنتے ہیں، جیسے: خداوندمتعال کی آیات کے بارے میں ارتداد اور کفر برتنا، رسول اللہ (ص) سے دشمن اور رسول خدا (ص) کے سامنے اپنی آواز بلند کرنا وغیرہ اور بعض گناہ ایسے ہیں کہ ان کے مرتکب ہونے والے حسنات اور نیکیوں کو دوسروں میں منتقل ہونے کا سبب بنتے ہیں- مثال کے طور پر قتل ، غیبت اور بہتان جیسے گناہ بہرحال انسان کے نیک اور برے اعمال مختلف طریقوں سے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں -[8] اور جو کچھـ روایتوں میں آیا ہے وہ انسان کے برے اعمال کے نیک اعمال پر اثر ڈالنے کے علاوہ ہے-



[1]  شبر، سید عبداللہ، اخلاق، ترجمہ جباران، محمد رضا، ص 234 موسسہ انتشارات ھجرت، چاپخانہ سرور، طبع 12، 1386 شمسی.

[2]  حجرات، 12

[3]   شبر، سید عبداللہ، اخلاق، ترجمہ جباران، محمد رضا، ص 234

[4]  مجلسی، محمد باقر، بحارلانوار، ج 75، ص 222، موسسة الوفاء بیروت: دیلمی، حسن بن ابی الحسن محمد، ارشاد القلوب، باتصحیح و پاورقی، علامہ شعرانی، با ترجمہ سلگی، علی، ج1 ، ص 302 :نراقی، محمد مھدی، جامع السعادات، ج 2، ص 303، موسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان طبع 3، قم

[5]  بقرہ، 222.

[6]  فرقان 70، الا من تاب و امن وعملا صالحا فاولئک یبدل ا للہ سیئاتھم حسنات وکان اللہ غفورا رحیما

[7]  ھود، 11 "ان الحسنات یذ ھبن السیئات" اس طرح قرآن مجید کے سورہ انفال کی آیت 29 میں ارشاد ہے: " ایمان والو! اگر تم تقوی الہی اختیار کروگے تو وہ تمھیں حق و باطل میں تفرقہ کی سلاحیتیں عطا کردے گا – تمھاری برائیوں کی پردہ پوشی کرے گا- تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا کہ وہ بڑا فضل کرنے والا ہے-"

[8]  زیادہ آشنائی کے لئے ، ملاحظہ ہو: ترجمہ المیزان، ج 3، ص 257-261.

اسلام کوئسٹ ڈاٹ نٹ 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved