• تاریخ: 2011 دسمبر 29

نظریات سے متصادم احادیث کے ساتھ سلوک


           

          

         

اپنی روش سے متصادم احادیث رسول (ص) کے ساتھ جو سلوک کیا گیاہے نیز سنت رسول اور اقوال صحابہمیں حضرت علی کی وصایت کے ذکر پر مشتمل متون کا جو حشر کیاہے، یہاں ہم عجلت کے پیش نظر اس کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ صحابہنے بہت سی معتبر اور موثق روایات میں بیان کیاہے کہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

علی میرا وصی، میرا وزیر اور میرا وارث ہے“۔

بعض روایات کے یہ الفاظ ہیں :

اور میرا خلیفہ ہے“۔

 

متن:

 

نظریات سے متصادم احادیث مبارکہ کے ساتھ ناروا سلوک

 

اپنی روش سے متصادم احادیث رسول (ص) کے ساتھ جو سلوک کیا گیاہے نیز سنت رسول اور اقوال صحابہمیں حضرت علی کی وصایت کے ذکر پر مشتمل متون کا جو حشر کیاہے، یہاں ہم عجلت کے پیش نظر اس کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ صحابہنے بہت سی معتبر اور موثق روایات میں بیان کیاہے کہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

 

علی میرا وصی، میرا وزیر اور میرا وارث ہے“۔

بعض روایات کے یہ الفاظ ہیں :

اور میرا خلیفہ ہے“۔

 

حضرت علی(ع) مذکورہ القاب میں سے ”وصی“کے لقب سے معروف ہوئے اور یہ لقب آپ کے لیے اسم علم بن گیا۔اسی لیے آپ کے علاوہ کوئی اور شخص اس لقب سے معروف نہیں ہوا۔جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو ابو تراب کی کنیت سے نوازا تو یہ نام آپ سے مختص ہوگیا اور اس قدر معروف ہوگیا کہ وہ آپ کے لیے اسم علم بن گیا چنانچہ آپ کے علاوہ کوئی اور آدمی اس نام سے معروف نہیں ہوا۔بعد میں صحابہ، تابعیناور ان کے بعد آنے والے شعراء نے حضرت علی(ع) کو وصی کے نام سے یاد کیاہے۔ حتی کہ اہل کتاب کے علماء نے بھی آپ کو اسی نام سے یادکیااور لوگوں کو اس بارے میں بتایا ہے۔

بعض مکاتب کی پالیسیوں سے متصادم احادیث و الفاظ (خواہ وہ وصیت کے بارے میں

ہوں یا کسی اور سلسلے میں )کی پردہ پوشی کے مسئلے کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے والا شخص ایک سہم ناک اور اہم نکتے کو درک کرلیتاہے۔

حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوششوں کے مختلف طریقوں میں سے دس اقسام کا تذکرہ ہم یہاں کرتے ہیں۔ سنت رسول(ص)کی پردہ پوشی کے بارے میں ان میں سے ہر ایک کی اہمیت کے حساب سے ہم یہاں ترتیب وار ان کا ذکر کرتے ہیں:

۱۔ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعض حصوں کو حذف کر کے مبہم الفاظ میں بدل دینا۔

۲۔ سیرت صحابہسے مربوط پوری روایت کو حذف کرنا البتہ حذف کی طرف اشارہ کے ساتھ۔

۳۔ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معنی میں تاویل کرنا۔

 

 

۴۔ صحابہ کے اقوال کے بعض حصوں کو حذف کرنا اس کی طرف اشارہ کیے بغیر۔

 

 

۵۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پوری حدیث کو حذف کرنا اس حذف کی طرف اشارہ کیے بغیر۔

۶۔ سنت رسولکے لکھنے پر پابندی۔

۷۔ حکمرانوں کے نقائص بیان کرنے والے ارشادات رسول(ص) راویان حدیث اور کتب احادیث کی حیثیت کو کمزور بنانے اوربسا اوقات مخالفین کو قتل کرنے کی کوشش۔

۸۔ کتابوں اور لائبریریوں کو جلانا۔

 

۹۔ حضرات صحابہکی روایات کے بعض حصوں کو حذف اور ان میں تحریف کرنا۔

 

۱۰۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحیح احادیث اور صحابہ کرام  کی حقیقی سیرت کے مقابلے میں جعلی روایات و احادیث گھڑنے کا عمل۔

ا۔ حدیث رسول(ص)کے بعض حصوں کو حذف کرکے مبہم الفاظ میں بدل دینا

حقائق کی پردہ پوشی کی ایک قسم رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کے بعض حصوں کو حذف کرنا اور اس حذف شدہ حصے کے بدلے مبہم الفاظ سے کام لینا ہے۔اس کی مثال قرآن کی آیت :وانذر عشیرتک الاقربین کی تفسیر کے دوران دعوت ذوالعشیرہ کے بیان میں طبری اور ابن کثیرکا طرز عمل ہے۔ان دونوں حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قول”وصی وخلیفتی فیکم“ کو حذف کرکے اس کی جگہ اپنی طرف سے وکذا وکذا(وغیرہ وغیرہ )لکھ دیاہے۔

 

 

اس قسم کی ایک پردہ پوشی امام بخاری نے صحیح بخاری میں سیرت صحابہکے ساتھ کی ہے۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر کے مذکورہ واقعہ میں امام بخاری نے عبدالرحمنکی اس بات کو حذف کرڈالا ہے جواس نے مروان سے کہی تھی اور اس حذف شدہ بات کی جگہ قال عبد الرحمن شیئاً(عبدالرحمن نے کچھ کہا)لکھ دیاہے۔یوں امام بخاری نے عبدالرحمن کے اس کلام کو ایک مبہم جملے میں بدل کررکھ دیا۔اس کے علاوہ امام بخاری نے مروان کے باپ حکم بن عاص کے بارے میں حضرت عائشہ سے مروی حدیث میں بھی حذف سے کام لیاہے۔

اس قسم کی پردہ پوشی اس حدیث میں بھی ہوئی ہے جس میں جنگ بدر کے بارے میں صحابہ کرامکے ساتھ سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مشورے اور اصحاب کے جواب کا تذکرہ ہوا ہے۔ چنانچہ ابن ہشام اور طبری نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:۔آپ(ص) کو خبر ملی کہ قریش اپنے قافلے کا دفاع کرنے کی غرض سے روانہ ہوچکے ہیں۔آپ(ص) نے لوگوں سے مشورہ طلب کیا اور انہیں قریش کے بارے میں اطلاع دی۔ تب حضرت ابوبکرنے کھڑے ہوکر گفتگو کی اور خوب اچھی گفتگو کی۔اس کے بعد عمر بن الخطاب کھڑے ہوگئے اور بہت عمدہ گفتگو کی۔ اس کے بعد مقداد بن عمرو نے کھڑے ہوکر کہا:

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کیجیے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔واللہ ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہی تھی کہ تم اپنے رب کے ساتھ جاؤ اور جنگ کرو۔ہم یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم آپ سے کہیں گے :آپ اپنے رب کے ساتھ جائیں اور جنگ کریں۔ ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ آگے چل کر لکھتے ہیں :پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت مقدادکو سراہا اور اسے دعائے خیر دی۔

 

حضرت سعد بن معاذ انصارینے یہ جواب دیا:

یا رسول اللہ(ص) اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنائیے۔ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیاہے۔ اگر آپ سمندر میں پھاندیں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ اس میں پھاندیں گے اور ہم میں سے کوئی شخص پیچھے نہیں ہٹے گا۔

آپ(ص) سعدکی گفتگو سے خوشحال و شادماں ہوئے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت ابوبکراورحضرت عمرکے وہ جوابات کیاتھے جو اس روایت سے حذف کیے گئے ہیں اور ان کے بدلے ”واحسن“لکھا ہے جو مبہم ہے؟اگر ان کی بات عمدہ ہوتی تو حذف کیوں کرلی؟جبکہ مہاجر مقداداور سعدبن معاذ انصاری کی باتوں کو نقل کیاہے۔

یہاں ہم صحیح مسلم کی طرف رجوع کرتے ہیں اور مسلم کی روایت میں اصل حقیقت کو دیکھتے ہیں: جب رسالتمآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ابوسفیان کی آمدکی خبر ملی تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ فرمایا۔ پس حضرت ابوبکرنے گفتگو کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس پر توجہ نہ دی۔پھرحضرت عمرنے گفتگو کی اور آپنے اس پر بھی توجہ نہ دی الخ۔

ابن ہشام، طبری اورامام مسلم کی روایتوں سے ہمیں یہ معلوم ہواکہ حضرت عمر نے حضرت ابوبکرکے بعد گفتگو کی اور طبری وابن ہشام نے ان دونوں کی گفتگو کے بارے میں واحسنکہہ کر ان کی توصیف کی جبکہ صحیح مسلم کی روایت کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلے حضرت ابوبکر اور پھر حضرت عمر کی گفتگو سے منہ پھیر لیا۔

یہاں سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان دونوں نے ایک ہی بات کی تھی۔ چونکہ بعض مورخین نے حضرت عمر کے قول کو صریحاً بیان کیاہے لیکن حضرت ابوبکرکی گفتگو کو چھپایا ہے اس لیے حضرت عمرکی گفتگو سے حضرت ابوبکرکی گفتگو کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔نہ معلوم بعض لوگوں کوان کی گفتگو کا ذکر کرنا کیوں نامناسب لگتاہے اس لیے ہشام،طبری اور امام مسلم کی روایت سے ان دونوں کی باتوں کو حذف کیاگیاہے۔اس قسم کی پردہ پوشیوں کے باعث ہی تو یہ کتابیں آج کی دنیا میں مستند ترین کتابوں میں گنی جاتی ہیں۔صحیح بخاری جس نے اس روایت کو نہ مبہم طریقے سے نقل کیاہے اور نہ ہی غیر مبہم طریقے سے اس کی وثاقت و صحت کا شہرہ دوسری تمام کتابوں سے زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ اس قسم کی پردہ پوشی کی مثالیں دسیوں بنیادی کتب میں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔

۲۔ صحابہ سے مربوط پوری روایت کو حذفکرناحذف کی طرف اشارے کے ساتھ حقائق کی پردہ پوشی کا ایک طریقہ وہ ہے جسے محمدبن ابوبکر اور معاویہ کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کے معاملے میں استعمال کیاگیاہے۔جیسے آپ سابقہ صفحات پر ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ نصر بن مزاحم (متوفی ۲۱۲ھ)کی کتاب ”وقعة الصفین“ اور مسعودی (متوفی۳۴۶ھ) کی کتاب ”مروج الذھب“ میں معاویہ کے نام محمدبن ابوبکر کا خط تفصیل کے ساتھ درج ہے۔اس خط میں حضرت علیعلیہ السلام کے فضائل کا تذکرہ ہے جن کے ضمن میں یہ بھی کہاگیاہے کہ آپ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصی ہیں۔اس خط کے جواب میں حضرت علی کی وصایت کے بارے میں معاویہ کا اعتراف موجود ہے۔اسی لیے طبری (متوفی ۳۱۰ھ) نے ان دونوں کو حذف کیاہے البتہ انہوں نے دونوں خطوط کی سند کو ذکر کیاہے۔خطوط کو ذکر نہ کرنے کا بہانہ یہ پیش کیاہے کہ عام لوگ ان دونوں خطوط کے مضامین کو سننے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔بالفاظ دیگر طبری نے لوگوں سے حقائق کو مخفی رکھاہے۔طبری کے بعد ابن اثیر جزری(متوفی ۶۳۰ھ)نے بھی وہی روش اختیار کی اور وہی عذر تراشاہے۔ان دونوں کے بعد ابن کثیر نے اپنی تاریخی کتاب ”البدایہ والنہایہ جلد ۷ صفحہ ۳۱۴“ میں محمدبن ابوبکر کے خط کی طرف اشارہ کیاہے اور یہ کہنے پر اکتفاء کیاہے:وفیہ غلظة(اس خط میں سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں)۔

طبری اور ابن اثیر نے کہا کہ عوام ان دونوں خطوط کے مضامین کو سننے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔اس جملے سے ان دونوں کی مراد یہ ہے کہ اگرعوام الناس ان دونوں خطوط کے مضامین کو سنیں تو خلفاء پر ان کا عقیدہ برقرار نہیں رہے گا۔ یاد رہے کہ اس قسم کی پردہ پوشی یعنی پوری روایت کو حذف کرکے حذف شدہ روایت کی طرف اشارہ کرنے کی مثال مکتب خلفاء کے علماء کے ہاں کم ملتی ہے۔

 

۳۔ حدیث رسول اللہ(ص) کے معنی میں تاویل حقائق کو چھپانے کے طریقوں میں سے ایک روایت کے معنی کو بدل دینا ہے(الفاظ کو باقی رکھتے ہوئے)جیسا کہ علامہ ذہبی نے امام نسائی کے حالات زندگی کے بیان میں یہی کیاہے۔ذہبی کہتے ہیں :نسائی سے کہاگیا کہ وہ معاویہ کے فضائل نقل کرے۔انہوں نے جواب دیا:

 

کونسی فضیلت نقل کروں؟

کیا وہ حدیث نقل کروں جس میں ارشاد ہوا ہے :

خدایا اس کے شکم کو سیر نہ کر؟

اس کے بعد ذہبی کہتے ہیں :

میرا خیال ہے کہ یہ شاید معاویہ کی کوئی اچھی صفت ہو کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاہے:خدایا میں نے جس کسی پر لعنت بھیجی ہویا اس کی شماتت کی ہواس کے لیے میرے اس عمل کو پاکیزگی اور رحمت کا باعث قرار دے۔ ۱ 

 

 

دیکھیے کہ ذہبی (متوفی۷۴۸ھ)نے ”لعل “کا(شاید) لفظ استعمال کیاہے لیکن اس کے بعد آنے والے ابن کثیردمشقی (متوفی ۷۷۴ھ)نے یوں کہا ہے :

وقد انتفع معاویة بھذہ الدعوة فی دنیا واخراہ

 

معاویہ کو اس دعا سے دنیا و آخرت کا فائدہ حاصل ہوا ہے۔ 2  

معاویہ کے بارے میں صحیح مسلم میں مروی روایت پر یہ تھا ابن کثیر کا تبصرہ۔

 

صحیح مسلم باب (من لعنة النبی اوسبہ جعل اللہ لہ زکاة وطھوراً)میں ابن عباسسے یہ روایت منقول ہے:

 

میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے۔میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔آپ(ص) آئے اور مجھے ایک تھپکی دے کر فرمایا:جاؤ اور معاویہ کو میرے پاس بلاؤ۔وہ کھانا کھا رہا تھا پس میں نے آکر کہا:وہ کھانے میں مشغول ہے۔ اس کے بعد پھر مجھ سے فرمایا:جاؤ اور معاویہ کو بلاؤ۔ابن عباس کہتے ہیں :میں نے آکر کہا:وہ کھانے میں مصروف ہے فرمایا:

خدا اس کے شکم کو کبھی سیر نہ کرے۔3  یہ تھے مسلم کے الفاظ۔

اس حدیث کو ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں نقل کیاہے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس جملے”جاؤ اور معاویہ کو میرے پاس بلاؤ“کے بعد اس جملے کا اضافہ کیاہے:”وہ وحی لکھ رہا تھا۔“ابن کثیر کی بیان کردہ روایت کے الفاظ یہ ہیں :

ابن عباس سے منقول ہے کہ میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہاتھاکہ اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آگئے۔میں نے سوچاآپ تو بس میری ہی طرف آرہے ہیں۔ پس میں ایک دروازے کی اوٹ میں چھپ گیا۔پھر رسول اللہ(ص) میرے پاس آئے۔ آپ نے مجھے ایک تھپکی دی یادو تھپکیاں دیں اور فرمایا:جاؤ معاویہ کو میرے پاس بلالاؤ(اس وقت وہ وحی لکھ رہاتھا(ابن کثیر))۔ابن عباسکہتے ہیں :پس میں گیااور اسے آپ(ص) کے پاس بلایا۔مجھے جواب ملاکہ وہ کھانے میں مشغول ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آکر عرض کیاکہ وہ کھانے میں مشغول ہے۔ فرمایا:جاؤ اور اسے بلالاؤ۔ میں دوسری بار اس کے پاس آیا اور مجھے جواب ملاکہ وہ کھانے میں مشغول ہے۔میں نے حضور(ص) کو اس کی اطلاع دی تو تیسرے مرحلے میں آپ (ص) نے فرمایا: خدا اس کے شکم کو کبھی سیر نہ کرے۔ راوی کہتاہے کہ اس کے بعد اس کا شکم کبھی سیر نہیں ہوا۔

 

اب ابن کثیر کہتا ہے کہ اس دعاسے معاویہ کو دنیاوآخرت دونوں میں فائدہ حاصل ہوا۔دینوی فائدہ یہ ہوا کہ جب وہ شام کا حاکم بنا تو دن میں سات بار کھانا کھاتاتھا۔اس کے پاس ایک پیالہ لایاجاتاتھا جس میں کافی مقدار میں گوشت اور پیاز ہوتاتھا اور وہ اس سے کھاتاتھا۔وہ دن میں سات بار کثیر مقدار میں گوشت، حلوہ اور میوہ جات پر مشتمل کھاناکھاتاتھااور کہتاتھا:اللہ کی قسم میں سیر نہیں ہوا البتہ (کھاکھاکر)تھک گیاہوں۔اور یہ ایک نعمت ہے کیونکہ تمام سلاطین شکم کے معاملے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔رہا اخروی فائدہ تووہ اس حدیث سے ظاہر ہے جسے مسلم نے مذکورہ حدیث سے نقل کیاہے۔ اس حدیث کو مسلم و بخاری کے علاوہ دوسروں نے بھی ایک سے زیادہ اسناد کے ساتھ صحابہکی ایک جماعت سے نقل کیاہے۔ حدیث کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

اے اللہ میں تو بس ایک بشر ہوں پس جس کسی انسان کو میں نے گالی دی ہو یاتازیانہ ماراہو یااس کے حق میں میں نے بددعاکی ہوحالانکہ وہ اس کا اہل نہ ہوتو اسے اس کے لیے کفارہ قرار دے اور قیامت میں اپنے تقرب کا وسیلہ قرار دے۔

          یوں مسلم نے پہلی حدیث اوراس دوسری حدیث کو باہم ملاکر معاویہ کے لیے فضیلت کا ایک نسخہ تیارکرلیاہے۔اس نے اس کے علاوہ کوئی روایت اس کے حق میں بیان نہیں کی۔ابن کثیر کے اس قول (کہ معاویہ کے لیے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بددعا اس کے لیے دنیاوآخرت میں دعائے خیر کی مانند ہے)کا مقصد یہ ہے کہ دنیامیں تو بادشاہوں کے لیے خوب پیٹ بھر کر کھانا باعث غنیمت ہے جیساکہ خود اس نے ذکر کیا اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے منسوب احادیث کی رو سے وہ فائدے میں ہے کیونکہ اس حدیث کے مطابق (نعوذباللہ)نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مومنین پر لعنت کرتے تھے۔ ادھر آپ(ص) نے یہ دعاکی کہ آپ کا یہ عمل ان کے لیے طہارت و پاکیزگی کا باعث بنے۔یوں مسلم نے مذکورہ حدیث کو اس باب کے آخر میں نقل کرکے معاویہ کو قیامت کے دن خدا کی خوشنودی اور اللہ سے قربت کا مستحق ثابت کیا۔ ملاحظہ فرمائیں ان احادیث و اخبار میں کس طرح تاویل سے کام لیا ہے۔ جن میں صاحب اقتدار خلفاء اور حکام کی مذمت ہوئی اور کس طرح سے ان احادیث و اخبار سے حکام کے لیے مدح و ثناء کا پہلو نکالتے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کی نقل کردہ اس روایت پر اعتراض ہے جس میں کہاگیاہے کہ معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مومنین پر لعنت کرتے تھے۔(ہم خدا کے ہاں اس بات سے پناہ مانگتے ہیں)۔

اعادہ نظر یہاں ہم حقائق کی پردہ پوشی کی اقسام میں سے روایات کے معانی میں تاویل والی قسم کی بحث دوبارہ چھیڑتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ اس قسم کی تاویل کی ایک مثال حضرت سعد بن ابی وقاص کی طرف سے ابومحجن سے شراب خوری کی حد کو ساقط کرنے کے واقعے میں ملتی ہے۔ ابن فتحون اور ابن حجر عسقلانی نے سعد بن ابی وقاص کے قول میں تاویل کی چال چلائی ہے۔سعدنے ابومحجن سے کہاتھا:اللہ کی قسم ہم تمہیں شراب خوری پر تازیانے نہیں ماریں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد آپ(ص) کے خلفاء اور اماموں کی تعدادکے بارہ ہونے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کی بحث میں اس بات کا تذکرہ ہوگا کہ جب مکتب خلفاء کے معتقدین نے دیکھاکہ اس سے مراد آل رسول(ص) کے بارہ اماموں کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتاتو وہ اس کی تاویل کرتے کرتے خود دلدل میں پھنس گئے جس سے نکلنا محال ہوگیا۔علمائے حدیث میں سے ہر ایک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کو آل رسول(ص) کے بارہ اماموں کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں پر منطبق کر نے کی کوشش کی ہے۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی تاویل دوسرے کی تاویل سے مختلف ہے اس لیے ہر کوئی دوسرے کی تاویل کو نہیں مانتا اور اسے رد کرتاہے۔اس قسم کی حق پوشی کا ایک مظاہرہ طبرانی نے درج ذیل حدیث کے معاملے میں کیاہے جیسا کہ مجمع الزوائد( ج۹ ص ۱۱۳۔  ۱۱۴) میں مذکور ہے۔ حضرت سلمان فارسیسے مروی ہے:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کیا:

 

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بلاشک و شبہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتاہے۔ پس آپ کا وصی کون ہے؟

 

آپ(ص) خاموش ہو گئے۔ بعد میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا:

 

اے سلمان!

 

یہ سن کر میں جلدی سے حضور(ص)کے پاس آیااور عرض کیا: لبیک۔

فرمایا: کیاتجھے معلوم ہے کہ موسی کا وصی کون تھا؟

میں نے کہا: جی ہاں،وہ یوشع بن نون تھے۔

فرمایا:کیوں؟

میں نے عرض کیا :کیونکہ وہ اپنے دور کے سب سے بڑے عالم تھے فرمایا : پس میرا وصی، میرا محرم راز، میرے بعد سب سے بہترین انسان، میرے وعدوں کو نبھانے والا اور میرے قرضوں کو چکانے والا علی ابن ابی طالب(ع)ہے۔

طبرانی نے اسے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

 

 

میراوصی“ اس لیے فرمایاکیونکہ حضور(ص) نے انہیں اپنے گھر والوں کے بارے میں وصیت کی نہ کہ خلافت کی “۔ 4

یہ تھا وہ بیان جسے ہیثمی نے طبرانی سے مجمع الزوائدمیں نقل کیاہے۔

مذکورہ حدیث اور اس میں طبرانی کی تاویل کا تنقیدی جائزہ یہ دیکھنے کے لیے کہ اس حدیث میں طبرانی کی تاویل کہاں تک درست ہے ہم اس حدیث کا تین پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہیں :

 

۱۔ سائل کے بارے میں۔

۲۔ سوال کے بارے میں۔

۳۔ جواب دینے میں نبی کی حکمت عملی کے بارے میں۔

سائل (سوال کرنے والے )حضرت سلمانایرانی النسل تھے ان کا تعلق نہ عبد المطلبکی اولاد سے تھا نہ ازواج رسول(ص) کے رشتہ داروں سے اور نہ ہی سلماناور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دامادی کا رشتہ تھا جو اسے اس بات کی فکر ہوتی کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر والوں میں کس کو وصی بناتے ہیں بلکہ حضرت سلمان فارسیمسلمان ہونے سے پہلے عیسائی راہبوں اور علماء کے ساتھ رہے تھے۔انہوں نے سابقہ امتوں، انبیاء اور اوصیاء کے بارے میں علم حاصل کر رکھاتھا۔اسی لیے سلماننے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیاکہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتاہے پس آپ کا وصی کون ہے؟ بنابریں جناب سلمان فارسیکاسوال رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کے معاملے میں آپ(ص)کے وصی اور امت کے لیے آپ کے ولی عہد سے مربوط تھا۔چنانچہ سلماننے آپ سے یہ نہیں پوچھا کہ ہر گھرانے کا سربراہ کسی کو اپنا وصی مقرر کرتا ہے پس آپ(ص) کے بعد آپ(ص) کا کون وصی ہے؟اس صورت میں یہ کہا جاسکتاتھا کہ ان کا سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھریلو جانشین کے بارے میں تھا۔رہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جواب اور آپ کی طرف سے جواب دینے میں تاخیر کی وجہ تو واضح رہے کہ اہم امورکے بارے میں آپ(ص)کی یہی روش تھی۔آپ (ص) اہم معاملات میں حکم آسمانی کے منتظر رہتے تھے۔جیسا کہ تحویل قبلہ کے مسئلے میں آپ(ص) نے مدینہ میں وحی کا انتظار کیا حالانکہ جانتے تھے کہ کعبہ ہی قبلہ ہوگا یہاں تک کہ یہ آیت اتری :

قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضَا ھَا ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ پس ہم ضرور بہ ضرور آپ کا رخ آپ کے پسندیدہ قبلے کی طرف موڑ دیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکومت کے معاملے میں عرب لوگوں کے شوق رقابت کا علم تھا۔ دوسری طرف سے مدینہ کا مختصر سا اسلامی معاشرہ جس کی بنیاد آپ(ص) نے رکھی تھی آپ(ص) کے بعد حضرت علی(ع)کی ولی عہدی کی خبر کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔اس لیے حضور(ص) نے سلمان فارسیکے سوال کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔شاید آپ نے سلمان فارسیکو اس وقت جواب دیا جب آپ کواس کی اجازت مل گئی۔تب رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلمانکے ساتھ گفتگو میں پہل کی اور اسے غور سے جواب سننے کے لیے تیار کرنے کی خاطر حضرت موسی کے وصی کے بارے میں سوال کیا جبکہ آپ(ص) کو علم تھا کہ سلمان علمائے اہل کتاب سے حاصل شدہ علوم کی بنیاد پر اس مسئلے سے آگاہ ہے۔جب سلماننے جواب دیا کہ موسی کے وصی یوشع بن نون ہیں تو رسول اللہ(ص) نے دوسرا سوال کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟سلمان نے جواب دیا :اس (یوشع بن نون کے وصی ہونے )کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:پس میرا وصی علی ابن ابی طالب(ع)ہے

آپ کا سلمانکو مذکورہ بالاطریقے سے جواب دینے کی وجوہات یہ ہیں:

۱۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوشعبن نون کی مثال اس لیے دی کیونکہ وہ ابنیاء علہیم السلام کے اوصیاء میں سب سے زیادہ معروف وصی تھے اور حضرت موسی بن عمران نے انہیں اپنے بعد اپنی امت پر وصی بنایا تھا۔چنانچہ حضرت یوشعبن نون نے بنی اسرائیل کی قیادت کی اور جنگیں لڑیں جس طرح حضرت علی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اپنے دور حکومت میں یہی کیا۔

۲۔ آپ(ص) نے یوشع کے وصیِ موسی بننے کی وجہ پوچھی اور سلماننے جواب دیا کہ اس کی وجہ ان کا عالم ہونا تھا۔

اس سوال و جواب سے آپ(ص) کا مقصد یہ بتانا تھا کہ حضرت علی (ع)کا وصی ہونا آپ(ص) کے ابن عم ہونے کی بناء پر نہ تھااور نہ اس وجہ سے کہ علیعلیہ السلام نے غیر معمولی شجاعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگوں میں اسلام کی حفاظت کی بلکہ اس کی وجہ علی(ع) کا سب سے بڑا عالم ہونا تھی۔ یوں آپ(ص) نے اسلام و مسلمین کی قیادت کے لیے حضرت علی(ع) کے اندر وصی بننے کی صلاحیت و قابلیت کی موجودگی کا اعلان فرمایا اور اس کی مزید وضاحت کے لیے فرمایا:وہ میرا محرم راز ہے اور میرے بعد تمام لوگوں سے بہتر ہستی ہے لیکن طبرانی نے اس حدیث مبارکہ کے معنی میں من پسند تاویل کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد ہے:

 

وہ میرے اہل بیت میں سب سے بہتر ہے“۔

 

یہ تھی اس حدیث میں طبرانی کی تاویل جس حدیث میں کسی قسم کے ضعف یا عیب کا شائبہ اسے نہیں ملا۔

حوالہ جات

 

۱ تذکرة الحفاظ صفحہ ۷۶۹۸ تا ۷۰۱ طبع حیدر آباد دکن۔

 

2 البدایہ و النہایہ ج۸ صفحہ ۱۱۹             

 3 صحیح مسلم کتاب البر والصلة صفحہ ۲۰۱۰ حدیث ۹۶

4 طبرانی کی یہ حدیث گذشتہ صفحات میں گذر چکی ہے۔

منبع :شیعہ اسٹڈیز ڈاٹ نٹ   

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved