• تاریخ: 2011 نومبر 07

محمد زہری کی چند جعلی حدیثیں


           


اب ہم اس کاایک نمونہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی سے نقل کرتے ہیں یہ نمونہ محمد بن شہاب زہری (۱) کے ساتھ حضرت (ع) کے طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے ۔
محمد بن شہاب زہری شروع میں امام سجاد علیہ السلام کے شاگردوں اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں میں نظر آتا ہے یعنی یہ وہ شخص ہے جس نے حضرت (ع)سے علوم حاصل کئے ہیں اور حضرت (ع)سے حدیثیں بھی نقل کی ہیں پھر بھی رفتہ رفتہ ---اپنے اندر پائے جانے والی جسارت کے باعث ----یہ شخص دربار خلافت سے قریب ہو تا گیا اور پھر ان درباری علماء محدثین کے زمرہ میں شامل ہو گیا جو ائمہ علیہم السلام کے بالمقابل، کھڑے کئے گئے تھے ۔ 
محمد بن شہاب زہری کی افتاد طبع سے مزید آشنائی پیدا کرنے کے لئے پہلے ہم اس کے بارہ میں چند حدیثیں نقل کرتے ہیں ۔
ان میں ایک حدیث وہ ہے جس میں وہ خود کہتا ہے ” کنا نکرہ کتابُ العلم حتی اکرھنا علیہ ھوٴ لاء الا مراء فرا٘ ینا ان لا یمنعہ احد من المسلمین “ (۲) شروع میں علمی قلم نگار ی سے کام لینا ہمیں اچھا نہ لگتا تھا یہاں تک کہ امراء و حکام نے ہم کو اس بات پر آمادہ کیا کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں قلم بند کردیں تاکہ کتاب کی صورت میں آجائے اس کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ کسی بھی مسلمان کو اس کام سے منع نہ کریں اور ہمیشہ علم و دانش سپر و قلم ہوتے رہیں ۔
اس گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تک محدثین کے اس گروہ کے درمیان یہ دستور رواج نہیںپایا تھا کہ جو حدیثوں کو جانتے ہیں لکھ بھی ڈالیں ۔اسی طرح محمد بن شہاب زہری کا امراء کی خدمت میں ہونا اور ان کا اس کو اپنے علم و خواہش کے تحت حدیث قلمبند کرنے پر ابھارنا بھی اسی عبارت سے ثابت ہے ۔
ایک ” معمر “ نامی شخص کہتاہے :ہمارا خیال تھا کہ ہم نے زہری سے بہت زیادہ حدیثیں نقل کی ہیں یہاں تک کہ ولید مارا گیا ،ولید کے قتل ہوجانے کے بعد ہم نے دیکھا کہ دفتروں کا ایک انبار ہے جو چوپایوں پر لاد کر ولید کے خزانے سے باہر کیا جا رہا ہے اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ : یہ سب زہری کا علم ہے ۔ (۳) یعنی زہری نے ولید کی خواہش اورخوشامد میں اتنے دفاتر وکتب ،حدیثوں سے پر کر دیئے تھے کہ جب ولید کے خزانے سے ان کو نکالنے کی نوبت آئی تو چوپایوں پر بار کرنے کی احتیاج محسوس ہوئی ۔یہ دفاتر و کتب جو ولید کے حکم سے ایک شخص کے ذریعہ حدیثوں سے پر ہوئے ظاہر ہے ان میں کس طرح کی حدیثیں ہو سکتی ہیں ؟ بلا شبہ ان میں ایک حدیث بھی ولید کی مذمت اور اسے متنبہ کرنے والی نہیں مل سکتی بلکہ اس کے بر خلاف یہ وہ حدیثیں ہیں جن کے ذریعہ ولید اور ولید جیسوں کے کرتوتوں پر مہر تصدیق ثبت کی گئی ہے ۔
ایک دوسری حدیث زہری کے بارہ میں ہے جو بلا شبہ اس دور سے مربوط ہے جب زہری دربار خلافت سے وابستگی اختیار کر چکا تھا یعقوبی اپنی تاریخ میں لکھتا ہے: ۔
” ان الزھری نسب الیٰ رسول اللّٰہ (ص) انہ قال : لا تشدالرجال الا الیٰ ثلاثۃ مساجد : المسجد الحرام و مسجد المدینۃ و المسجد الاقصیٰ و ان الصخرۃ التی وضع رسول اللّٰہ قدمہ علیہا تقوم مقام الکعبۃ“ (۴)
یعنی زہری نے رسول خدا (ص) کی طرف نسبت دی ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے : صاحبان ایمان و تقدس سفر نہیں اختیار کرتے مگر یہ کہ تین مساجد ---- مسجد حرام ،مسجد مدینہ اور مسجد اقصیٰ ---- کی طرف اور وہ پتھر جس پر مسجد اقصیٰ میں ،رسول خدا (ص)اپنا قدم (مبارک) رکھا تھا اس (پتھر) کو کعبہ کی منزل حاصل ہے !!
حدیث کا یہی آخری ٹکڑا میری توجہ کا مرکز ہے جس میں مسجد اقصیٰ کے ایک پتھر کو کعبہ کا مقام عطا کرتے ہوئے اس کے لئے اسی شرف و اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے جو کعبہ کو حاصل ہے ۔
یہ حدیث اس زمانے کی ہے جب عبداللہ بن زبیر کعبہ پر مسلط تھے اور جب کبھی لوگوں کے دل میں حج (یا عمرہ) کے لئے جانے کی خواہش ہوتی وہ مجبور تھے کہ مکہ میں ---- ایک علاقہ جو عبداللہ ابن زبیر کے زیر نفوذ ہے ---- کچھ روز بسر کریں اور یہ عبد اللہ ابن زبیر کے لئے اپنے دشمنوں کے خلاف جن میں عبد الملک ابن مروان کا نام سر فہرست آتا ہے ،پروپیگنڈہ کا سنہرہ موقع ہوتا تھا چوں کہ عبد الملک کی کوشش تھی کہ عوام ان پر وپیگنڈوں سے متاثر نہ ہونے پائیں لہٰذا وہ ان کا مکہ جانا پسند نہ کرتا تھا چنانچہ اس نے اس کی بہترین اور آسان ترین راہ یہ دیکھی کہ ایک حدیث گڑھی جائے جس کے تحت مسجد اقصیٰ کو شرف و منزلت میں مکہ اور مدینہ کے برابر قرار دے دیا جائے حتی کہ وہ پتھر جو مسجد اقصیٰ میں ہے کعبہ کے برابر شرف ومنزلت کا حامل ہو !حالانکہ ہم جانتے ہیں اسلامی ثقافت و اصطلاح میں ،دنیا کا کوئی خطہ کعبہ کی قدر و منزلت کو نہیںپہنچ سکتا اور دنیا کا کوئی پتھر خانہ کعبہ کے پتھر ---- حجر اسود ---- کا مقام حاصل نہیں کر سکتا ۔ اس اعتبار سے اس حدیث کے گڑھنے کی حاجت اسی لئے پڑی کہ عوام کو خانہ کعبہ نیز مدینہ منورہ کی طرف سامان سفر باندھنے سے منصرف کرکے فلسطین کی طرف جانے پر ابھارا جائے کیوں کہ کعبہ کی طرح مدینہ بھی غالبا عبد الملک کے دربار کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کا مرکز رہا ہوگا اس کے برخلاف فلسطین شام کا ہی ایک جزو تھا اور وہاں عبدالملک کو پورا تسلط اور نفوذ حاصل تھا ۔اب یہ جعلی حدیث عوام الناس پر کس حد تک اثر انداز ہوئی اس کو اور اق تاریخ میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا کبھی ایسا اتفاق رونما ہوا کہ لوگ مکہ جانے کے بجائے بیت المقدس کی طرف ” صخرہ“ کی زیارت کے لئے گئے ہوں یا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ؟ بہر حال اگر کبھی اس طرح کا اتفاق ہوا بھی تو اس کا اصل مجرم یا مجرمین میں سے ایک محمد بن شہاب زہری کو سمجھنا چاہئے جس نے اس طرح کی حدیث وضع کرکے عوام الناس کو ایسے شک و شبہ میں مبتلا کیا جب کہ اس کا مقصد محض عبد الملک بن مروان کے سیاسی مقاصد کو تقویت پہنچاناتھا۔ 
اب جب کہ محمد بن شہاب زہری در بار خلافت سے وابستہ ہو چکا تھا اس کے لئے امام زین العابدین علیہ السلام یا خاندان علوی سے متعلق تنظیم کے خلاف حدیثیں گڑھنے میں بھلا کیا باک ہو سکتا تھا ۔چنانچہ اس سلسلہ میں مجھے دو حدیثیں سید عبد الحسین شرف الدین مرحوم کی کتاب ” اجوبۃ مسائل جار اللہ “ میں ملیں جن میں سے ایک روایت میں محمد بن شہاب دعویٰ کرتا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام ”جبری “ تھے ! اور پیغمبر اسلام (ص) سے استناد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قرآن کی آیت ” وکان الانسان اکثر شیئی جدلا “ میں” انسان “ سے مراد امیر المومنین علیہ السلام ہیں ’(العیاذباللہ)۔
دوسری روایت میں نقل کرتا ہے کہ سید الشہدا ء جناب حمزہ نے (معاذاللہ) شراب پی تھی ۔یہ دونوںروایتیں برسر اقتدار سیاسی ٹولے بنو امیہ اور ان کے سربراہ عبد الملک بن مروان کو ائمہ ھدیٰ علیہم السلام کے مقابلہ میں تقویت و حمایت پہنچانے کے لئے گڑھی گئی ہیں تاکہ اس طرح خاندان پیغمبر اسلام (ص)کے اس سلسلۃ الذہب کو جو امویوں کے مقابلے میں ہمیشہ ثابت قدم رہا ہے مسلمانوں کی اعلیٰ ترین صف سے خارج کردیں اور ان کو اس طور پر پیش کریں کہ وہ احکام اسلام سے لگاؤ اور اس پر عمل کے لحاظ سے ایک متوسط درجہ کے قاصر و عاصی انسان یا بالکل ہی عوامی سطح کے حامل بلکہ اس سے بھی گئے گزرے افراد نظر آئیں ۔
یہ روایت دربار خلافت سے وابستگی کے دوران محمد بن شہاب زہری کی صورت حال پر بھی روشنی ڈالتی ہے ،یقینا اگر زہری کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اس کی فکری و سماجی پوزیشن کا مل طور پر مشخص ہو سکتی ہے میں یہاں اس کو رجال کی کتابوں کے حوالے کرتا ہوں جن میںاس کے حالات تفصیل کے ساتھ درج ہیں ۔
بہر حال !ایک ایسا شخص جو دربار خلافت میں بہت زیادہ تقرب و منزلت کا حامل ہے اور عوام کے افکار پر بھی پورے جاہ و جلال کے ساتھ مسلط ہے ۔ ۱# یقینا اسلامی تحریک کے لئے ایک خطرناک وجود شمار کیا جائے گا اور اس کے سلسلے میں کوئی دنداں شکن پالیسی اختیار کرنا فطری سی بات ہے ۔
چنانچہ اس شخص کے مقابلہ میں امام سجاد علیہ الصلوٰۃ و السلام نہایت ہی سخت طریقہ کا ر کا انتخاب کرتے ہیں اور آپ (ع) کی یہ سخت گیری ایک خط میں منعکس نظر آتی ہے البتہ ممکن ہے کوئی فکرکرے کہ بھلا ایک خط کے ذریعہ کس حد تک حضرت (ع)کے طرز عمل کا تعین کیا جاسکتا ہے پھر بھی اس حقیقت کے پیش نظر کہ اس خط کا لب و لہجہ خو دزہری کے سلسلہ میں بھی اور اس طرح بر سر اقتدار حکومتی مشینری کے خلاف بھی بہت ہی سخت اور شدید ہے اور یہ خط محمد بن شہاب تک محدودنہیں رہتا ،دوسروں کے ہاتھ میں بھی پڑتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ ایک زبان سے دوسری زبان اور ایک منھ سے دوسرے منھ تک ہوتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دامن تاریخ پہ ثبت ہو کر تاریخ کا ایک جزوبن جاتا ہے اور آج تیرہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی ہم اس خط کے بارے میں بحث کررہے ہیں ---- ان امور پہ توجہ کرنے کے بعد ---- ہم بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ خط زہری جیسے نام نہاد علماء کے شیطانی تقدس پر کیسی کاری ضرب وارد کرتا یقینا اس خط کا اصل مخاطب محمد بن شہاب زہری ہے لیکن یہ اپنی زد میں اس جیسے تمام ضمیر فروش افراد کو لئے ہوئے ہے ۔ظاہر ہے جس وقت یہ خط مسلمانوں ،خصوصا اس زمانے کے شیعوں کے ہاتھ آیا ہوگا اور ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پہنچا ہوگا ان کے درمیان اس قسم کے درباری افراد کے لئے کیسی سخت بے اعتمادی پیدا ہوئی ہوگی ۔
اب ہم اس خط کے کچھ حصے نقل کرتے ہیں :
خط کی ابتدا ء ان الفاظ میں ہوتی ہے : ”کفانا اللّٰہ و ایاک من الفتن ورحمک من النار“ خدا وند عالم ہمیں اور تمھیں فتنوں سے محفوظ رکھے اور تم پر آتش جہنم سے رحم کرے ۔دوسرے فقرے میں صرف اس کو مورد خطاب قرار دیا ہے کیوں کہ فتنوں سے دو چار ہونا سب کے لئے ہے اور ممکن ہے خود امام سجاد علیہ السلام بھی کسی اعتبار سے دوچار ہوں لیکن فتنہ میں غرق ہونا امام سجاد علیہ السلام کے لئے ناممکن ہے اس کے بر خلاف زہری فتنہ سے دو چار بلکہ فتنہ میں غرق ہے۔دوسری طرف آتش جہنم امام سجاد علیہ السلام کے قریب نہیں آسکتی لہٰذا حضرت (ع) اس کی نسبت محمد بن شہاب کی طرف دیتے ہیں خط کا آغاز ہی ایسے لب و لہجہ میں کیا جانا جو نہ صرف مخالفانہ بلکہ تحقیر آمیز بھی ہو زہری کے تئیں حضرت (ع)کے طرز عمل کی خود دلیل ہے ۔
اس کے بعد فرماتے ہیں : ” فقد اصبحت بحال ینبغی لمن عرفک بھا ان یرحمک “تم اس منزل پر کھڑے ہو کہ جو شخص بھی تمھاری حالت کو سمجھ لے وہ تمھارے حال زار پر رحم کرے ۔غور فرمایئے کہ یہ کس شخصیت سے خطاب ہے ؟
یہ ایک ایسے شخص سے خطاب ہے جس پر لوگ غبطہ کرتے ہیں جس کا دربار حکومت میں بزرگ علمائے دین میں شمار ہوتا ہے ۔پھر بھی امام علیہ السلام اس کو اس قدر حقیر و ناتواں خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں : تو اس قابل ہے کہ جو لوگ تجھے اس حال میں دیکھیں ،تیرے حال پر رحم کریں ۔
اس کے بعد اس کو مختلف الٰہی نعمتوں سے نوازے جانے اور خدا کی جانب سے ہر طرح کی حجتیں تمام ہونے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے امام (ع) کہتے ہیں ” ان تمام نعمتوں کے باوجود جو تجھے خدا کی جانب سے ملی ہیں کیا تو خدا کے حضور کہہ سکتا ہے کہ کسی طرح تونے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا ؟ یا نہیں “ پھر قرآن کی چند آیتوں کا ذکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں : خدا وند عالم تیرے قصور و گناہ سے ہر گز راضی نہیں ہو سکتا کیوں کہ خدا وند عالم نے علماء پر فرض کیا ہے کہ وہ حقائق کو عوام الناس کے سامنے بیان کریں اور کتمان حق سے کام نہ لیں :” لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ“
اس تمہید کے بعد جس وقت امام خط کے اصل مطلب پر آتے ہیں تو محمد بن شہاب کے حق میں خط کا انداز اور بھی سخت ہو جاتا ہے :۔
”واعلم ان ادنی ما کتمت واخف ما احتملت ان انست و حشہ الظالم و سھلت لہ طریق العزبد نوک منہ حین دنوت و اجابتک لہ حین دعیت “
یاد رکھ! وہ معمولی ترین چیز جس کے سلسلہ میں تونے کتمان سے کام لیا ہے اور وہ سبک ترین بات جو تونے برداشت کی ہے یہ ہے کہ ظالموں کے لئے جو چیز و حشت ناک تھی اس کو تونے راحت و انسیت کا سامان بناکر ان کے لئے گمراہی کے راستے مزید ہموار کر دیئے ۔ اور یہ کام تونے محض ان کا تقرب حاصل ہوجانے کے لئے کیا چنانچہ انھوں نے تجھ کو جب بھی (کسی امر کی) دعوت دی تو تیار ہوگیا ۔
یہاں حضرت (ع) اس کی دربار حکومت و خلافت کے ساتھ قربت و وابستگی کو اس طرح اس کے سامنے پیش کرتے ہیں گویا سر پہ تازیانہ مار رہے ہوں۔:
” ․․․․ انک اخذ ت مالیس لک ممن اعطاک “
ان لوگوں سے جو کچھ تجھ کو حاصل ہوا وہ تیرا حق نہ تھا پھر بھی تونے لے لیا۔
” ودنوت ممن لم یرد علی احد حقاو لم ترد باطلاحین ادناک “
اور توایک ایسے شخص کے قریب ہو گیا جس نے کسی کا کوئی حق واپس نہ کی ( یعنی خلیفہ ستمگر) اور جب اس نے تجھ کو اپنی قربت میں جگہ دی تو تونے ایک بھی باطل اس سے دور نہ کیا ۔یعنی تو بہانہ نہیں بنا سکتا کہ میں اس لئے قریب ہوا تھا کہ احقاق حق اور البطال باطل کر سکوں کیوں کہ تو جس وقت سے اس کے ساتھ ہے کسی بھی امر باطل کا خاتمہ نہ کر سکا جب کہ اس کادربار سراسر باطل سے معمور ہے ۔
” واحببت من عاد اللّٰہ “ تونے دشمن خدا کو اپنی دوستی کے لئے منتخب کر لیا ۔ اس تہدید نامہ میں امام (ع) کا وہ جملہ جو ذہن کو سب سے زیادہ جھنجھوڑتا ہے یہ ہے کہ امام فرماتے ہیں :۔
”او لیس بدعائہ ایاک ----حین دعاک ---- جعلوک قطباً اداروابک رحی مظالمھم وجسر ایعبرون علیہ الیٰ بلا یا ھم و سلما الیٰ ضلالتھم د اعیا الیٰ غیھم سالکا سبیلھم یدخلون بک الشک علی العلماء و یقتا دون بک قلوب الجھال الیھم “
آیا ایسا نہیں ہے اور تو نہیں جانتا کہ انھوں نے جب تجھ کو خود سے قریب کر لیا تو تیرے وجود کو ایک ایسا قطب اور محور بنا دیا جس کے گرد مظالم کی چکی گردش کرتی رہے اور تجھ کو ایک ایسا پل قرار دے دیا جس سے ان کی تمام غلط کاریوں کے کاردان عبور کرتے رہتے ہیں ۔انھوں نے ایک ایسی سیڑھی تعمیر کر لی ہے جو انھیں ان کی ذلت و گمراہی تک پہنچنے میں سہارا دیتی ہے تو ان کی گمراہیوں کی طرف دعوت دینے والا اور ان ہی کی راہ پر چلنے والا بن گیا انھوں نے تیرے ذریعہ علماء میں شک و شبہ کی فضا پیدا کر دی اور جاہلوں کے قلوب اپنی جانب جذب کرلئے ۔یعنی تو علما کے اندر یہ شک و شبہ پیدا کرنے کا سبب بنا کہ کیا حرج ہے کہ ہم بھی دربار حکومت سے وابستہ ہو جائیں ؟ بلکہ بعض اس دھوکے میں آبھی گئے ( اس کے علاوہ ) تو اس بات کا بھی سبب بنا کہ جہلاء بڑے اطمینان کے ساتھ خلفا ء کی طرف مائل اور ان میں جذب ہوگئے ۔اس کے بعد حضرت (ع) فرماتے ہیں:
” فلم یبلغ اخص و زرئھم ولا اقوی اعوانھم الا دون ما بلغت من اصلاح فسادھم ․․․․“
ان کے نزدیک ترین وزراء اور زبردست ترین احباب بھی ان کی اس طرح مدد نہ کر سکے جس طرح تونے ان کی برئیوں کو عوام کی نظروں میں اچھا بناکر پیش کرکے مدد کی ہے ۔
یہ خط لب ولہجہ کے اعتبار سے نہایت ہی سخت اور مضامین کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔امام زین العابدین علیہ السلام نے اس خط کے ذریعہ سیاسی قدرت و اقتدار اور اجتماعی زمام و اختیار کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی علمی و فکری اقتدار اور زمامداری کی لہر کو ذلیل و رسوا کر دیا اور وہ لوگ جو دربار کے ساتھ روابط استوار کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے ان کی نیندیں اڑگئیں وہ معاشرہ میں ایک سوال بن کر رہ گئے ایک ایسا سوال جو ہمیشہ کے لئے اسلامی در و دیوار پہ ثبت ہو کر رہ گیا اس وقت کا معاشرہ بھی اس سوال سے دو چار تھا اور تاریخ کے ہر دور میں یہ سوال اپنی جگہ بر قرار رہے گا۔
میری نظر میں یہ امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ حضرت (ع) نے اپنی جد جہد محض ایک محدود طبقہ میں علمی و تربیتی تحریک پیدا کرنے تک محدود نہیں رکھی بلکہ سیاسی تحریک تک میں اس پیمانے پر حصہ لیتے رہے ہیں ۔ اس میدان میں امام علیہ السلام کی زندگی کا ایک اور رخ بھی ہے جو شعرو شاعری سے مربوط ہے اور انشاء اللہ اس پر آگے بحث ہو ہوگی ۔
امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آیا یہ عظیم ہستی ارباب خلافت اور ان کی مشینری سے متعرض ہو ئی ہے یا نہیں؟
گزشتہ مباحث میں اس موضوع پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی جا چکی ہے یہاں ذرا تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ہم اس پہلو کا جائزہ لینا چاہتے ہیں :
ائمہ علیہم السلام کی تحریک کے تیسرے مرحلہ کے آغاز کی حکمت عملی

جہاں تک امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا میں نے مطالعہ کیا ہے اور میری یادداشت کا سوال ہے مجھے حضرت (ع) کی زندگی میں کوئی ایک موقع بھی ایسا نہ مل سکا جہاں حکومت سے آپ (ع) نے اس طرح سے صریحی طور پر تعرض کیا ہو جیسا کہ دیگر ائمہ علیہم السلام مثلا بنی امیہ کے دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام یا بعد میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے یہاں نظر آتا ہے ۔اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کیوں کہ ائمہ معصومین علیہم اسلام کی امامت اور سیاسی تحریک کے وہ چار ادوار جس کے تیسرے مرحلہ کا آغاز امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی سے ہوتا ہے اگر اسی مرحلہ میں خلافت سے تعرض کی تحریک شروع کردی جاتی تو پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ خطروں سے معمور ذمہ داریوں کا یہ کارواں ، اہل بیت علیہم السلام جس منزل تک لے جانا چاہتے تھے نہیں پہنچ سکتا تھا وہ گلستان اہلبیت (ع) جس کی تربیت و آبیاری امام سجاد علیہ السلام جیسے ماہرانہ صلاحیت کا حامل باغباں کر رہا تھا ،ابھی اتنا زیادہ مستحکم اور پائدار نہیں ہو سکتا تھا اس باغ میں ایسے نورس نونہال بھی موجود تھے جن میں طوفانی جھکڑوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ جیسا کہ ہم اس بحث کے آغاز میں اشارہ کر چکے ہیں ،امام علیہ السلام کے گردو پیش اہلبیت (ع) سے محبت و عقیدت رکھنے والے مومنین کی بہت ہی مختصر سی تعداد تھی اور اس زمانے میں ممکن نہیں تھا کہ اس قلیل تعداد کو جس کے کاندھوں پر شیعی تنظیم کو چلانے کی عظیم ذمہ داری بھی ہے ظالم تھپیڑوں کے حوالے کر کے ان کو موت کے گھاٹ اتر جانے پر مجبور کر دیں ۔
اگر تشبیہ دینا چاہیں تو امام زین العابدین علیہ السلام کے دور کی مکہ میں پیغمبر اسلام (ص) کی دعوت کے ابتدائی دور سے تشبیہ دی جا سکتی ہے یعنی دعوت اسلام کے وہ چند ابتدائی سال جب علی الاعلان دعوت دینا بھی ممکن نہ تھا ۔اسی طرح شاید امام محمد باقر علیہ السلام کے دور کی پیغمبر (ص) کی مکی تبلیغ کے دوسرے دور اور پھر اس کے ادوار کی دعوت اسلام کے بعد کے ادوار سے تشبیہ غلط نہ ہوگی ۔ لہٰذا تعرض اور مڈ بھیڑ کی حکمت عملی ابھی صحیح طور پر انجام نہ پاتی۔
یقین جانئے اگر وہی تیز و تند حکمت عملی ،جو امام صادق علیہ السلام ،امام کاظم علیہ السلام اور امام رضا علیہ السلام کے بعض کلمات سے مترشح ہوتی ہے ،امام سجاد علیہ السلام بھی اپنا لیتے تو عبد الملک بن مروان جس کا اقتدار پورے اوج پر نظر آتا ہے ،بڑی آسانی کے ساتھ تعلیمات اہلبیت (ع) کی پوری بساط الٹ کر رکھ دیتا اور پھر کام ایک نئے سرے سے شروع کرنا پڑتا اور یہ اقدام عاقلانہ نہ ہوتا ۔
اس کے باوجود امام زین العابدین علیہ السلام کے ارشادات و اقوال میں ،جو غالبا آپ کی زندگی اور طویل دور امامت کے آخر ی دنوں سے مربوط ہیں ،کہیں کہیں حکومتی مشینری کے ساتھ تعرض و مخالفت کے اشارے بھی مل جاتے ہیں ۔ (۵)
ائمہ علیہم السلام کی طرف سے مزاحمت کے چند نمونہ 

ائمہ علیہم السلام کی تعرض آمیز روش کے جلوے مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئے جن میں سے ایک شکل تو وہی تھی جو محمد بن شہاب زہری کے نام امام زین العابدین علیہ السلام کے خط میں آپ نے ملاحظہ فرمائی ،ایک شکل معمولی دینی مسائل او ر اسلامی تعلیمات کے پردے میں اموی خلفاء کی وضع و سرشت اور حقیقت و بنیاد پر روشنی ڈال دینے کی تھی چنانچہ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :
”ان بنی امیۃ اطلقوا للناس تعلیم الایمان ولم یطلقوا تعلیم الشرک لکی اذا حملوھم علیہ لم یعرفوہ “
یعنی بنی امیہ نے لوگوں کے لئے تعلیمات ایمانی کی راہیں کھلی چھوڑ رکھی تھیں ،لیکن حقیقت شرک سمجھنے کی راہیں بند کر دی ہیں کیوں کہ اگر عوام (مفہوم) شرک سے نا بلد رہے تو شرک ( کی حقیقت ) نہ سمجھ سکیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ بنی امیہ نے علماء اور متدین افراد منجملہ ان کے ائمہ معصومین علیہم السلام کو نماز ، روزہ ،حج زکوٰۃ نیز دیگر عبادات اور ․․․․ اسی طرح توحید و نبوت سے متعلق بحث و گفتگو کرنے کی چھوٹ دے رکھی تھی کہ وہ ان موارد میں احکام الٰہی بیان کریں لیکن ان کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ شرک کا مفہوم اور اس کے مصادیق نیز اسلامی معاشرے میں موجود اس کے جیسے جاگتے نمونوں کو موضوع بحث و تدریس قرار دیں اس لئے کہ اگر عوام الناس کو شرک سے متعلق ان معارف کا علم ہو گیا ،وہ مشرک چہروں کو پہچان لیں گے ،وہ فورا سمجھ جائیں گے کہ بنی امیہ جن اوصاف کے حامل ہیں اور جس کی طرف انھیں گھسیٹ لے جانا چاہتے ہیں ،در اصل شرک ہے ،وہ فورا پہچان لیں گے کہ عبد الملک بن مروان اور دیگر خلفا ئے بنو امیہ طاغوتی ہیں جنھوں نے خدا کے مقابل سر اٹھارکھا ہے گویا جس شخص نے بھی ان کی اطاعت اختیار کی در اصل اس نے شرک کے مجسموں کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ۔ یہی وجہ تھی کہ عوام کے درمیان شرک سے متعلق حقائق و معارف بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی ۔
جب ہم اسلام میں توحید کے موضوع پر بحث کرتے ہیں تو ہماری بحث کا ایک بڑا حصہ شرک اور مشرک کی شناخت سے مربوط ہے ۔ بت کسے کہتے ہیں اور کون بت پرست ہے ۔
علامہ مجلسی ۺ نے بحار الانوار کی ۴۸ ویں جلد میں بڑی اچھی بات کہی ہے وہ فرماتے ہیں :
” ان اٰیات الشرک ظاہر ھا فی الاصنام الظاہرۃ و باطنھا فی خلفاء الجور الذین اشرکوا مع ائمۃ الحق و نصبوا مکانھم “ (ج/۴۸ص/۹۶و۹۷)
یعنی قران میں شرک کی جو آیتیں بیان کی گئی ہیں بظاہر ،ظاہر ی بتوں سے مربوط ہیں لیکن بباطن اگر تاویل کی جائے تو ان کے مصداق خلفائے جو ر ہیں جنھوں نے خلافت کے نام پر حکومت اسلامی کے ادعا اور اسلامی معاشرے پر حاکمیت کے حق میں خود کو ائمہ علیہم السلام کا شریک قرار دے لیا ، جب کہ ائمہ ٴ حق کے ساتھ یہ شرک خود خدا کے ساتھ شرک ہے کیوں کہ ائمہ حق خدا کے نمائندے ہیں ان کے دہن میں خدا کی زبان ہوتی ہے وہ خدا کی باتیں کرتے ہیں اور چوں کہ خلفائے جور نے خود کو ان کی جگہ پر پہنچاکر دعوائے امامت میں ان کا شریک بنا دیا لہٰذا وہ سب طاغوتی بت ہیں اور جو شخص ان کی اطاعت اور تاٴسی اختیار کرے وہ در اصل مشرک ہو چکا ہے ۔
علامہ مجلسی اس کے بعد مزید توضیح پیش کی ہے ۔ چنانچہ یہ بیان کرتے ہوئے کہ قرآنی آیات پیغمبر اسلام (ص)کے دور سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ہر عصر اور ہر دور میں جاری و ساری ہیں وہ فرماتے ہیں :
” فھو یجری فی اقوام ترکوا طاعۃ ائمۃ الحق واتبعوا ائمۃ الجور “
یہ شرک کی تعبیر ،ان قوموں پر بھی صادق آتی ہے جنھوں نے ائمہ حق کی اطاعت سے انکار کرتے ہوئے ائمہ جور سے الحاق اور پیروی اختیار کر لی“
”لعدولھم عن لاٴدلۃ العقلیۃ و النقلیہ و اتباعھم الا ھو اء وعدولھم عن النصوص الجلیّۃ“
کیوں کہ ان لوگوں نے ان عقلی و نقلی دلائل سے ( جو مثال کے طور پر عبد الملک کی مسلمانوں پر حکومت و خلافت کی نفی کرتی ہیں) عدول اختیار کر لیا اور اپنی ہوا و ہوس کی پیروی شروع کر دی ۔روشن و واضح نصوص کو ٹھکرا دیا ْ۔لوگوں نے دیکھا حکام وقت سے ٹکر لینے کی نسبت یہ زندگی آرام دہ بھی ہے ۔ اور ہر طرح کی درد سری سے خالی بھی ،لہٰذا اسی راحت طلبی میں لگ گئے اور ائمہ جور کی پیری اختیار کر لی ۔لہٰذا وہ بھی مشرک قرار پاتے ہیں ۔
ان حالات میں ،اگر ائمہ علیہم السلام شرک کے بارے میں کچھ بیان کرنا چاہیں تو یہ دربار خلافت سے ایک طرح کا تعرض ہوگا اور یہ چیز امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی اور حضرت (ع) کے کلمات میں موجود ہے ۔
اس تعرض و مخالفت کا ایک اور نمونہ ہم امام علیہ السلام اور جابر و قدرت مند اموی حاکم عبدالملک کے درمیان ہونے والی بعض خط و کتابت میں مشاہدہ کرتے ہیں جس کے دو روشن نمونوں کی طرف یہاں اشارہ مقصود ہے ۔
۱۔ ایک دفعہ عبدالملک بن مروان نے امام سجاد علیہ السلام کو خط لکھا اور اس میں حضرت (ع) کو اپنی ہی آزاد کردہ کنیز کے ساتھ ازدواج کر لینے کے سلسلے میں مورد ملامت قرار دیا ۔ اصل میں حضرت (ع) کے پاس ایک کنیز تھی جس کو آپ نے پہلے آزاد کر دیا اس کے بعد اسی آزاد شدہ کنیز سے نکاح کر لیا ۔ عبد الملک نے خط لکھ کر امام (ع) کے اس عمل کو مورد شماتت قرار دیا ۔ظاہر ہے امام (ع) کا عمل نہ صرف انسانی بلکہ ہر اعتبار سے اسلامی تھا کیوں کہ ایک کنیز کو کنیز ی اور غلامی کی زنجیر سے آزاد ی دینا اور پھر عزت و شرافت کا تاج پہناکر اسی کنیز کو رشتہ ازدواج سے منسلک کر لینا یقینا انسانیت کا اعلیٰ شاہکار ہے ۔ اگر چہ عبد الملک کے خط لکھنے کا مقصد کچھ اور ہی تھا ،وہ امام کے اس مستحسن عمل کو تنقید کا نشانہ بنا کر حضرت (ع) کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ ہم آپ کے داخلی مسائل سے بھی آگاہی رکھتے ہیں گویا اس کے ضمن میں اصل مقصد حضرت(ع) کو ذاتی سرگرمیوں کے سلسلے میں متنبہ کرنا تھا ۔ امام سجاد علیہ السلام جواب میں ایک خط تحریر فرماتے ہیں جس میں مقدمہ کے طور پر لکھتے ہیں :یہ عمل کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں قرار دیا جا سکتا بزرگوں نے بھی اس طرح کا عمل انجام دیا ہے حتیٰ کہ پیغمبر اسلام (ص) کے یہاں بھی اسی طرح کا عمل ملتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں میرے لئے کوئی ملامت نہیں ہے ۔
” فلا لوٴم علیٰ امری : مسلم انما اللوٴم لوٴم الجاھلیۃ“
یعنی ایک مسلمان کے لئے کسی طرح کی ذلت و خواری نہیں پائی جاتی ہاں ذلت و پستی تو وہی جہالت کی ذلت و پستی ہے ۔ عبد الملک کے لئے اس جملہ میں بڑا ہی لطیف طنز اور نصیحت مضمر ہے کتنے حسین انداز میں اسے اس کے آباء و اجداد کی حقیقت کی طرف متوجہ کر دیا گیا ہے کہ یہ تم ہو جس کا خاندان جاہل و مشرک اور دشمن خدا رہا ہے اور جن کے صفات تم کو وراثت میں حاصل ہوئے ہیں !!اگر شرم ہی کی بات ہے تو تم کو اپنی حقیقت پر شرم کرنی چاہئے میں نے تو ایک مسلمان عورت سے شادی کی ہے اس میں شرم کی کیا بات ہے ؟
جس وقت یہ خط عبد الملک کے پاس پہنچا ،سلیمان عبد الملک کا دوسرابیٹا ،باپ کے پاس موجود تھا ،خط پڑھا گیا تو اس نے بھی سنا اور امام (ع) کی طنز آمیز نصیحت کو باپ کی طرح اس نے بھی محسوس کیا ۔وہ باپ سے مخاطب ہوا اور کہا: اے امیر المومنین دیکھا ، علی ابن الحسین علیہ السلام نے آپ پر کس طرح مفاخرت کا اظہار کیا ہے ؟ وہ اس خط میں آپ کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا تو تمام مومن باللہ رہے ہیں اور تیرے باپ دادا کافر و مشرک رہے ہیں ۔ وہ باپ کو بھڑکانا چاہتا تھا تاکہ اس خط کے سلسلے میں عبد الملک کوئی سخت اقدام کرے لیکن عبد الملک بیٹے سے زیادہ سمجھ دار تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اس نازک مسئلہ میں امام سجاد علیہ السلام سے الجھنا درست نہیں ہے لہٰذا اس نے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے کہا: میرے بیٹے : کچھ نہ کہو ،تم نہیں جانتے یہ بنی ہاشم کی زبان ہے جو پتھر وں میں شگاف پیدا کر دیتی ہے ،یعنی ان کا استدلال ہمیشہ قوی اور لہجہ سخت ہوتاہے ۔
۲۔ دوسرا نمونہ امام علیہ السلام کا ایک دوسرا خط ہے جو عبد الملک کی ایک فرمائش رد کرنے کی بنا پر عبد الملک کی جانب سے تہدید و فہمائش کے جواب میں آپ (ع) نے تحریر فرمایا ہے ۔ واقعہ کچھ یوں پیش آتا ہے ۔
عبد الملک کو معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام (ص) کی تلوار امام سجاد علیہ السلام کی تحویل میں ہے اور یہ ایک قابل توجہ چیز تھی کیوں کہ وہ نبی (ص) کی یاد گار اور فخر کا ذریعہ تھی ،اور اب اس کا امام سجاد علیہ السلام کی تحویل میں چھوڑ دینا عبد الملک کے لئے خطر ناک تھا کیوں کہ وہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی ۔لہٰذا اس نے جو خط امام سجاد علیہ السلام کو لکھا اس میں درخواست کی کہ حضرت تلوار اس کے لئے بھیج دیں اور ذیل میں یہ بھی تحریر کر دیا تھا کہ اگر آپ (ع) کو کوئی کام ہو تو میں حاضر ہوں آپ کا کام ہو جائے گا مطلب یہ تھا آپ کے اس ہبہ کا عوض میں دینے کو تیار ہوں ۔
امام علیہ السلام کا جواب انکار میں تھا لہٰذا دوبارہ اس نے ایک تہدید آمیز خط لکھا کہ اگر تلوار نہ بھیجی تو میں بیت المال سے آپ کا وظیفہ بند کردوں گا ۔ (۶) امام اس دھمکی کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :
اما بعد ،خداوند عالم نے ذمہ داری لی ہے کہ وہ اپنے پرہیز گا ربندوں کو جو چیز انھیں ناگوار ہے اس سے نجات عطا کرے گا اور جہاں سے وہ سوچ بھی نہ سکےں ایسی جگہ سے روزی بخشے گا اور قرآن میں ارشاد فرمادیا ہے:
”ان اللّٰہ لا یحب کل خوان کفور “
”یقیناًخدا کسی نا شکرے خیانت کارکودوست نہیں رکھتا ۔“ 
اب دیکھو ہم دونوں میں سے کس پر یہ آیت منطبق ہوتی ہے ۔
ایک خلیفہ ٴوقت کے مقابل میں یہ لہجہ بہت زیادہ سخت تھا،کیونکہ یہ خط جس کسی کے ہاتھ لگا وہ خود فیصلہ کرلے گا کہ امام اولاً:خود کو خائن اور نا شکرا نہیں سمجھتے ،ثانیاً:کوئی دوسرا شخص بھی اس عظیم ہستی کے بارے میں ایسا رکیک تصور نہیں رکھتا ،کیونکہ حضرت کا خاندان نبوت کے منتخب اور شائستہ ترین عظیم شخصیتوں میں شمار ہوتا تھا اور ہرگز اس آیت کے مستحق نہیں قرار دئے جا سکتے تھے چنانچہ امام سجاد علیہ السلام کی نظر میں عبد الملک خائن اور ناشکرا ہے ۔
دیکھئے !کس شدیدانداز میں امام سجاد علیہ السلام عبد الملک کی دھمکی کا جواب دیتے ہیں اس سے حضرت (ع) کے فیصلہ کن عمل کی حدود کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔بہر حال یہ اموی سرکار کی نسبت امام کے مزاحمت آمیز طرز عمل کے دو روشن نمونے تھے ۔
۳۔ اگر اس میں کسی دوسرے نمونے کا اور اضافہ کرنا چاہیں تو یہاں وہ اشعار پیش کئے جا سکتے ہیں جو خود امام زین العابدین علیہ السلام سے یا آپ (ع) کے دوستوں سے نقل ہوئے ہیں یہ بھی اپنی مخالفت کے اظہار کا ایک انداز ہے کیوں کہ اگر ہم یہ مان کر چلیں کہ خود حضرت (ع) نے کوئی اعتراض نہیں کیا تو بھی آپ کے قریبی افراد معترض رہے ہیں اور یہ خود ایک طرح سے امام کی مزاحمت میں شمار کیا جائے گا۔
فرزدق اور یحییٰ کے اعتراضات 

اگر چہ حضرت (ع) کے اشعار فی الحال میں کہیں پیدا نہیں کر سکا ہوں پھر بھی حضرت (ع) کے اشعار کا ہونا قطعی ہے ۔ چند شعر حضرت (ع) کے ہیں جو بہت ہی تلخ اور انقلابی ہیں ۔ فرزدق کے اشعار بھی ایک دوسرا نمونہ ہیں ۔فرزدق کے واقعہ کو مورخین و محدثین دونوں نے نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ۔
ہشام ، عبد الملک کا بیٹا ،اپنے دور خلافت سے قبل مکہ گیا ،طواف کے دوران حجر اسود کو بوسہ دینا چاہا ،کیوں کہ طواف میں حجر اسود کا استلام مستحب ہے حجر اسود کے قریب مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے ہزار کوشش کے باوجود خود کو حجر اسود کے قریب نہ پہنچا سکا حالانکہ وہ خلیفہ وقت کا فرزند ،ولی عہد ،رفیقوں اور محافظوں کے ایک پورے دستے کے ہمراہ حکومتی انتظام کے ساتھ آیا تھا ۔پھر بھی لوگوں نے اس کی حیثیت اور شاہی کرو فر کی پرواہ کئے بغیر اس کو دھکوں میں لے لیا ۔ یہ نازو نعم کا پروردہ ان افراد سے تو تھا نہیں کہ انسانوں کے ہجوم میں دھکے کھاتا ہوا حجر اسود کو بوسہ دے ۔چنانچہ حجر اسود کے استلام سے مایوس ہوکر مسجد الحرام کی ایک بلندی پر پہنچ گیا اور وہیں بیٹھ کر مجمع کا تماشہ کرنے کی ٹھہری ۔ اس کے ارد گرد بھی کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسی درمیان ایک شخص ،وقار و متانت کا مرقع ملکوتی زہد و ورع کے ساتھ طواف کرنے والوں کے درمیان ظاہر ہوا اور حجر اسود کی طرف قدم بڑھایا مجمع نے فطری طور پر اس کو راستہ دے دیا اور کسی قسم کی زحمت کے بغیر اس نے باطمینان حجر اسود کو استلام کیا ،بوسہ دیا اور پھر واپس ہو کر طواف میں مشغول ہو گیا۔
یہ منظر ہشام بن عبد الملک کے لئے نہایت ہی سخت تھا ،وہ خلیفہ وقت کا فرزند ارجمند !! اور کوئی اس کے احترام و ارجمندی کا قائل نہیںہے !اس کو مجمع کے مکّے اور لات سہکر واپس ہونا پڑجاتا ہے ۔استلام کرنے کے لئے اس کو راہ نہیں ملتی ! دوسری طرف ایک شخص آتا ہے جو بڑے سکون و اطمینان کے ساتھ حجر اسود کو استلام کر لیتا ہے ۔آتش حسد سے لال ہو کر سوال کر بیٹھتا ہے ،یہ کون شخص ہے ؟ ارد گرد بیٹھے ہوئے افراد حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام کو اچھی طرح پہچانتے ہیں لیکن صرف اس لئے خاموش ہیں کہ کہیں ہشام ان کی طرف سے مشتبہ نہ ہو جائے کیوں کہ ہشام کے خاندان کے ساتھ امام سجاد علیہ السلام کے خاندان کے اختلاف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا ،ہمیشہ بنی امیہ اور بنی ہاشم کے درمیان اختلاف کی آگ روشن رہی ہے ۔ وہ یہ کہنے کی جراٴت نہ کر سکے کہ یہ شخص تیرے دشمن خاندان کا قائد ہے ،جس کے لئے لوگ اس قدر عقیدت و احترام کے قائل ہیں ۔ ظاہر ہے یہ بات ایک طرح سے ہشام کی اہانت میں شمار ہو تی ۔
مشہور شاعر فرزدق جو اہلبیت (ع)سے خلوص و محبت رکھتا تھا وہیں موجود تھا ،اس نے جب محسوس کیا کہ لوگ تجاہل سے کام لے رہے ہیں اور یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم علی ابن الحسین علیہ السلام کو نہیں پہچانتے ،آگے بڑھا اور آواز دی : اے امیر !اگر اجازت دے تو میں اس شخص کا تعارف کرا دوں ؟ ہشام نے کہا: ہاںہاں بتاؤ کون ہے ؟ اس وقت فرزدق نے وہیں ایک برجستہ قصیدہ پڑھنا شروع کر دیا جو شعرائے اہلبیت (ع) کے معروف ترین قصیدوں سے ہے اور شروع سے آخر تک امام زین العابدین علیہ السلام کی شاندار مدح سے معمور ہے مطلع یوں شروع ہوتا ہے ۔
ھٰذا الذی تعرف البطحاء و طاٴ تہ 
والبیت یعرفہ والحل و الحرم 
اگر تم اس کو نہیں پہچانتے ہو ( تو نہ پہچانو) یہ وہ ہے کہ سر زمین بطحی اس کے قدموں کے نشان پہچانتی ہے یہ وہ شخص ہے کہ حل و حرم اس کو پہچانتے ۔اور پھر ․․یہ وہ ہے ،زمزم و صفا جس کو پہچانتے ہیں ․․․ یہ پیغمبر اسلام (ص) کا فرزند ہے ․․․ یہ بہترین انسان کا فرزند ہے ․․․ مدح کے موتی لٹانے پر آیا تو ایک قصیدہ ٴ غرار میں اس طرح امام سجاد علیہ السلام کے خصوصیات کا ذکر کر نا شروع کر دیا کہ ہر ہر مصرع ہشام کے سینے میں خنجر کی طرح چھبتا چلا گیا ۔اور اس کے بعد ہشام کے غضب کا نشانہ بھی بننا پڑا ،ہشام نے بزم سے نکال باہر کیا لیکن امام سجاد علیہ السلام نے اس کے لئے انعام کی تھیلی روانہ کی جس کو فرزدق نے اس معذرت کے ساتھ واپس کر دیا کہ : میں نے یہ اشعار خدا کی خوشنودی کے لئے کہے ہیں ،آپ (ع) سے پیسہ لینا نہیں چاہتا ۔
اس طرح کے انداز مزاحمت ،امام کے اصحاب کے یہاں مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں جس کا ایک اور نمونہ یحیٰ بن ام الطویل کا طرز عمل ہے ۔البتہ یہ ذکر شعر و شاعری کے ضمن میں نہیں آتا ۔
یحیٰ بن ام الطویل بیت سے وابستہ نہایت ہی مخلص اور شجاع جوانوں میں سے ہے جس کا معمول یہ ہے کہ وہ کوفہ جاتا ہے لوگوں کو جمع کرتا ہے اور آواز دیتا ہے : اے لوگو( مخاطب حکومت بنی امیہ کے آگے پیچھے بھاگنے والے افراد ہیں ) ہم تمھارے ( اور تمھارے آقاؤں کے ) منکر ہیں جب تک تم لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے ،ہم تم کو قبول نہیں کر تے ۔اس گفتگو سے ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگوں کو مشرک سمجھتا ہے اور ان کو کافر و مشرک کے الفاظ سے خطاب کرتا ہے ۔
بنی امیہ سرکار کا امام سجاد (ع)کے ساتھ تعرض

یہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا ایک مختصر سا خاکہ ہے ۔البتہ یہاں پھر اشارہ کردوں کہ امام اپنے ۳۴برس کے طویل دورامامت میں ،ارباب حکومت کے ساتھ کھل کر کبھی کوئی تعرض اور مخالفت نہ کی پھر بھی اپنی امامت کے اس عظیم دسترخوان کو وسیع سے وسیع تر کرتے رہے اور تعلیم و تربیت کی ایمانی غذاؤں سے بہت سے مومن و مخلص افراد پیدا کئے دعوت اہلبیت (ع) کو وسعت حاصل ہوتی رہی اور یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے اموی سرکار حضرت (ع) کے سلسلے میں بد بین و فکر مند رہنے لگی یہاں تک کہ حضرت (ع) کی راہ میں رکاوٹ اور روک ٹوک بھی کی گئی اور کم از کم ایک مرتبہ حضرت (ع) کو طوق و زنجیر میں کس کر مدینہ سے شام بھی لے جایا گیا ۔حادثہٴ کربلا میں امام زین العابدین علیہ السلام کا طوق و زنجیر میں جگڑ کر شام لے جایا جانا مشہور ہے لیکن کربلا کی اسیری میں اگر حضرت (ع) کا گلو ئے مبارک نہ بھی جگڑ ا گیا ہو تو بھی اس موقع پر یہ بات یقینی ہے یعنی حضرت (ع) کو مدینہ سے اونٹ پر سوار کیا گیا اور طوق و زنجیر میں جگڑ کر شام لے جایا گیا ۔ اس کے علاوہ بھی کئی دوسرے موارد پیش آئے جب آپ (ع) کو مخالفین کی طرف سے آزارو شکنجے کا سامنا کرنا پڑا اور آخر کار ولید بن عبد الملک (ملعون خدااس کو واصل جہنم کرے ) کے دور خلافت ۹۵ھء میں خلافت بنی امیہ کے سرکار ی کارگزاروں کے ہاتھوں زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔
(۱)۔ بعض نے اس کا نام محمد بن مسلم زہری بھی نقل کیا ہے یعنی اس کے باپ کا نام کبھی شہاب اور کبھی مسلم ملتا ہے شاید ایک اس کے باپ کا نام اور ایک اس کے باپ کا لقب رہا ہوگا۔
(۲)۔طبقات ابن سعد ،ج/۲ص/۳۶۔۱۳۵
(۳) ۔ فاذا الدفاتر قد حملت علی الدواب من خزائنہ و یقال ھٰذا من علم الزھری
(۴)۔ تاریخ یعقوبی ج/۲ص/۸ ،نقل از کتاب ” دراسات من الصحیح و الکافی “ 
(۵)۔ یہاں اشارہ کر دوں کہ اس وقت میری بحث یزید اور خاندان ابو سفیان کی خلافت کے ساتھ امام کے طرز عمل سے نہیں ہے یہ ایک مستقل موضوع ہے جس پر پہلے ہی روشنی ڈال چکا ہوں ۔
(۶) ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب تمام لوگوں کو بیت المال سے وظیفہ ملتا تھا اور امام علیہ السلام بھی تمام افراد کی طرح معین وظیفہ لیتے تھے ۔
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved