لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 مئی 14

سقيفہ كے رونما ھونے كي صورت حال


           
تيسرا حصہ: سقيفہ كے رونما ھونے كي صورت حال

تمھيد
عام طور سے تاريخ ميں رونما ھونے والے ھر حادثہ كا پيش خيمہ كوئي نہ كوئي گذرا ھوا واقعہ ھوتا ھے بلكہ ممكن ھے كہ گذرے ھوئے واقعہ كو آئندہ واقع ھونے والے واقعہ كي علت كھا جائے، واقعۂ سقيفہ اگر چہ ايك اتفاق اور ناگھاني حادثہ تھا ليكن گذشتہ عوامل اس كے وقوع پذير ھونے ميں مؤثر تھے۔
روايت ابي مخنف خود اس اھم واقعہ كو تو بيان كرتي ھے مگر اس كے عوامل و اسباب كي طرف كوئي اشارہ نھيں كرتي يا بھتر ھے كہ يہ كھا جائے كہ تاريخ طبرى نے ابو مخنف كي كتاب سقيفہ ميں سے صرف اسي حصہ كو نقل كيا ھے اور اگر ھمارے پاس خود اصلي كتاب موجود ھوتي تو شايد اس كے پھلوؤں سے مزيد واقفيت ھوتي بھر حال ھر محقق اصل واقعہ كو بيان كرنے سے پھلے اس كے علل و اسباب كي تلاش ميں رھتا ھے اور اجمالي طور پر پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے زمانے كے حالات و واقعات سے آگاھي ذھن ميں اعتراضات كا سبب بنتي ھے خاص طور پر جب واقعہ غدير پر نظر كي جائے، اس لئے كہ حديث غدير كا شمار متواتر احاديث ميں ھوتا ھے 61 كہ شيعہ اور سني اس پر اتفاق نظر ركھتے ھيں كہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے 10 ھجري ميں حجة الوداع كے بعد اٹھارہ ذي الحجہ كو غدير خم كے مقام پر تمام افراد كو ٹھرنے كا حكم ديا اور پھر ايك طويل خطبہ پڑھا اور فرمايا "من كنت مولاہ فعلي مولاہ" جس كا ميں مولا ھوں بس علي عليہ السلام بھي اس كے مولا ھيں، تاريخ كے اس اھم واقعہ كے رونما ھونے ميں كسي بھي قسم كے شك و شبہ كي گنجائش نھيں ھے۔
رسول اكرم (ص) كے قول كي صراحت اور بے شمار قرائن حاليہ اور مقاليہ اس بات كا واضح ثبوت ھيں كہ مولا سے مراد ولايت اور جانشيني ھي ھے اور يہ ممكن نھيں ھے كہ كوئي منصف مزاج اور مخلص محقق اس قدر شواھد اور ادّلہ كے باوجود اس بات ميں ذراسي بھي ترديد ركھتا ھو۔
پھر آخر كيا ھوا كہ پيغمبر (ص) كي رحلت كے بعد ابھي واقعۂ غدير خم كو دو ماہ اور چند روز ھي گزرے تھے كہ لوگوں نے ھر چيز كو بھلا ديا تھا، اور سب سے عجيب بات يہ ھے وہ انصار جو اسلام ميں درخشاں ماضي ركھتے تھے جنھوں نے اس سلسلے ميں اپني جان و مال تك كي پروانہ كي وہ سب سے پہلے سقيفہ ميں جمع ھوكر خليفہ اور جانشين پيغمبر (ص) كا انتخاب كرنے لگے۔
اور اس سے بھي زيادہ عجيب بات يہ ھے كہ شيعہ اور سني روايات 62 كے مطابق پيغمبر (ص) كے چچا عباس بن عبد المطلب، پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي زندگي كے آخري لمحات تك آنحضرت (ص) سے يھي پوچھتے رھے كہ كيا آپ كے بعد ولايت و ولي عھدي ھمارے خاندان ميں ھے؟ اگر ھے تو ھم اسے جان ليں اور اگر نھيں ھے تو لوگوں كو ھمارے بارے ميں وصيت كردي جائے۔
اگر پيغبر (ص) نے حكم وحي سے حضرت علي عليہ السلام كو اپنا جانشين بناديا تھا تو اس سوال كاكيا مطلب ؟اور وہ بھي نزديك ترين فرد كے ذريعے؟يہ ايك ايساسوال ہے جو مستند اور صحيح جواب چاھتا ھے اور فقط چند ادبي عبارتوں اور شاعرانہ گفتگو سے اس كاجواب نہيں ديا جا سكتا۔
اس سوال كے مستند اور صحيح جواب كے لئے ضروري ھے كہ سب سے پہلے ان واقعات پر ايك سر سري نگاہ ڈالي جائے جو پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي بعثت سے لے كر واقعہ سقيفہ تك رونما ھوئے، اور ان كے عوامل و اسباب كا بغور جائزہ ليا جائے، پھر سقيفہ كے واقعے كي ابو مخنف كي روايت كي روشني ميں تحقيق كي جائے۔
سقيفہ كے حقائق ( روایت ابومخنف كي روشني ميں)        تارى، جليل
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0