لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 مئی 14

پيغمبر اسلام (ص) كي ھجرت كے اسباب


           
ھجرت سے ليكر غدير خم تك كے واقعات


1۔ پيغمبر اسلام (ص) كي ھجرت كے اسباب

پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو اپني نبوت كے ابتدائي حصہ ھي ميں قريش سے تعلق ركھنے والے بدترين دشمنوں كا سامنا كرنا پڑا اور بے انتھا زحمت و مشقت كے بعد بھي صرف چند لوگ ھي مسلمان ھوئے ان ميں سے اكثر كا تعلق معاشرے كے غريب و فقير عوام سے تھا جب كہ امير اور دولت مند افراد آپ كي مخالفت پر اڑے ھوئے تھے اور اسلام كو ختم كرنے كے لئے ھر ممكن كوشش كرتے رھے لھٰذا انھوں نے آپ (ص) كو اس قدر تنگ كيا كہ آپ (ص) كے پاس ھجرت كے علاوہ كوئي اور چارہ نہ تھا۔
پيغمبر اسلام (ص) نے دين اسلام كي تبليغ كے سلسلے ميں كسي قسم كي كوئي كوتاھي نہ برتي بلكہ ذرا سي فرصت سے بھي زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھاتے رھے، يھي وجہ تھي كہ جب آپ كي ملاقات بزرگان مدينہ اور وھاں كے معزز افراد سے ھوئي تو آپ نے انھيں اسلام كي دعوت دي تو انھوں نے اسلام كو قبول كرليا اور پيغمبر اسلام (ص) سے عھد و پيمان كيا جسے "بيعة النساء" كھا جاتا ھے، شايد اس كے بيعة النساء كھنے كي وجہ يہ ھے كہ اس عھد و پيمان ميں كوئي جنگي معاھدہ نھيں ھوا تھا 63۔
مشركان قريش نے اسلام كو جڑ سے ختم كرنے كے لئے پيغمبر اسلام (ص) كے قتل كا منصوبہ بنايا ليكن پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم وحي كے ذريعہ ان كے ارادہ سے باخبر ھوگئے لھذا آپ نے يہ فيصلہ كيا كہ رات كو پوشيدہ طور پر مكہ سے مدينہ كي طرف ھجرت كر جائيں تاكہ مشركين آپ (ص) كے مكہ سے باھر جانے سے باخبر نہ ھونے پائيں آپ (ص) نے حضرت علي (ع) سے كھا كہ تم ميرے بستر پر ليٹ جاؤ اور اس طرح حضرت علي عليہ السلام نے پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي جان پر اپني جان كو فدا كرديا اور اطمينان كے ساتھ پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے بستر پر ليٹ گئے اور اپنے يقينِ كامل اور مستحكم ايمان كي وجہ سے ايك لمحہ كے لئے بھي شك و ترديد اور خوف و ھراس كا شكار نہ ھوئے اور اپنے آپ كو ايسے خطرہ ميں ڈال ديا كہ جس كے بارے ميں جانتے تھے كہ كچھ ھي دير بعد دشمنوں كے نيزے اور تلواريں مجھ پر ٹوٹ پڑيں گي 64 پيغمبر (ص) نے اس فرصت سے فائدہ اٹھايا اور مكہ سے مدينہ كي طرف ھجرت كر گئے۔

 سقيفہ كے حقائق ( روایت ابومخنف كي روشني ميں)          تارى، جليل

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved