لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 مئی 14

نئے مسلمانوں كي اكثريت


           
1۔ نئے مسلمانوں كي اكثريت

اگر چہ پيغمبر اسلام (ص) كي زندگي كے آخري لمحات ميں مسلمانوں كي تعداد اپنے عروج پر پھنچ چكي تھي مگر ان ميں اكثريت نئے مسلمانوں كي تھى، اگر چہ ان ميں ايسے افراد بھي تھے جو پختہ ايمان ركھتے تھے ليكن ايسے افراد كي تعداد ان افراد كے مقابلے كچھ بھي نہ تھي جو صلابتِ ايماني كے مالك نہ تھے 82 اس لئے كہ بعض افراد اپنے مفاد كي خاطر مسلمان ھوئے تھے تو بعض اقليت ميں رہ جانے كي وجہ سے اور ان كے پاس مسلمان ھونے كے علاوہ كوئي چارہ نہ تھا، اور بعض افراد ايسے بھي تھے جو آخري دم تك اسلام اور مسلمانوں سے لڑتے رھے اور جب لڑنے كے قابل نہ رھے تو پھر دوسرا راستہ اپنا ليا۔ ابوسفيان اور اس كے ماننے والے اسي قسم كے افراد تھے اور فتح مكہ ميں ان كا شمار طلقا (آزاد شدہ) ميں ھوتا تھا لھٰذا ايسي صورت حال ميں واضح سي بات ھے كہ اس امر عظيم كو پھونچانا كوئي آسان كام نہ تھا بلكہ يہ بھت سي مشكلات كا پيش خيمہ بن سكتا تھا۔

 سقيفہ كے حقائق ( روایت ابومخنف كي روشني ميں)         تارى، جليل

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved