لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 اپریل 09

خود فراموشی کا علاج


           
خود فراموشی کا علاج
خود فراموشی کے گرداب میں گرنے سے بچنے اوراس سے نجات کے لئے تنبیہ اور غفلت سے خارج ہونے کے بعد تقوی کے ساتھ ماضی کے بارے میں تنقیدی جستجو سود مند ہے، اگر فرد یا کوئی معاشرہ اپنے انجام دیئے گئے اعمال میں دوبارہ غور و فکر نہ کرے اور فردی محاسبہ نفس نہ رکھتا ہواور معاشرہ کے اعتبار سے اپنے اور غیر کے آداب و رسوم میں کافی معلومات نہ رکھتاہونیز اپنے آداب و رسوم میں غیروں کے آداب و رسوم کے نفوذ کر جانے کے خطرے سے آگاہ اور فکرمند نہ ہو تو حقیقت سے دور ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے اور یہ دوری اتنی زیادہ بھی ہوسکتی ہے کہ انسان خود کو نیز اپنی تہذیب کو فراموش کردے اور خود فراموشی کا شکار ہو جائے ایسے حالات میں اس کیلئے خود فراموشیسے کوئی راہ نجات ممکن نہیں ہے، قرآن مجید اس سلسلہ میں فرماتا ہے :
(یَأ أیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلتَنظُر نَفس مَا قَدَّمَت لِغَدٍ وَ اتَّقُوا
اللّٰہَ نَّ اللّٰہَ خَبِیر بِمَا تَعمَلُونَ ٭ وَ لا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰہَ
فَأنسَاھُم أَنفُسَھُم أولٰئِکَ ھُمُ الفَاسِقُونَ )(٥)
اے ایماندارو! خدا سے ڈرو ، اور ہر شخص کو غور کرنا چاہیئے کہ کل کے واسطے اس نے
..............
(1)Scientism. 
(2)Humanism. 
(3)Materialism.
(٤)اگرچہ معاشرتی تہذیب سے بیگانگی ، انسانی اقدار کے منافی ہے لیکن توجہ رکھنا چاہیئے کہ قومی اورمعاشرتی تہذیب خود بہ خود قابل اعتبار نہیں ہوتی بلکہ اسی وقت قابل اعتبار ہے جب اس کے اعتبارات اور راہ و روش انسان کی حقیقی سعادت اور عقلی و منطقی حمایت سے استوار ہوں۔
(٥)سورۂ حشر ، ١٨و ١٩۔
پہلے سے کیا بھیجا ہے اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے
باخبر ہے، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو خدا کو بھلا بیٹھے تو خدا نے انہیںایسا 
کردیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے، یہی لوگ تو بدکردار ہیں۔ 
خود فراموشی کی مشکل سے انسان کی نجات کے لئے اجتماعی علوم کے مفکرین نے کہا ہے کہ : جب انسان متوجہ ہوجائے کہ خود فراموشی کا شکار ہوگیا ہے تو اپنے ماضی میں دوبارہ غور و فکر اور اس کی اصلاح کرے کیونکہ وہ اپنے ماضی پر نظر ثانی کئے بغیر اپنی مشکل کے حل کرنے کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا ہے ،اور آیت میں یہ سلسلہ بہت ہی دقیق اور منظم بیان ہوا ہے جس میں تقوی کو نقطۂ آغاز مانا ہے (یَا أَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ) اگر زندگی کا محور تقوی الٰہی ہو تو خدا کے علاوہ انسان پر کوئی دوسرا حاکم نہیں ہوگا اور انسان خود فراموشی کے حوالے سے ضروری تحفظ سے برخوردار ہے ۔ دوسرا مرحلہ : ان اعمال میں دوبارہ غور فکر ہے جسے اپنی سعادت کے لئے انجام دیا ہے ۔ انسان اس وقت جب وہ کوئی کام خدا کے لئے انجام دیتا ہے ہوسکتا ہے کہ کوئی پوشیدہ طور پر اس پر حاکم ہوجائے لہٰذا ان اعمال میں بھی جس کو خیر سمجھتا ہے دوبارہ غور و فکر کرے اور کبھی اس غور و فکر میں بھی انسان غفلت اور خود فریبی سے دوچار ہو جاتا ہے، اسی بنا پر قرآن دوبارہ فرماتا ہے کہ : (و اتَّقُوا اللّٰہَ)''اللہ سے ڈرو '' قرآن مجیدکے مایۂ ناز مفسرین اس آیت کے ذیل میں کہتے ہیں کہ : آیت میں دوسرے تقوی سے مراد ، اعمال میں دوبارہ غور و فکر ہے، اگر انسان اس مرحلہ میں بھی صاحب تقوی نہ تو خود فریبی سے دوچار اور خود فراموشی کی طرف گامزن ہوجائے گا ،قرآن مجید فرماتا ہے کہ اے مومنو! ایسا عمل انجام نہ دو جس کی وجہ سے خود فراموشی سے دوچار ہوکر خدا کو بھول جاؤ، اس لئے فقط اعمال میں دوبارہ غور وفکر کافی نہیں ہے ،قرآن کی روشنی میں گذشتہ اعمال کا محاسبہ تقوی ٰ الٰہی کے ہمراہ ہونا چاہیئے تاکہ مطلوب نتیجہ حاصل ہوسکے ۔ 
آخری اور اہم نکتہ یہ ہے کہ شاید ماضی میںافراد یا معاشرے خود اپنے لئے پروگرام بنایا کرتے تھے اور اپنے آپ کو خود فراموشی کی دشواریوں سے نجات دیتے تھے یا اپنے آپ کو فراموش کر دیتے تھے ،لیکن آج جب کہ انسانوں کا آزادانہ انتخاب اپنی جگہ محفوظ ہے تو معمولاً دوسرے لوگ انسانی معاشرے کے لئے پرو گرام بناتے ہیں، اور یہ وہی (اسلامی)تہذیب پر حملہ ہے جو ہمارے دور کا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے ،یہ تصور نہ ہو کہ جب ہم اپنے آپ سے غافل و بے خبر ہیں تو ہمارے خلاف سازشیں نہیں ہورہی ہیں ہمیشہ اس عالمی ممالک کے اجتماعی گروہ ، سیاسی پارٹیاں ، استعماری عوامل اور جاہ طلب قدرتیں اپنے مادی اہداف کی وجہ سے اپنے مقاصد کے حصول اور اس میں مختلف معاشروں اور افراد سے سوء استفادہ کے لئے سازشیںرچتے ہیں ۔ یہ سمجھنا بھولے پن کا ثبوت ہے کہ وہ لوگ انسان کی آرزوؤں ، حقوق بشر اور انسان دوستانہ اہداف کے لئے دوسرے انسانوں اور معاشروں سے جنگ یا صلح کرتے ہیں ،ایسے ماحول میں ان سازشوں اور غیروں کے پروگرام اور پلان سے غفلت ، خطرہ کا باعث ہے اور اگر ہم اس ہلاکت سے نجات پانا چاہتے ہیں تو ہمیں امیر المومنین علی کے طریقہ عمل کومشعل راہ بنانا چاہیئے آپ فرماتے ہیں :
فَما خَلقتُ لیشغلنِی أکل الطیّبات کَالبَھیمةِ المربُوطة ھمّھا
علفھَا ...وَ تلھو عمّا یراد بِھا(١) 
''میں اس لئے خلق نہیں ہوا ہوں کہ مادی نعمتوں کی بہرہ مندی مجھ کو مشغول رکھے
اس گھریلوجانور کی طرح، جس کا اہم سرمایہ اس کی گھاس ہے... اور جوکچھ اس کے
لئے مرتب کیا گیا ہے اس سے غافل ہے ۔'' 
اسی بنا پرکبھی انسان خودبے توجہ ہوتا ہے اور کبھی یہ غفلت دوسروں کے پروگرام اوران کی حکمت عملی کا نتیجہ ہوتی ہے ۔انسان کبھی خود کسی دوسرے کو اپنی جگہ قرار دیتا ہے اور خود سے بے توجہ اور غافل ہوجاتا ہے اور کبھی دوسرے افراد اس کی سرنوشت طے کرتے ہیں ، اور اس سے سوء استفادہ کی فکر 
..............
(١)نہج البلاغہ ، کلام ٤٥۔
میں لگے رہتے ہیں اور اپنے اہداف کی مناسبت سے خودی کا رول ادا کرتے ہیں ۔ اجتماعی امور میں بھی جو معاشرہ خود سے غافل ہو جاتاہے، استعمار اس کے آداب و رسوم کی اہمیت کو بیان کرتا ہے اور اس کے لئے نمونہ عمل مہیا کرتا ہے ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ جتنی مقدار میں فردی خود فراموشی ضرر پہونچاتی ہے اتنی ہی مقدار میں انسان کا اپنی تہذیبی اور معاشرتی روایات سے بے توجہ ہونابھی نقصان دہ ہے ان دو بڑے نقصان سے نجات پانے کے لئے اپنی فردی اور اجتماعی اہمیت و حقیقت کا پہچاننا اوراس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ 
(یَا أیُّھَا الَّذِینَ ئَ امَنُوا عَلَیکُم أَنفُسَکُم لا یَضُرُّکُم مَن ضَلَّ ذا اھتَدَیتُم)
اے ایمان والو! تم اپنی خبر لو جب تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ ہوا کرے تم کو نقصان
نہیں پہونچا سکتا ہے۔ (١)
..............
(١)سورۂ مائدہ ، ١٠٥۔

ماخوذاز کتاب " انسان شناسی "        مؤلّف : حجّۃ الاسلام محمود رجبی  

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0