لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 جنوری 31

حج


           

حج

جو شخص مالي اور جسماني قدرت ركھتا ھو پوري عمر ميں ايك مرتبہ خانہ كعبہ كي زيارت كے لئے جانا اور دنيا كے سب سے بڑے اجتماع اور تمام مسلمانوں كے جاہ و جلال كے ساتھ شركت كرنا واجب ھے ۔

حضرت امام صادق (ع) نے فرمايا: جو شخص مر جائے اس حال ميں كہ عذر شرعي كے بغير اپنے واجبي حج كو ترك كيا ھے تو ايسا شخص دنيا سے مسلمان نھيں جاتا بلكہ وہ يھود و نصاريٰ كے ساتھ محشور ھوگا ۔ (۷۹)

حج اسلام كي بڑي عبادتوں ميں سے ايك عبادت ھے اور اپنے دامن ميں بڑے فوائد كو ركھے ھوئے ھے مسلمان چاھے تواس حج كے مراسم و مناسك ميں اپنے ايمان كي تقويت اور خدا سے اپنے رابطہ كو محكم و استوار كرلے خدا پرستي و فروتنى، برادري و بھائي چارگي اور بخشش و درگذر كرنے كا عملي شاھكار اس بڑي اسلامي درس گاہ ميں سيكھ دنيا كے تمام مسلمان ايك جگہ اور ايك مقام پر جمع اور ايك دوسرے كے رسوم و عادات سے آشنا ھوتے ھيں اور ھر ملك كے عمومي حالات كے تبادلہٴ خيالات كے نتيجہ ميں علمي سطح ميں اضافہ ھوتا ھے اور جہاں پر مسلمان اسلام كي مشكلات اور مھم خطرات سے با خبر ھوتے ھيں، اسي كے ساتھ ايك دوسرے كے اقتصادي اور سياسي و فرھنگي پروگراموں كے سلسلہ ميں باز پرس كرتے ھيں جہاں اسلام كے عمومي مصالح و فوائد پر آپس ميں گفتگو كرتے ھيں اتحاد، ھم فكري نيز آپسي دوستي كے روابط مستحكم ھوتے ھيں۔

نكتہ: حج ھر مالي استطاعت ركھنے والے شخص پر واجب ھے يعني اس كے پاس اتنا مال موجود ھو كہ اگر وہ اپنے مال سے حج كے اخراجات نكال لے تو واپس آنے پر بےچارہ حيران و سرگرداں نہ پھرے بلكہ مثل سابق اپني زندگي اور كام وغيرہ كو ويسے ھي انجام دے سكتا ھو ۔


79. وافى، ج۲، آٹھواں حصہ، ص۴۸

ماخوذاز کتاب : سبھی کے جاننے کی باتیں " مؤلّف : آیۃ اللہ ابراہیم امینی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved