لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 جنوری 31

خمس


           

خمس

اسلام كے مالي حقوق ميں سے خمس ھے جو تمام مسلمانوں پر فرض ھے۔

سات چيزوں پر خمس دينا واجب ھے:

1۔ كاروبار كے منافع، انسان كو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں ميں ملازمت كاريگري وغيرہ سے جو آمدني ھوتي ھے اس ميں سے (مثلاً كھانا، لباس، گھر كا برتن، گھر خريدنا، شادى، مھمان نوازى، مسافرت كے خرچ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت كا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا كرے ۔

2۔ كان سے جو سونا، چاندى، لوھا، تانبہ، پيتل، تيل، نمك، پتھر كا كوئلہ، گندھك معدني چيز برآمد ھوتي ھے اور جو دھاتيں ملتي ھيں، ان سب پر خمس واجب ھے ۔

3۔ خزانے ۔

4۔ جنگ كي حالت ميں مال غنيمت ۔

5۔ دريا ميں غوطہ خوري كے ذريعہ حاصل ھونے والے جواھرات ۔

6۔ جو زمين مسلمان سے كافر ذمي خريد ے اس كو چاھيے كہ پانچواں حصہ اس كا يا اس كي قيمت كا بعنوان خمس ادا كرے ۔

7۔ حلال مال جو حرام مال ميں مخلوط ھوجائے اس طرح كي حرام كي مقدار معلوم نہ ھو اور نہ ھي اس مال كوپہچانتا ھو، تو اسے چاھيے ان تمام مال كا پانچواں حصہ خمس دے تاكہ باقي مال حلال ھوجائے ۔

نكتہ ۱) جو شخص خمس كے مال كا مقروض ھے اس كو چاھيے كہ مجتھد جامع الشرائط يا اس كے كسي وكيل كو دے تاكہ وہ عظمت اور ترويج اسلام اور فقير سادات كے مخارج كو اس سے پورا كرے۔

نكتہ ۲) خمس و زكوٰة كي رقوم اسلامي ماليات كا سنگين اور قابل توجہ بجٹ ھے۔

اگر صحيح طريقہ سے اس كي وصولي كي جائے اور حاكم شرع كے پاس جمع ھوتو اسے مسلمانوں كے تمام اجتماعي كاموں كو بطور احسن انجام ديا جا سكتا ھے، يا فقيري و بيكاري اور جہالت كا ڈٹ كر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقير لوگوں كي ديكھ ريكھ كي جا سكتي ھے اور لوگوں كي ضروري امور كہ جس كا فائدہ عمومي ھوتا ھے اس كے ذريعہ كرائے جا سكتے ھيں مثلاً ہاسپيٹل، مدرسہ، مسجد، راستہ، پل اور عمومي حمام وغيرہ ۔

منبع : سبھی کے جاننے کی باتیں " مؤلّف " آیۃ اللہ ابراہیم امینی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0