لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 اپریل 17

اسلامی قوانین کا امتیاز


           
اسلامی قوانین کا امتیاز
آپ کواس لئے مبعوث کیا گیا تاکہ آپۖ تمام مخلوقات کے درمیان مساوی طور پر حقوق تقسیم کریں اور یہ بتائیں کہ کوئی کسی سے بہتر نہیں ہے مگر یہ کہ پرہیزگار ہو،آپۖ کو مومنین کے درمیان اخوت قائم کرنے اور انہیں ایک دوسرے کے برابر قرار دینے کے لئے بھیجاگیا، ان سب کا خون برابر ہے اور اگر ان میں سے کسی چھوٹے نے کسی کو پناہ دیدی تو سب کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کریں اور اسلام میں داخل ہونے والے کے لئے عام معافی ہے ۔
آپ نے واضح اور روشن شریعت، عدل پر مبنی قانون جو آپ کو خدا کی طرف سے ملا تھا، دنیا کے سامنے پیش کیا، یہ قانون ان کے عبادی اور تجارتی ومعاملات سے متعلق احکام کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے بلکہ دنیا و آخرت میں انسان کو جس چیز کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے وہ سب اس میں موجود ہے ۔ یہ عبادی، اجتماعی، سیاسی اور اخلاقی قانون ہے ، اس نے ایسی کسی چیز کو نظرانداز نہیں کیا ہے جو بشر کی زندگی میں رونما ہو سکتی ہے یا جس کی انسان کو ضرورت ہو سکتی ہے ، پس جو واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے یا جو حادثہ رونما ہوتا ہے مسلمانوں کے پاس شریعت اسلامیہ میں اس کا ایک قانون و حکم موجود ہوتاہے ، جس سے رجوع کیا جا تا ہے ۔
دین اسلام کی عبادتیں محض عبادت ہی نہیں ہے بلکہ ان کے جسمانی، اجتماعی اور سیاسی فوائد بھی ہیں، مثلاً طہارت سے پاکیزگی کا فائدہ ملتا ہے ، اور نماز ایک روحانی و معنوی جسمانی ورزش ہے ، نماز جماعت اور حج میں اجتماعی اور سیاسی فوائد ہیں، روزہ میں صحت و تندرستی کے ایسے فوائد ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ مختصر یہ کہ اسلامی احکام کے ظاہری فوائد کو بھی شمار کرنا دشوار ہے چہ جائیکہ اس کے مخفی فوائد کو بیان کیاجائے۔
اس دین کی بہت سی خوبیاں ہیں، اس کے احکام عقل کے مطابق ہیں،یہ آسان ہے ، اس میں تنگی و سختی نہیں ہے اور چونکہ یہ اظہار شہادتین کو کافی سمجھتا ہے اور اس میں بلندی دور اندیشی اور جد و جہد کی تعلیم ہے اس لئے لوگ گروہ در گروہ اس میں داخل ہوتے ہیں اور دنیا کے اکثر ممالک پر اس کے ماننے والوں کی حکومت ہے اس کانور مشرق و مغرب میں چمک رہا ہے روئے زمین پر بسنے والے اکثر ممتاز ممالک اس کے پرچم کے نیچے آ گئے ہیں اور اکثر قومیں لسانی اور نسلی اختلاف کے باوجود اس کے قریب آ گئی ہیں۔
زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ وہ شخص جو مکہ سے خفیہ طور پر نکلا، جس کے اصحاب کو سزا دی جاتی تھی، جنہیں ذلیل سمجھا جاتا تھا، جنہیں ان کے دین سے روکا جاتا تھا نتیجہ میں کبھی وہ مخفی طریقہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرتے اور کبھی چپکے سے مدینہ چلے جاتے تھے، وہی اپنے انہیں اصحاب کے ساتھ عمرہ قضا یعنی مکہ میں علیٰ الاعلان داخل ہوتا ہے اور قریش نہ اسے پیچھے ڈھکیل سکتے ہیں اور نہ داخل ہونے سے روک سکتے ہیں پھر تھوڑے ہی دن بعد اہل مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتا ہے اور بغیر کسی خونریزی کے اہل مکہ پر تسلط پاتا ہے، اس کے بعد وہ طوعاً و کرہاً، اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور عرب کے سردار اپنی زمام اطاعت آپۖ کے اختیار میں دینے کے لئے آپۖ کی خدمت میں وفد بھیجتے ہیں حالانکہ اس فتح سے پہلے اتنی طاقت ہو گئی تھی کہ آپۖ نے دنیا کے بادشاہوں ، قیصر و کسریٰ وغیرہ کے پاس اپنے سفیر روانہ کئے تھے اور انہیں اسلام کی دعوت دی تھی خصوصاً ملک قیصر کو جو کہ بہت دور تھا۔ الغرض تمام ادیان پر ان کا دین غالب آ گیا جیسا کہ ان کے رب نے وعدہ کیا تھا جس کا ذکر سورۂ نصر اور فتح و غیرہ میں موجود ہے اور تاریخ کی کتابوں سے بھی ہمیںیہی معلوم ہوتا ہے ۔
تلوار اور طاقت سے یہ دین نہیں پھیلا ہے جیسا کہ بعض دشمنوںکا خیال ہے بلکہ حکمِ خدا (ادعُ الیٰ سبیل ربک بالحکمة و الموعظة الحسنة و جادلھم بالتی ھی احسن)۔ (١)
حکمت اور بہترین نصیحتوں کے ذریعہ انہیں اپنے رب کے راستہ کی طرف بلایئے اور ان سے شائستہ طریقہ سے بحث کیجئے۔
..............
١۔ النحل:١٢٥۔

اہل مکہ اور تمام اعراب سے آپۖ نے جنگ نہیں کی بلکہ انہوں نے آپۖ سے جنگ کی تھی انہوں نے آپۖ کے قتل اور آپۖ کو وطن سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا حالانکہ آپۖ نے اہل کتاب کو ان کے دین ہی پر باقی رکھااور اسلام قبول کرنے کے لئے ان پر جبر نہیں کیا

 منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ)          سیدمنذر حکیم ا ور عدی غریباوی (گروہ تالیف مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام )    

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved