لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 نومبر 10

لوگوں کے حقوق کی ادائیگی


           
۔ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی

صحیفہ سجادیہ کی دوسری دعاؤں کے فقرے انسانوں کو یہ بتاتے ہیں کہ لوگوں کے حقوق کی پاسداری لازم ہے اور یاد دلاتے ہیں کہ اسلامی برادری کے معنی کی اصلیت یہ ہے کہ مسلمانوں میں مدد، سہارا، صلح و صفائی، ہمدردی ، درگزر اور جاں نثاری پیدا ہو تاکہ ان میں اسلامی اخوت قائم ہو۔ 
جیسا کہ ہم اڑتیسویں دعا میں پڑھتے ہیں : 
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعتَذِرُ اِلَیکَ مِن مَظلُومٍ ظُلِمَ بِحَضرَتِی فَلَم اَنصُرہُ وَمِن مَعرُوفٍ اُسدِیَ اِلَیَّ فَلَم اَشکُرہُ وَمِن مُسِیٓءِنِ اعتَذَرَ اِلیَّ فَلَم اَعذِرہُ وَمِن حَقِّ ذِی حَقٍّ لَزِمَنِی لِمُؤمِنٍ فَلَم اُوَفِّرہُ وَمِن عَیبِ مُؤمِنٍ طَھَرَ لِی فَلَم اَستُرہُ :۔ اے خدا! میں تیرے حضور میں معافی چاہتا ہوں اس مظلوم کی وجہ سے جس پر میرے سامنے ظلم ہوا اور میں اس کی مدد کو نہیں پہنچ سکا اور اس احسان کی وجہ سے جو مجھ پر ہوا اور میں اس کا شکریہ ادا نہیں کرسکا اور جس برا کام کرنے والے نے مجھ سے معافی مانگی لیکن میں نے اسے معاف نہیں کیا اور اس حاجت مند کی وجہ سے جس نے مجھ سے مانگا اور میں نے اس کو اپنے اوپر ترجیح نہی دی اور اس حق کی وجہ سے جو مجھ پر واجب ہے اور میں نے اسے ادا نہیں کیا اور مومن کے اس عیب کی وجہ سے جو میرے سامنے کھل گیا تھا لیکن میں نے اس کو نہیں ڈھانکا۔ 
واقعی اس قسم کی عذر خواہی اور عفوطلبی ایسا پرکشش منصوبہ ہے جو انسان کی روح کو نہایت اعلیٰ درجے کی خوبیوں اور خدائی اخلاق کی طرف مائل کرتا ہے۔ 
انتالیسویں دعا میں جب ہم وسیع ترنظ سے دیکھتے ہیں تو یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جس آدمی نے کوئی برائی کی ہو اسے کس طرح معاف کردینا چاہیے اور اس سے بدلہ نہیں لینا چاہیے ۔ یہ ایسی دعا ہے جو روح کو پاک کرتی اور انسان کو خدا کے نیک بندوں کے رتبے پر پہنچا دیتی ہے۔چنانچہ ہم پڑھتے ہیں : 
اَللّٰھُمَّ وَاَیُّمَا عَبدٍ نَالَ مِنِّی مَاحَظَرتَ عَلَیہِ وَانتَھَکَ مِنِّی مَاحَجَرتَ عَلَیہِ فَمَضیٰ بِظَلاَمِتِی مَیِّتاً اَو حَصَلَت لِی قِبَلَہُ حَیّاً فَاغفِرلَہُ مَا اَلَمَّ بِہِ مِنِّی وَاعفُ لَہُ عَمَّا اَدبَرَ بِہِ عَنِّی وَلاَ تَقِفہُ عَلٰی مَاارتَکَبَ فِیِّ وَلاَ تَکشِفہُ عَمَّا اکتَسَبَ بِی وَاجعَل مَا سَمَحتُ بِہِ مِنَ العَفوِ عَنھُم وَتَبَرَّعتُ بِہِ مِنَ الصَّدَقَۃِ عَلَیھِم اَزکٰی صَدَقَاتِ المُتَصَدِّقِینَ وَ اَعلٰی صِلاَتِ المُتَقَرِّبِینَ وَعَوِّضنِی مِن عَفوِی عَنھُم عَفوَکَ وَمِن دُعَائِی لَھُم رَحمَتَکَ حَتَّی یَسعَدَ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنَّا بَفَضلِکَ :۔اے خدا! جس بندے نے میرے متعلق وہ عمل کیا جس سے تو نے اسے منع کر دیا تھا اور میری ایسی پردہ دری کی جسے تو جائز نہیں سمجھتا، میرا حق روند ڈالا اور دنیا سے اٹھ گیا یا زندہ ہے اور میرا حق اس کے پاس موجود ہے اسے تو نے جس مصیبت میں ڈالا ہے بخش دے اور میرا جو حق اس نے چھینا ہے اس سے درگزر کر اور اس نے میرے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کے لیے اسے ملامت مت کر اور اس نے جو کچھ ظلم مجھ پر کیا ہے اس کے لیے اس رسوا نہ کر میری طرف سے اس کے لیے معافی اور درگزر کو معاف کرنے والوں کی بہترین معافیوں اور اسی طرح اس صدقے اور خیرات کو جو میں نے ان کے لیے کیا ہے اسے اپنے برگزیدہ بندو کی سب سے اعلیٰ سخاوتوں اور عطاؤں کا درجہ دے اور مجھے اس معافی کی خاطر جو میں نے ان کے لیے چاہی اور اس دعا کی خاطر جو میں نے ان کے لیے چاہی اور اس دعا کی خاطر جو میں نے ان کے لیے مانگی اپنی رحمت اور بخشش سے بدلہ دے تاکہ ہم میں سے ہر ایک تیرے احسان سے نیک بختی حاصل کرسکے۔ 
سچ مچ دعا کے یہ آخری فقرے کس قدر پرکشش ہیں اور پاکیزہ روحوں پر کس قدر مناسب اور اچھا اثر ڈالتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آدمی کو سب لوگوں کے لیے ثابت اور پاک نیت رکھنا چاہیے اور سب کے لیے خوشحالی طلب کرنا چاہیے یہاں تک کہ ان لوگوں کے لیے بھی جنہوں نے اس پر ظلم کیا ہے (صحیفہ سجادیہ کو دعاؤں میں یہ موضوع بیشتر نظر آتا ہے۔ واقعی زبور آل محمد ﷺ میں اس قسم کی تعلیمات اور روحانی نصیحتیں اس قدر شامل ہیں کہ اگر انسان اس کی ہدایت کی راہ میں قدم رکھیں تو ان کی روح پاک ہوجائے اور اس سے گندگیاں دھل جائیں۔

 نام کتاب:         مکتب تشیع

مصنف:           محمد رضا مظفر
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0