لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 مئی 11

اسلام ميں عورت اور مرد ميں مساوات ( حصّہ پنجم )


           

اسلام ميں عورت اور مرد ميں مساوات ( حصّہ پنجم )

خاتون

 

شوہر کو بيوي کا باس(Boss) قرار دينے کي وجہ بيان کرنے کے بعد قرآن مجيد نے اچھي بيوي کي دو صفات بيان کي ہيں: ايک يہ کہ وہ فرماں بردار ہوتي ہے اور دوسرے يہ کہ گھر کے بھيدوں کي حفاظت کرتي ہے- اس کے بعد اگر بيوي شوہر کي اس حيثيت کو ماننے سے انکار کردے تو قرآن مجيد نے اصلاح کے ليے نصيحت ، بستر سے عليحدگي اور بدرجہ آخر مارنے کا طريقہ اختيار کرنے کي ہدايت کي ہے-

اگر اللہ کے دين ميں ديا گيا خانداني نظام پيش نظر ہو تو اس ميں يہ ساري باتيں معقول ہيں- البتہ اگر خانداني نظام کے بجاے معاشرے کو کسي دوسرے طريقے پر استوار کرنا پيش نظر ہے تو پھر نہ ان ہدايات کي ضرورت ہے اور نہ کسي خصوصي اختيار اور حيثيت کي-

قانون وراثت کے ضمن ميں عرض ہے کہ اس کي اساس خود اللہ تعاليٰ نے بيان کردي ہے- اللہ تعاليٰ نے بتايا ہے کہ وراثت کے يہ احکام اس ليے ديے گئے ہيں کہ تم خود سے بالعموم ٹھيک ٹھيک متعين نہيں کر سکتے کہ مرنے والے سے منفعت ميں سب سے زيادہ کون قريب ہے ، اس ليے ہم نے خود سے حصے مقرر کر ديے ہيں- ہم اوپر بيان کر چکے ہيں کہ مرد کو کفيل ٹھہرايا گيا ہے- چنانچہ اولاد کے مردوں پر آيندہ کفالت کي ذمہ داري ہے- لہٰذا  انھيں زيادہ حصہ ديا گيا ہے- اسي قانون ميں ماں باپ کا حصہ برابر ہے، حالاں کہ ان ميں بھي ايک مرد اور ايک عورت ہے ، اس کي وجہ يہ ہے کہ اب اس پر معاش کي ذمہ داري کي وہ صورت نہيں ہے-

ہر قانون اور ضابطہ کچھ مصالح اور مقاصد کو سامنے رکھ کر بنايا جاتا ہے- قانون پر تنقيد کرنے سے پہلے ضروري ہے کہ اس مصلحت اور مقصد کو سمجھا جائے- دو صورتيں ہوں گي: ہميں اس مقصد اور مصلحت ہي سے اتفاق نہ ہو ، پھر بحث اس موضوع پر ہو گي- دوسري يہ کہ اس مصلحت اور مقصد کو يہ قانون پورا نہ کرتا ہو- اس صورت ميں گفتگو اس دوسرے پہلو سے ہو گي- قرآن مجيد کا معاملہ يہ ہے کہ يہ عليم و  خبير خدا وند عالم کي کتاب ہے- يہ کيسے ممکن ہے کہ اس کي کوئي بات انساني فطرت اورعقل و فہم کے موافق نہ ہو- ہم اپني کوتاہي دور کر ليں، ہر چيز واضح ہو جاتي ہے-

منبع : تبیان ڈاٹ نٹ  

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved