لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2011 جولائی 04

تاریخ کے معمّر افراد


           

تاریخ کے معمر حضرات

اگرچہ گزشتہ صفحات میں ہم نے طویل عمر کے امکان کے بارے میں کافی وضاحت پیش کردی ہے لیکن اس مسئلے کی تاریخی حیثیت نمایاں کرنے کے لئے قارئین کرام کو تاریخ، سیرت اور سوانح حیات سے متعلق معتبر کتب کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں تاکہ انھیں اندازہ ہوجائے کہ طول عمر کا مسئلہ تاریخی لحاظ سے ہمیشہ قابل قبول رہا ہے سوانح حیات کی کتب میں تو بہت سے افراد کے طولانی سن وسال کا تذکرہ مل ہی جائے گا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت زیادہ عمر بسر کرنے والے افراد کے حالات زندگی سے متعلق خصوصی کتب بھی تحریر کی گئی ہیں۔

 

 

          اگرچہ گزشتہ صفحات میں ہم نے طویل عمر کے امکان کے بارے میں کافی وضاحت پیش کردی ہے لیکن اس مسئلے کی تاریخی حیثیت نمایاں کرنے کے لئے قارئین کرام کو تاریخ، سیرت اور سوانح حیات سے متعلق معتبر کتب کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں تاکہ انھیں اندازہ ہوجائے کہ طول عمر کا مسئلہ تاریخی لحاظ سے ہمیشہ قابل قبول رہا ہے سوانح حیات کی کتب میں تو بہت سے افراد کے طولانی سن وسال کا تذکرہ مل ہی جائے گا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت زیادہ عمر بسر کرنے والے افراد کے حالات زندگی سے متعلق خصوصی کتب بھی تحریر کی گئی ہیں۔

          ابی حاتم سجستانی (متوفیٰ ۲۴۸) نے ”المعمّرون“ نامی کتاب لکھی ہے جو ۱۸۹۹ءء میں انگریزی ترجمہ کے ضمیمہ کے ساتھ لندن سے شائع ہوئی اور کچھ عرصہ قبل اس کا جدید ایڈیشن شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شیخ صدوق کی کتاب ”کمال الدین“ اورشیخ طوسی کی کتاب”غیبت“ اور سید مرتضیٰ کی ”امالی“ میں ایک مخصوص باب یا فصل اسی موضوع سے متعلق موجودہے۔
          ان کتب کے مطالعہ سے بخوبی محسوس کیاجاسکتا ہے کہ بلا وجہ اتنی طویل گفتگو نہیں کی گئی ہے اور اس سے یہ یقین حاصل ہوجائے گا کہ تاریخ سے جن حضرات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مستند حوالہ کے ساتھ ہے نیز یہ کہ انسانی عمر کی کوئی حد معین نہیں ہے۔ دنیا کی تاریخ بےشمار طویل عمر کے مالک افراد کے عجیب واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اسی زمین پر بہت سے ایسے افراد گزرے ہیں جنھوں نے امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہسے زیادہ عمر بسر کی ہے۔
          طبیعی طور پر معمر حضرات کی تاریخ کے بارے میں ہماری معلومات اور اس سلسلہ کی کتب کے مندرجات یقینا ایک عظیم دنیا کا معمولی سا حصہ ہیں۔ اگر دوسرے اقوام کی تاریخ ہمارے اختیار میں ہوتی اور اگر شروع سے ہی معمر حضرات کے حالات کو بھی بادشاہوں کے حالات کے برابر اہمیت دی گئی ہوتی تو اس وقت معمر حضرات کی تاریخ بہت تفصیلی ہوتی۔
          ان تمام باتوں کے باوجود ہم موجود منابع ومآخذ سے معمر حضرات کے اسماء کی مختصر فہرست پیش کررہے ہیں اگرچہ تاریخ کے تمام معمر حضرات بلکہ موجودمنابع ومآخذ سے ہی تمام تر اعداد وشمار اور حالات فراہم کرنے کے لئے بہت زیادہ وقت درکار ہے اس لئے ہم صرف بطور نمونہ کچھ افراد کے اسماء پر اکتفا کررہے ہیں کہ مثل مشہور ہے ”حکم الامثال فیما یجوز وفیما لایجوز سواء“ اگر ان حضرات کے لئے طویل عمر ممکن ہے تو دوسروں کے لئے کیوں ممکن نہ ہوگی۔
 
بعض معمر حضرات کے نام
          ۱۔آدم، ۹۳۰سال
          ۲۔شیث ، ۹۱۲ سال
          ۳۔انوش، ۹۰۵ سال
          ۴۔قینان، ۹۱۰ سال
          ۵۔مہلئیل ، ۸۹۵ سال
          ۶۔یارد، ۹۶۲ سال
          ۷۔اخنوخ، ۳۶۵ سال
          ۸۔متوشالح، ۹۶۹ سال
          ۹۔لامک، ۷۷۷ سال
          ۱۰۔نوح، ۹۵۰ سال(کتب تاریخ وحدیث کے مطابق آپ کی کل عمربعثت سے قبل اور طوفان کے بعد ۲۵۰۰ سال تھی)
          ۱۱۔سام،   ۶۰۰ سال
          ۱۲۔ارفکشاد، ۴۳۸سال
          ۱۳۔شالح، ۴۳۳ سال
          ۱۴۔عابر، ۴ ۴۶ سال
          ۱۵۔ابراہیم،   ۱۷۵ سال
          ۱۶۔اسمٰعیل،   ۱۳۷سال۔
          ان افراد کی عمریں توریت کے مطابق لکھی گئی ہیں، توریت میں ان کے علاوہ فالح، رعو، سروح اور ناحور وغیرہ کے اسماء بھی ہیں۔ توریت کاعربی ترجمہ مطبوعہ بیروت ۱۸۷۰ءء اور مصنف کی کتاب منتخب الاثر ص۲۷۶۔۲۷۷ ملاحظہ فرمائیں۔
          غالباً اخنوخ سے مراد وہی ایلیا ہیں جن کے بارے میں یہود ونصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ ولادت مسیح سے ۳۳۸۲ سال قبل آسمان پر اُٹھالئے گئے اورانھیں موت نہیں آئی۔ (اظہار الحق، ج۲ص۱۲۴)
          ۱۷۔ربیعة بن ضبیع فزاری، ۳۸۰ سال، (کمال الدین، ج۲ص۲۳۳ تا ۲۳۵)
          ۱۸۔اوس بن حارثہ، ۲۲۰ سال، (المعمّرین، ص۳۶)
          ۱۹۔عبید بن شرید جرھمی، ۳۵۰سال، (کمال الدین، ج۲ص۲۳۲)
          ۲۰۔برد، ۹۶۲ سال، (کنزالفوائد، ص۲۴۵)۔
          ۲۱۔ ایوب بن حداد عبدی، ۲۰۰ سال، (کمال الدین، ج۲ص۱۴۲)۔
          ۲۲۔ ثعلبة بن کعب، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص۶۴)۔
          ۲۳۔ تیم اللہ بن ثعلبہ، ۵۰۰ سال، (تذکرة الخواص، ص۲۰۵والمعمّرین، ص۳۱)۔
          ۲۴۔ ثوب بن تلدہ اسدی، ۲۲۰ سال، (المعمّرین، ص۵۹)۔
          ۲۵۔ جعفر بن قرط عامری، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص۴۳)۔
          ۲۶۔ جلھمہ بن اددبن زید، ۵۰۰ سال، (غیبت شیخ، ص۸۴)۔
          ۲۷۔ یحابر بن مالک بن ادد، ۵۰۰ سال، (غیبت شیخ، ص۸۴)۔
          ۲۸۔ زہیر بن عتاب کلبی، ۳۰۰ سال، (کمال الدین، ص۲۴۶)۔
          ۲۹۔ جلیلة بن کعب، ۱۹۰ سال (المعمّرین، ص۶۵)۔
          ۳۰۔ حادثة بن صحر، ۱۸۰ سال، (المعمّرین، ص۴۹)۔
          ۳۱۔ حادثة بن عبید کلبی، ۵۰۰ سال، (المعمّرین، ص۶۷)۔
          ۳۲۔ حامل بن حادثة، ۲۳۰ سال، (المعمّرین، ص۶۹)۔
          ۳۳۔ حبابہ والبیہ، خلافت امیرالمومنین حضرت علی سے امام رضا کے زمانہ تک حیات پائی، (حدیث کی معتبر کتب)۔
          ۳۴۔ حارث بن مضاض جرہمی، ۴۰۰ سال، (غیبت شیخ، ص۸۱ المعمّرین، ص۴۲)۔
          ۳۵۔ ذوالاصبع العدوانی، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص۸۲)۔
          ۳۶۔ حنظلة بن شرقی، ۲۰۰سال (المعمّرین، ص۴۹)۔
          ۳۷۔ درید بن زید، ۴۵۰ سال، (المعمّرین، ص۲۰)۔
          ۳۸۔ ذوجدن حمیری، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص۳۳)۔
          ۳۹۔ درید بن صمت، ۲۰۰سال، (المعمّرین، ص۲۲)۔
          ۴۰۔ ذوالقرنین، ۳۰۰۰ سال، (تذکرة الخواص، ص۳۷۷، نقل از تورات)۔
          ۴۱۔ ربیعہ بجلی، ۱۹۰ سال، (المعمّرین، ص۶۸)۔
          ۴۲۔ رداد بن کعب نخعی، ۳۰۰ سال، (کمال الدین، ج۲ ص۲۴۲)۔
          ۴۳۔ زہیر بن خباب، ۴۲۰ سال، (المعمّرین، ص۲۵)۔
          ۴۴۔ سطیح کاہن، ۳۰ قرن، (المعمّرین، ص۵)۔
          ۴۵۔ سیف بن وہب، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص۴۱)۔
          ۴۶۔ شریة بن عبداللہ جعفی، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص۳۹)۔
          ۴۷۔ شق کاہن، ۳۰۰ سال، (کمال الدین ، ج۲ص۲۳۵)۔
          ۴۸۔ صیفی بن ریاح، ۲۷۰ سال، (غیبت شیخ، ص۸۰)۔
          ۴۹۔ ضبیرة بن سعید، ۲۲۰ سال، (المعمّرین، ص۲۰)۔
          ۵۰۔ عباد بن سعید، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص۷۰)۔
          ۵۱۔ عوف بن کنانہ کلبی، ۳۰۰ سال، (کمال الدین، ج۲ص۲۵۵)۔
          ۵۲۔ عبدالمسیح بن عمرو غسانی، ۳۵۰ سال، (المعمّرین، ص۳۸)۔
          ۵۳۔ اوس بن ربیعة اسلمی، ۲۱۴ سال، (المعمّرین، ص۶۶)۔
          ۵۴۔ عبید بن شرید جرہمی، ۳۵۰سال، (کمال الدین، ج۲ص۲۳۲)۔
          ۵۵۔ عمرو بن حمة الدوسی، ۴۰۰ سال، (غیبت شیخ، ص۸۱)۔
          ۵۶۔ عمرو بن لحی، ۳۴۵ سال، (غیبت شیخ، ص۸۶)۔
          ۵۷۔ قس بن ساعدہ، ۶۰۰ سال، (کنزالفوائد، ص۲۵۴)۔
          ۵۸۔ کعب بن حمة الدوسی، ۳۹۰ سال، (تذکرة الخواص، ص۲۰۵، المعمّرین، ص۲۲)۔
          ۵۹۔ کعب بن رادة نخعی، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص۶۶)۔
          ۶۰۔ محصن بن عتبان زبیدی، ۲۵۶ سال، (کمال الدین، ج۲ص۲۵۵)، المعمّرین، ص۲۱)
          ۶۱۔ مرداس بن صبیح، ۲۳۰ سال، (المعمّرین، ص۳۵)۔
          ۶۲۔مستوغر بن ربیعة بن کعب، ۳۳۰ سال، (المعمّرین، ص۹ وسیرة ابن ہشام، ج۱ص۹۳)۔
          ۶۳۔ ھبل بن عبداللہ کلبی جد زہیر بن خباب، ۷۰۰ سال، (المعمّرین، ص۲۹)۔
          ۶۴۔ نفیل بن عبداللہ، ۷۰۰ سال، (تذکرة الخواص، ص۲۰۵)۔
          اگر ہم المعمرین، غیبت شیخ، کمال الدین، کنزالفوائد اور تاریخ کی قدیم کتب سے ہی معمر حضرات کے اسما ء پیش کرتے رہیں تو مقالہ بہت طویل ہوجائے گا لہٰذا ان کتب سے صرف انھیں اسماء پر اکتفا کرتے ہوئے آخری دور میں لکھی گئی کتب سے چند اسماء تحریر کررہے ہیں اور اسی طرح موجودہ دور کے ان معمر حضرات کے اسماء بھی شامل کررہے ہیں جن کے حالات اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اخبارات سے تلاش کرنے کے لئے ہم نے کوئی باقاعدہ تحقیقی کام نہیں کیا ہے بلکہ اتفاقی طور پر جو اسماء مل گئے انھیں شامل کرلیاگیا۔
          ۶۵۔ ہنری جنکس، ۱۶۹ سال، (اس شخص نے ۱۱۲ سال کی عمر میں فلورفید کی جنگ میں شرکت کی)
          ۶۶۔ جون بافن بولندی، ۱۷۵ سال، (اس کے تین بیٹے سو سال سے زیادہ عمر کے تھے)۔
          ۶۷۔ یوحنا سور تنغتون نروژی، (متوفیٰ ۱۷۹۷)، ۱۶۰ سال۔
          ۶۸۔ طوز مابار، ۱۵۲ سال۔
          ۶۹۔ کورتوال، ۱۴۴ سال۔
          ۷۰۔ ایک فرد زنگباری، ۲۰۰ سال۔
          ان افراد کے نام تفسیر الجواہر جلد ۱۷ ص۲۲۶ پر مذکور ہیں۔
          ۷۱۔ ماتوسالم، ۹۶۹ سال۔
          ۷۲۔ ملک جزیرہ ”لوکمبانز“ ۸۰۲ سال۔
          ۷۳۔ چندپنجابی، ۲۰۰ سال۔
          ۷۴۔ مارکوس ابونیوس، ۱۵۰ سال سے زیادہ۔
          ۷۵۔ اھالی جبل آتوس ہریک، ۱۳۰ سال۔
          ۷۶۔ دو دون، ۵۰۰ سال۔
          ۷۷۔ سنجرین، قبرس کا بادشاہ، ۱۶۰ سال۔
          ۷۸۔قدیس سیمون، ۱۰۷ سال۔
          ۷۹۔ قدیس تاکریس، ۱۶۵ سال۔
          ۸۰۔ قدیس انطوان، ۱۰۵ سال۔
          ۸۱۔ البوما مطران حبشہ، ۱۵۰ سال۔
          ۸۲۔ توماس بار، ۱۵۲ سال۔
          ۸۳۔ ایک معمر شخص موت کے وقت جس کے بیٹے کی عمر ۱۴۰ سال تھی۔
          ۸۴۔ برنوکرتریم، ۱۵۰ سال۔
          ۸۵۔ سربیا کا ایک معمر شخص، ۱۳۵سال۔
          ۸۶۔ سربیا کا ایک اور معمر شخص، ۱۲۵ سال۔
          ۸۷۔ سربیا کا ایک اور معمر شخص، ۲۹۰ سال۔
          ۸۸۔ لیفونیا کا ایک معمر شخص، ۱۶۸ سال۔
          ۸۹۔ لوسرون کا ایک معمر شخص جس کا انتقال ۱۸۶ سال کی عمر میں ہوا۔
          ۹۰۔ ایقاسی کا ایک کاشتکار، ۱۸۵ سال۔
          ۹۱۔ مصر کا معمر، ۱۵۴ سال۔
          ۹۲۔ زار ومعمّر ترکی، ۱۵۶ سال۔
          ان افراد کے نام روزنامہ الاہرام، شمارہ ۳ دسمبر ۱۹۳۰ کے مقالہ بعنوان ”الخلود وطول العمر حوادث مدھشة عن طول الاعمار“ سے لئے گئے ہیں (تفسیر الجواہر، ج۲۴، ص۸۶ تا ۸۸)۔
          ۹۳۔ شیخ محمد سمحان، ۱۷۰ سال، (مجلہ صبا، شمارہ ۲۹، سال۳، از مجلہ الاثنین قاہرہ)۔
          ۹۴۔ سید میرزا کاشانی، ۱۵۴ سال، (پرچم اسلام شمارہ ۳ سال۲)۔
          ۹۵۔ جمعہ، ۱۴۰، (کیہان شمارہ ۷۲۵۳)۔
          ۹۶۔ محمود باقر عیوض اف۔ اپنی ایک سو پچاسویں سالگرہ منائی اور ان کے اعزاز میں روس کی پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف وزارت نے یادگاری ٹکٹ جاری کیا جس پر عیوض اف کا فوٹو شائع ہوا تھا، (اطلاعات، شمارہ،۹۶۰۳)
          ۹۷۔صربستان یوگوسلاویہ کا ایک دیہاتی بنام”اوچکوویچ۔ ۱۷۹۸ عیسوی میں پیدا ہوا اور۱۹۵۵ عیسوی تک زندہ تھا، (اطلاعات شمارہ ۹۲۱۵)
          ۹۸۔ شیر علی مسلم اف ۱۶۴ سالہ، ۱۳۴۶ء شمسی میں موصوف نے ۱۶۲ویں سالگرہ منائی، اس عمر میں بھی ہشاش بشاش تھے اور زندگی میں کبھی شراب کو منھ نہ لگایا۔ عالمی جرائد نے بارہا ان کی طول عمر اور حالات زندگی کو اپنے صفحات میں جگہ دی ہے۔(کیہان ۷۱۵۱، ۷۷۴۶، اطلاعات ۱۱۷۴۴، ۱۱۷۵۰، ۱۲۸۹۳)
          ۹۹۔ حاجی محمد بدوئی ابوالشامات، ۱۲۵ سال (اطلاعات، شمارہ ۹۰۷۲)۔
          ۱۰۰۔ شیخ علی بن عبداللہ، قطر کے سابق حکمراں، ۱۵۰ سال (اطلاعات، شمارہ ۹۳۰۳)۔
          ۱۰۱۔ سید محمد الفجال، ۱۳۶ سال نہر سوئنر کے پروجکٹ میں شامل تھے (اطلاعات، شمارہ ۹۰۹۳)
          ۱۰۲۔ نوذر باباتا مصطفی یف آذربائیجان (قدیم روس )کا باشندہ، جس نے کچھ عرصہ قبل اپنی ایک سو چالیسویں سالگرہ کا جشن منایا، (اطلاعات، شمارہ، ۱۱۶۲۲)۔
          ۱۰۳۔ محمد انباتوف، ۱۶۹ سال، آذربائیجان(قدیم روس )کے الیکشن میں سب سے معمر امیدوار موصوف کے سو سے زیادہ اولاد، نواسے اور پوتے تھے، (اطلاعات، شمارہ۹۴۳۱)۔
          ۱۰۴۔ کدخدا قنبر علی رستم آبادی، ۱۵۶ سال، (اطلاعات، شمارہ ۹۷۶۳ و۹۸۷۳)۔
          ۱۰۵۔ ترکیہ کی ہاجر نامی خاتون ۱۶۹ سال جس کا ایک بھائی ۱۱۳ سال کا تھا (اطلاعات شمارہ
          ۱۱۳۴۷)
          ۱۰۶۔ حسین پیرسلامی فارسی، ۱۴۶ سال، (اطلاعات، شمارہ ۹۷۴۶ و۹۷۴۸)۔
          ۱۰۷۔ہادی محمد، نیپولین کے زمانہ میں ولادت ہوئی اور ۱۳۴۲ء شمسی میں ۱۶۳ سال عمر، ایک بیٹے کی عمر ۱۱۰ سال تھی جب کہ اس کے۱۵۰ پوتے اور نواسے تھے، اس وقت بھی کاسابلانکا میں زندگی بسر کررہا ہے۔ (کیہان ۵۹۹۱)
          ۱۰۸۔سید حسین قرائی۔ ۱۵۳ سال۔ (اطلاعات، ۸۷۳۱)
          ۱۰۹۔ارجنٹائناکی خاتون بنام ”ناوارز“ ۱۴۸سال۔(اطلاعات،۸۷۳۱)
          ۱۱۰۔آسٹریا کے ”فرانتر وائز“ ۱۴۰ وین سالگرہ منائی اور فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ کبھی بیمار ہوا ہوں۔ اس عمر میں بھی اپنی زراعت کی نگرانی خود کرتے تھے۔
          ۱۱۱۔محمد ولی مسلم مراغای، ۱۴۰سال۔ (اطلاعات ۱۰۰۰۰)
          ۱۱۲۔گرجستبان کاباشندہ ”اشناکر“ ۱۴۷ سال، (اطلاعات ۱۱۱۸۷)
          ۱۱۳۔صاح اسماعیل تونسی کی دختر بنام ”عائشہ“ ۱۳۰ سال۔ (اطلاعات۸۶۴۶)
          ۱۱۴۔گالون قفقاز کی خاتون ”گوموکا“ ۱۴۷ویں سالگرہ منائی، ہشاش بشاش ہیں سماعت وبصارت میں کوئی نقص نہیں ہے۔ (اطلاعات۸۹۷۲)
          ۱۱۵۔امریکا کے ”ڈیوڈ فربانذ“ ۱۳۳ سال (اطلاعات ۸۹۷۲)
          ۱۱۶۔۱۸۵ سال ضعیف۔ فاخر الدین شاہ کی ولادت کے وقت ان کی عمر ۵۰ سال اور محمد خان قاچار کے زمانہ میں ۱۲ سال کے تھے۔ (کیہان، ۶۰۶۲)
          ۱۱۷۔کردیف قفقازی، ۱۴۷ سال۔ (اطلاعات ۹۰۲۳)
          ۱۱۸۔چینی باشندہ ،۱۵۵ سال۔ (اطلاعات شمارہ، ۱۱ ۱۳۳۳)
          ۱۱۹۔البانیہ کا باشندہ ”خودہ“، ۱۷۰ سال۔ (مجلہ دانش مند شمارہ ۶۱)
          ۱۲۰۔ترکی کی دادی خدیجہ، ۱۶۸ سال۔(اطلاعات۱۱۱۰۵)
          ۱۲۱۔سیارام، پنجاب ہندوستان، ۱۴۰ سال۔(اطلاعات ۸۹۲۸)
          ۱۲۲۔ترکی کی ”کومروبمیرنین“ ، ۱۷۳ سال۔(اطلاعات۸۷۴۵)
          ۱۲۳۔سید حبیب علی معاطی مراکشی، ۱۴۷ سال، اس عمر میں بھی اپنے تمام امور خود انجام دیتے ہیں بیٹے بھی کافی پہلے سو سال کے ہوچکے ہیں۔ (الامالی المنتخبہ منطوی، ج۱ ص۷۹)
          ۱۲۴۔چینی باشندہ ”دلی چنگ،۲۵۳ سال۔ (الامالی المنتخبہ منطوی، ج۱ ص۷۹)
          ۱۲۵۔احمدآداموف۔۱۶۱ سال، شادی کی ۱۰۰ ویں سالگرہ منائی۔ (اطلاعات۸۹۶۳)
          ۱۲۶۔محمود باقر اوغلو، ۱۴۸ ویں سالگرہ منائی۔ (اطلاعات۸۹۶۳)
          ۱۲۷۔پی ریرارا یا جاوید پریراپر، ۱۶۷ سال۔ جنوبی امریکا کا سرخ پوست جس کے حالات زندگی تفصیل کے ساتھ اطلاعات کے شمارہ ۹۲۳۶ میں شائع ہوئے۔
          ۱۲۸۔سید ابوطالب موسول المعروف بہ ”ذی القرنین“، ۱۹۱ سال۔ ایک چھوٹی سی آبادی کے پردھان تھے جس میں سب کے سب ان کے بیٹے، پوتے نواسے ہی تھے، آخری زوجہ کی عمر ۱۰۵ سال ہے۔ فرماتے ہیں کہ ناصر الدین شاہ سے پہلے شادی کی اور دو مرتبہ ان کے دانت نکلے۔ (اطلاعات۱۱۱۷۹)
          ۱۲۹۔شیر سوار۔ فومن کا ۱۴۰ سالہ باشندہ۔ (اطلاعات۹۷۴۱، ۹۷۴۲)
          ۱۳۰۔کربلائی آقا باطنی کرمانشاہی، ۱۴۰ سال۔ (اطلاعات۹۷۸۰)
          ۱۳۱۔سید علی فریدنی، ۱۸۵ سال۔ دو بیٹوں کی عمر بھی سوسال سے زیادہ تھی۔ ۳۵ سال قبل یعنی ۱۵۰ سال کی عمر میں دوبارہ دانت نکلے، حکومت کی جانب سے وزارت صحت کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے معاینہ کیا اور ان کے حالات سے متعلق وزارت صحت کا خط روزمانہ اطلاعات میں شائع ہوا۔ (اطلاعات۹۷۴۱، ۹۷۴۴، ۹۷۶۵)
          ۱۳۲۔ایکور کرویف، ۱۵۷ سال۔ روسی جنرل الکسی میر مولف کے خلاف نیپولین اول کی جنگ میں جنرل الکسی کا باورچی تھا۔ ایکور کرویف شراب اور سگریٹ نوشی کا شدت سے مخالف تھا۔ (اطلاعات۹۳۳۷)
          ۱۳۳۔کینیا کا ایک باشندہ جس کا ۱۵۸ سال کی عمر میں اپنڈکس کا نیروبی میں آپریشن ہوا، موصوف جو ان ترین جوانوں سے بھی زیادہ جوان تھے، ۱۲۰ سے ۱۳۰ سال کی عمر کے دوران جوان بیوی سے ۵ اولادیں ہوئیں، سب سے بڑے صاحبزادے ۱۲۵ سال کے ضعیف اور کمر خمیدہ ہیں لیکن ۱۵۸ سالہ باپ اب بھی ”ہاتھی پچھاڑ“ اور افسانوی پہلوان کی طرح طاقتور ہے۔ دوسرے بیٹے ایک قبیلہ کے سردار ہیں اپنی زندگی میں ۳۹ شادیاں کیں اور ۱۷۳ ،اولادیں ہوئیں۔ طول عمر اور کثرت اولاد میں یہ گھرانہ ضرب ا لمثل بنا ہوا ہے۔ (عالمی جرائد، اطلاعات۱۲۶۷۲)
          ۱۳۴۔سرکاری سروے کے مطابق گرجستان میں اکیس سو افراد کی عمر سو سال سے زیادہ ہے۔ (اطلاعات۱۱۱۷۸)
          ۱۳۵۔ایک سروے کے اعداد وشمار کے مطابق روس میں ۱۱۰ سے ۱۵۰ سال تک کے دو سو افراد پائے جاتے ہیں، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان میں سے اکثر شہد کی مکھیاں پالتے ہیں اورا ن کی غذا شہد ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ طول عمر میں شہد کا کردار بہت اہم ہے۔ (اطلاعات۸۹۰۴)
          ۱۳۶۔امریکا میں سو سال سے زیادہ عمر والے افراد کی تعداد کا اندازہ تین ہزار پانچ سو بتایا جاتا ہے۔ (اطلاعات۹۴۳۷)
          ۱۳۷۔چین میں ۳۳۸۴ افراد کی عمر سو سال سے زیادہ ہے ان کے درمیان ایسے افراد بھی ہیں جو ۱۵۰ سال سے زیادہ کے ہیں۔(اطلاعات۱۱)
          ۱۳۸۔سویت یونین میں زندگی کی دوسری صدی میں قدم رکھنے والے افراد کی تعداد تقریبا تیس ہزار ہے۔(مجلہ دانش مند ۶۱)
          ۱۳۹۔مجارستان کے ایک دیہاتی باشندہ کا۱۷۲۴ءء میں ۱۸۵ سال کی عمر میں انتقال ہوا، موصوف آخر عمر تک جوانوں کی طرح کام کیا کرتے تھے۔ (دانشمند۶۱)
          ۱۴۰۔مجارستان کے ایک اور شخص ”جان راول“ کی عمر انتقال کے وقت ۱۷۰ سال تھی جب کہ موصوف کی زوجہ کی عمر ۱۶۴ سال تھی اس جوڑے نے زندگی کے ۱۳۵ سال ایک ساتھ گزارے۔ (مجلہ دانش مند۶۱)
          ۱۴۱۔”آشرااوماروا“ نامی خاتون ۱۵۹ سال۔ (اطلاعات۱۲۸۸۲)
          ۱۴۲۔چند برس پہلے اخبارات نے اطلاع دی کہ جنوبی امریکہ میں ۲۰۷ سال کی عمر میں ایک شخص کا انتقال ہوا۔ (دانش مند ۶۱)
          مقالہ کے اختتام پر بار دیگر یہ یاد دہانی کرادیں کہ اگر کسی کے پاس اقوام کی تاریخ اور پوری دنیا سے منتشر ہونے والے اخبارات، رسائل، مجلات ہوں تو اس کے پاس عجیب وغریب معلومات اور اعداد وشمار جمع ہوجائیں گے۔
          اس مقالہ سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ تاریخ معاصرین اور زمانہ ٴقدیم کے معمر حضرات کے حالات کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہے کہ انسانی عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، اور جیسا کہ سید بن طاؤوس نے اپنی کتاب کشف المحجہ فصل ۷۹ میں معروف مثل کے ذریعہ وضاحت پیش کی ہے لہذا کسی بھی قسم کا تعجب نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جب کثرت کے ساتھ بار بار تاریخ کے دامن میں معمر حضرات کا وجود پایا جاتا ہے تو حیرت کس بات پر ہے؟
          ہم نے طول عمر کے سلسلے میں جو مختلف اعتبار سے تشریحی گفتگو کی ہے اس کا مقصد صرف یہ سمجھانا تھا کہ طویل عمر کے انکار کی وجہ تاریخ کے بارے میں ناقص معلومات، معمر حضرات کے حالات اور علوم طبیعہ سے ناواقفیت، ضعف ایمان، عناد اورحق کوقبول کرنے سے ٹال مٹول کے سوا کچھ نہیں ہے۔
          اگر یہ دلائل نہ ہوتے، طویل عمر کی کوئی اور مثال نہ ہوتی، سائنس تائید نہ کرتی تو بھی ان تمام باتوں کے باوجود حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی عمر کا مسئلہ مطابق عقل اور قبول کرنے کے لائق تھا اس لئے کہ پیغمبر اکرم   اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے اتنی احادیث اور بشارتیں نقل ہوئی ہیں ،آپ کے پدر بزرگوار امام حسن عسکری کی حیات طیبہ اور غیبت صغریٰ وکبریٰ کے زمانہ میں آپ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی ذات گرامی سے نہ معلوم کتنے معجزات ظاہر ہوئے،بہت سے افراد جن کی صداقت اور زہد وتقویٰ شک وشبہ سے بالاتر ہے حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی خدمت میں شرفیاب ہوئے، بے شمار افراد کو زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے یہ تمام چیزیں اس آفاقی رہبر کی حیات مبارکہ کی بہترین دلیل ہیں جیساکہ انبیاء کے معجزات بھی خارق العادہ ہونے کے باوجود تواتر کے ساتھ اطلاع دینے والوں اور قدرت الٰہی پر ایمان کی وجہ سے قطعی طور پر مسلّم ہیں۔
          ”اللّھُمَ اِنَّا نَرْغَبُ اِلَیْکَ فِیْ دَوْلَةٍ کَرِیْمَةٍ تُعِزّ بِھَا الاِسْلام واٴَھْلَہ وَتُذِلُّ بِھَا النِّفَاقَ وَاَھْلَہ وَتَجْعَلُنَا فِیْھَا مِنَ الدُّعَاةِ اِلٰی طَاعَتِکَ وَالْقَادَةِ اِلٰی سَبِیْلِکَ وَتَرْزُقُنَا بِھَا کَرَامَةَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ“۔
          ”خدایا ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں اس با عظمت حکو مت کا جس سے اسلام اور اہل اسلام کو عزت ملے ا ور نفاق اور اہل نفاق کو ذلت نصیب ہوہمیں اس حکو مت میں اپنی اطاعت کا طرفدار اور اپنے راستے کا قائد بنا دے ا ور اس کے ذریعہ ہمیں دنیا اور آخرت کی کرا مت عنایت فرما“۔
منبع : مہدویت ڈاٹ کام 

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0