لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 نومبر 10

صحیفہ سجادیہ کی دعائیں


           
صحیفہ سجادیہ کی دعائیں
عاشورا کے دن جان گھلا دینے والے واقعے کے بعد بنی امیہ کے بادشاہوں نے مسلمانوں کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے کر سخت ظلم اور آمریت کے ساتھ بے حد خون بہاتے اور ظلم ڈھاتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو شدید نقصان پہنچایا۔ 
ان حالات میں امام زین العابدین ؑ بجھے دل کے ساتھ مصیبت کے مارے اپنے گھر میں بیٹھے زندگی گزار رہے تھے ۔ کوئی ان کے پاس نہیں آتا تھا اور آپ بھی سخت نگرانی کے باعث آزاد نہیں تھے کہ لوگوں میں چلیں پھریں اور ان کے فرائض اور کام ان کو بتائیں۔ 
ان حالات کے پیش نظر آپ نے یہ دستور اپنایا کہ دعا کے ذریعے سے جو تعلیم و تربیت کا ایک طریقہ ہے قرآن کے اصول ، اسلام کے حقائق اور اہلبیت ؑ کے رہن سہن کے طریقے بتائیں۔ لوگوں کو مذہب کی اصلیت سے روشناس کرائیں ۔ پرہیز گاری کی تعلیم دیں اور نفس کو سدھارنا اور سنوانا اور اچھی عادتی ڈالنا سکھائیں۔ 
یہ طریقہ ایک بے مثل ایجاد تھی جس کے پردے میں امام ؑ دشمنوں کو کسی بہانے کا موقع دیے بغیر اسلام کے حقائق اور اصول عام کرنے لگے۔ چنانچہ آپ نے لوگوں کو بہت سی دعائیں سکھائیں۔ ان مناجاتوں میں سے کچھ جمع کرکے "صحیفہ سجادیہ" کے نام سے ایک کتاب مرتب کر دی گئی ہے جسے "زبور آل محمد ﷺ" بھی کہتے ہیں۔ 
عربی ادب کے بلند ترین نمونوں کے طرز پر اس کتاب کا اسلوب بیان بہت دلکش ہے، یہ مذہب اسلام کے بلند مقاصد، توحید و نبوت کے گہرے رموز، سرور کائنات ﷺ کے اخلاق اور اسلام کے حقائق کی تعلیم کا سب سے صحیح طریقہ ہے اور اس می دینی تربیت کے مختلف مسائل شامل ہیں ، واقعی یہ کتاب دعا کے لباس میں مذہب اور اخلاق کی تعلیم دیتی ہے یا ایک مناجات ہے جو مخصوص اسلوب میں مذہب اور اخلاق کا ذکر کرتی ہے، سچ تو یہ ہے کہ یہ کتاب قرآن اور نہج البلاغہ کے بعد عربی کے نہایت اعلیٰ انداز اور طرز بیان کی حامل ہے اور الہٰی اور اخلاقی فلسفوں کے سمندر سے ابھرا ہوا روشنی کا سب سے اونچا مینار ہے۔ 
اس دعا کی کچھ تعلیمات وہ ہیں جو یہ سکھاتی ہیں کہ خدا کی تعریف اور تقدیس کس طرح کی جائے۔ اس کا شکر کیسے ادا کیا جائے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کیوں کرکے جائے۔ 
اس کا ایک حصہ یہ بتایا ہے کہ خدا سے راز و نیاز کیسے کیا جائے،تنہائی میں اخلاص سے کیسے کام لیا جائے اور اچھی طرح دل کیسے لگایا جائے۔ 
اس کتاب کا ایک جزو پیغمبر اسلام ﷺ تمام انبیاء ؑ اور خدا کے منتخب بندوں پر درود و سلام کے حقیقی معنی اور اس کا صحیح طریقہ بیان کرتا ہے۔ 
اس کتاب میں جو باتیں شامل ہیں ان کا ایک حصہ والدین کے احترام، اولاد پر والدین کے اور والدین پر اولاد کے حقوق کی تشریح کرتا ہے۔ اسی طرح پڑوسیوں ، عزیزوں اور تمام مسلمانوں کے حقوق اور غریبوں کے حقوق مالداروں پر اور غریبوں پر مالداروں کے حقوق بیان کرتا ہے۔ 
یہ کتاب اپنے ایک حصے میں قرض داروں اور تمام معاشی اور مالی معاملات کے سلسلے میں انسان کے فرائض ، تمام دوستوں، ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں اور اصول طور پر تمام آدمیوں ، کاریگروں اور ملازموں کے باہمی سلوک اور رویے کی تشریح کرتی ہے۔ 
یہ کتاب ایک اور حصے میں تمام اخلاقی خوبیوں کے ایسے اسباب کی نشان دہی کرتی ہے جو اچھی عادتیں ڈالنے کا ایک مکمل ذریعہ بن سکتے ہیں۔ 
ایک اور حصے میں یہ بتاتی ہے کہ برے حالات اور حادثٓت میں کیسے صبر کرنا چاہیے اور بیماری اور صحت میں کس طرح رہنا چاہیے۔ 
کچھ فقرو میں اسلامی فوج کے فرائض اور فوج کے مقابلے میں دوسرے لوگوں کے فرائض منصبی بیان کرتی ہے اور مجموعی طور پر جو کچھ اخلاق محمدیﷺ اور شریعت الہٰی کے تقاضے ہیں دعا کے لباس اور طرز میں ان سب کو کھول کر بیان کرتی ہے۔ 
حضرت امام زین العابدین ؑ کی ان دعاؤں کے نمایاں فقروں کے چند نمونے مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت مختصر طور پر پیش کیے جاتے ہیں :۔ 

۱۔ خدا کی پہچان :۔
خدا اور اس کی عظمت اور قدرت کی پہچان کرانا اور اس کی وحدانیت اور تقدس کی تشریح کرنا، علم کی نہایت نازک اور باریک معنیٰ آفرینیوں میں سے ہے،اور یہ مضمون ان دعاؤں میں طرح طرح کی عبارتو اور اسلوبوں میں آیا ہے ۔ جیسے یہ فقرے جو ہم پہلی دعا میں پڑھتے ہیں۔ 
اَلحَمدُلِلّٰہِ الاَوَّلِ بِلاَاَوَّلٍ کَانَ قَبلَہُ وَالاٰخِرِ بِلاَ آخِرٍ یَکُونُ بَعدَہُ الَّذِی قَصُرَت عَن رُویَتِہِ اَبصَارُ النَّاظِرِینَ وَعَجَزَت عَن نَعتِہِ اَوھَامُ الوَاصِفِینَ ابتَدَعَ بِقُدرَتِہِ الخَلقَ ابتِدَاعاً وَاختَرَ عَھُم عَلٰی مَشِیَّتِہِ اختِراعاً:۔ اس خدا کی تعریف اور شکر کرتا ہوں جو ایسا اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی آغاز نہیں تھا اور ایسا آخر ہے کہ اس کے بعد کوئی انجام نہیں ہوگا۔ وہ ایسا خدا ہے جس کے دیکھنے سے آنکھی معذور ہیں اور تعریف کرنے والوں کی عقلیں اس کی تعریف سے عاجز ہیں وہ ایسا خدا ہے جس نے موجودات (کائنات) کو اپنی قدرت سے یپدا کیا اور اس کو جس طرح چاہتا تھا ظاہر کیا۔ 
مندرجہ بالافقرات نے بڑی نزاکت سے خدا کے اول اور آخر ہونے کی حقیقت مجسم بنا کر سمجھا دی کہ خدا اس سے بری اور الگ ہے جو آنکھ اور سوچ سے دیکھا اور سمجھتا جاتا ہے اس طرح ان فقرات میں بڑی باریکی سے موجودات کی (جو خدا کی قدرت اور ارادے سے متعلق ہیں) پیدائش اور بناوٹ بیان کی گئی ہے۔ 
ہم چھٹی دعا میں پڑھتے ہیں :۔ 
اَلحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِی خَلَقَ اللَّیلَ وَالنَّھَارَ بَقُوَّتِہِ وَمَیَّزَ بَینَھُما بِقُدرَتِہِ وَجَعَلَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنھُما حَدّا مَّحدُوداً وَاَمَداً مَّمدُوداً یَولِجُ کُلَّ وَاحِدٍ مِّنھُمَا فِی صَاحِبِہِ وَیُولِجُ صَاحِبَہُ فِیہِ بَتَقدِیرٍ مِنہُ لِلعِبَادِ فِیمَا یَغذُوھُم بِہِ وَیُنشِئُھم عَلَیہِ فَخَلَقَ لَھُمُ اللَّیلَ لِیَسکُنُوا فِیہِ مِن حَرَکَاتِ التَّعَبِ وَنَھَضَاتِ النَّصَبِ وَجَعَلَہُ لِبَاساً لِیلبِسُوا مِن رَّاحَتِہِ وَمَنَامِہِ فَیَکُونَ ذٰلِکَ لَھُم جَمَاماً وَقُوَّۃً وَلیَنَالُوابِہِ لَذّۃً وَشَھوَۃً :۔اس خدا کی تعریف اور شکر کرتا ہوں جس نے رات اور دن کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور اسی قدرت سے ان میں فرق رکھا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کی ایک حد مقرر کی ، وہ ایسا خدا ہے جس نے رات اور دن میں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کا جانشین (جگہ لینے والا) بنا دیا (نوٹ، اس طرح کہ دھیرے دھیرے کرکے رات اور دن کے اثرات داخل کیے، یکدم روشنی یا تاریکی نہیں ہوتی) تاکہ (اس کے ذریعے سے) خلقت کی غذا بہم پہنچائے اور ان کی پرورش کرے، رات کو اس لیے پیہدا کیا کہ اس میں تھکا دینے والی حرکت اور محنت طلب تلاش سے آرام پائیں اور اس کو ان کے لیے پردہ بنا دیا تاکہ بستر پر آرام کریں، اس میں اپنی طاقت کے حصول اور خوشی کا انتظٓم کریں اور اپنی فطری خواہش اور لذت سے بہرہ مندہوں ۔ 
اس دعا میں دن رات کے پیدا کرنے اور اس انسانی فرض کے سلسلے میں جو اس نعمت کے شکریے کے لیے عائد ہوتا ہے کچھ دوسرے فائدے بھی بتائے گئے ہیں۔ 
ساتویں دعا میں دوسرے ڈھنگ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ تمام معاملات اور واقعات خدا کے ہاتھ میں ہی جیسا کہ ہم پڑھتے ہیں:۔ 
یَامَن تُحَلُّ بِہِ عُقَدُ المَکَارِہِ وَیَا مَن یُفثَاُ بِہِ حَدُّ الشَّدَٓائِدِ وَیَامَن یُلتَمَسُ مِنہُ المَخرَجُ اِلیٰ رَوحِ الفَرَجِ ذَلَّت لِقُدرَتِکَ الصِّعَابُ وَتَسَبَّبَت بِلُطفِکَ الاَسبَابُ وَجَرٰی بَقُدرَتِکَ القَضَآءُ وَمَضَت عَلیٰ اِرَادَتِکَ الاَشیَآءُ فَھِیَ بِمَشِیَّتِکَ دُونَ قَولِکَ مَؤتَمِرَۃٌ وَبِاِرَادَتِکَ دُونَ نَھِیکَ مُنزَجِرَۃٌ :۔ اے خدا! دشواریاں (تکلیفیں ) تیرے ہی ذریعے سے دور ہوتی ہیں۔ اے خدا! مصیبتوں کی سختی تیری ہی بدولت کم ہوتی ہے اے خدا! آزادی اور آرام کی فراہمی کا تجھی سے تقاضا ہوتا ہے ۔ تیری ہی قدرت سے مصیبتیں چھٹ جاتی ہیں، تیری مہربانی سے اسباب اپنی جگہ ٹھیر جاتے ہیں۔ تیری طاقت سے حکم جاری ہوتا ہے اور تیرے چاہنے کے مطابق کام چلتے ہیں یہ تمام معاملات گفتگو میں حکم دیے بغیر تیری منشا اور ارادے سے طے ہوجاتے ہیں اور تیرے منع کیے بغیر ہی رک جاتے ہیں۔ 

۲۔ خدا کی عبادت میں عاجزی:۔
اس بات کی تشریح کہ انسان خدا کی درگاہ میں خالص عبادت اور فرماں برادری کی چا ہے جتنی کوششیں کریں، خدا کے انعامات اور مہربانیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے ، جیسا کہ ہم سینتیسویں دعا میں پڑھتے ہیں: 
اَللّٰھُمَّ اِنَّ اَحَداً لاَ یَبلُغُ مِن شُکرِکَ غَایَۃً اِلاّ حَصَلَ عَلَیہِ مِن اِحسَانِکَ مَا یُلزِمُہُ شُکراً وَلاَ یَبلُغُ مَبلَغاً مِن طَاعَتِکَ وَاِنِ اجتَھَدَ اِلاَّ کَانَ مُقَصِّراً دُونَ استِحقَاقِکَ بِفَضلِکَ فَاَشکَرُ عِبَادِکَ عَاجِزٌ عَن شُکرِکَ وَاَعبُدُھُم مُقَصِّرٌ عَن طَاعَتِکَ :۔ اے خدا! کوئی شخص تیری شکر گزاری کا پورا حق ادا نہیں کرسکتا البتہ صرف یہ کرسکتا ہے کہ پھر تیرا احسان مند ہو اور اس پر دوبارہ تیرا شکر ادا کرنا واجب ہوجائے ، وہ چاہے جتنی زیادہ کوشش کرے تیری اطاعت کی حد ختم نہیں کرسکتا۔ بس یہ کرسکستا ہے کہ تیری بے حد مہربانی کے باعث تیرے شایان شان اطاعت کرنے سے قاصر رہے ۔ اس لیے تیرے سب سے زیادہ شاکر بندے بھی تیری شکر گزاری میں کمزور ہیں اور تیرے سب سے زیادہ عبادت کرنے والے بندے تیری اطاعت سے قاصر ہیں۔ 
چونکہ بندوں کے لیے خدا کی نعمتیں اور عطیے لامحدود ہیں، بندے ان کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہیں۔ پھر اسے کیا کہی جو لوگ نہایت ڈھٹائی سے خدا کا حکم ٹال دیں۔ وہ گنہگار بندہ جو ان گناہوں میں سے ایک گناہ کی تلافی کی بھی طاقت نہیں رکھتا وہ کیا کرے ، صحیفہ سجادیہ کی سولہویں دعا کے کے مندرجہ ذیل فقرے اس نکتے کی وضاحت کرتے ہیں:۔ 
یَآاِلٰھی لَوبَکَیتُ اِلَیکَ حَتیّٰ تَسقُطَ اَشفَارُ عیَنَیَّ وَانتَجَبتُ حَتّٰی یَنقَطِعَ صَوتِی وَقُمتُ لَکَ حَتّٰی تَتَنَشَّرَ قَدَمَایَ وَرَکَعتُ لَکَ حَتّٰی یَنخَلِعَ صُلبِی وَسَجَدتُّ لَکَ حَتیّٰ تَتَفَقَّاَ حَدَقَتَایَ وَاکَلتُ تُرَابَ الارضِ طَولَ عُمرِی وَشَرِبتُ مَآءَ الرَّمَادِ اٰخِرَ دَھرِی وَذَکَرتُکَ فِی خِلَالِ ذٰلِکَ حَتّٰی یَکِلَّ لَسَانِی ثُمَّ لَم اَرفَع طَرَفِی اِلیٰ اٰفَاقِ السّمَآءِ استِحیَاءً مِنکَ مَااستَوجَبتُ بَذٰلِکَ مَحوَسَیِّئَۃِ وَاحِدَۃٍ مِّن سَیِّئَاتِی :۔ اے خدا! اگر میں تیرے سامنے اس قدر روؤں کہ میری آنکھوں کی پلکیں بھی جھڑجائیں اور اس زور سے روؤں کہ میری آواز ختم ہوجائے (ٹوٹ جائے) اور اپنے دونوں پاؤں پر اتنے عرصے تک کھڑا رہوں کہ پاؤں سوج جائیں اور تیرے لیے اتنے رکوع کروں کہ میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے اور تجھے اتنے سجدے کرو کہ میری آنکھوں کے ڈھیلے حلقوں سے نکل پڑیں اور تمام عمر زمین کی مٹی چاٹتا رہوں اور مرتے وقت تک گدالا پانی پیتا رہوں اور ان حالات میں تیرے ذکر میں اتنا مشغول رہوں کہ زبان بولنے سے رک جائے اور پھر تجھ سے شرمندہ ہوکر آسمان کی طرف آنکھ نہ اٹھا سکوں اس وقت بھی ان کاموں کے عوض اپنے ایک گناہ کی معافی کا بھی حقدار نہیں ہوسکتا۔ 

۳۔ خدا کی طرف سے سزا اور جزا:۔
سزا و جزا اور بہشت و دوزخ اور اس کا بیان کہ خدا کے تمام انعامات اس کی مہربانی کا نتیجہ ہیں اور چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی جو بندہ ڈھٹائی سے کر بیٹھتا ہے عذاب کا موجب ہوگا۔ گناہ کے متعلق بندے پر خدا کی حجت ختم ہوچکی ہے اور اب بندے کو کسی قسم کے اعتراض کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ 
صحیفہ سجادیہ کی سبھی دعائیں یہ اثر رکھتی ہیں کہ خدائی عذاب کا ڈر اور اس کے انعام کی امید انسان کی روح میں سمو دیں۔ یہ سبھی دعائیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ اپنے طرح طرح کے اسالیب سے انسان کے سوچنے والے ذہبن میں گناہ کے ارتکاب کا ڈربٹھاٹی ہیں جیسا کہ ہم چھیالسیویں دعا میں پڑھتے ہیں، 
حُجَّتُکَ قَآئِمَۃٌ لاَ تُدحَضُ وَسُلطَانُکَ ثَابِتٌ لاَ یَزُولُ فَالوَیلُ الدَّآئِمُ لِمَن جَنَحَ عَنکَ وَالخَیبۃٌ الخَاذِلَۃٌ لِمَن خَابَ مِنکَ وَالشَّقَآءُ الاَشقیٰ لِمَنِ اغتَرَّبِکَ مَآاَکثَرَ تَصَرُّفَہ فِی عَذَابِکَ وَمَآآبَعَدَ غَایَتَہُ مِنَ الفَرَجِ وَمَآ اَقنَطَہُ مِن سُھُولَۃِ المَخرَجِ عَدلاً مّ٘ن قَضَآئِکَ لاَ تَجُورُ فِیہِ وَاِنصَافاً مِن حُکمِکَ لاَ تَحِیفُ عَلَیہِ فَقَد ظَاھَرتَ الحُجَجَ وَاَبلَیتَ الاَعذَارَ :۔اے خدا ! تیری دلیل اور حجت مضبوطی سے قائم ہے اور باطل نہیں ہوگی چنانچہ تیرا دائمی عذاب اس کے لیے ہے جو تجھ سے پھر گیا ہے اور ذلیل کرنے والی ناامیدی اسے نصیب ہے جو تجھ سے آس توڑ بیٹھا ہے۔ حددرجہ بدبخت وہ ہے جو تیری مہربانی اور بخشش سے گھمنڈی ہوگیا ہے ۔ کتنی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایسا آدمی لگاتار تیرے عذاب کی طرف پلٹتا ہے اور تیری سزا میں وہ کتنے لمبے عرصے تک پریشانی بھگتتا ہے اور اس کی مصیبت کتنی طویل ہوتی ہے کتنے مایوس ہیں لوگ اس رہائی سے جو تیرے عادلانہ فیصلے کے باعث جس میں تو کوئی ظلم نہیں کرتا اور اپنے منصفافہ حکم کی بدولت جس میں تو کوئی زیادتی نہیں کرتا آسانی سے حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ تو حجتوں اور دلیلوں کو لگاتار (یا ایک دوسرے کی تائید میں) گردش دیتا اور ان کو مدتوں تک ظاہر کرتا رہا ہے۔ 

ہم اکتیسویں دعا میں پڑھتے ہیں :۔ 
اَللّٰھُمَّ فَارحَم وَحدَتِی بَینَ یَدَیکَ وَ وَجِیبَ قَلبِی مِن خَشیَتِکَ وَاضطِرَابَ اَرکَانِی مِن ھَیبَتِکَ فَقَد اَقَامَتنِی یَارَبِّ ذُنُوبِی مَقَامَ الخِزیِ بِفَنَائِکَ فَاِن سَکَتُّ لَم یَنطِق عَنِّی اَحَدٌ وَاِن شَفَعتُ فَلَستُ بِاَھلِ الشَّفَاعۃِ :۔اے خدا ! تو اپنی بارگارہ میں میری تنہاءی، اپنے ڈر سے میرے دل کی دھڑکن اور اپنی دھاک سے میرے اعضا کی تھرتھری پر ترس کھا کیونکہ اے میرے پالنے والے ! میرے گناہ مجھے تیری درگارہ میں فنا کی بدنامی کے مقام پر لے آئے ہیں، اب اگر میں چپ رہتا ہوں تو کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا جو سفارش یا ذریعہ چاہتا ہوں تو اپنے آپ کو سفارش کے لائق نہیں پاتا۔ 

انتالیسویں دعا میں پڑھتے ہیں :۔ 
فَاِنَّکَ اِن تُکَافِنِی بِالحَقِّ تُھلِکنِی وَاِلاَّ تَغَمَّدنِی بِرَحمَتِکَ تُوبِقنِی (اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَستَوھِبُکَ یَٓااِلٰھِی مَالاَ یُنقِصُکَ بَذلُہُ وَاَستَحمِلُکَ مَالاَ یَبھَضُکَ حَملُہُ اَستَوھِبُکَ یَٓااِلٰھِی نَفسِیَ الَّتِی لَم تَخلُقھَا لِتَمتَنِعَ بِھَامِن سُوٓءٍ اَو لِتَطَرَّقَ بِھَا اِلٰی عَلیٰ مِثلِھَا وَاحتِجَاجاً بِھَا عَلٰی شَکلِھَا) وَاَستَحمِلُکَ مِن ذُنُوبِی مَا قَد بَھَطَنِی حَملُہُ وَاَستَعِین بِکَ عَلیٰ مَاقَد فَدَحَنِی ثِقلُہُ فَصَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہِ وَھَب لِنَفسِی عَلٰی ظُلمِھَا نَفسِی وَ وَکِّل رَحمَتَکَ بِاحتِمَالِ اِصرِی :۔ اگر تو مجھے صحیح سزا دے گا تو ہلاک کرے گا اور اگر مھجے اپنی رحمت سے نہیں ڈھانپے گا تو تباہ کردے گا۔ میں تجھ سے یہ چاہتا ہوں کہ میرے گناہ مجھ سے لے لے کیونکہ میں ان کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں اور تجھ سے ان گناہوں کے سلسلے میں مدد مانگتا ہوں جن کے بوجھ نے مجھے جھکا اور تھکا دیا ہے۔ محمد ﷺ اور ان کی آل پر درود بھیج اور میرے نفس کو معاف کردے جس نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنی رحمت کو میرے گناہوں کا بوجھ اٹھانے میں میرا وکیل کر۔ 

۴۔ دعاؤں کی چھاؤں میں گناہ سے پرہیز :
یہ دعائیں اپنے پرھنے والے کو برائیوں، برے کاموں اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہیں اور اس کے دل کی گندگیاں دھو دھلا کر اسے پاک صاف کرتی ہیں۔ 
مثلاً بیسویں دعا کے یہ فقرے :۔ 
اَللّٰھُمَّ وَفِّر بِلُطفِکَ نِیَّتِی وَصَحِّح بِمَا عِندَکَ یَقِینِی وَاستَصلِح بِقُدرَتِکَ مَا فَسَدمِنِّی ۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحمَّدٍ وَمَتِّعِی بِھُدًی صَالِحٍ لاَ اَستَبدِلُ بِہِ وَطَرِیقَۃِ حَقٍّ لاَ اَزِیغُ عَنھَا وَنِیَّۃِ رُشدٍ لاَ اَشُکُّ فِیھَا ۔ اَللّٰھُمَّ لاَ تَدَع خَصلَۃً تُعَابُ مِنِّی اِلاَّ آصلَحتَھَا وَلاَ عَآئِبَۃً اُوَنَّبُ بِھَا اِلاَّ حَسَّنتَھَا وَلاَ اُکرُومَۃً فِی نَاقِصَۃٍ اِلاَّ اَتمَمتَھَا :۔ اے معبود ! اپنی مہربانی سے میری نیت پوری کر میرا یقین مضبوط کر اور میری بربادیں اپنی قدرت سے درست کر اے خدا ! محمد ﷺ اور ان کی آل پر درود بھیج اور مجھے ایسی اچھی رہنمائی عطا کر جسے (دوسری راہ سے) بدل نہ سکوں، ایسا سچا راستا جس سے ٹھیک نہ سکوں اور ایسی ثابت نیت جس پر شک نہ کرسکوں ۔ اے خدا! میری وہ عادت درست کردے جسے لوگ برا سمجھتے ہیں۔ اسی طرح میری وہ بری خصلتیں جن کی وجہ سے لوگ مجھے ملامت کرتے ہیں اچھی بنا دے اور میری اچھی لیکن ادھوری عادت کو کامل کردے۔ 

۵ ۔طاقتور روح کی پرورش :۔
ان دعاؤں کا ایک اور اثر یہ ہوتا ہے کہ یہ پڑھنے والے کو قوت بخشتی ہیں تاکہ وہ خود کو لوگوں سے بے غرض بنالے ، ان کے سامنے ذلیل و خوار نہ ہو اور اپنی حاجت صرف خدا کے سامنے پیش کرے، جاننا چاہیے کہ اس چیز کی خواہش کرنا جو دوسروں کے ہاتھ میں ہو انسان کی ایک گھٹیا عادت ہے۔ 
جیسا کہ بیسوی دعا میں ہم پڑھتے ہیں : 
وَلاَ تَفتِنِّی بِالاِستِعَانَۃِ بِغَیرِکَ اِذَا اضرُرِرتُ وَلاَ بِالخُضُوعِ لِسُؤَلِ غَیرِکَ اَذا افتَقَرتُ وَلاَ بِالتَّضَرُّعِ اِلٰی مَن دُونَکَ اِذَا رَھِبتُ فَاستَحِقَّ بِذٰلِکَ خَذ لاَنَکَ وَ مَنعَکَ وَاِعرَاضَکَ :۔ مجھے اس خرابی میں نہ ڈال کہ مجبوری میں تیرے سوا کسی اور سے مدد چاہو، مفلسی میں تیرے سوا کسی اور سے گھگھیا کر مانگوں، ڈر کے مارے غیر کے سامنے رؤو پیٹوں اور گمراہیوں کی وجہ سے ذلت اور رسوائی، تیری رحمت سے دوری اور تیری بے توجہی کا سزوار بن جاؤں۔ 
اٹھائیسویں دعا میں ہم پڑھتے ہیں: 
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَخلَصتُ بِانقِطَاعِیٓ اِلَیکَ وَاَقبَلتُ بِکُلِّی عَلَیکُ وَصَرَفتُ وَجھِی عَمَّن یَحتَاجُ اِلٰی رِفدِکَ وَقَلَبتُ مَسئَلَتِی عَمَّن لَّم یَستَغنِ عَن فَضلِکَ وَرَاَیتُ اَنَّ طَلَبَالمُحتَاجِ اِلَی المُحتَاجٍ سَفَۃٌ مِن رَایِہِ وَضَلَّۃٌ مِن عَقلِہِ :۔ اے خدا! میں نے تجھ سے دل لگایا ہے اور تیرے علاوہ اس غیر سے جو تیری مہربانی کا محتاج ہے الگ ہوگیا ہوں، اس سے جو تیرے کرم کا حاجتمند ہے میں نے اپنا سوال واپس لے لیا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک حاجت مند کا دوسرے حاجت مند سے مانگنا سوچ بچار کی حماقت اور عقل کا بھٹکنا ہے۔ 
تیرھویں دعا میں ہم پڑھتے ہیں:۔ 
فَمَن حَاوَلَ سَدَّ خَلَّتِہِ مِن عِندِکَ وَرَامَ صَرفَ الفَقرِ عَن نَفسِہِ بِکَ فَقَد طَلَبَ حَاجَتَہُ فِی مَظَانِّھَا وَاَتٰی طَلَبَتَہُ مِن وَجھِھَا وَمَن تَوجَّہَ بِحَاجَتِہِ اِلٰی اَحَدٍمّ،ن خَلقِکَ اَوجَعَلَہُ سَبَبَ نُجحِھَا دَونَکَ فَقَد تَعَرَّضَ لِلحِرمَانِ وَاستَحَقَّ مِن عِندِکَ فَوتَ الاِحسَانِ :۔ جو کوئی تیرے حضور میں اپنی حاجت مندی کا نقص مٹانے کی درخواست کرتا ہے اور اپنی مفلسی تیرے کرم سے دور کرنا چاہتا ہے وہ واقعی ٹھیک جگہ سے اپنی حاجتیں طلب کرتا ہے اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ماسب راستے سے آتا ہے لیکن جس کسی نے اپنی ضرورت کی خاطر تیری کسی مخلوق کی طرف رخ کیا یا تیرے سوا کسی اور کو اپنی حاجت برآری کا سبب ٹھیرایا وہ اس بات کا سزاوار ہے کہ تجھ سے مایوس ہوجائے یا تیرے احسان اور بخشش میں شامل نہ ہو۔ 

۶۔ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی

صحیفہ سجادیہ کی دوسری دعاؤں کے فقرے انسانوں کو یہ بتاتے ہیں کہ لوگوں کے حقوق کی پاسداری لازم ہے اور یاد دلاتے ہیں کہ اسلامی برادری کے معنی کی اصلیت یہ ہے کہ مسلمانوں میں مدد، سہارا، صلح و صفائی، ہمدردی ، درگزر اور جاں نثاری پیدا ہو تاکہ ان میں اسلامی اخوت قائم ہو۔ 
جیسا کہ ہم اڑتیسویں دعا میں پڑھتے ہیں : 
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعتَذِرُ اِلَیکَ مِن مَظلُومٍ ظُلِمَ بِحَضرَتِی فَلَم اَنصُرہُ وَمِن مَعرُوفٍ اُسدِیَ اِلَیَّ فَلَم اَشکُرہُ وَمِن مُسِیٓءِنِ اعتَذَرَ اِلیَّ فَلَم اَعذِرہُ وَمِن حَقِّ ذِی حَقٍّ لَزِمَنِی لِمُؤمِنٍ فَلَم اُوَفِّرہُ وَمِن عَیبِ مُؤمِنٍ طَھَرَ لِی فَلَم اَستُرہُ :۔ اے خدا! میں تیرے حضور میں معافی چاہتا ہوں اس مظلوم کی وجہ سے جس پر میرے سامنے ظلم ہوا اور میں اس کی مدد کو نہیں پہنچ سکا اور اس احسان کی وجہ سے جو مجھ پر ہوا اور میں اس کا شکریہ ادا نہیں کرسکا اور جس برا کام کرنے والے نے مجھ سے معافی مانگی لیکن میں نے اسے معاف نہیں کیا اور اس حاجت مند کی وجہ سے جس نے مجھ سے مانگا اور میں نے اس کو اپنے اوپر ترجیح نہی دی اور اس حق کی وجہ سے جو مجھ پر واجب ہے اور میں نے اسے ادا نہیں کیا اور مومن کے اس عیب کی وجہ سے جو میرے سامنے کھل گیا تھا لیکن میں نے اس کو نہیں ڈھانکا۔ 
واقعی اس قسم کی عذر خواہی اور عفوطلبی ایسا پرکشش منصوبہ ہے جو انسان کی روح کو نہایت اعلیٰ درجے کی خوبیوں اور خدائی اخلاق کی طرف مائل کرتا ہے۔ 
انتالیسویں دعا میں جب ہم وسیع ترنظ سے دیکھتے ہیں تو یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جس آدمی نے کوئی برائی کی ہو اسے کس طرح معاف کردینا چاہیے اور اس سے بدلہ نہیں لینا چاہیے ۔ یہ ایسی دعا ہے جو روح کو پاک کرتی اور انسان کو خدا کے نیک بندوں کے رتبے پر پہنچا دیتی ہے۔چنانچہ ہم پڑھتے ہیں : 
اَللّٰھُمَّ وَاَیُّمَا عَبدٍ نَالَ مِنِّی مَاحَظَرتَ عَلَیہِ وَانتَھَکَ مِنِّی مَاحَجَرتَ عَلَیہِ فَمَضیٰ بِظَلاَمِتِی مَیِّتاً اَو حَصَلَت لِی قِبَلَہُ حَیّاً فَاغفِرلَہُ مَا اَلَمَّ بِہِ مِنِّی وَاعفُ لَہُ عَمَّا اَدبَرَ بِہِ عَنِّی وَلاَ تَقِفہُ عَلٰی مَاارتَکَبَ فِیِّ وَلاَ تَکشِفہُ عَمَّا اکتَسَبَ بِی وَاجعَل مَا سَمَحتُ بِہِ مِنَ العَفوِ عَنھُم وَتَبَرَّعتُ بِہِ مِنَ الصَّدَقَۃِ عَلَیھِم اَزکٰی صَدَقَاتِ المُتَصَدِّقِینَ وَ اَعلٰی صِلاَتِ المُتَقَرِّبِینَ وَعَوِّضنِی مِن عَفوِی عَنھُم عَفوَکَ وَمِن دُعَائِی لَھُم رَحمَتَکَ حَتَّی یَسعَدَ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنَّا بَفَضلِکَ :۔اے خدا! جس بندے نے میرے متعلق وہ عمل کیا جس سے تو نے اسے منع کر دیا تھا اور میری ایسی پردہ دری کی جسے تو جائز نہیں سمجھتا، میرا حق روند ڈالا اور دنیا سے اٹھ گیا یا زندہ ہے اور میرا حق اس کے پاس موجود ہے اسے تو نے جس مصیبت میں ڈالا ہے بخش دے اور میرا جو حق اس نے چھینا ہے اس سے درگزر کر اور اس نے میرے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کے لیے اسے ملامت مت کر اور اس نے جو کچھ ظلم مجھ پر کیا ہے اس کے لیے اس رسوا نہ کر میری طرف سے اس کے لیے معافی اور درگزر کو معاف کرنے والوں کی بہترین معافیوں اور اسی طرح اس صدقے اور خیرات کو جو میں نے ان کے لیے کیا ہے اسے اپنے برگزیدہ بندو کی سب سے اعلیٰ سخاوتوں اور عطاؤں کا درجہ دے اور مجھے اس معافی کی خاطر جو میں نے ان کے لیے چاہی اور اس دعا کی خاطر جو میں نے ان کے لیے چاہی اور اس دعا کی خاطر جو میں نے ان کے لیے مانگی اپنی رحمت اور بخشش سے بدلہ دے تاکہ ہم میں سے ہر ایک تیرے احسان سے نیک بختی حاصل کرسکے۔ 
سچ مچ دعا کے یہ آخری فقرے کس قدر پرکشش ہیں اور پاکیزہ روحوں پر کس قدر مناسب اور اچھا اثر ڈالتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آدمی کو سب لوگوں کے لیے ثابت اور پاک نیت رکھنا چاہیے اور سب کے لیے خوشحالی طلب کرنا چاہیے یہاں تک کہ ان لوگوں کے لیے بھی جنہوں نے اس پر ظلم کیا ہے (صحیفہ سجادیہ کو دعاؤں میں یہ موضوع بیشتر نظر آتا ہے۔ واقعی زبور آل محمد ﷺ میں اس قسم کی تعلیمات اور روحانی نصیحتیں اس قدر شامل ہیں کہ اگر انسان اس کی ہدایت کی راہ میں قدم رکھیں تو ان کی روح پاک ہوجائے اور اس سے گندگیاں دھل جائیں۔

 نام کتاب:         مکتب تشیع

مصنف:           محمد رضا مظفر
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0