• تاریخ: 2012 جنوری 15

مسلمان نوجوان اسلامي معاشرے کي قوّت


           


نوجوان نسل کسي بھي معاشرے کا قيتي سرمايا ہوتے ہيں ۔ يہي وہ قوت ہے جو اپنے آنے والي نسلوں  کے رہن سہن اور سوچ ميں تبديلي اور انقلابات کا باعث  بنتي ہے ۔ کسي بھي معاشرے کي نئي نسل اس وقت تک اپنے مقصد کو نہيں پا سکتي جب تک اس کے عقائد درست نہ ہوں۔ يہي صورت حال ايک مسلمان نوجوان کي ہے ۔مسلمان نوجوانوں کو قدرت الہي نے ايک لازوال نعمت سے نوازا ہے کہ وہ ايک مسلمان کے گھر  ميں پيدا ہو? اور  انہيں اسلامي  معاشرے ميں پروان چڑنے کا موقع ملا ۔

ہمارے عقائد کي درستگي کي روح عشقِ رسول صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم ميں پنہاں ہے۔ علامہ اقبال (رح) نے فلسفہ اسلام کو فقط تھيوري کے طور پر بيان کيا اور علماء کرام  نے پوري دنيا ميں يہ بات ثابت کر دي کہ اسلامي نظام نفاذ کے قابل ہے۔جب بھي اسلامي  معاشرے پر اسلامي قوانين کا نفاذ ہو گا وہ دنيا کے سامنے ايک کامياب معاشرے کي شکل اختيار کر جائے گا۔

مسلمان سينکڑوں برس پوري دنيا پر حکومت کرتے رہے اس کي وجہ فقط عشق مصطفي صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي دولت ہے۔جب تک يہ دلوں ميں زندہ رہي مسلمان غالب رہے? آج اگر ہم ايک بار پھر اسي عشق مصطفي? صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي روح اپنے سينوں ميں زندہ کر ليں تو امتِ مسلمہ پھر سے پوري دنيا پر غالب آ سکتي ہے اور پھر دنيا کي کوئي طاقت مسلمانوں کو شکست نہيں دے سکتي۔

نوجوان وہ طاقت ہيں جو کسي بھي قوم کے عروج کا باعث بنتي ہے۔ نوجوان آج اگر اپني زندگيوں کے اندر انقلاب پيدا کر ليں تو ان شاء اللہ پوري دنيا ميں انقلاب پيدا ہو سکتا ہے? علم وعمل، اخلاص، تقوي? وکردار ميں مسلمان جب تک کامل رہے تب تک پوري دنيا پر غالب رہے۔

ايک فرد معاشرے کي اکائي ہے۔ اگر تمام اکائياں درست ہو جائيں تو کل معاشرہ درست ہو جائے گا۔

يہي وجہ ہے نوجوان کو بيدار ہو کر پوري محنت ، سنجيدگي ،دلجمعي اور دلجوئي سے محنت کرني چاہيے اور پورے معاشرے کي اصلاح کے لي? راہ ہموار کرني چاہيے يہي وقت ہے جواني ميں ہي اپنے اندر تبديلي لائيں اگر آپ نے معاشرے کو سدھارنے کا ارادہ کر ليا ہے تو خدارا اپنے آپ کو بدل ڈالو۔ اپنے دلوں ميں عشقِ رسول صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي شمع روشن کر لوہم سب کو کردار اور علم ميں پختگي کي ضرورت ہے اور آئيں ہم اس ميں سب سے آگے بڑھ جائيں? سب بيدار ہوں اور ذکر و فکر کي محافل کا انعقاد کريں۔


سامراج کے محاذ کي سرنگوني، نوجوان نسل کے احساس ذمہ داري کا ثمرہ تھا


قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے کہا ہے کہ امريکہ ملت ايران کو خود مختاري، سربلندي اور اسلامي تشخص کي راہ سے ہٹا نہيں سکتا اور علم و دانش، قوت و طاقت اور آسائش و عزت کي بلندياں ملت ايران کا مقدر بن چکي ہيں۔

ايران ميں چار نومبر کو منائے جانے والے نيشنل اسٹوڈنس ڈے اور سامراج کي مخالفت کے قومي دن سے قبل طلباء سے ملاقات ميں آپ نے فرمايا کہ ايران اور امريکہ کا تنا‏زعہ، سياسي اختلاف نظر سے کہيں زيادہ گہرا اور بڑا ہے۔

قائد انقلاب اسلامي نے پوري قوم بالخصوص نوجوانوں، سياستدانوں، حکام اور اخبارات و جرائد کو دشمن کي سازشوں سے ہوشيار رہنے کا مشورہ ديا اور فرمايا کہ دشمن کي سازشوں کا مقصد ، اختلاف پيدا کرنا، سياسي کارکنوں کو ايک دوسرے سے لڑوانا، اسلامي اقدار کو پس پشت ڈالنا، نوجوانوں کو نفساني خواہشات کا اسير بنانا، تعليمي اداروں ميں بد نظمي اور خلفشار برپا کرنا اور عوام ميں مايوسي پھيلانا ہے بنابريں سب محتاط رہيں کہ کہيں دشمن کے منصوبے کا حصہ نہ بن جائيں۔

قائد انقلاب اسلامي نے اتحاد و اميد کي حفاظت، باہمي نزديکي روابط اور سعي و کوشش کي ضرورت پر زور ديا اور فرمايا کہ اس ميں کسي شک کي گنجائش نہيں کہ ملت ايران مشکل نشيب و فراز سے گزرتے ہوئے بلنديوں پر پہنچ جائے گي۔

رضویہ ڈاٹ نٹ



 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved